اصنافِ نظم و نثر۔۔۔ ایک مختصر تاثر

Follow Shabnaama via email
جمیل احمد عدال

ڈاکٹر علی محمد خاں اور ڈاکٹر اشفاق احمد ورک باہم ضم ہو کر سوا صدی پر محیط متوازی ادبی تاریخ سے معنون ہو سکتے ہیں کہ ان جفاکش محققین نے اپنے لئے ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کیا، ہر ساعت علم و ادب سے وابستہ سرگرمی کے سپرد کرکے سرخرو ہو گئے۔ متعدد مبسوط اور مضبوط کتب کے یہ معتبر خالق ایک Joint Venture کے ذریعے وہ آبدار نگینہ منظر عام پر لائے ہیں، جس Gem کو ’’اصنافِ نظم و نثر‘‘ کے ٹائٹل نے صرف ایک برس میں حوالے کی کتاب بنا دیا ہے۔ اس تصنیف کو اردو کی شعری و نثری صنفوں کا نصابی تعارف نامہ کہنا معروضیات کے اعلیٰ پیمانوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ یہ تو نہایت سہولت کے ساتھ تحریر کی گئی اردو ادب کی تاریخ ہے۔ جسے تعیین قدر و نقد کے معانی معلوم ہیں، جس پر سہل ممتنع کا مفہوم واضح ہے، جسے ذوقِ تحقیق کی اذیت سے برآمد ہونے والی لذت سے کچھ حصہ نصیب ہوا ہے۔ وہی جان سکتا ہے ایک دشوار گزار جادے کو ہموار راستے میں تبدیل کرنا، کس درجہ جان جوکھوں کا، کام ہے۔ مذکورہ ایک کتاب اور اس کے دو مصنف، یہ شبد اتنی سی شماریات میں محدود نہیں ہوں گے کہ تسوید کا عمل پھر بھی ماہ و سال کا مظہر ہو جاتا ہے، لفظ کی خواندگی کتنے زمانوں پر پھیلی ہوتی ہے،

یہاں تعینات بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں، خود کو پیہم صرف کرکے ہی Consummative کے آبرو مندانہ لقب سے ملقب ہوا جا سکتا ہے۔

’’اصنافِ نظم و نثر‘‘ اپنے موضوع کی نسبت سے محض نئی کتاب نہیں بلکہ اس مضمون کو گراں بہار اضافوں سے ہمکنار کرنے والی تالیف ہے۔ جس کا ایک بین ثبوت ذیلی/ ضمنی اصنافِ ادب کو پہلی بار تشخصی آشنا کرنا ہے۔ زبان و ادب کا Horizen صرف افکارِ تازہ اور اسالیب کے تنوع سے ہی نہیں پھیلتا۔ اس کی نامیات نئے اور مختلف سانچوں سے بھی رشتوں کی متقاضی ہوا کرتی ہے۔ کاش! سائنس کی طرح ادب بھی معمل خانہ کی حریم میں پرورش پانے کا خوگر ہوتا۔ تخلیقی عمل Laboratory سے علاقہ نہیں رکھتا، اس کا، ناتا Labyrinth یعنی بھول بھلیوں والی عمارت سے انسلاک رکھتا ہے۔ لٹریچر زینۂ پیچاں میں نشوونما پاتا ہے، اسی لئے یہاں اصناف کی تشکیل کسی میکانکیت کے تابع نہیں۔ تخلیقیت نے اپنے فطری بہاؤ میں گزرگاہ کے نقوش مرتسم کرنے ہوتے ہیں۔ پارکھی اپنی Acumen کی رہنمائی میں اس طریق کو، کسی صنف کی تعریف میں پوری صراحت کے ساتھ Reduce کر دیتا ہے۔ ’’اصنافِ نظم و نثر‘‘ میں متداول انواع کی شناخت، ساعت، روایت یا texture کے جتنے لزوم ہیں، سب بالتفصیل مرتب انداز میں موضوع بنے ہیں مگر اس کے ساتھ ڈاکٹر صاحبان کی تخلیقی ایچ جدید تسمیے (Nomen clature) کو بھی دریافت کرتی رہی۔ میں ہرگز انہیں ’’صنف گر‘‘ نہیں کہہ رہا لیکن انہیں نئے فریمز متعارف کرانے کا، کریڈٹ نہ دینا، صریح ناانصافی ہوگی۔ مثال کے طور پر : فخریہ، نظمانہ مناجات، رخصتی، بلیغیات، بارہ ماہ، زنداں نامے، فینیٹی۔۔۔

اسی طرح تحریف (پیروڈی) کے شعری اور نثری خدوخال کے مابین اصولی خطِ امتیاز ہی نہیں کھینچا بلکہ ان نزاکتوں کو بھی بیانیے کا جزو بنایا ہے جو اختصاص سے بجا طور پر بریکٹ ہوتی ہیں۔ فراست کی گواہی فرق کی لطافتوں سے آگاہی، ہی تو ہے۔ نمایاں بعد توہرکہ ومہ کو دکھائی دیتا ہے، نظر کا امتحان غیر محسوس تفاوت کی نشاندہی سے ہوتا ہے۔ آنکھ میں نسائی لینز فٹ ہو تو باریک تر متخالف صورت حال ممیز ہو جاتی ہے۔ ہمارے یہ خرد مند کے آتھرز بھی خُرد بینی کی تانیثی صفات میں ایک حد تک شریک ہیں۔

کتاب کی داخلی تبویب اصولِ تحقیق ہی کی آئینہ دار نہیں، ذوقِ جمال پر بھی شاہد ہے۔ حمد کو مقدم رکھنا تو رائج رجحان کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن ’نعت‘ سے قبل ’’مناجات‘‘ چشم معنی آشنا کی برہان ہے۔ مضمون (Essay) کو پہلے لانا انشائیے (Light Essay) کو مؤخر کرنا ذوقی نفاست کی ترجمانی کرتا ہے۔۔۔ اس تناظر میں سب عمدگی کا پرتو ہے۔ لیکن ’’لطائف و ظرائف‘‘ کے بعد ’’اقبالیات‘‘ کو تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔

’’اصناف نظم و نثر‘‘ کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ مصنفین کسی ادبی صنف کو اردو کے مدار ہی میں اسیر نہیں رکھتے۔ اس کی ابتداء جس زبان سے متعلق ہے؟ نیز کس چینل سے وہ ادھر منتقل ہوئی؟ اپنی Origin کی نسبت سے کن سربرآوردہ اصحاب کے ناموں سے یہ منور ہے؟ ان سوالوں کے جوابوں سے بیانیہ ابتدائیہ جیسے خود تشکیل دیتا چلا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ تنقید کی کتاب ہے مگر یبوست سے یکسر منزہ ہے۔ اثنائے قرأت قاری کہیں بے لطفی اور بے رغبتی سے دوچار نہیں ہوتا، ممکن ہے جاذبیت کی ایک وجہ یہ ہو کہ مصنفین نے بالخصوص معاصر ادب سے جن اقتباسات کا چناؤکیا ہے وہ واعظانہ خشکی سے پاک ہیں۔ اسی طرح اشعار کے انتخاب میں بھی تازگی کا عنصر غلب ہے۔ اردو ادب کا آسمان نئے ستاروں سے برابر مزین ہو رہا ہے۔ اس پہلو سے حوالہ بننے والے ناموں کو حتمی قرار دینے پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناًہر ایڈیشن نئے ناموں کا پیش کار ہوگا۔ جیسے حمد کی مناسبت سے ’’ممدوحِ محمدؐ‘‘ کے خالق قیوم صبا اور ’’تیرے نشاں شام و سحر‘‘ کے شاعر جناب نصیر احمر کے نام کسی طرح نظر اندازنہیں ہوسکتے۔

’’اصناف نظم ونثر ‘‘ کے مصنفین کی سنگت اس لئے بھی پسند آئی کہ پیش لفظ سے لے کر Bib liography تک وہ یک جان دو قالب دکھائی دیتے ہیں۔ نہیں معلوم ہوتا کن سطور میں کون مستور ہے؟ بس وہ دوچار مقامات غماز ہیں جن میں محمود اپنے ایاز سے قلبی محبت کو پردہ اخفا میں نہیں رکھ سکا! یعنی ڈاکٹر علی محمد خاں اپنے عزیز اور محبوب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کو Quote کئے بنا رہ نہیں رہ سکے! اگر وہ یہ بھی نہ کرتے تو کھلتا کسی پہ کیوں ان کے دل کا معاملہ!

ذاتی طور پر مجھے اس کتاب کا دوسرا باب ’’منتخب شعری اصلاحات‘‘ اور چھٹا باب ’’ منتخب نثری اصطلاحات ‘‘ بہت ہی مفید محسوس ہوئے ہیں۔ اردو ادبیات کے اساتذہ کو ان سے استفادہ کرنا چاہیے کہ مختصر مگر مؤثر انداز میں 81=23+58 بنیادی شعری+ نثری اصطلاحات کی توضیح کر دی گئی ہے۔ ان کا بغور مطالعہ ایک بار Basic Concepts صاف کردے گا تو تفہیمِ ادب کے در اس طرح کھل جائیں گے کہ تدریس تخلیقی شان کی حامل ہو جائے گی۔

’’اصنافِ نظم و نثر‘‘ بلاشبہ ایک ریفرنس بک ہے۔ شعر و ادب سے سچا رشتہ رکھنے کا دعویدار بھلا اس اہم دستاویز سے کیسے بے نیازرہ سکتا ہے۔ اس کے مندرجات جہاں تنقیدی شعور سے فیض یاب کرنے والے ہیں وہاں اس کے توسط سے تخلیقی نور بھی اِک فروزاں شمع کی مانند قلب میں اجالا کرسکتا ہے!

مکرم ڈاکٹر علی محمد خان اور ڈاکٹر اشفاق احمد ورک صاحب اس عملی کارنامے پر میری قلبی مبارکباد قبول کریں۔

Citation
Jamil Ahmad Adil, “اصنافِ نظم و نثر۔۔۔ ایک مختصر تاثر,” in Daily Nai Baat, July 2, 2015. Accessed on July 2, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%D8%B5%D9%86%D8%A7%D9%81%D9%90-%D9%86%D8%B8%D9%85-%D9%88-%D9%86%D8%AB%D8%B1%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1-%D8%AA%D8%A7%D8%AB%D8%B1

Disclaimer
The item above written by Jamil Ahmad Adil and published in Daily Nai Baat on July 2, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 2, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Jamil Ahmad Adil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s