شکستِ ساز سے پہلے۔۔۔شاعرہ وحید

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

ممتاز شاعر جناب جمیل الدین عالی کی سگی خالہ محترمہ شاعرہ وحید خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بمطابق قاسم نوری، وہ اس طرح کہ ’’ میر درد کے صاحبزادے میر الم، فارسی اور عربی کے بہت ہی اچھے شاعر تھے۔ میر الم کے بڑے صاحبزادے ناصر وزیر بھی فارسی میں شعر کہتے تھے۔ ناصر وزیر کے چھوٹے صاحبزادے ناصر وحید بھی شعرگوئی کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ شاعرہ وحید ان ہی ناصر وحید کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں اور ناصر وحید کی اولاد میں شعر گوئی صرف انہی کو ورثے میں ملی۔ نواب سائل دہلوی اور جلیل دہلوی، شاعرہ وحید کے ددھیال سے تعلق رکھتے تھے‘‘۔۔۔محترمہ شاعرہ وحید ماڈل ٹاؤن لاہور میں اس خاکسار ناصر زیدی کی پڑوسی تھیں، وہ اکثر کوٹھی کے سامنے سے آتے جاتے ہمارے ہاں تشریف لاکر کچھ دیر کو مجھے اور میری والدہ محترمہ کو ضرور شرفِ مخاطبت بخشتیں۔ انہوں نے میرے بڑے بھائیوں سید جعفر رضا زیدی [ایم اے] اور سید باقر رضا زیدی [پروفیسر آف انگلش] کے سہرے بھی بڑے خلوص سے رقم کئے تھے جن میں ایک سہرا بڑے بھائی سید جعفر رضا زیدی کا دستیاب ہو سکا، وہ کچھ یوں ہے:

تقریبِ سعید شادی خانہ آبادی

سید جعفر رضا زیدی ولد سید صغیر حسن زیدی

روز و شب، شام و سحر، آٹھوں پہر سہرے کے پھول

بن گئے اپنی جگہ، شمس و قمر، سہرے کے پھول

اجتماعی حیثیت نے ان کو سہرا کہہ دیا،

پھول ہی نکلے، بہ الفاظِ دگر، سہرے کے پھول

آرزوئیں کھیلتی ہیں، چہرۂ نوشاہ پر

کیف سا برسا رہے ہیں سر بہ سر سہرے کے پھول

شادمانی کی بہار جاں فزا پائندہ باد

گا رہے ہیں یہ ترانہ جھوم کر سہرے کے پھول

پھول سے بڑھ کر وہ کیا دیں گے تمہیں جعفر رضا

نذر دینے کے لئے آئیں اگر سہرے کے پھول

قلبِ مادر کی تمناؤں نے پائی زندگی

جب بندھے پیشانی ء نوشاہ پر سہرے کے پھول
بھائی بہنوں کی نگاہوں میں جو تھیں رنگینیاں
ان کے دَم سے ہو گئے تابندہ تر سہرے کے پھول

تھیں نگاہیں منتظر احباب کی جس کے لئے

اس کا حرفِ ابتدا ہیں تازہ تر سہرے کے پھول

مسکراتی ہیں تمنائیں دلوں کی شاعرہ!

سب کی امیدوں کے ہیں پیغام بر سہرے کے پھول

شاعرہ وحید

10 فروری 1971ء

وہ میری شادی گلبرگ کے ایک امیر کبیر خاندان کی حسین و جمیل انتہائی پڑھی لکھی اکلوتی بیٹی سے کرانے پر مصر رہیں۔ مگر ہماری جوانی ،ہمارا زمانہ یہاں تو دھیان ہی کسی اور طرف تھا۔قسمت میں خواری لکھی تھی۔ جو ہر صورت پسند کی شادی کے سبب مقدر بن کے رہی!
محترمہ شاعرہ وحید نے اپنے پردادا، حضرت خواجہ میر درد کا جو قصیدہ لکھا وہ ’’نذران�ۂ عقیدت‘‘ کے عنوان سے ان کے شعری مجموعے ’’شکستِ ساز سے پہلے‘‘ میں شامل ہے۔ یہ مجموعہ ’’زمانہ پبلی کیشنز‘‘ [رجسٹرڈ] شاہ عالم مارکیٹ لاہور کے تحت شائع ہوا۔ بعدازاں ادارے کا نام خواجہ میر درد اکیڈمی رکھا گیا تھا جسے قاسم نوری اور شاعرہ وحید مل کر چلاتے تھے۔ملاحظہ فرمایئے قصیدہ!

اگرچہ تم سے بھی پہلے جہانِ نغمہ میں

نشاطِ رُوح کا باعث تھا اعتبارِ سخن

تمہارے سوزِ دروں سے بھی پیشتر ، ہر چند

جواں تھے مصر کے آغوش میں شرارِ سخن
یہ واقعہ ہے مگر اس قدر حسین نہ تھا

نگار خانہ ء ہستی میں کاروبار سخن

ہزار رُوپ کے باوصف ، باوقار نہ تھا

وہ ایک جلوہ جسے کہہ سکیں نگارِ سخن

تمہارے فکرِ حق آموز نے کیا ہے عطا

لباسِ فخر و تصوف میں اعتبارِ سخن

نہ اُبھرا مملکتِ شعر میں کوئی تم سا

بجا ہے کہئے اگر تم کو تاجدارِ سخن

تمہارے فیضِ تفکر کی آرزو ہے مجھے

خدا کرے کہ میسر ہو انحصارِ سخن

محترمہ شاعرہ وحید نے اپنی غزل گوئی کے حوالے سے اپنے پردادا حضرتِ میر درد کو غزل کے ایک مقطع میں یوں خراج تحسین پیش کیا:
بہ فیضِ درد غزل شاعرہ میں لکھتی ہوں

نہ یہ صِلے کے لئے ہے نہ یہ ثنا کے لئے

اصل نام سیدہ ناصر جہاں/بنت وحید ناصر ۔ شاعرہ وحید کے نام سے معروف رہیں،31اکتوبر 1995ء کو انتقال ہوا۔ قبرستان گارڈن ٹاؤن میں دفن ہیں۔

’’شکست ساز سے پہلے‘‘ میں محترمہ شاعرہ وحید کے رومانی رس چس لئے کچھ قطعات بھی بعنوان ’’اوراقِ پارینہ‘‘ شامل ہیں۔ ان میں سے محض دو قطعات ملاحظہ ہوں:

ہر ستارے کے ساتھ ساتھ اکثر

اپنے آنسو شمار کرتی ہوں

شام کے جھٹ پٹے سے تابہ سحر

مَیں ترا انتظار کرتی ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات نے آسماں سے مانگ لیا

چاند، تاروں کو روشنی کے لئے

مَیں کہ تجھ سے تری ہی طالب ہوں

اپنی بے نور زندگی کے لئے

شاعرہ وحید کے چند منتخب اشعار مختلف غزلوں سے:

آجا کہ اب تو تاروں کے دل ڈوبنے لگے

بیمارِ غم کو جینے کی حسرت نہیں رہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری زندگانی جس قدر کم ہوتی جاتی ہے

تمہاری یاد ہر شے پر مقدم ہوتی جاتی ہے

مقدر ہی کہاں اچھا ہے ہم آشفتہ حالوں کا

تمہاری بھی نظر کیوں ہم سے برہم ہوتی جاتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارا غم ہی جب میری متاعِ زندگی ٹھہرا

تو پھر کیوں میرے دل سے یہ غمِ دنیا نہیں جاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملتفت آپ نہ ہوں مجھ پہ تو پھر بھی خوش ہوں

مجھ پر بیدادِ محبت ہی سہی، ہے تو سہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھرتے ہیں تیرے درد کو لے کر کہاں کہاں

دل کا عجب ہے حال کوئی پوچھتا نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

راہِ وفا میں ایک بھی ساتھی اپنے تو کچھ کام نہ آیا

منزل منزل جس نے پکارا تیرا غم تھا اور تنہائی

غم کی تکمیل یوں بھی ہوتی ہے

دل تڑپتا ہے آنکھ روتی ہے

میں ستاروں کا ساتھ دیتی ہوں

جس گھڑی کائنات سوتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چمک رہے ہیں مرے دل کے داغ مثلِ نجوم

دہک اٹھے ہیں الاؤ کہ لکھ رہی ہوں غزل

مرا قرار، مری زندگی، مرا آرام

کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ کہ لکھ رہی ہوں غزل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجل بھی مرگِ وفا کا ثبوت بن کے رہی

محبتوں کے مکمل ہوئے نہ افسانے

فغانِ غمم، تپشِ دل، نوائے سوزِ دروں

ملے ہیں شاعرہ ہم کو وفا کے نذرانے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قریب آ جائیں جب دو دل زمانہ جل ہی جاتا ہے

محبت تو عبث بدنام ہے کچھ لوگ کہتے ہیں

محترمہ شاعرہ وحید نے ایک ناول بھی لکھا تھا جس کا اشتہار ان کے اکلوتے مجموعہ کلام’’ شکستِ ساز سے پہلے‘‘ میں ایک خاص عبارت آرائی کے ساتھ شامل تھا۔

معلوم نہیں ناول چھپ بھی سکا یا نہیں، اب تو بقول محترمہ شاعرہ وحید کے ہی کے وہ وقت ہے کہ:

وہ وقت بھی آئے گا کرو گے ہمیں تم یاد

محفل میں زمانے کی مگر ہم نہیں ہوں گے

Citation
Nasir Zaidi, ” شکستِ ساز سے پہلے۔۔۔شاعرہ وحید ,” in Daily Pakistan, July 3, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/03-Jul-2015/241468

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on July 3, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s