پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق؟

Follow Shabnaama via email
عطاء الحق قاسمی

ایک زمانہ تھا کہ کاتبوں کے ہاتھوں لکھنے والوں اور لکھنے والوں کے ہاتھوں کاتبوں کی شامت آئی رہتی تھی۔ کاتب حضرات لکھتے وقت’’محرم‘‘ کو ’’مجرم‘‘ اور’’ مجرم‘‘ کو’’محرم‘‘ بنادیتے تھے۔ ادھر لکھاری حضرات آئے روز کاتب حضرات کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر ان کا ریکارڈ لگاتے اور یوں اخباری صفحات پر خاصی رونق لگی رہتی۔ کاتبوں سے لکھتے وقت جو غلطیاں ہوتی تھیں ان میں سے کچھ تو ایسی تھیں کہ لکھنے اور چھاپنے والا دونوں باآسانی اندر ہوسکتے تھے لیکن پریس ڈپارٹمنٹ عفو و درگزر سے کام لیتا۔ پنجاب میں جو کاتب حضرات پائے جاتے تھے، ان میں سے زیادہ تر کا تعلق حافظ آباد اور اس کے گردونواح سے ہوتا تھا، ان کا بچپن گائوں میں بھینسیں چراتے اور جوانی شعرِ حافظ کی تعبیر میں گزرتی، یہ حضرات دونوں گھٹنوں پر مسطر رکھے اور دیوار سے ٹیک لگائے سیاہ روشنائی سے خبریں اور مضامین لکھتے، اس کے ساتھ گپ شپ کا سلسلہ بھی جاری رہتا ، چنانچہ ان دہری’’ذمہ داریوں‘‘ کی وجہ سے لکھتے وقت ایسی ’’فحش‘‘ غلطی کرتے کہ پروف پڑھتے وقت پروف ریڈر کے کان کی لویں سرخ ہوجاتیں اور اگر پروف ریڈر کی نشاندہی کے باوجود وہ لفظ اسی طرح چھپ جاتا تو گھر کے بزرگ اس روز اخبار چھپا دیتے اور دروازہ بند کرکے وہ خبر یا مضمون بار بار پڑھتے اور آنسوئوں سے روتے کے صحافت پر کیا برا وقت آن پڑا ہے۔

یہاں ایک وضاحت ضروری ہےاور وہ یہ کہ اس نوع کی غلطیاں زیادہ تر’’کاتبوں‘‘ سے ہوتی تھیں، خوش نویسوں سے نہیں۔ گوسب کاتب خود کو خوش نویس ہی سمجھتے تھے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہر کاتب کو خوش نویس نہیں کہا جاسکتا تھا۔ مجھے جن خوش نویسوں سے پالا پڑتا رہا وہ اپنے طویل تجربے کی بدولت صرف خوش نویس نہیں رہے تھے بلکہ وہ زبان و بیان کی باریکیوں کو بھی سمجھنے لگے تھے۔ ان میں سے کچھ تو خود عالم فاضل ہوگئے ، چنانچہ اگر کوئی لکھاری زبان و بیان کی غلطی کرتا تو یہ اس کی نشاندہی کرتے ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو اعتماد کی دولت سے کچھ اتنے مالا مال ہوجاتے کہ کسی مضمون میں از خود تحریف یا اضافہ فرما دیتے اور مضمون نگار کو اس کا علم مضمون کی اشاعت کے بعد ہوتا۔میں نے ایک برصغیر کے نامور خطاط اور نہایت قابل احترام شخصیت حافظ یوسف صاحب سے ایک اردو اخبار کے ’’فنون لطیفہ ایڈیشن‘‘ کے لئے ایک خصوصی مضمون حاصل کیا جو برصغیر کے صاحب اسلوب خطاط حضرات کے حوالے سے تھا۔ پروف ریڈر نے یہ مضمون پڑھ کر غلطیاں لگوا کر میرے سپرد کیا۔ کاپی پیسٹ ہونے کے بعد میں نے سلسلے چیک کرنے کے لئے مضمون پر نظر ڈالنا شروع کی تو اس میں ممتاز خطاطوں کے ذکر کے دوران دونامانوس نام میری نظروں سے گزرے۔ ایک مولوی دین محمد اور دوسرا مولوی نور محمد، اگرچہ فن خطاطی کے حوالے سے میرا علم کچھ بہت زیادہ نہیں تھا تاہم یہ نام اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں سنے تھے۔ اس کے علاوہ حافظ یوسف صاحب کا مضمون کتابت کے لئے دینے سے پہلے اس کے مطالعے کے دوران بھی مجھے یہ نام اس مضمون میں کہیں نظر نہیں آئے تھے۔ اس کے باوجود میں نے اصل مسودہ منگوایا کہ ممکن ہے مجھے غلط لگا ہو مگر اصل مسودے میں بھی یہ نام کہیں نہیں تھے، چنانچہ میں نے اپنے خوش نویس دوست کو بلایا اور پوچھا کہ یہ مولوی دین محمد کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا میرے والد صاحب ہیں جی اور یہ مولوی نور محمد؟ انہوں نے جواب دیا’’میرے تایا جی ہیں جی!‘‘ میں نے کہا ’’حافظ صاحب نے تو ان دونوں کا ذکر اپنے مضمون میں نہیں کیا آپ نے یہ نام از خود کیوں مضمون میں شامل کردئیے؟‘‘ ۔ بولے’‘’حافظ صاحب بھول گئے ہوں گے جی، میں ان سے بات کروں گا، آپ چلنے دیں جی!‘‘۔ ان کی اس فرینک نیس‘‘ پر میری ہنسی چھوٹ گئی اور مجھے وہ صاحب یاد آگئے جنہوں نے قرآن مجید کی کتابت کرتے ہوئے جہاں جہاں شیطان کا ذکر آیا ،وہاں اپنے والد صاحب کا نام لکھ دیا، ان کا کہنا تھا کہ اتنی مقدس کتاب میں شیطان کا ذکر کچھ اچھا نہیں لگتا!

اور آج نہ کاتب ہیں اور نہ خوش نویس، ان کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی ہے مگر غلطیاں اپنی جگہ موجود ہیں۔یہ غلطیاں کمپیوٹر نہیں کرتا، کمپوزر سے سرزد ہوتی ہیں، لطیفے اس میں بھی بہت ہیں مگر وہ پھر کبھی سہی، صرف ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔ میں نے ایک اپنے عید کے حوالے سے لکھے گئے کالم میں عید ملنے کا ذکر کیا تھا اور لکھا تھا کہ پسلی توڑ معانقوں کا توڑ کرنے کے لئے میں نے کچھ موٹے موٹے لوگ تاک کر رکھے ہوتے تھے جن کے مخملی تکیوں جیسے جسموں سے عید ملتے ہوئے ہلکی سی ٹکور ہوجاتی تھی، کمپوزر نے’’موٹے موٹے لوگ تاک کر رکھے ہوتے تھے‘‘ کو سوئے سوئے لوگ تاک کر رکھے ہوتے تھے‘‘ بنادیا مگر مجھے اس کا مزا آیا کیونکہ سوئے ہوئے لوگوں کے بارے میں مجھے یہ شعر یاد آگیا تھا

جاگنے والے تیرا کیا کہنا
سونے والے کو کچھ خبر نہ ہوئی

غالباً کمپوزر کے ذہن میں بھی یہی حوالہ تھا!

اب اللہ کو جان دینی ہے، سارا بوجھ کاتبوں اور کمپوزروں پر ڈالنا سراسر ز یادتی ہے، خود لکھاری حضرات بھی اس’’کار خیر‘‘ میں اپنا حصہ’’بقدر جثہ‘‘ ڈالتے ہیں۔ یہاں جثے سے مراد ان کا قد کاٹھ اور ان کی جسامت نہیں بلکہ ان کی بدخطی کی’’جسامت‘‘ ہے جو جتنا بدخط ہے وہ ان دنوں اتنا ہی کمپوزروں کی جان کا عذاب بنا ہوا ہے جو لکھاری زمانے کے ساتھ چل رہے ہیں وہ تو اپنا کالم یا مضمون خود ٹائپ کرتے ہیں اور اس کی ہارڈ کاپی اخبار یا کسی بھی متعلقہ ادارے کو Send کردیتے ہیں لیکن جو میرے جیسے قدامت پسند ہیں وہ اپنے ہاتھ کا لکھا بلکہ بدخطی کے حوالے سے پائوں سے لکھا ہوا کالم ارسال کرتے ہیں چنانچہ کمپوزر بھی ایسی تحریریں کمپوز کرتے ہوئے صرف انگلیوں سے کام لیتے ہیں، دماغ سے نہیں اور یوں اگر سائیکل کی گدی کا ذکر ہورہا ہے تو وہ سوچے سمجھے بغیر سائیکل کی ’’گدھی‘‘ لکھ دیں گے۔ ویسے تو بدخطی میں ہمارے ہاں ایک سے ایک بڑھ کر’’ جوہر قابل‘‘ موجود ہے ، مگر میرے بہترین دوستوں میں سے ایک اور بہت بڑے اسکالر ڈاکٹر سلیم اختر کو تو بدخطی میں ڈی لٹ کی ڈگری ملنی چاہئے۔ موصوف ایک دن ایک تحریر پڑھتے ہوئے بہت بدمزہ ہورہےتھے اور کہہ رہے تھے یار میں بھی بہت بدخط ہوں لیکن یہ شخص تو مجھ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ اس پر میں نے عرض کیا’’برادرمکرم یہ آپ ہی کی ایک پرانی تحریر ہے جو میرے کاغذوں میں سے نکلی ہے اور یہ بات فوری طور پر میں نے آپ کو اس لئے بتادی ہے کہ آپ اس ’’خطاط‘‘ کو بہت موٹی سی گالی دینے کے موڈ میں لگ رہے تھے۔

غالب نے بھی
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا

والا شعر غالباً منکرنکیر کی نیت پر شک کی وجہ سے نہیں کہا تھا بلکہ اسے یہ خدشہ تھا کہ کہیں وہ بدخط نہ ہوں اور یوں وہ لکھیں کچھ اور پڑھا کچھ اور جائے۔

Citation
Ataulhaq Qasmi, “پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پہ ناحق؟,” in Jang, June 29, 2015. Accessed on June 29, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D9%BE%DA%A9%DA%91%DB%92-%D8%AC%D8%A7%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%92-%D9%BE%DB%81-%D9%86%D8%A7%D8%AD%D9%82%D8%9F/

Disclaimer
The item above written by Ataulhaq Qasmi and published in Jang on June 29, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 29, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ataulhaq Qasmi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s