قدیر غوثی ۔ حیدر آباد کی آخری شناخت

Follow Shabnaama via email
ادریس بختیار

قدیر غوثی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، پچاس ساٹھ سال انہوں نے اسے نبھایا، اور خوب نبھایا۔ حیدرآبادکے سلطان ہوٹل سے لے کر کیفے فردوس تک، دوستوں کو جمع رکھنے کا کام خودہی انہوں نے اپنے ذمہ لئے رکھا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے، اُن کے صاحبِ فراش ہونے تک، ان کے روز مرہ کے معمولات میں شاید ہی کبھی کوئی فرق آیا ہو۔ دن کوپابندی سے اپنے کام نمٹا کر وہ اپنے مخصوص وقت پر شام کو ہوٹل میں آجاتے، ایک خاص کونے میں بیٹھتے اور دوست احباب آتے جاتے، کارواں بنتا جاتا،محفل گرم ہوتی جاتی، چائے کے کپ لنڈھائے جاتے، بحث مباحثہ ہوتا رہتا۔ ادب ان کا خاص موضوع تھا کہ خود ایک اچھے افسانہ نگار تھے اور وسیع المطالعہ۔ اور سیاست میں کسے دلچسپی نہیں ہوتی۔ رات جوان ہوتی جاتی، اور پھر ماند پڑنے لگتی، ہوٹل بھی بند ہونے لگتا۔ قدیر بھائی اٹھتے، اور اکثر ایسا ہی ہوتا، خود ہی بل ادا کرتے۔ سب باہر آجاتے ۔ کبھی باہر تھڑوں پر کچھ مزید گپ شپ ہوتی، کبھی محفل برخاست ہوجاتی۔ قدیر بھائی اپنے گھر اور باقی سب بھی اپنے اپنے ٹھکانوں کو روانہ ہوجاتے۔ کبھی یوں بھی ہوتا کہ انوار احمد زئی کراچی سے آتے تو یوں ہی پرانے زمانے کی یادوں کی تلاش میں کسی اور ہوٹل میں دال پوری کھانے پیدل چل پڑتے۔ پہلے کبھی ریلوے اسٹیشن کے قریب کے ہوٹلوں میں چار آنے کی پوری ملا کرتی تھی اور دال مفت۔ ہم لوگوں کا من بھاتا کھاجا تھا۔ رات گئے وہاں ڈیرا ڈالتے۔ اب وہاں سب کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ مارکیٹ میں کسی ہوٹل میں پوری ملتی ہے، وہاں چلتے ہیں۔ اکثر یہ سفر پیدل طے ہوتا۔کبھی تو مجبوری ہوتی تھی۔ اب مگر کسی نہ کسی کے پاس گاڑی ہوتی تھی۔ انوار احمد زئی اکثرگاڑی پر ہی آتے۔ کبھی ا ن کی گاڑی میں، کبھی پیدل۔ میزبان قدیر بھائی ہی ہوتے۔

ان کی یہ میزبانی پچاس کے عشرے کے آخر سے جاری تھی۔ گاڑی کھاتے میں سلطان ہوٹل شہر کے ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، دانشوروں، ڈرامہ فنکاروں، ادبی رسالوں کے مدیروں اور ان سب کے مداحوں اور خوشہ چینوں کا مرکز ہو ا کرتا تھا۔ یہاں بیٹھنے والوں کے اپنے اپنے گروپ ہوتے تھے، جیسا کہ روایت ہے ایک میز پر استاد اختر انصاری اکبر آبادی براجمان، سگریٹ چھنگلی اور اس کے برابر کی انگلی کے بیچ پوری قوت سے دبائے، کش پہ کش لگاتے، کچھ لوگ ان کی میز پر بیٹھے ہوتے۔ قریب میں محسن بھوپالی کی اپنی مجلس جمی ہوتی۔ وہاں بھی خوب دھواں اڑتا۔ ایک اور طرف حمایت علی شاعر اپنے حامیوں کو لئے بیٹھے ہوتے۔ ان کے ساتھ قاصد عزیز بھی ہوتے۔ اچھے شاعر تھے۔مزے کی گفتگو کرتے۔ ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں تلفظ ٹھیک کروایا کرتے تھے۔ بعد میں ترقی کر کے پروڈیوسر ہوگئے۔ ایک دن گھر جاتے ہوئے دل ساتھ چھوڑ گیا۔ ہم نے جب وہاں جانا شروع کیا، کچھ لوگ اس محفل سے اٹھ چکے تھے، قابل اجمیری کو ایک آدھ بار دیکھا۔ ان کا انتقال بھری جوانی میں ہو گیا تھا۔

قدیر غوثی پہلی بار وہاں لے گئے۔ میں میٹرک کی تیاری کررہاتھا، شام کو انسٹیٹیوٹ سے فارغ ہو کر، ان کے ساتھ، کچھ دیر ان ادبا اور شعرا کی محفل میں تانک جھانک کر نے چلا جاتا تھا۔ قدیر وہاں کئی لوگوں کو لائے۔ انوار کو تو اب بھی یاد ہوگا، انہوں نے جب افسانے لکھنے شروع کئے ،اس کے کچھ عرصے بعد وہ میرے ساتھ ایک دن سلطان ہوٹل گئے۔ اور پھر ان کا آنا جانا بھی مستقل ہو گیا۔ انہوں نے کچھ دن استاد کے رسالے کی ادارت بھی کی۔ مگر دونوں کی زیادہ بنی نہیں۔ قدیر سے ان کا تعلق برقرار رہا۔

سلطان ہوٹل بند ہوا تو ایک نیا ہوٹل کھل گیا، وہاں علی حسن قدیر بھائی کے ساتھ آئے۔ وہ قدیر بھائی کے گھر کے قریب ہی رہتے تھے، ہوٹل آنے کی جھجھک قدیر بھائی نے دور کردی، آخر وقت تک ساتھ رہا۔ علی حسن کے صحافت میں آنے میں بھی قدیر بھائی کا ہاتھ تھا۔

قدیر سے دوستی بہت پرانی تھی، زندگی بھر کا سا ساتھ تھا۔ رشتے میں وہ میرے چچا لگتے تھے۔ بہتر زمانہ تھا، دلوں میں ابھی کدورتوں کے جالے نہیں بنے تھے۔ ایک دوسرے کے گھر آنا جانا معمول کی بات تھی۔ نہ آنا جانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ قدیر کے گھر جانے کی کئی وجوہ تھیں۔ ان کے والد کو چھوٹے بڑے سب غفور چچا کہتے تھے، ان کے گھر ہندو پاکستان کے بہت سے رسالے آتے تھے۔ آستانہ دہلی، شمع دہلی، بیسویں صدی دہلی، نقاد کراچی ، اور بچوں کے رسالے اور کتابوں کے ڈھیر۔ یہ ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ جب رسالے اور کتابیں آتیں، ان کے بعد کئی دن قدیر کے گھر میں ہی گزرتے۔ سارا سارا دن کتابیں ہوتیں اور ہم۔ کتابوں سے یہی دلچسپی اور شغف ہمارے ذاتی تعلقات کی مضبوط بنیاد بن گیا، اور آخر تک قائم رہا، ان کے انتقال تک۔

قدیر غوثی نے بہت پہلے ہی افسانے لکھنے شر وع کر دئے تھے، اور آخر وقت تک یہ مشق جاری رہی۔ ان دنوں بھی جب اپنی بیماری کی وجہ سے وہ ٹھیک سے بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے اور سانس لینے میں بھی انہیں تکلیف ہوتی تھی۔ ان کے افسانے ناصر زیدی کے سیپ میں شائع ہوا کرتے تھے، استاد کے نئی قدریں میں، نقوش میں ، احسن سلیم کے’ اجرا‘ میں اور بہت سے دوسرے رسائل و جرائد میں، تقریباً تواتر سے شائع ہوتے رہے۔ بہت اصرار کے بعد انہوں نے اپنے افسانوں کا ایک مجموعہ تیار کیا، مگر وہ مسودہ لاہور میں کہیں کھو گیا۔ اس کے بہت بعد انہوں نے ایک بار پھر کوشش کی اور حیدرآباد سے ڈاکٹر مسرور احمد زئی کی ادارت میں شائع ہونے والے سہ ماہی جریدے ـ’عبارت‘ کے زیرِ اہتمام ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’’خواب کہانی‘‘شائع ہوگیا۔ دوسرے کی تیاری تھی،کچھ کام بھی کیا۔ مگر وقت نے مہلت نہ دی۔ ویسے خود انہیں بھی کوئی خاص خواہش نہیں تھی۔ وہ اپنی ذات سے درویشوں کی طرح بے نیاز تھے۔ یہ ان کا مزاج تھا۔ ہاتھ کے ایک اشارے سے ، کچھ نا گفتہ بہ الفاظ کے ساتھ، وہ بڑی سے بڑی بات کو جھٹکنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

قدیر غوثی نے جب آنکھ کھولی، ان کے گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ اُس زمانے کے حساب سے وہ ایک اچھاخاصا کھاتاپیتا گھرانہ تھا۔ صبح سے شام تک مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ان کی والدہ میں جب تک دم رہا خودخاطر کرتیں۔ غفور چچا اور میرے ماموں اور دو بڑے دادا ایک دواخانے میں شریک تھے۔ اچھی آمدنی تھی۔ پھر وہ شراکت ختم ہو گئی۔ غفور چچا نے الگ ایک دوا خانہ کھول لیا۔ ان کے انتقال کے بعد کچھ گڑبڑ ہوگئی اور قدیر اور ان کے بڑے بھائی بے یارو مددگار رہ گئے۔ مگر دونوں نے ہمت نہیں ہاری۔ قدیر نے ایک حکیم صاحب کے ہاں ملازمت کرلی اور ان کے انتقال تک ان کے ساتھ رہے۔ قدیر کا گھر گاڑی کھاتے میں تھا، حکیم صاحب کا مطب سرے گھاٹ پر۔ اب سوچیں تو یہ ایک لمبا فاصلہ ہے۔ قدیر بھائی مگر روزانہ، دن میں چار مرتبہ یہ فاصلہ طے کرتے۔ صبح آٹھ نو بجے، پیدل چلے جارہے ہیں، دوپہر کو واپس اور پھر سہ پہر کومطب کی طرف رواں، اور رات آٹھ بجے واپسی۔ رات کتنی ہی دیر کیوں نہ ہوجائے، صبح وقت پر مطب پہنچنا ، اسے کھو لنا، اور مریضوں سے ان کے مسائل معلوم کرکے رکھنا، یہ ان کی ذمہ داری تھی، جس میں کبھی کوتاہی انہوں نے نہیں کی۔ شدید بیماری کے سوا وہ کبھی غیر حاضر نہیں ہوئے۔ جمعہ کو ان کی آدھی چھٹّی ہوتی تھی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اکثر کراچی آتے، دوستوں سے ملاقات کرتے، دل بہلاتے اور رات کو واپس چلے جاتے۔ یاد نہیں انہوں نے کبھی ان بیتے دنوں کا اس طرح شکوہ کیا ہو کہ جیسے انہیں حالات کی تبدیلی پر کوئی رنج یا ملال ہو۔ خود رحمی سے وہ آخر وقت تک دور رہے۔

ز ندگی انہوں نے بھرپور گزاری۔ مگر کسی بھی عادت کو اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیا، اس کے غلام نہیں بنے۔ جب تک جی چاہا کوئی شوق اپنا لیا۔ جب جی چاہا چھوڑ دیا، ہاتھ کی ایک حرکت اور چند ناگفتہ بہ الفاظ کے اظہار کے ساتھ۔ دوستوں کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ ہی اچھے رہے۔

ہوٹلوں میں کتنے ہی لوگ آئے ، قدیر غوثی کے دوست بنے، اس نے ان کی خوب خاطریں کیں۔ وہ جب حیدرآباد سے چلے گئے تب بھی ان کے دوست رہے۔ ریڈیو پاکستان کے فخرِ عالم نعمانی، کافی عرصہ ہوا راولپنڈی چلے گئے تھے، ٓاج تک قدیر کے دوست ہیں۔ انہیں جب اطلاع ملی ہوگی، بہت رنجیدہ ہوئے ہوں گے۔ محمود صدیقی بھی ریڈیو پاکستان سے ر یٹائر ہو گئے ہیں، تدفین میں شریک ہوئے، حالانکہ ان کی صحت بھی دشمنوں کے نصیب سے اچھی نہیں ہے۔ اور بھی بہت سے۔ قدیر غوثی نے اچھے افسانے لکھے۔ ، ان کے بچے بھی بہت اچھے ہیں۔ میں آج تک حیران ہوں، اتنی مصروفیت کے باوجود، قدیر بھائی نے کس طرح اپنے بچوں پر توجہ دی اور وہ بھی بھر پور۔ بڑا بیٹا ظہیر خود ایک ذمہ داربھائی ہے۔ اس نے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ مگر پھر بھی ایک اتنے مصروف باپ کے بچے دیکھیں تو حیرانی بجا لگتی ہے۔ ایک بیٹا ڈاکٹر ہے، ایک انجینیر۔ دوسرے بھی اچھی جگہوں پر ہیں۔ خود قدیر بھائی بھی اچھی جگہ پہنچ گئے۔ میرے لئے وہ حیدرآباد کے ایک خاص دور کی آخری شناخت تھے۔ وہ شناخت ختم ہو گئی۔

Citation
ِِIdrees-Bakhtiar, “قدیر غوثی ۔ حیدر آباد کی آخری شناخت,” in Jang, June 25, 2015. Accessed on June 25, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1-%D8%BA%D9%88%D8%AB%DB%8C-%DB%94-%D8%AD%DB%8C%D8%AF%D8%B1-%D8%A7%D9%93%D8%A8%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D9%93%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%D9%86%D8%A7%D8%AE%D8%AA/

Disclaimer
The item above written by ِِIdrees-Bakhtiar and published in Jang on June 25, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 25, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by ِِIdrees-Bakhtiar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s