چوکھٹے قبر کے خالی ہیں۔۔۔!

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

مہنگائی کے اس جان لیوا، رُوح فرسا، خود کش دَورِ بے ہنگم میں جہاں ہر شخص ابتلا میں مبتلا ہے وہاں قبروں اور قبرستانوں کا بھی بُرا حال ہے۔ اُوپر سے ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ والا معاملہ درپیش ہے۔ بے شک:

پھُول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں

تو کیا اس کا حل یہ ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کی، اپنے چہیتوں اور چاہنے والوں کی قبروں پر گلپاشی نہ کریں اور نام نہاد شہری ترقی و سہولت کے نام پر انہیں مسمار ہوتا دیکھیں مگر کیا کیا جائے، یہ ایک مُبرم حقیقت ہے کہ لاہور کے ساڑھے آٹھ سو سال پرانے تاریخی، قدیمی یادگار قبرستان مومن پورہ پر بُرا وقت آن پڑا ہے، آفت ٹوٹنے ہی والی ہے۔ لاکھ واویلا ہو یہ آفت ٹوٹ کر رہے گی۔

مُردے تو قبروں سے نکل کر ننگا مارچ کر کے احتجاج کرنے سے رہے۔ اُن کے زندہ لواحقین، عقیدت مند، شاگرد، نیاز مند یا نیاز مندوں کے بھی نیاز مند پُر امن احتجاج کریں سو کریں، حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی۔۔۔ حکومت نے جو ٹھان لی ہے سو ٹھان لی۔ اُسے اہلِ قبور سے زیادہ اہلِ فتور عزیز ہیں۔ وہ اہلِ فتور جن کے دماغوں میں بھس بھرا ہے، ذہنوں میں من مانی کر گزرنے کا فتور ہے کہ اسی میں اُن کا اپنا ذاتی بھلا ہے۔

تازہ خبر یہ آئی ہے کہ ’’اورنج لائن میٹرو ٹرین‘‘ منصوبے کی آڑ میں مومن پورہ کے قدیم تاریخی یادگار قبرستان کو یکسر مسمار کر دیا جائے گا تاکہ زندوں کے مزید جاہ و حشم کے لئے وہ مُردے جو پہلے ہی خاک بسر ہیں قیامت تک کے لئے دربدر ہو جائیں۔ اس سلسلے میں جو کم کم اہلِ نظر ہیں اہلِ دل، اہلِ فکر و دانش ہیں اور جو جنت البقیع کے انہدام کو آج تک دل سے قبول نہیں کر سکے اُنہوں نے حضرت علامہ، مولانا سید محمد سبطین سبزواری کی قیادت میں قبرستان مومنِ پورہ کے باہر لکشمی چوک تک شدید احتجاج کیا ہے۔ علامہ سبطین سبزواری نے اس نا عاقبت اندیشانہ حکومتی منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’قبروں کی بے حرمتی اور انہیں مسمار کرنا کھلی دہشت گردی ہے، جس کی اہل ایمان کبھی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا مومن پورہ قبرستان 850 سالہ تاریخ رکھتا ہے اس قبرستان میں مذہبی، عسکری، ملی اور ممتاز ادبی شخصیات مدفون ہیں، ان کا انہدام بلکہ مسماری ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا حکمران طبقہ اقتدار کے اندھے نشے میں کسی قسم کے غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر اسلامی اقدام سے عذاب الٰہی کو دعوت دینے سے باز رہے‘‘۔

یہ تو تھا ان اہل ایمان کا انتباہ جو بقول اقبالؒ اس جہان میں صورتِ خورشید جیتے ہیں:

جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں

اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے، اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے

اہل ایمان تو ڈوبتے اُبھرتے ہی رہیں گے اور حصولِ مقصد تک سراپا احتجاج بھی بنے رہیں گے۔ میں یہاں یہ تو بتاتا چلوں کہ مومن پورہ کے متوقع مقہورو مظلوم قبرستان میں کیسی کیسی یگانہء روز گار شخصیات آسودۂ خاک ہیں۔ چند ایک کا ذکر ہی کافی ہوگا۔

شاعروں کے شاعر ہر دل عزیز، صاحب اسلوب، منفرد لب و لہجے کے شاعر ناصر کاظمی ایسے تیکھے اشعار کے خالق:

دائم آباد رہے گی دُنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا

کچھ یادگارِ شہرِ ستمگر ہی لے چلیں

آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے جائیں

ادیبِ شہیر سید عابد علی عابد (سابق پرنسپل دیال سنگھ کالج لاہور) شاعر، مدیر، ماہر تعلیم، محقق، نقاد، افسانہ نگار، شعری مجموعوں، ’’شبِ نگار بنداں‘‘ ’’بریشم عُود‘‘ ’’میں کبھی غزل نہ کہتا اور ’’اصول انتقادادبیات‘‘ جیسی بے شمار بلند پایہ کتابوں کے مصنف، مولف، مرتب۔ ’’صحیفہ‘‘ کے مدیر کے طور پر ایک معیار قائم کر گئے۔ جسے چھونا بعد والوں کے لئے آسان نہ رہا۔ ڈراما نگاری بھی کی، ناول بھی لکھے، ہمہ جہت، ہمہ پہلو، ادیب مگر بنیادی طور پر شاعر:

دَمِ رخصت وہ چُپ رہے عابد

آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل

تصویر لیلیٰ ہودج نشیں تھی، لیلیٰ نہیں تھی

ذوقِ تماشا کیا جھانکتا تھا محمل بہ محمل

دوستو! ہم نفسو سنتے ہو عابد کی غزل یہ وہی شعلہ نوا، سوختہ جاں ہے کہ جو تھا:

وہ مجھے مشورۂ ترک وفا دیتے تھے

یہ محبت کی ادا ہے، مجھے معلوم نہ تھا

عابد علی عابد شروع میں ’’عابد لاہوری‘‘ بھی رہے۔ وکالت بھی کی۔ اب ’’لاہور‘‘ میں اُنہیں قبر سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انکا مقدمہ کون لڑے گا؟

مشیر کاظمی نامور شاعر، فلمساز، ہدایت کار، اداکار گیت نگار۔ دھمال لکھی تو دھومیں مچا دیں:

سخی شہباز قلندر!

علی دَم دَم دے اندر

پھر ملی نغمہ نگاری کی تو الگ راہ نکالی:

اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

مشیر کاظمی بھی مومن پورہ کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ ریاض بٹالوی ملک کے نامور صحافی، منفرد فیچر رائٹر عمر کا زیادہ حصہ مشرق اخبار میں گزارا۔ صدارتی ایوارڈ تمغ�ۂ حُسن کارکردگی کے حامل تھے۔ 5 فروری 1939ء کو بٹالہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے 15 جنوری 2003ء کو اس دنیائے فانی سے عالمِ جاودانی کو سدھار کر مومن پورہ کے قبرستان میں موجود ہیں۔

سید طاہر حسین مشہدی صحافت کی دُنیا میں معروف انگریزی اخبار ’’دی مُسلم‘‘ کے پبلشر تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر آغا مسعود رضا خاکی قزلباش بے پایاں علم و فضل کے مالک ’مصنف‘ شاعر، حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری بھی رہے خاکی قزلباش معروف نقاد ماہر تعلیم، مقرر اور ساتھ ہی عالم دین بھی تھے، مجالس بھی پڑھتے تھے۔ ان کا ایک نعتیہ مجموعہ ’’ معراج اسخن‘‘ واقعی سخن کی معراج ہے۔ ان کی قبر بھی ان کے شہر لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں ہے۔ اِن اور ان جیسے متعدد ادباء و شعراء کے ساتھ ساتھ ایئر چیف مارشل مصحف علی میر شہید کا مزار ان کی بیگم کی قبر بھی مومن پورہ میں ہے۔ عالیہ بیگم انتظار حسین کی آخری آرام گاہ بھی یہیں ہے۔

یہ سب وہ نام ہیں جو کالم لکھتے ہوئے بلا ارادہ، بلا واسطہ، بلا کسی تحقیق مزید کے ذہن میں خودبخود آگئے۔ ان کے علاوہ، اور بہت سے ہوں گے، ان کی قبروں کو مسمار یا ملیامیٹ کرنے والوں کو حضرتِ احسان دانش کا یہ شعر یاد رکھنا چاہئے؟

چوکھٹے قبر کے خالی ہیں انہیں مت بھولو

جانے کب کونسی تصویر لگا دی جائے

Citation
Nasir Zaidi, ” چوکھٹے قبر کے خالی ہیں۔۔۔! ,” in Daily Pakistan, June 27, 2015. Accessed on July 8, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/27-Jun-2015/239305

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on June 27, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on July 8, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s