فقید المثال مولانا رومیؒ

Follow Shabnaama via email
عبد القدیر خان

فارسی، اور کسی حد تک اردو، ادب سے شناسا دانشور اور ادیب مولانا جلال الدین رومیؒ اور ان کی مثنوی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ فارسی زبان کی دو کتابوں نے عالمی شہرت پائی، ایک مثنوی مولانا رومیؒ اور دوسری رباعیات عمر خیام۔ مغربی دنیا میں ان کے کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئے ہیں اور ہر پڑھے لکھے شخص کی لائبریری میں یہ کتب موجود ہیں۔ دونوں کتابوں کے مواد میں بہت فرق ہے، خیام کی رباعیات شاعری، عشق و محبت پر مبنی ہے اور لاجواب ہیں جبکہ مثنوی رومی میں مولانا رومیؒ نے حکایات و قصوں میں نہایت نصیحت آمیز و سبق آموز واقعات بیان کئے ہیں۔ اس مثنوی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کو اِلہامی کتاب سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ خود مولانا رومیؒ نے ایک شعر میں اس جانب اشارہ کیا تھا۔

چوں فتاد از روزن دل آفتات
ختم شد واللہ اَعلم بالصٓواب

یعنی بقول مولانا دل میں جس دریچۂ باطنی سے غیب کے علوم اور معارف آرہے تھے تو بحکمت خداوندی وہ کتاب ہذا ختم ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ مثنوی کو فارسی زبان میں قرآن سے تشبیہ دیتے ہیں۔

’’ہست قرآن دَر زبان ِ پہلوی‘‘

یوں تو مولانا رومی ؒ اور ان کی مثنوی پر لاتعداد کتب تحریر کی گئی ہیں لیکن اُردو زبان میں جو کتب قابل ذکر ہیں ان میں مولانا شبلی نعمانی کی سوانح مولانا رومیؒ، قاضی سجاد حسین صاحب کی مثنوی روم کا اردو میں منظوم ترجمہ مثنوی مولوی معنوی، اسکواڈرن لیڈر وَلی الدّین کی سُبک سیل مثنوی اور جناب مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب کی معارف مثنوی ہیں۔

رَمضان المبارک کے تقدس و اہمیت کی وجہ سے میرا رحجان قطعی طور پر سیاست جیسی گندی چیز پر کچھ لکھنے کا نہیں ہے۔ پچھلے کالموں میں آپ کو وضو، غسل، نماز، روزہ، زکوٰۃ کے بارے میں چند معلومات بتلائی ہیں۔ مولانا رومیؒ چونکہ ایک نہایت مقدس اور فقیدالمثال ولی اللہ کی حیثیت رکھتے ہیں سوچا کہ عوام کو (اہل دانش و علم سے معذرت کے ساتھ) ان کی شخصیت اور مثنوی کے بارے میں کچھ بتانے کی جسارت کروں۔ پہلے مولانا رومیؒ کے بارے میں چند معلومات۔

مولانا رومیؒ کا نام محمد اور لقب جلال الدین تھا۔ عرف عام میں مولانا رومؒ یا مولانا رومیؒ کے نام سے جانے گئے۔ آپ 1207 عیسوی میں بمقام بلخ پیدا ہوئے۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اولاد میں سے تھے۔ والد کا نام شیخ بہاء الدین تھا۔ آپ محمد خوارزم شاہ کے نواسے تھے۔ 1213 عیسوی میں والد ان کو لیکر نیشاپور ہجرت کرگئے وہاں اپنے وقت کے ولی اللہ حضرت خواجہ فرید الدین عطار سے ملاقات ہوئی۔ خواجہ فریدؒ نے ان کو اپنی مثنوی اسرار نامہ تبرکاًہدیہ دی۔ آپ کی شادی 18 سال کی عمر میں بمقام لارند ہوئی، تقریباً 25 سال کی عمر میں حصول علم کے لئے شام کی راہ لی اور پھر وہاں سے قونیہ تشریف لے گئے جہاں 1245 عیسوی میں آپ کی ملاقات حضرت شمس تبریزؒ سے ہوئی اور آپ ان کے مرید ہوگئے۔ 1263 عیسوی میں مثنوی لکھی، 1273 میں بمقام قونیہ رحلت فرمائی اور وہیں دفن کردیئے گئے۔ آپ کی عمر 68 سال کی تھی۔

مولانا رومیؒ کی مثنوی کا طرز تحریر نہایت دلچسپ اور مسحور کن ہے۔ آپ نے پہلے واقعات افسانے کی شکل میں بیان کئے ہیں اور پھر علمی موشگافیاں اور ہدایات موقع موقع سے اس کے بارے میں بیان کردی ہیں۔ بقول جناب مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب فارسی زبان میں ’’جس قدر کتابیں اس فن پر لکھی گئی ہیں کسی میں ایسے دقیق اور نازک مسائل و اسرار نہیں ملتے جن کی اس مثنوی میں بہتات و کثرت ہے۔ مثنوی نہ صرف تصوف اور اخلاق کی کتاب ہے بلکہ یہ عقائد اور کلام کی بھی بہترین تصنیف ہے۔‘‘

جن اہل دانش و عقل فہم نے شیخ سعدی ؒ کی مشہور کتب گلستان و بوستان کا مطالعہ کیا ہے ان پر یہ بات عیاں ہے کہ مولانا رومیؒ کا انداز بیان بھی شیخ سعدیؒ کے انداز بیان سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ ممکن ہے کہ مولانا رومیؒ نے شیخ سعدیؒ کی کتب سے استفادہ کیا ہو اور ان سے متاثر ہوگئے ہوں اور ان کے نہایت سادہ اور پیارے انداز تحریر کو اَپنا لیا ہو۔

مثنوی میں مولانا رومیؒ نے نہایت سادہ الفاظ میں پرانے واقعات و حکایات بیان کی ہیں اور پھر ان سے جوڑ کر ہدایات و نصیحتیں بیان کی ہیں۔ اپنے عام قارئین کے مفاد و دلچسپی کے لئے اس کالم میں ایک حکایت بیان کررہا ہوں جو معارف مثنوی میں درج ہے۔

’’ایک صحابیؓ بیمار ہوئے اور لاغر ہوگئے، رسول اللہؐ عیادت کے لئے تشریف لائے۔ آپؐ نے دیکھا کہ وہ بہت کمزور ہیں اور حالت نزع طاری ہے یعنی قریب المرگ ہیں، آپؐ نے اس حالت کو دیکھ کر بہت ہی نوازش اور اظہار لطف فرمایا۔ بیمار صحابی ؓ نے جب رسول اللہؐ کو دیکھا تو خوشی سے نئی زندگی آگئی اور ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی مردہ اچانک زندہ ہوجائے اور انھوں نے کہا کہ اس بیماری نے مجھ کو خوش نصیب اور خوش قسمت کردیا کہ اس کی بدولت رسول اللہؐ میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور پھر انھوں نے کہا اے میری بیماری، بخار، رنج اور درد اور بیداریٔ شب تجھے مبارک ہو کہ تو ہی سبب ہے اس وقت کہ رسول اللہؐ میری عیادت کو تشریف لائے ہیں۔ عیادت سے فارغ ہوکر رسول اللہؐ نے صحابی سے پوچھا کہ تمھیں کچھ یاد ہے کہ تم نے ایک بار حالت صحت میں کیا دعا مانگی تھی۔ انھوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ میں نے اپنے اعمال کی کوتاہیوں اور خطائوں کے پیش نظر دعا کی تھی کہ اے اللہ وہ عذاب جو آخرت میں آپ دینگے وہ اسی عالم میں مجھ پر جلد دیدیجئے تاکہ عالم آخرت کے عذاب سے فارغ ہوجائوں اور یہ دعامیں ابھی تک مانگتا رہا ہوں یہاں تک کہ نوبت یہ آگئی کہ مجھ کو ایسی شدید بیماری نے گھیر لیا اور میری جان اس تکلیف سے وبال بن گئی اور اس بیماری کے سبب میں اپنے ذکر اور ان وظیفوں سے جو حالت صحت میں میرے معمولات تھے عاجز اور مجبور ہوگیا ہوں اور ہر نیک و بد سے بے خبر پڑا ہوں۔ صحابی کی اس دُعا کے مضمون کو سن کر رسول اللہؐ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور منع فرمایا کہ آئندہ ایسی دعا ہرگز کبھی نہ کرنا اور آپؐ نے ایسی دعا کو منافی عبدیت (یعنی آداب بندگی، عاجزی کے خلاف) قرار دیا کہ یہ اپنے خالق سے بَلاو عذاب طلب کرے کیونکہ ایسی دعا مانگنا گویا یہ دعویٰ کرنا ہے کہ ہم خداوند تعالیٰ کے سامنے اس کی بلا ، عذاب و تکلیف کو برداشت کرنے کی صلاحیت و ہمّت رکھتے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہؐ نے ان صحابی ؓ کو نصیحت فرمائی کہ اے شخص تو کیا یہ طاقت رکھتا ہے کہ تجھ جیسی بیمار چیونٹی پر خداوند کریم ایسا بڑا پہاڑ اپنی بلا و عذاب کا رکھدیں؟ اور پھر آپؐ نے نصیحت فرمائی کہ اس طرح سے دعا کرو کہ اے اللہ! میری دشواری کو آسان کردیجئے تاکہ اللہ پاک تمہاری مصیبت کے کانٹوں کو گلشن راحت میں تبدیل فرمادے۔ اور اللہ پاک سے دعا مانگو کہ اے اللہ! دنیا میں مجھے بھلائیاں عطا فرما اور آخرت میں بھی مجھے بھلائیاں عطا فرما‘‘۔

مولانا رومی ؒ نے اس حکایت کے پس منظر ہدایت فرمائی کہ انسان کبھی اللہ تعالیٰ سے عذاب اور تکلیف نہ مانگے بلکہ دونوں جہانوں کی عافیت مانگتا رہے۔ اور اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری اور عاجزی کا اقرار کرتا رہے مثلاً اگر کسی کو بدنگاہی کی بیماری ہے تو اس کی صحت کے لئے دعا کرے، اللہ والوں سے علاج دریافت کرے اور ان سے بھی دعا کی درخواست کرے مگر کبھی پریشان ہو کر ہرگز یہ نا کہے کہ یا اللہ یہ بیماری تو اچھی نہیں ہوتی اس سے تو بہتر ہے کہ تو مجھے اندھا ہی کردے تاکہ آنکھوں سے گناہ نہ ہو تو ایسی دُعا جہالت اور ناشکر گزاری ہوگی اور بہتر یہ ہے کہ جہاں تک ہو بلا اور عذاب سے بچو اور عافیت کی دعا مانگوـ۔

کہاوت ہے کہ ایک بزرگ سائے کے باوجود دھوپ میں نماز ادا کررہے تھے تو ایک صاحب نسبت و بزرگ نے ان کو اس حات میں دیکھ کر فرمایا کہ یہ شخص کسی بُری بلا یا عذاب میں گرفتار ہونے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب عافیت اور آرام سامنے ہو تو بلا اور مصیبت اختیار نہ کرو اور اگر دونوں طرف ہی بلا اور تکلیف ہو تو جو آسان ہو اس کو اختیار کرو۔ بخاری شریف میں ہے۔ حدیث نبوی ہے کہ رسول اللہؐ کو جب بھی دو صورتوں میں سے ایک اختیار کرنی ہوتی تو آپ ہمیشہ آسان تر صورت ہی کو اختیار کرتے بشرطیکہ گناہ نہ ہو۔ دیکھئے یہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں جنت کے دروازے کھولدیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ اس کے معنی ہرگز یہ نہیں کہ آپ ہر قسم کے گناہ کریں اور آپ کی گرفت نہ ہوگی۔ اگر آپ دروغ گوئی، منافقت، رشوت ستانی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، جعلی مہنگائی، جیسے گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہونگے تو آپ اللہ کے شدید عتاب و اذیت سے بچ نہ پائینگے۔ اس لئے بھی کہ یہ مہینہ عبادت اور نیکیاں کرنے کا ہے نہ کہ گناہ کبیرہ کرنے کا۔ خدا کے واسطے اب بھی راہ راست اختیار کرلو ورنہ اللہ تعالیٰ کے شدید عتاب سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ اے پیغمبر! لوگوں کو تنبیہ کردو کہ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور مہربان ہے مگر اس کا عتاب بھی بہت شدید ہے۔

Citation
Abdul Qadeer Khan, “فقید المثال مولانا رومیؒ,” in Jang, June 29, 2015. Accessed on June 29, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%B1%D9%88%D9%85%DB%8C%D8%92-%D8%B3%D8%AD%D8%B1-%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92-%D8%AA%DA%A9/

Disclaimer
The item above written by Abdul Qadeer Khan and published in Jang on June 29, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 29, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Abdul Qadeer Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s