واحد بشیر: اورنگ آباد کا جوہری

Follow Shabnaama via email
زاہدہ حنا

آج کی نسل ان لوگوں کے بارے میں کم کم جانتی ہے، جنھوں نے دوسروں کی زندگیوں کو سنوارنے کی خاطر اپنی ہر خوشی کو تج دیا اور کسی شکوے شکایت کے بغیر مسکراتے ہوئے اس دہر سے گزر گئے۔ ان لوگوں کا ایمان تھا کہ اس دنیا کی نعمتیں، اس کی آسائشیں چند لوگوں کا نہیں، دنیا کے تمام لوگوں کا حق ہیں۔ دوسروں کے حقوق کی خاطر زندان کی زندگی ان لوگوں نے اختیار کی۔

صنعتی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں بے روزگاروں کا ایک انبوہ مختلف کارخانوں سے وابستہ ہوا۔ ان میں ہنرمند بھی تھے اور نیم ہنرمند بھی۔ یہ وہی تھے کہ جن کی مشقت صنعتوں کا پہیہ چلاتی تھی اور جن کا پسینہ سرمایہ داری کی رگوں میں زندہ لہو بن کر گردش کرتا تھا۔ بنیادی ضرورتوں اور عمدہ سہولتوں سے محروم ان محنت کشوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن سے دنیا اور برصغیر کی مزدور تحریک کے ابواب روشن ہیں۔

یہ نادر و نایاب لوگ ایک ایک کرکے اٹھتے جاتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک مشہور و معروف نام واحد بشیر کا تھا جو چند دنوں پہلے اس جہان سے اٹھا لیے گئے۔ ان کی رخصت پاکستان کی مزدور تحریک کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ ادیب تھے، شاعر تھے، صحافی تھے، مزدور رہنما تھے۔ دوستوں کے دوست اور اپنے نظریاتی دشمنوں کے لیے بھی انصاف کے طلب گار تھے۔

ان کی سب سے بڑی خوش نصیبی، ان کی شریک حیات حمزہ تھیں۔ ترقی پسند گھرانے سے تعلق رکھنے والی اور ایک منصفانہ سماج کا خواب دیکھنے والی جس کا اوڑھنا بچھونا پہلے طلبہ تحریک، مزدور تحریک اور پھر ترقی پسند تحریک رہی۔ حمزہ کو ہمہ وقت اس بات کی فکر رہتی کہ واحد کی صحت اچھی نہیں رہتی۔ حمزہ اسی فکر میں مبتلا چلی گئیں۔ ہم میں سے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ یوں ہنستے بولتے چلی جائیں گی اور واحد ان کے بغیر اتنے دن گزار سکیں گے۔ اب واحد چلے گئے ہیں اور بیٹی ڈاکٹر ندا اور بیٹے ریحان کے ساتھ ہی درجنوں دوستوں اور سیکڑوں چاہنے والوں کو تنہا کرگئے ہیں۔

تلنگانہ تحریک کے رنگ میں رنگے ہوئے مخدوم محی الدین کے اشعار اور افکار نے اورنگ آباد میں پیدا ہونے والے واحد بشیر کی فکری تربیت کی اور وہ مارکس وادی سیاست سے وابستہ ہوئے۔ برصغیر تقسیم ہوا اور یہ ترک وطن کرنے والوں کے ریلے کے ساتھ پاکستان پہنچے۔ میرپورخاص میں رک کر دم لیا اور وہاں کسی دکان پر جوہری ہوگئے۔

یہ بات مجھے ان کی زندگی میں معلوم ہوتی تو ان سے ضرور پوچھتی کہ آپ تو آہن گر تھے، مزدوروں کے ساتھی یہ آپ جوہری کیوں کر ہوئے؟ لیکن پھر سوچتی ہوں کہ صحافت، سیاست اور مزدور تحریک سے وابستہ ہونے کے باوجود جوہر قابل کو پہچاننے میں ان کا ثانی نہ تھا۔ ان کا خمیر جس مٹی سے اٹھا تھا، وہ مٹی اب نایاب ہے۔ انھوں نے طلبہ اور مزدوروں کی تحریک میں حصہ لیا، صحافیوں کی انجمن کے صدر رہے۔ حسن عابد، راحت سعید، پروفیسر محمد نصیر، محمد علی صدیقی، فقیر محمد لاشاری، زیبا علوی اور نوشابہ زبیری کے ساتھ مل کر ’ارتقا‘ جاری کیا جو آج بھی نکل رہا ہے، آخری دنوں میں ڈاکٹر جعفر احمد ان کے شریک کار تھے اور اب ارتقا کی ذمے داریاں ان ہی کو اٹھانی ہیں۔

اس ترقی پسند جریدے کی مجلس ادارت میں سے چند کو موت ساتھ لے گئی لیکن واحد بشیر آخر تک اس سے جڑے رہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کی آخری تحریر ارتقا کے لیے لکھی۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی پس منظر کی روشنی میں اسے پڑھیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے گزرے ہوئے کل اور آج میں زمین آسمان کا کیا فرق ہے۔

’’ّآج کل پاکستان میں جو سیاسی ابال ہے اور نوجوانوں کا جوش و جذبہ ہے اور مختلف قائدین اپنی جماعتوں کے نام پر خودنمائی سے ترقی کرتے ہوئے خودستائی کے درجے میں داخل ہوچکے ہیں اور سب کچھ جمہوریت کے نام پر ہورہا ہے۔ یہ صورت حال مجھ جیسے لوگوں کو ماضی کے دھندلکوں میں لے جاتی ہے۔

1956ء کی بات ہے میں نے میرپورخاص کی زندگی کی یکسانیت سے اکتا کر کراچی کا سفر اختیار کیا۔ اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا تو صغیر احمد نقوی اور ذکی عباس سے ملاقات ہوئی۔ یہ دونوں ہائی اسکول اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے گریجویشن کرکے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) میں داخل ہوئے تھے۔ اسلامیہ کالج یونٹ کی رکنیت سازی کی مہم چلارہے تھے۔ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد نے متاثر کیا۔

تنظیم میں شمولیت کے ساتھ ہی جمہوری تربیت کا آغاز ہوگیا۔ پہلی شرط یہ تھی کہ اگر آپ کسی سیاسی جماعت کے رکن ہیں تو آپ عام رکن تو بن سکتے ہیں این، ایس، ایف کے عہدیدار نہیں بن سکتے۔ دوسری بات یہ تھی کہ رکنیت کسی تعلیمی ادارے کے یونٹ کے توسط سے ہوگی۔ یونٹ کے اراکین انتخاب کے لیے بلائے جانے والے اجلاس میں یونٹ سیکریٹری اور کونسلروں کا انتخاب کریں گے۔ کونسل کے اراکین کی تعداد یونٹ کے کل اراکین کی تعداد کی مناسبت سے ہوگی۔

مرکزی عہدیداروں اور اراکین مجلس عاملہ کا انتخاب کونسل اجلاس میں ہوگا اور یونٹ کا سیکریٹری بر بنائے عہدہ مجلس عاملہ کا رکن ہوگا۔

1964 کے افتراق و انتشار سے پہلے تمام بیانات، قراردادیں، پمفلٹ وغیرہ مرکزی مجلس عاملہ کے نام جاری ہوتے تھے اور ان کی منظوری مجلس عاملہ کے باقاعدہ اجلاس سے لی جانی ضروری تھی۔ اسی طریقے پر عمل ہوتا رہا۔ مارشل لاء کے دور میں پابندی لگنے کے بعد بھی زبانی اطلاع کے ذریعے مجلس عاملہ کے اجلاس عام جگہوں مثلاً ایسٹرن کافی ہاؤس، سڑک پر ٹہلتے ہوئے یا کسی پار ک کے کونے میں منعقد ہوتے تھے۔

مرکزی عہدیدارا نفرادی حیثیت میں یا باہمی کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے تھے، اس کی مثال یہ ہے کہ این، ایس، ایف کے صدر اور سیکریٹری نے مولانا بھاشانی کی قیادت میں ہونے والی سندھ ہاری کانفرنس میں شرکت کی اوران کا تعارف طلباء تنظیم کے عہدیداروں کی حیثیت سے کروایا گیا۔ ان کی واپسی پر مجلس عاملہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا اور ان سے جواب طلب کیا اور کہا گیا کہ اگر انھوں نے ذاتی حیثیت میں عام شرکاء کی طرح شرکت کی ہوتی تو یہ ان کا حق تھا۔ مگر انھوں نے تنظیم کے نام اور عہدے کو استعمال کیا جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ باقاعدہ معافی مانگنے کے بعد جان چھوٹی۔

انور حسین (ڈاکٹر محمد حسین کے بیٹے۔بے مثال انگریزی زبان کے مقرر اور بعد میں براڈ کاسٹر) این، ایس، ایف کے نائب صدر تھے، گرلز اسٹودنٹس آرگنائزیشن کی طرف سے باقاعدہ شکایت وصول ہوئی کہ موصوف گرلز کالج کے چکر لگاتے اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ ان سے جواب طلب کیا گیا۔ جواب نہ ملنے پر انھیں این، ایس، ایف سے خارج کردیا گیا۔

محمد شفیع جو بعد میں شفیع سیاسی کے نام سے مشہور ہوئے اور بہت اچھے وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے مجلس عاملہ میں بحث مباحثے اور فیصلے کے بغیر بنیادی جمہوریتوں کے نظام کی تعریف و توصیف شروع کردی۔

ان سے بھی جواب طلب کیا گیا تو ان کا مؤقف تھا کہ انھیں ذاتی رائے رکھنے کا حق ہے۔ مجلس عاملہ نے ان کے اس حق کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں این، ایس، ایف کے حلقے سے فارغ کردیا۔ اس سے پہلے سید سعید حسن (جو ہمارے ساتھ 1962ء میں شہر بدر ہوئے تھے۔ سندھ اسمبلی کے رکن اور آئی، سی، بی کے چیئرمین بھی رہے) کو بھی این، ایس، ایف کی رکنیت سے محروم کردیا گیا تھا کہ کیونکہ انھوں نے کسی دباؤ میں آکر امریکا کی قائم کردہ عالمی طلباء تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی جو کہ عالمی فیڈریشن کو توڑنے کے لیے بنائی گئی تھی۔‘‘

اتنا کچھ لکھنے کے بعد واحد بشیر نے یہ بھی لکھا کہ یہ حضرات اب مرحومین ہوچکے ہیں۔ اس لیے نہ وہ تصدیق کرسکتے ہیں نہ تکذیب۔ میں نے اپنی یادداشت کی بنیاد پر پوری دیانت داری برتی ہے۔ اگرکسی کو تکلیف پہنچی ہو تو معذرت۔

بھائی واحد بشیر کی اس تحریر کو پڑھیے اور پھر آج کے سیاسی کارکنوں کے معاملات پر نظر ڈالیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم سیاسی اخلاقیات سے کتنی دور جاچکے ہیں۔

انھوں نے اپنی زندگی کے بہترین برس روزنامہ ’’بزنس ریکارڈر‘‘ کی نذر کیے۔ اس کے باوجود شاعری سے ان کا رشتہ استوار رہا۔ ’آزاری‘ کے عنوان سے ان کی ایک نظم کے چند اشعار:

’’اسے عروسِ بہار آزادی … تو نہیں ہے تو زندگی کیسی… آج پھر تیرے دل فگاروں کے … دل کے زخموں سے خون جاری ہے … جرم ہے آج گفتگو تیری … ذکر تیرا ہے لائقِ تعزیز … بے ضمیری کی قدرو قیمت ہے … کنجِ زنداں وفا کی ہے تقدیر … تیرے گیسو اگر سنور جاتے … ہم بھی چاک جگر کو سی لیتے … دو گھڑی تو جو مسکرا لیتی … ہم بھی دو دن خوشی سے جی لیتے … قید کیا چیز ہے تری خاطر … زہر قاتل بھی ہنس کے پی لیتے‘‘

واحد بشیر آزادی، جمہوریت، مساوات اور انصاف کے لیے اپنے حصے کی شمع روشن کرتے ہوئے ہم سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے:
ہم تو ہر حال میں سدا تجھ کو

دل کی گہرائیوں سے چاہیں گے
کنج زنداں سے تیری محفل تک
خون دل سے دیے جلائیں گے!

Citation
Zahida Hina, “واحد بشیر: اورنگ آباد کا جوہری,” in Express Urdu, July 1, 2015. Accessed on July 1, 2015, at: http://www.express.pk/story/371513/

Disclaimer
The item above written by Zahida Hina and published in Express Urdu on July 1, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 1, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Zahida Hina:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s