قبرستان مومن پور ہ میں مشاہیر کی ’’غیر محفوظ‘‘ قبریں؟

Follow Shabnaama via email
عطاء الحق قاسمی

پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف تک یہ خبر پہنچی کہ لاہور میں اورینج لائن منصوبے کیلئے جو کہ شہر میں ٹرین کا ایک شاندار منصوبہ ہے کی زد میں مومن پور ہ قبرستان بھی آرہا ہے، جسے مسمار کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے قبل متذکرہ نوع کے منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں کئی مساجد اور کئی بزرگوں کے مزار بھی حائل ہوئے مگر اس کا حل یہ نکالا گیا کہ بہت احترام سے وہ مساجد اور وہ مزارات اس جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیئے گئے اور یوں کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملا، اسی طرح قرطبہ چوک (مزنگ چونگی) کی توسیع کے دوران تحریک آزادی کے ایک رہنما اور ’’زندگی‘‘ کتاب کے مصنف چودھری افضل حق مرحوم کی قبر بھی اس توسیع کی زد میں آرہی تھی، میرے توجہ دلانے پر شہباز صاحب نے فوری نوٹس لیا اور یہ تاریخی قبر محفوظ کرلی گئی۔ تاہم اس دفعہ مسئلہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ مومن پور ہ قبرستان میں بیسیوں مشاہیر دفن ہیں اور ان کا تعلق فنون لطیفہ کے علاوہ زندگی کے دیگر مختلف شعبوں سے ہے ممکن ہے وزیراعلیٰ ان میں سے کسی ایک آدھ نام سے ناواقف ہوں مگر یہ سب کے سب ادب و صحافت موسیقی اور دوسرے شعبوں کے بہت بڑے نام ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ جب اس کالم میں ، میں ان مشاہیر کے نام لکھوں گا جو متذکرہ قبرستان میں دفن ہیں تو متعلقہ شعبوں کے بہت سے افراد کو بھی شاید پہلی بار علم ہوگا کہ ان کی محبوب شخصیات ان کے قرب و جوار ہی میں موجود ہیں۔ ان مشاہیر میں امتیاز علی تاج، حجاب امتیاز علی، ناصر کاظمی، عابد علی عابد، چیف ایئرمارشل، مصحف علی میر، استاد امانت علی خاں، اسد امانت علی، رشید عطرے، حامد علی بیلا، مصطفےٰ علی ہمدانی، اداکار مظہر شاہ، گلوکار منیر حسین، شاعر منظور حسین چھلہ کے علاوہ شاعر مشیر کاظمی اور افسانہ نگار نصرت علی بھی شامل ہیں، مومن پورہ قبرستان میں صحافیوں میں سے ریاض بٹالوی اور سعادت خیالی یہاں دفن ہیں تاہم مجھے یقین ہے کہ یہ ایک نامکمل فہرست ہے، یہاں ان مشاہیر کے علاوہ کئی اور ہستیوں کی بھی بہت قابل احترام شخصیات مدفون ہوں گی، جس کی تفصیل ایم آر شاہد (تمغہ امتیاز) سے حاصل کی جاسکتی ہے اس نوجوان محقق نے ایک سائیکل اور کاغذ قلم کے سہارے پاکستان کے تمام قبرستانوں پر وہ تحقیقی کام کیا ہے جو بارہ بارہ لاکھ روپے ماہوار تنخواہ لینے والے کروڑوں کے بجٹ کے ساتھ برس ہا برس میں بھی یہ کام نہیں کرسکتے تھے۔ بہرحال اب سوال یہ ہے کہ اورینج لائن منصوبہ عوام کیلئے ایک بہترین منصوبہ ہے لیکن ہمارے جن مشاہیر کی قبریں اس کی زد میں آنے کا احتمال ہے، انہیں کس طرح محفوظ کر کے ہم’’دل اور شکم‘‘ میں توازن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پاس ایک نوجوان سلمان صوفی موجود ہے، جو امریکہ سے اپنے ساتھ اعلیٰ درجے کے منصوبے لایا ہے اور چونکہ وزیراعلیٰ نادر خیالات اور منصوبوں کو خوش آمدید کہنے اور ان کی تکمیل کیلئے تمام سہولتیں فراہم کرنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اب لاہور سے ’’فائیو سٹار‘‘ قبرستانوں کا آغاز کیا جارہا ہے، حکومتی نمائندے اطلاع ملنے پر ایمبولینس گھر بھیجیں گے اور میت لے جائینگے، میت کے غسل کا اہتمام بھی ہوگا اور کفن دفن کا بھی …….. یہ قبرستان اتنے خوبصورت ہوں گے کہ خواہ مخواہ مرنے کو جی چاہے گا۔ چنانچہ جہاں عام شہریوں کی باعزت تدفین کا اتنا قابل قدر اہتمام کیا جارہا ہے وہاں ان مشاہیر کی قبروں کی حرمت برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے، اور یوں وزیراعلیٰ سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کے فوری حل کیلئے کوئی کمیٹی تشکیل کریں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے مرتبہ و مقام اور خدمات کے اعتراف میں حکومت پنجاب عنقریب گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں پر ان کی تصاویر آویزاں کرنے کا پروگرام بھی بنا چکی ہے سو ایک طرف ان کیلئے اس درجہ احترام کا مظاہرہ اور دوسری طرف ان کی قبروں کی مسماری، یہ ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات ہوگی، میرے نزدیک ہمارے منصوبہ ساز اتنی اہلیت رکھتے ہیں کہ وہ انڈر پاس یا فلائی اوور کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے اورینج لائن بھی کم و بیش اپنے روٹ پر برقرار رکھتے ہوئے ان تاریخی قبروں کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں، امید ہے کہ وزیراعلیٰ اس کام کو ترجیحی فہرست میں رکھیں گے۔

اور اب آخر میں جلال جمالی صاحب کا ایک دلچسپ خط آپ کا کالم ’’جھوٹ بولنے والوں کیلئے لاجواب نسخہ‘‘ میرے سامنے ہے، جس میں آپ نے بزنس مین، سیاستدانوں اور عشاق پر خصوصی نظر کرم فرمائی ہے یہ کالم پڑھ کے آپ کیلئے دل سے کئی دعائیں نکلیں پہلی دعا آپ کے ’’بھلے‘‘ کیلئے تھی کہ آپ کے ملک کی نوے فیصد آبادی کیلئے بھلائی کا نسخہ پیش کیا، دوسری دعا یہ تھی کہ آپ کا بھی کاروبار ہو آپ بھی سیاست کریں، تاکہ آپ کو جھوٹ کی ’’برکتوں‘‘ کا پتہ چل سکے، آپ کیلئے تیسری دعا دل کی زیادہ گہرائی سے نکلی لیکن یہ دعا جسے کسی نے اس پنجابی ڈانٹ کے ساتھ واپس کردی ’’اجے کسر رہ گئی اے؟‘‘ یہ دعا عشق کی بخششیں تھی، یہی وہ تینوں کام کرتا ہوں جن کیلئے آپ کا نسخہ خصوصی حیثیت رکھتا ہے، کاروبار، سیاست اور عشق۔ سیاست تو میں کھلم کھلا کرتا ہوں، لیکن باقی دو کام میں خفیہ طور پر کرتا ہوں ان دو کاموں کیلئے رہنمائی میں بڑی کرسیوں پر بیٹھے لیڈروں سے حاصل کرتا ہوں، دراصل زندگی کو میں ’’گاجر اور چھڑی‘‘ والے محاورے کی مدد سے ہانکتا ہوں، کاروبار اور عشق سے میں گاجر کا کام لیتا ہوں اور سیاست سے چھڑی کا۔ میرے والد مرحوم بھی یہ تینوں کام کرتے تھے اللہ بخشے وہ بھی ایک کام اوپن اور باقی دو خفیہ طور پر کرتے تھے، خصوصاً عشق کے معاملے میں وہ ’’گنڈھ‘‘ کے بڑے پکے تھے انہوں نے مرتے دم تک ماں جی کو اپنے اس کام کا شک بھی نہیں ہونے دیا بس ایک غلطی کرگئے وفات سے پہلے اپنی ساری ’’ان‘‘ کو قبر پر پھول ڈالنے کا طریقہ بتا کے گئے ان کی اس غلطی کا نتیجہ تھا کہ ماں جی جب بھی ان کی قبر پر جاتیں، قبر کو دیکھ کر کم روتی تھی لیکن پھولوں سے بنائے ہوئے دل دیکھ کر زیادہ روتی تھیں۔
والد صاحب بہشتی ویسے بڑے سمجھدار تھے وہ مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ اخباروں میں صرف خبریں پڑھا کرو، کالموں والا صفحہ چھوڑ دیا کرو یہ کالم لکھنے والے قائداعظم اور علامہ اقبال کا نام لے لے کر ہم سیاستدانوں اور کاروباریوں کے دماغ میں خواہ مخواہ فتور پیدا کرتے ہیں اور ہمیں ہماری لائن سے ہٹانے کی کوششیں کرتے ہیں، ان کو پڑھنے سے پرہیز کیا کرو، میں نے والد صاحب کی زندگی میں کافی پرہیز کیا لیکن ان کے انتقال کے بعد تھوڑی بہت بد پرہیزی کی تو پتہ چلا کہ والد صاحب ٹھیک ہی کہتے تھے چنانچہ دوبارہ پرہیز شروع کردیا لیکن اس دوران آپ کے کچھ کالم پڑھے تو دل پشوری ہوگیا، اور سمجھ آگئی والد صاحب ’’خبریں‘‘ پڑھتے ہوئے اچانک پیٹ ہلا ہلا کر ہنسنا کیوں شروع کردیتے تھے، کچھ عرصہ بعد مجھے ایک دوست نے جو آپ کا پرانا قاری ہے آپ کی کتاب ’’وصیت نامے‘‘ پڑھنے کیلئے مجھے دی، میں نے اس کو پڑھا تو بڑا مزا آیا، بڑے بڑے عقل مند لوگوں کا حال آپ نے لکھا ہے خاص طور پر ’’چھمک چھلو‘‘ والا کالم بڑا زبردست ہے ہم جیسوں کیلئے پورا پورا ہدایت نامہ ہے سچی بات ہے شروع شروع میں مجھے شک ہوگیا تھا کہ یہ کالم آپ نے نہیں کسی ’’پکی پیڑی‘‘ چھمک چھلو نے ہی لکھا ہے لیکن اب یہ شک دور ہوگیا ہے اب آپ کے دماغ کی تار کا پتہ چل گیا ہے کہ کہاں تک ہے؟

Citation
Ataulhaq Qasmi, “قبرستان مومن پور ہ میں مشاہیر کی ’’غیر محفوظ‘‘ قبریں؟,” in Jang, June 27, 2015. Accessed on June 28, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D9%82%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86-%D9%BE%D9%88%D8%B1-%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%B4%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%BA%DB%8C%D8%B1/

Disclaimer
The item above written by Ataulhaq Qasmi and published in Jang on June 27, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 28, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ataulhaq Qasmi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s