سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

Follow Shabnaama via email
کشور ناہید

گزشتہ کئی ہفتے سے جب بھی ٹی وی کھولو تو ایک ہی اتے کا لارا سنائی دیتا ہے کہ یہ جو این جی اوز ہیں، یہ جو انگریزی بولنے والی خواتین ہیں، یہ جو مولویوں کے خلاف بولنے والیاں ہیں، ان کی ناکہ بندی کی جائے۔ میں کوئی جواباً جواب نہیں دے رہی ہوں، میں تو کچھ واقعتی حقائق لکھ رہی ہوں۔

ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف بولنے کیلئے سب سے پہلے خواتین سامنے آئی تھیں۔ آہستہ آہستہ یہ بولنے کے علاوہ عملی اقدامات کرنے لگیں۔ مجھے یاد ہے دو سال تک عاصمہ جہانگیر نے اپنے دفتر کے ایک کمرے میں بھٹہ مزدوروں، مطلقہ عورتوں، بیوائوں اور بچوں کی کفالت کے مقدمات نہ صرف لڑے بلکہ جس حد تک ہو سکا دوستوں کی مدد سے ان کی کفالت بھی کی۔ اسی طرح آہستہ آہستہ ہیومن رائٹس کمیشن بن گیا، اسی طرح غربت دور کرنے، بچوں اور عورتوں کی صحت اور تعلیم کیلئے، چھوٹے چھوٹے علاقوں میں میٹرک پاس لڑکیوں نے ایک کمرے میں ٹاٹ پر بٹھا کر بچوں کو پہلی سے پانچویں تک بچوں اور لڑکیوں کو تعلیم دینی شروع کی۔ پھیلتے پھیلتے ہر علاقے میں ایک نیٹ ورک بن گیا جن کی مدد کیلئے یورپین یونین کے ممالک اور چرچ ورلڈ سروس کے ادارے اور انگلینڈ کے رضاکار اداروں نے اپنے تئیں مدد کرنے کیلئے پاکستانی افسروں کی تنخواہوں کے گریڈ کے علاوہ ان کے دیگر پرکس کو ملا کر بنیادی تنخواہ مقرر کی۔ ہر تین ماہ بعد دوسری قسط ادا کرنے سے پہلے گزشتہ اخراجات کی تفصیل مانگی پھر دوسری قسط دی گئی۔ ہر منصوبے کے عمل درآمد رپورٹ کی تصدیق کیلئے متعلقہ ملک سے باقاعدہ ٹیم آتی ہے۔ جو ادارے مطالبے کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکتے ان کے فنڈز؍گرانٹ بند کر دی جاتی ہے اور سامان، جیسے کمپیوٹر و دیگر متعلقات اس دفتر سے اٹھا لئے جاتے ہیں۔ نتیجہ کیا سامنے آتا ہے کہ کام کرنے والے ادارے اور علاقے میں پسماندگی دور کرنے والی انجمنوں کو تو فنڈز جاری رہتے ہیں، اسی باعث انسانی حقوق کمیشن، شرکت گاہ، ادارہ اثر، دستک، قانونی مدد دینے والے ادارے، بنیادی حقوق کی تربیت دینے والے ادارے، ماں اور بچے کی صحت سے متعلق لیڈی ہیلتھ وزیٹر پروگرام اور خاندانی منصوبہ بندی کے ادارے قائم کئے گئے۔ ان اداروں کی شاخیں ملک بھر میں پھیلائی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حکومتی ادارے بھی ان کی مدد مانگنے لگے۔ عورتوں کی آمدنی بڑھانے کے منصوبے، شروع ایسے کئے گئے کہ ان کیلئے فروخت کے مراکز بھی قائم کئے گئے۔

دفاتر میں جب عورتیں، مرد اکٹھے کام کرنے لگے تو ایک اور عذاب نازل ہوا۔ بزرگی کی عمر کو پہنچنے والے بھی تازہ تازہ ملازم لڑکی کو شام کی ملاقات کی دعوت دینے لگے، ڈاکٹریٹ کرنے والی لڑکیوں کو ان کے سپروائزر بلیک میل کرنے لگے۔ وہ جو کہتے ہیں منہ سے نکلی کوٹھوں چڑھی۔ دفاتر سے لے کر بسوں کے ڈرائیور بھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے والی خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے۔ پارلیمان میں بھی ان رپورٹوں پر چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ آخر کو پارلیمان میں موجود ممبر خواتین نے این جی او کی خواتین کا ساتھ دیا۔ باقی ممبران کو احساس ذمہ داری کی تحریک دلوائی۔ کئی سال کی محنت کے بعد قانون پاس ہوا کہ عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کرنے والے چاہے وہ چپراسی ہو کہ وزیر اس کے خلاف تعزیری اقدامات کئے جائیں گے۔ پارلیمان میں بھی مردوں نے کوشش کی کہ یہ قانون پاس نہ ہو مگر سول سوسائٹی، این جی اوز اور خواتین پارلیمنٹ ممبران کی مسلسل کوششوں کے بعد قانون پاس ہوا۔ عمل درآمد کس اور کتنے قوانین پر ہوتا ہے۔ پاکستان کے بارے میں بس اتنا بتا دوں کہ خود فوج کہہ رہی ہے کہ بہت سے مصائب ہیں جن کے باعث نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

آگے چلیں تو دو اہم قوانین جو این جی اوز، سول سوسائٹی اور خواتین پارلیمان کے باعث پاس ہوئے ہیں۔ ایک تو تیزاب پھینک کر عورت سے انتقام لینے کا طریقہ اور دوسرا یہ کہ بچیوں کی 7؍سال کی عمر میں 80؍سالہ بوڑھے سے شادی کر دینا اور غیرت کے نام پر قتل کر دینا، ان قوانین کو پاس کرنے میں رکاوٹ بہت سے پختون، بلوچ کے علاوہ جنوبی پنجاب کے لوگ بھی تھے۔ یہ سب قوانین عورتوں اور این جی اوز کی محنت اور مرد پارلیمان کے ساتھ قانون کو پاس کرنے کی اہمیت کا احساس دلانے پر ہوا۔ یہاں بھی قانون تو پاس ہو گئے ہیں۔ سندھ کی حکومت نے لڑکی کی 18؍سال سے کم عمر کی شادی کو غیرقانونی بتادیا ہے جبکہ پنجاب نے عورت کی عمر ابھی 16؍سال ہی رکھی ہے۔ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی کہ گھروں میں کام کرنے والی عورتوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی عورتوں کو تحفّظ اور قانونی مدد دینے کے قوانین دو سال سے اسمبلی میں پڑے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ کوئی قانون کی ضرورت ہے۔ یہ خواتین کام کرنے ہی کو بنی ہیں۔ کرتی رہیں، کیا فرق پڑتا ہے۔

اب آئیں مدرسوں کی فنڈنگ کی جانب…ان کی وکالت کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ان کو فنڈز آتے ہیں تو ان ہی کے ذریعے جگہ جگہ دسترخوان لگے ہوئے ہیں، ان ہی کے باعث بڑے بڑے لوگ بھی بچوں کو قرآن پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں۔ ہم بس اتنا سا سوال کرنے کی جرأت کرتے ہیں کہ جیسے سول سوسائٹی کے لوگ پائی پائی کا حساب دیتے ہیں، آپ بھی بتائیں کہ بچوں کی تعلیم پر کیا خرچ ہوا؟ بچوں کے کھانے اور کفالت پر اخراجات کی تفصیل کیا ہے؟بلڈنگ بنانے کا خرچ کس نے دیا اور مہتمم خود اپنی تنخواہ کتنی مقرر کرتے ہیں؟ بس اس سوال پہ سارے رجعت پسند ناراض ہوجاتے ہیں؟ کیا ہر سال کسی مذہبی مرکز کا بھی آڈٹ ہوتا ہے۔ میرے سوال سے یقیناً سب لوگ متفق ہوں گے۔ میں یہ سوال تمام ترقی پسند قوتوں کے ساتھ مل کر کر رہی ہوں۔ امید ہے جواب ضرور ملے گا۔

Citation
Kishwar Naheed, ” سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا,” in Jang, June 26, 2015. Accessed on June 26, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%B3%D9%86-%D8%AA%D9%88-%D8%B3%DB%81%DB%8C-%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92-%D8%AA%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%A7/

Disclaimer
The item above written by Kishwar Naheed and published in Jang on June 26, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Kishwar Naheed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s