سفر ہی سفر!

Follow Shabnaama via email
عطاء الحق قاسمی

مجھے لگتا ہے کہ پیدائش کے وقت ’’گڑھتی‘‘ مجھے ابن بطوطہ نے دی تھی۔ میں نے اپنی زندگی کا پہلا سفر 1970ءمیں کیا۔ سارا یورپ بائی روڈ چھان مارا اور پھر وہاں سے بائی ایئر امریکہ کو سدھارا….دو سال بعد پھر یورپ کی بائی روڈ سیاحت کی اور یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ 1980ء کی دہائی میں تو معاملہ

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

والا تھا۔ سفر میں راحت اور تکلیف دونوں ہوتے ہیں۔ ایک دریا کے بعد اگر دوسرا دریا سامنے آجائے اور اسے خوبصورت کشتیوں میں عبور کرنا ہو تو یہ راحت ہے اور اگر تیر کر عبور کرنا پڑے تو یہ تکلیف کا باعث بنتا ہے۔1980ء کی دہائی میں ،میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ ایسے بہت سے سفر کئے۔ لندن سے ناروے تک بائی روڈ اور پھر وہاں سے واپس لندن اس طرح 1990ء کی دہائی میں اپنی فیملی کے ساتھ ایک بار پھر بائی روڈ یورپ کا سفر……یہ سب سفر میری زندگی کے یادگار سفر ہیں …….اسکے بعد ایک بار پھر مشاعروں، کانفرنسوں، سیمیناروں میں شرکت کے لئے سفر ہی سفراور میں کبھی ان سفور سے تنگ نہیں پڑا، ان سفور کا ’’پلس پوائنٹ‘‘ یہ ہے کہ سوائے1970ء کے پہلے کے سفر اور 1990ء کی دہائی کے بمعہ فیملی سفر کے، باقی سب سفر اسپانسرڈ تھے اور لاہور سے امریکہ تک کا پہلا سفر میں نے مبلغ چھ ہزار روپے ،نصف جس کے تین ہزار ہوتے ہیں، میں کیا تھا۔ جس کی یادگار میرا سفرنامہ’’شوق آوارگی‘‘ ہے، جس میں ایک26سالہ شوخ و شنگ نوجوان عطاء الحق قاسمی نظر آتا ہے۔ اب2015ء ہے اور اس کے گزشتہ چھ ماہ میں لندن ، مراکش، انڈیا، سعودی عرب، مسقط کے سفر میرے شوق سفر کی تسکین کا باعث بنے۔

تازہ ترین سفر لندن اور مسقط کا تھا۔ لندن میں جان برادر احسان شاہد کے شعری مجموعے’’ رہتا ہے میرے ساتھ‘‘ کی تقریب رونمائی تھی اور میں نے ابھی تک لندن میں کسی کتاب کی ایسی شاندار تقریب نہیں دیکھی۔ لندن میں عموماً ایسی تقریبات کے ساتھ مشاعرہ نتھی کردیاجاتا ہے، چنانچہ سامعین کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ڈیڑھ سو شاعر بطور سامعین ویسے ہی دستیاب ہوجاتے ہیں، مگر یہاں اس’’بدعت‘‘ کا سہارا نہیں لیا گیا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس طرح کی تقریبات میں بیس پچیس مقررین بھی’’شامل سامعین‘‘ کئے گئے ہوتے ہیں جس کا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ شاید ان میں ایک آدھ کو اللہ توفیق دے کہ وہ صاحب تقریب شاعر کو میر غالب اور اقبال کے ہم پلہ قرار دے ڈالے، مگر یہاں تو ہنسلو لندن کے لارڈ میر تھے، رضا علی عابدی تھے، اپنے حیدر طبا طبائی تھے، برادر عزیز منصور آفاق تھے اور منظوم خراج تحسین پیش کرنے والے عذیر احمد تھے۔ عقیل دانش کی نظامت تھی اور بس، سامعین کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ سیکورٹی والوں نے ساٹھ ستر شائقین کو ہال کے باہر ہی روک لیا کہ ہال میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ سامعین موجود تھے۔ مزید کی صورت میں کسی حادثے کی وجہ سے زندگیاں خطرے میں پڑسکتی تھیں اور ہاں سامعین بھی کوئی معمولی لوگ نہیں تھے، ان میں سے کئی ایک تو منتخب روزگار تھے، مزید برآں دوسرے شہروں سے بھی لوگ آئے تھے۔ میز پھولوں سے ڈھک گئ اور ہمارے چہرے اس میں چھپ گئے۔ یہ محبت ایسے ہی نہیں ملتی، محبت ہو یا نفرت یہ ادلے کے بدلے کے طور پر ہی ملتی ہے۔ احسان شاہد کو وہی محبت واپس ملی جو وہ دوسروں کو دیتا چلا آیا ہے۔

اس بار مسقط کا سفر بھی ایک یاد گار سفر تھا مگر اس کے پیچھے قمر ریاض کی یہ سازش بھی شامل تھی کہ میں نے ایک سال کی ڈائٹنگ سے جو بیس کلو وزن کم کیا ہے ، یہ وزن دوبارہ واپس لایا جائے تاکہ لوگ میری’’وزنی شخصیت‘‘ کے قائل ہوسکیں، چنانچہ یہ سفر اگرچہ دو مقاصد کے لئے تھا ایک میرے ساتھ شام اور دوسرے قمر ریاض کا یہ محبت بھرا اصرار کہ انگریزی زبان میں آپ کی تصویری سوانح پر مشتمل ایک نہایت خوبصورت کتاب جو یورپ کے معیار کی ہو،شائع کرنی ہے۔ اس کے نزدیک اس کے لئے تصویروں کا انتخاب اور دوسرے امور میں میرے مشورے کو شامل کیا جانا ضروری تھا۔ مسقط میں میرادوست مروت احمد بھی رہتا ہے بلکہ وہ یہاں کا جتنا پرانا باسی ہے میرے سمیت سب کا خیال ہے کہ اب مسقط ،مروت احمد میں رہتا ہے، مروت سے جب میں پہلی دفعہ ملا تھا وہ بے ریش و بروت تھا اب اس نے داڑھی رکھ لی ہے اور اس عزیزم کی سفید داڑھی خواہ مخواہ مجھ جیسوں کو اپنی عمر کا احساس دلاتی ہے، حالانکہ مروت عمر کے لحاظ سے میرا برخوردار ہے اور اپنی نیکی اور تقویٰ کے حوالے سے میں اس کا برخوردار بننے کے قابل بھی نہیں ہوں۔ مروت نے ایک کام یہ کیا کہ میرے ساتھ منعقدہ شام میں ایک ویڈیو دکھائی جس میں میرے بارے میں مشاہیر کی رائے اور میرے ٹی وی ڈراموں کے کلپس شامل تھے۔ میں اپنے ڈراموں کے کلپس دیکھ کر خاصا متاثر ہوا، یہی میرا کمال ہے کہ میں اپنی تعریف میں خود کفیل واقع ہوا ہوں۔ تقریب میں عذیر احمد ،رحمت حیات راجہ ،فہد اویسمتر، چوہدری محمد اسلم، سفاتکار پاکستان کے قونصلر چوہدری شوکت علی اور ظاہر ہے میزبان قمر ریاض پیش پیش تھے۔ سید فیاض علی شاہ اور میاں محمد منیران کے ہم قدم تھے باقی رہی ضیافتیں تو صبح کے ناشتے سے رات کے کھانے اور اس کے بعد آدھی رات کے کھانے تک پہلے سے’’بک‘‘ تھیں اور یوں قمر ریاض سرخرو ٹھہرا کہ واپسی پر وزن کیا تو واپس وہیں آچکا تھا جہاں سے ڈائٹنگ شروع کی تھی۔

چلتے چلتے نئی نسل کے بعض شعراء کو خلاف عادت ایک نصیحت کرتا چلوں کہ انہیں جب کبھی موقع ملے وہ سراپا محبت اور خلوص قمر ریاض کے قدم بہ قدم چلیں۔ اس کا دل سونے کا بنا ہوا ہے جس میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ ابرار ندیم کے بعد یہ دوسرا نوجوان ہے جس پر اللہ کی رحمتیں ، محبتیں تقسیم کرنے کی صورت میں نازل ہوئی ہیں ۔ یہ ایک آئیڈئل نوجوان ہے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنا کرم اور رحمتیں جاری و ساری رکھے ،آمین۔

Citation
Ataulhaq Qasmi, “سفر ہی سفر!,” in Jang, June 26, 2015. Accessed on June 26, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%B3%D9%81%D8%B1-%DB%81%DB%8C-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%B2%D9%86-%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%B3%DB%92/

Disclaimer
The item above written by Ataulhaq Qasmi and published in Jang on June 26, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 26, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ataulhaq Qasmi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s