!کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں ہم خیال تجھ جیسا

Follow Shabnaama via email
توفیق بٹ

ڈاکٹر اے ایچ خیال (عبدالحمید خیال) بھی رخصت ہوگئے۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے ادب کے اُستاد تھے‘ اُستاد چونکہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا تو میں نے کبھی یہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی کب گورنمنٹ کالج لاہور سے وہ ریٹائر ہوئے تھے۔ اُن کے شاگردوں نے جو کچھ اُن سے سیکھا میں اکثر اُن سے کہتا ”سر آپ اتنے اُستاد انگریزی کے نہیں جتنے ادب کے ہیں“….میری بات سن کر وہ مسکرا دیتے۔ یہ میں اُن سے ازرہِ مذاق کہتا ورنہ اپنے مضمون پر جتنا کمال اُنہیں حاصل تھا شاید ہی انگریزی ادب کے کسی اور اُستاد کو ہوگا۔ میرے مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی بھی انگریزی ادب کے اُستاد تھے۔ وہ اُردو میں کالم لکھتے‘ پنجابی میں کمپیئرنگ کرتے۔ تین زبانوں پر مکمل عبور اُنہیں حاصل تھا۔ قومی زبان کے طور پر اُردو زبان سے اُنہیں بڑی محبت تھی۔ یہ محبت کبھی ”بے تکلفی“ میں بدلتی تو کہتے ”یار ویسے میں سوچتاہوں یہ اُردو بھی کیا زبان ہے جسے انگریزی میں بھی اُردو ہی کہتے ہیں“….

ڈاکٹر خیال کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اُنہیں بھی تین زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا۔ اُنہوں نے کالم تو نہیں لکھے مگر اپنے خوبصورت خیالات پر مشتمل جو کتابیں لکھیں پاکستانی ادب کا وہ سرمایہ ہیں۔ یہ الگ بات ہے پی آر کے وہ ماہر نہیں تھے اور اِس وجہ سے اُن کی کتابیں زیادہ شہرت حاصل نہیں کر سکیں۔ نہ کمائی کا ذریعہ بن سکیں۔ اُن کا ایک شاگرد لاہور میں انکم ٹیکس کا ڈپٹی کمشنر بنا تو اِک روز اُن سے کہنے لگا ”سر مجھے آپ کی ایک ہزار کتابیں چاہئیں“۔ سر بولے ”میری کتابیں انکم ٹیکس کا ڈپٹی کمشنر بکوائے گا تو اِس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے میں خود بکوں گا“….اُن کے سینکڑوں شاگرد انتہائی اہم پوسٹوں پر تھے‘ چاہتے تو اُن کے ذریعے ارب پتی بن جاتے‘ اپنی اَنا کی مگر ہمیشہ اُنہوں نے حفاظت کی اور زندگی ایسے گزاری زندگی یقینا اُن پر فخر کرتی ہوگی۔ وہ فرماتے ” اِن کتابوں کے ذریعے میں اپنا کتھارسس کرتا ہوں‘ جو کچھ اِس معاشرے میں ہو رہا ہے اُس کے خلاف اپنے حصے کی شمع جلاتا ہوں‘ اِس فکر سے بے نیاز ہو کر کہ اِس کی روشنی کہاں تک جاتی ہے “….ساتھ پنجابی کا ایک شعر بھی سناتے ”مالی دا کم پانی دینابھر بھر مشکاں پاوے….خالق دا کم پَھل پُھل لانا لاوے یا نہ لاوے“۔ طاقت کے لحاظ سے چند انتہائی اہم سرکاری ملازمتوں کو خیرباد کہہ کر ایک اُستاد بننے کا خیال میرے دِل میں ڈاکٹر خیال کی وجہ سے ہی آیا تھا۔ ڈاکٹر خیال مجھے کیسے ملے؟ یہ بڑی دلچسپ کہانی ہے۔

میں1988ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور کی پنجابی مجلس کا صدر تھا۔ اِس مجلس کے ز یر اہتمام ہم نے پنجابی کا فیوں کی گائیکی کا ایک پروگرام کالج کی میوزک سوسائٹی کے تعاون سے بخاری آڈیٹوریم میں منعقد کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی کے طور پر ہم نے اُس وقت کے صوبائی وزیر مال و کالونیز اور موجودہ رُکن اسمبلی چوہدری محمد اقبال کو مدعو کیا۔ وہ تشریف لائے تو ہم نے اُنہیں سٹیج پر بٹھا دیا۔ وہ اچانک سٹیج سے نیچے اُترے۔ ہال میں اگلی نشست پر بیٹھے ایک صاحب کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اور پرنسپل ڈاکٹر عبدالمجید اعوان سے کہا یہ میرے اُستاد ہیں اور میں اِن کی موجودگی میں سٹیج پر نہیں بیٹھ سکتا“…. پرنسپل صاحب نے وزیر صاحب سے بہت گزارش کی‘ اُستاد محترم نے بھی کہا مگر وزیر صاحب نے فرمایا ”سٹیج پر میرے اُستاد محترم بیٹھیں گے اور میں نیچے حاضرین میں بیٹھوں گا“….پرنسپل صاحب نے عرض کیا ”چلیں سر ہم آپ کے اُستاد محترم کو بھی آپ کے ساتھ سٹیج پر بیٹھا دیتے ہیں‘ وزیر صاحب نے مگر سٹیج پر بیٹھنے سے معذرت کر لی۔ وزیر صاحب کے اُس اُستاد محترم کا نام ڈاکٹر اے ایچ خیال تھا‘ جو اب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ تب ایک اُستاد کی جو عزت آبرو میں نے دیکھی میں نے اُستاد بننے کا فیصلہ کر لیا۔ اور جو عزت وزیر صاحب نے اپنے اُستاد کو دی شاید اُسی کا نتیجہ ہے1985ءسے لے کر اب تک جتنے الیکشن اُنہوں نے لڑے سوائے ایک آدھ کے ہر الیکشن بھاری اکثریت سے جیتا۔ ایک بار وزیر تعلیم بھی رہے اور اساتذہ کی عزت آبرو کے حوالے سے وہ سنہری دور تھا‘ آج کے وزیر تعلیم نے اساتذہ کی عزت خاک کرنی ہے وہ تو خود کو خود بخود ہی بڑا اُستاد سمجھتا ہے‘ جو دو نمبریوں میں وہ ہے بھی….آج اُستاد کی وہ عزت نہیں رہی تو اِس کی سب سے بڑی وجہ یقینا یہی ہو گی ڈاکٹر اے ایچ خیال جیسے اُستاد بھی نہیں رہے۔ اُن کے بارے میں چوہدری اقبال صاحب بتا رہے تھے ”جب میرے والدِ محترم کا انتقال ہوا تو ڈاکٹر اے ایچ خیال سخت گرمی میں اُن کے جنازے میں شرکت کے لئے لاہور سے سکوٹر پر گوجرانوالہ آئے تھے“….سکوٹر اُن کی پسندیدہ سواری تھی۔ ایک پرانی کار بھی اُن کے پاس تھی مگر کالج وہ اکثر سکوٹر پر ہی آتے تھے۔ کچھ عرصے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور کے ایک پرنسپل بیرون ملک گئے تو وہ قائم مقام پرنسپل بن گئے۔ اُس دوران اُس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا اُنہیں فون آیا ”فلاں بچے کو داخل کر لیں کیونکہ اُس بچے کے دادا علامہ اقبال ؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے “….ڈاکٹر خیال بولے ”سر آپ کے حکم کی تعمیل کی پوری کوشش کروں گا مگر آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جن بچوں کے دادا علامہ اقبال ؒ کے پرائیویٹ سیکرٹری نہیں تھے اُن کا کیا کروں؟“…. وہ بہت کمال کے انسان تھے۔ ایک زمانے میں پورے پورے دِن کی نشست اُن کے ساتھ ہوتی۔ اُن کی موجودگی میں کسی اور کو بولنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔ دوسروں کی یہ خامی ہوگی‘ ڈاکٹر خیال کی مگر اِسے خوبی سمجھا جاتا تھا۔ لوگ اُنہیں زیادہ سے زیادہ سننا چاہتے تھے۔ ”زمانہ بڑے غور سے سن رہا تھا….ہم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے “….ایک بار میں اور چوہدری اقبال صاحب اُن سے ملنے اُن کے گھر گئے۔ گھنٹی بجائی تو وہ خود باہر تشریف لے آئے اور گیٹ پر کھڑے کھڑے باتیں شروع کر دیں‘ کوئی پون گھنٹے بعد بیگم صاحبہ نے اندر سے آواز دی ”خیال اپنے مہمانوں کو اب اندر لے آﺅ کیونکہ اِن کے جانے کا وقت ہوگیا ہے “۔ تب اپنی غلطی کا اُنہیں احساس ہوا اور ہمیں اندر ڈرائینگ روم میں لے گئے۔ مگر ہوا یہ جب ہمیں سی آف کرنے دوبارہ گیٹ پر آئے تو پھر باتیں شروع کر دیں‘ آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد میں نے عرض کیا ”سر اب ہمیں اجازت دیں کیونکہ ہمارے دوبارہ آنے کا وقت ہوگیا ہے “….ایک زبردست قہقہہ اُنہوں نے لگایا اور ہم وہاں سے چلے آئے ….اب اگلے روز گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے جونیئر عزیز محمود چوہدری جو اِن دنوں کینیڈا میں مقیم ہیں اور میں جب بھی وہاں جاتا ہوں اُن کی شاندار میزبانی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے نے ڈاکٹر خیال کے انتقال کی اطلاع دی اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے سینئر دوست پروفیسر احمد علیم نے اپنی فیس بک وال پر اُن کے جنازے کی کچھ تصویریں پوسٹ کیں تو بے اختیار میرے آنسو نکل آئے۔ مجھے افسوس ہوا کچھ عرصے سے میرا اُن سے رابطہ کم کیوں ہوگیا تھا۔ میری بدقسمتی مجھے یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کچھ عرصے سے وہ بیمار تھے ورنہ فضول سی اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اُن کی عیادت کی عبادت ہی کر لیتا۔ اب یہ محرومی ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ ایسے لوگ اب کہاں ملتے ہیں؟ مل بھی جائیں تو معاشرہ اُن کی قدر ہی نہیں کرتا‘ اِسی لئے تو دنیا میں ہم اتنے بے وقعت ہوگئے ہیں۔ وہ میرے اُستاد نہیں تھے مگر میرے کئی اُستادوں کے اُستاد تھے تو اِس لحاظ سے میں اُنہیں اپنا ”پردادا اُستاد“ سمجھتا تھا۔ ڈاکٹر نذیر احمد کے بعد صحیح معنوں میں اُستاد کی حیثیت سے کسی کو قابل قدر‘ باعث عزت سمجھا گیا تو وہ ڈاکٹر اے ایچ خیال تھے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے وہ اپنے شاگردوں سے زیادہ پیار کرتے تھے یا اُن کے شاگرد اُن سے زیادہ محبت کرتے تھے؟ ہمارے پاس وہ چراغ ہی اب نہیں رہا جسے لے کر ہم نکلیں اور ایسے عظیم لوگ ہمیں مل جائیں….”ڈھونڈ اُجڑے ہوئے لوگوں میں وفات کے موتی

Citation
Tofeeq Butt, “!کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں ہم خیال تجھ جیسا,” in Daily Nai Baat, June 26, 2015. Accessed on June 26, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DA%88%DA%BE%D9%88%D9%86%DA%88-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%85-%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84-%D8%AA%D8%AC%DA%BE-%D8%AC%DB%8C%D8%B3%D8%A7

Disclaimer
The item above written by Tofeeq Butt and published in Daily Nai Baat on June 26, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Tofeeq Butt:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s