اُردو باغ اور سرکاری زبان

Follow Shabnaama via email
مسعود اشعر

کیا آپ جانتے ہیں اندرا گاندھی کا قتل کیوں ہوا؟ اندرا گاندھی کا قتل اس لئے ہوا کہ ایک رات پہلے اتر پردیش کے ایک کالج کے ہوسٹل میں گوبھی پکی تھی۔ سنا آپ نے؟ اور کیا آپ کو علم ہے کہ راجیو گاندھی کے گولی کیوں لگی؟ راجیو گاندھی کو گولی اس لئے ماری گئی کہ اس دن اتر پردیش کے ہی ایک گھر میں انڈے تلے گئے تھے۔ کیا سمجھے آپ؟ آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم مذاق کر رہے ہیں۔ نہیں صاحب، یہ اردو کے نہایت ہی معتبر ہندوستانی ناول نگار خالد جاوید نے اپنے ناول میں لکھا ہے۔ ناول کا نام ہے ’’نعمت خانہ‘‘۔ ناول کے اس نام سے ہی آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ناول کا تعلق یا موضوع باورچی خانہ اور قسم قسم کے کھانے ہیں۔ انہی کھانوں میں کوئی کھانا ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب بھی وہ پکایا جاتا ہے تو ناول کے مرکزی کردار کو فوراً احساس ہو جاتا ہے کہ اب کوئی نہ کوئی مرجائے گا۔ اور پھر واقعی کسی کی موت واقع ہو جا تی ہے۔ اگر کوئی مرتا نہیں تو آندھی، طوفانی بارش یا زلزلہ آجاتا ہے ۔ خالد جاوید اچھا لکھنے والے ہیں۔ انہیں زبان و بیان پر جو قدرت حاصل ہے وہ بہت کم اردو فکشن لکھنے والوں کو میسر ہے۔ اب اگر ان کے نئے ناول کا مرکزی کردار کسی خاص کھانے کو بدشگونی سمجھتا ہے تو ہم اور آپ کیا کرسکتے ہیں ۔ناول کے مرکزی کردار کو تو ہر اس کھانے میں بدشگونی نظر آتی ہے جو اسے پسند نہیں ہے۔ جب بھی وہ کسی ایسے کھانے کی بو سونگھتا ہے تو کہتا ہے ’’آج یہ کھانا نہیں پکنا چاہیے تھا‘‘۔ اور پھر کوئی نہ کوئی اس جہان فانی سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اب معلوم نہیں اس ناول کے چھپنے کے بعد ہندوستان میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل کا پس منظر جاننے کے لئے چند خاص کھانوں کے اس منحوس پہلو پر بھی غور شروع کیا جا رہا ہے یانہیں؟ لیکن ہم نے جب سے یہ ناول پڑھا ہے اس وقت سے ہم باورچی خانے سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں ہمارے اندر بھی ناول کے مرکزی کردار والی حس بیدار نہ ہو جائے۔ اور ہم بھی کھانوں سے شگون یا بد شگونی نہ لینے لگیں۔

معاف کیجیے، آج ہم انجمن ترقی ٔ اردو اور اس کے نئے منصوبوں کے بارے میں بات کرنا چاہ رہے تھے بیچ میں یہ ناول آ گیا۔ یہ تو آپ کو علم ہی ہو گا کہ انجمن کے اعزازی سیکرٹری جمیل الدین عالی نے اپنی پیرانہ سالی کے باعث اپنی ذمہ داریاں ڈٖاکٹر فاطمہ حسن کے سپرد کر دی ہیں۔ فاطمہ حسن صرف شاعر اور افسانہ نگار ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ایک اچھی منتظم اور منصرم بھی ہیں۔ انہوں نے سیکرٹری کی ذمہ داری سنبھالتے ہی انجمن کے نامکمل منصوبے مکمل کرنے کے لئے تگ و دو شروع کر دی ہے۔ اس میں ایک بڑا منصوبہ ’’اردو باغ‘‘ کی تعمیر تھا جس کے لئے جمیل الدین عالی اور نورالحسن جعفری نے1987 میں پانچ ہزار تین سو اکتیس گز زمین حاصل کر لی تھی۔ زمین تو مل گئی تھی مگر اس پر ابھی تک تعمیر شروع نہیں کی گئی تھی۔ آخر اب اس باغ کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے۔ اس عمارت کے لئے صدر ممنون حسین نے خاص گرانٹ دی ہے۔ اب یہ اردو باغ کیا ہو گا؟ اس باغ میں انجمن کے انتظامی دفاتر ہوں گے، آر کائیوز ہو گا، بڑی سماعت گاہ ہو گی، اجلاسوں کے لئے ہال ہوں گے، ملک اور بیرون ملک سے آنے والے ریسرچ اسکالرز کے لئے ہوسٹل ہوں گے اور ان تمام کتابوں کے لئے ایک بہت بڑی لائبریری ہو گی جو ادھر ادھر بکھری پڑی ہیں۔ اور یہ کتابیں ہزاروں لاکھوں میں ہیں۔ انجمن مولوی عبدالحق کے زمانے سے اردو زبان کی ترقی اور فروغ کے لئے جو کام کر رہی ہے اردو باغ کی تعمیر کے بعد یقیناً اس کام کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی ۔فاطمہ حسن کی آمد کے بعد انجمن کی کتابوں کی اشاعت میں بھی تیزی آگئی ہے۔ اشاعت کے ساتھ کتابوں کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ انجمن کے ایک کتابچے کے مطابق جدید تقاضوں کا ساتھ دینے کیلئے انجمن نے ایک عالمی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ جس میں ڈاکٹر نعمان الحق(پاکستان) ڈاکٹر شان پیو (امریکہ )اور ڈاکٹر اصدر علی (امریکہ) شامل ہیں۔ اس کتابچے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جدید تقاضوں کا ساتھ دینے کے لئے یہ کمیٹی کیا کام کرے گی؟ اگر یہ کمیٹی اردو زبان اور اس کی کتابیں غیر ملکوں میں متعارف کرانے کا کام کرے گی تو یہ کام ہمارے افسانہ نگار اور ناول نگار پہلے ہی کر رہے ہیں۔

انتظار حسین کا ناول انگریزی میں ترجمہ ہوا اور وہ بکر انعام کے لئے نامزد بھی ہو گیا۔ اب اکرام اللہ کے طویل افسانے انگریزی میں ترجمہ کئے گئے ہیں اور انہیں ایک بین الاقوامی ناشر نے شائع کیا ہے۔ دوسرے کئی ناول اور افسانے بھی انگریزی میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ بیرونی دنیا میں اردو فکشن سے دلچسپی اتنی بڑھ گئی ہے کہ جو بھی ناول یا افسانہ انگریزی میں منتقل کیا جاتا ہے اسے وہاں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ یہ کام تو ہو رہا ہے۔ لیکن اس وقت اصل مسئلہ اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کا ہے۔ لاہور میں سلطانہ قمر نے اس کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے۔ ان کی اور ہماری خوش قسمتی کہ عدالت عظمیٰ بھی ہماری مدد کو آ گئی ہے۔ وہ بھی حکومت سے سوال کر رہی ہے کہ آئین کے مطابق ابھی تک اردو کو سرکاری زبان کیوں نہیں بنایا گیا۔ اب حکومت اس کا کیا جواب دیتی ہے؟ یہ تو ہمیں نہیں معلوم لیکن جب بھی اردو کو سرکاری زبان بنانے کی بات ہوتی ہے تو اس کی مخالفت کرنے والا طبقہ یہ دعویٰ لے کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے کہ اردو میں جدید تکنیکی، سائنسی اور دیگر انسانی علوم پیش کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ یعنی ان کے خیال میں جدید اصطلاحات کے لئے اردو میں مناسب الفاظ نہیں ہیں۔

یہ اعتراض بڑی حد تک کم علمی پر مبنی ہے۔ تمام علوم کی اصطلاحات کے لئے اردو متبادل تلاش کر لئے گئے ہیں اور تلاش کئے بھی جا رہے ہیں۔ لیکن یہ کام بکھرا ہوا ہے۔ کچھ تو مقتدرہ قومی زبان جیسے اداروں نے ترجمہ کرائے ہیں اور کچھ حکومت پنجاب اور دوسری حکومتوں نے کرائے ہیں۔ خرابی صرف یہ ہے کہ ان تراجم کو یکجا نہیں کیا گیا۔ ایک ہی اصطلاح کا ترجمہ کہیں کچھ کیا گیا ہے تو کہیں کچھ۔ اس سے انتشار پیدا ہوا ہے۔ اب اگر انجمن یہ ذمہ داری سنبھال لے کہ اب تک جو ترجمے کئے گئے ہیں ان پر نظر ثانی کرائی جائے اور مستند اصطلاحات منظور کر کے ان کی معیار بندی کی جائے اور انہیں یکجا کیا جائے۔ اس کے بعد تمام تعلیمی، علمی ادبی اور سرکاری اداروں کو ہدایت کی جائے کہ ہر شعبے میں انہی اصطلاحات سے کام لیا جا ئے۔ یہ منظور شدہ اصطلاحات میڈیا کو بھی فراہم کی جائیں۔ ہمارے میڈیا نے تو اردو زبان کا بیڑہ ہی غرق کر دیا ہے ۔اس کے بعد شاید وہ بھی ٹھیک ہو جائے۔
کتابیں تو ہر سرکاری اور غیر سرکاری ادارہ چھاپ رہا ہے۔ اگر اردو کو جدید تقاضوں کے مطابق سرکاری، تدریسی اور علمی زبان بنانا ہے تو یہ ہے اصل کام جو انجمن اور مقتدرہ کو کرنا چاہیے۔ اس کے لئے آپ کے پاس ڈاکٹر نعمان الحق،ڈاکٹرسید جعفر احمد، ڈاکٹر کامران اصدر علی اور محمد عمر میمن عمرانی علوم میں اور ڈاکٹر عبدالحمید نیر اور ڈاکٹر پرویز ہود بھائی جیسے اسکالرز سائنسی علوم میں موجود ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور پختونخوا سے اور بھی ایسے ہی اسکالر آپ کو مل سکتے ہیں۔ اگر اردو کو واقعی عالمی معیار کی زبان بنانا ہے اور اردو مخالف انگریزی داں طبقے کا منہ بند کرنا ہے توہر حالت میں یہ کام کرنا ہو گا۔ ورنہ کتابیں چھاپتے رہیے اور اردو باغ تعمیر کرتے رہیے۔ اردو اسی طرح اپنے حق سے محروم رہے گی۔

Citation
Masood Ashar, “اُردو باغ اور سرکاری زبان,” in Jang, June 23, 2015. Accessed on June 23, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%D8%A7%D9%8F%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A8%D8%A7%D8%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%93%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%81/

Disclaimer
The item above written by Masood Ashar and published in Jang on June 23, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 23, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Masood Ashar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s