مرے کالج سیالکوٹ میں نعتیہ مشاعرہ

Follow Shabnaama via email
ادریس ناز

سیالکوٹ کی سرزمین بڑی طاقت ور اور بابرکت ہے۔ یہاں بڑے بڑے اور نامور لوگ ہی پیدا نہیں ہوئے خدا کی ان گنت نعمتیں بھی پیدا ہوئی ہیں اور مسلسل ہو رہی ہیں۔ یہاں کے لوگ بڑے ذہین، فراخ دل اور مہمان نواز ہیں۔ مجھے جب بھی سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا کچھ نئی یادیں لے کر واپس آیا۔ گزشتہ دنوں مجلس اقبال مرے کالج سیالکوٹ کے روح رواں جناب پروفیسر اشفاق نیاز نے فون کر کے کہا کہ مجلس اقبال مرے کالج سیالکوٹ میں’’ استقبال رمضان ‘‘نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام کر رہی ہے آپ بطور صدر مشاعرہ تشریف لا سکتے ہیں؟ میں نے استفسار کیا اور کون کون معزز شعراء کرام تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے بہت سارے مشہور اور بڑے شعرائے کرام کے علاوہ اردو نعت کے عظیم شاعر جناب ریاض چودھری کا نام لیا تو چونک گیا اور عرض کیا کہ ان کی موجودگی میں مَیں صدارت کرنے سے قاصر ہوں ۔ ان کے اصرار کے باوجود میں نے انکار کر دیا تو انہوں نے فرمایا چلیں آپ بطور مہمان خصوصی ہی تشریف لے آئیں ۔ مَیں نے ان کی محبت کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے مشاعرہ میں حاضری کی ہامی بھر لی۔ ایک تو مولوی میر حسنؒ ، علامہ اقبالؒ اور فیض احمد فیض کی سر زمین اور دوسرا سیالکوٹ کے ممتاز ترین تعلیمی ادارے مرے کالج میں بطور نعت گو شاعر حاضری کی سعادت کو مَیں نے اپنی خوش نصیبی سمجھا۔

اگلے ہی روز مجلس اقبال کی طرف سے چھپا ہوا کارڈ موصول ہوا۔ جس کے مطابق پرنسپل کالج جناب پروفیسر جاوید اختر باللہ کی صدارت اور ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حلیم کی سر پرستی میں منعقد ہونے والے اس مشاعرہ میں راقم کا نام بطور مہمان خصوصی چھپا ہوا تھا۔ دیگر شعرائے کرام میں جناب ریاض چودھری، جناب جان کاشمیری، جناب سید زاہد حسین بخاری، جناب پروفیسر سید عدید، جناب رشید آفرین،جناب مرزا محمد یونس طالب اور جناب مجید صابری جیسے نامور شعراء کرام رونق مشاعرہ بننے والے تھے۔ ان عظیم شعراء کے درمیان اپنا کلام پیش کرنا مَیں نے سعادت سمجھا اور مشاعرہ میں مقررہ وقت پر حاضری دی۔ تلاوت کلام پاک سے نعتیہ مشاعرہ کا آغاز ہوا اور اس کی سعادت کالج کی ہی ایک طالبہ وجیہہ کے حصہ میں آئی، جبکہ بارگاہ رسالت مآب میں ظل ہما نے اپنی مدھر آواز میں نعت پڑھ کر حاضری لگوائی۔ جن شعرائے کرام نے اپنا اپنا کلام پیش کر کے حاضرین پر وجد طاری کر دیااس کلام میں سے چند اشعار بطور تبرک آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا ،لیکن حسب عادت سب سے پہلے اپنا کلام پیش کروں گا ،تاکہ حفظ مراتب میں کسی صاحب کی دل آزاری نہ ہو کہ اس کا کلام سب سے پہلے کیوں پیش کیا گیا۔ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں میری حاضری کے دو اشعار ملاحظہ کیجئے اور قبولیت کی دعا فرمائیے۔
خاکِ پائے شہہِ لولاک کو چھونا چاہوں
کتنا بھولا ہوں کہ افلاک کو چھونا چاہوں
جس نے چوما ہے ترے قدموں کو آتے جاتے
اُس نگر کے خس و خاشاک کو چھونا چاہوں
ناظم مشاعرہ اور مرے کالج سیالکوٹ میں شعبہ اردو کے استاد اور مقامی ریڈیو کے اینکر پرسن جناب پروفیسر اشفاق نیاز نے جو کلام بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں پیش کیا اس میں دو اشعار آپ کی نذر:
جب سے دیکھا مدینہ نہیں دُور ہے
دل کی آنکھوں میں بس نور ہی نور ہے
اب نہ چاہوں میں کچھ بھی جہاں میں نیاز
میرا دل اُن کی چاہت سے معمور ہے
جناب مجید صابری نے جو پنجابی نعتیہ اشعار سنا کر محفل کے آغاز ہی میں وجد طاری کر دیا، اس میں سے دو اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
امانتاں دا امین او اے
صداقتاں دا یقین او اے
حسین ویکھن تے او وی آکھن
خدا دی قسم اے حسین او اے
سیالکوٹ سے ہی تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر جناب محمد یونس طالب کی نعت پاک میں سے بھی دو اشعار سنیے اور سر دُھنیے:
توفیق دے جس کو خدا، کہتا ہے نعت وہ
جو ہے غلام مصطفےٰؐ، کہتا ہے نعت وہ
سچ بولتا ہے جو سدا ،کہتا ہے نعت وہ
کرتا ہے جو وعدہ وفا ،کہتا ہے نعت وہ
سیالکوٹ کے ایک اور ممتاز شاعر جناب رشید آفرین نے جو نعتیہ ’’سانیٹ‘‘(SONNET) پیش کی اس کا ایک بند آپ کی خدمت میں پیش ہے۔
نبوت تھی ودیعت جس کو وہ ہے برتر و بہتر
وہ محبوبِ خداَ جس کو کہیں بحرِ سخا سارے
بنے ہیں نقشِ پا جس کے فلک پر چاند اور تارے
بیابانوں کو جس نے کر دیا رشکِ ارم یکسر
سرزمین اقبال کے نامور شاعر جناب پروفیسر سید عدید کے نعتیہ کلام سے دو اشعار پیش خدمت ہیں:
بُتوں کو کعبہ سے جس ذات نے نکالا ہے
خدا کا سب سے وہی معتبر حوالہ ہے
لکھا گیا ہے محمدؐ کا نام جس سے عدید
وہ روشنائی نہیں چاند کا اُجالا ہے
نامور شاعر ، کئی کتابوں کے مصنف، ریڈیو کی دنیا کی مشہور شخصیت جناب سید زاہد حسین بخاری کے نذرانہء عقیدت سے ایک ٹکڑا پیش خدمت ہے:
جھوم کر طیبہ کی جانب سے گھٹا آئی ہے
زلف سرکارِ مدینہ کہیں لہرائی ہے
کیا عجب اُن پہ ہوں قربان حسینانِ جہاں
اُن کا بن دیکھے ہی یوسف ؑ بھی تو شیدائی ہے
ڈاکٹر محمد حلیم خاں ریذیڈنٹ ڈائریکٹر گوجرانوالہ آرٹس کونسل گوجرانوالہ ڈویژن اور اس نعتیہ مشاعرہ کے سر پرست اعلیٰ کا ایک نعتیہ شعر آپ کی نذر:
درود پڑھتے ہیں اُن پر کلام پڑھتے ہیں
حلیم ذاتِ نبیؐ پر سلام پڑھتے ہیں
جانِ محفل محترم جناب جان کاشمیری کے بھی دو اشعار ملاحظہ کیجئے، جنہوں نے حاضرین کو تا دیر جھومنے پر مجبور کر دیا:
کوئی مرنے سے کرے یا کوئی جینے سے کرے
ابتدا اپنی محبت کی مدینے سے کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی محسوس ہوتا ہے صدائے پاک سے آگے
محمدؐ ہی محمدؐ ہیں حدِ ادراک سے آگے
معزز شعرائے کرام کا بہت سارا کلام یہاں پیش کرنا چاہتا تھا ،مگر تنگی قرطاس کی وجہ سے قاصر ہوں۔ مرے کالج سیالکوٹ میں مجلس اقبال اور گوجرانوالہ آرٹس کونسل کے زیر اہتمام ہونے والا یہ نعتیہ مشاعرہ مدتوں یاد رہنے والی محفل ہے۔ مشاعرہ کے اختتام پر صدر مجلس اقبال مرے کالج سیالکوٹ جناب پروفیسر ندیم اسلام سلہری نے مہمانان گرامی اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس مبارک محفل کو رونق بخشی اور پھر پرنسپل مرے کالج سیالکوٹ پروفیسر جاوید اختر باللہ نے اپنے صدارتی کلمات میں شعرائے کرام کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے کالج ہذا کی یادگار تقریب قرار دیا۔

Citation
Idrees Naz, ” مرے کالج سیالکوٹ میں نعتیہ مشاعرہ ,” in Daily Pakistan, June 30, 2015. Accessed on July 1, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/30-Jun-2015/240348

Disclaimer
The item above written by Idrees Naz and published in Daily Pakistan on June 30, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 1, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Idrees Naz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s