کرشن چندر سے معذرت کے ساتھ

Follow Shabnaama via email
امر جلیل

آج کا قصہ نیا نہیں ہے۔ زیادہ پرانا بھی نہیںہے۔ سمجھ لیجئے یہ قصہ ماضی قریب کا ہے۔ تب میں گدھاہوتا تھا۔ گدھا تو اب بھی میں ہوں، لیکن اب لوگ مجھے پہچان نہیں سکتے۔ اگر پہچان لیتے بھی ہیں تو اس کا اعتراف نہیں کرتے۔ ظاہر ہے، اعتراف کیسے کرتے! میرا کھاتے جو ہیں۔ عام طور پر مجھے لوگ اس لئے بھی پہچان نہیں سکتے کہ میں مکمل طور پر چمڑا پوش ہوچکا ہوں۔ میں نے چہرے پر طرح طرح کے نقاب چڑھا لیے ہیں۔ میرے دونوں ہاتھ دستانوں میں ہوتے ہیں۔ میرے لباس میں آستینیں نہیں ہوتیں، وہ اس لئے کہ میں آستین کے سانپ نہیں پالتا۔ اب مجھے کوئی پہچانے تو کیسے پہچانے! میرا شمار ملک کی اشرافیہ میں ہوتا ہے۔ کوئی مجھے بزنس مین سمجھتا ہے، کوئی مجھے صنعتکار سمجھتا ہے، کوئی مجھے زمیندار سمجھتا ہے۔ کوئی مجھے پیر سائیں سمجھتا ہے، کوئی مجھے سردار سمجھتا ہے، کوئی مجھے سیاستدان سمجھتا ہے، کوئی میری اصلیت سے واقف نہیں۔ راز کو راز رہنے دیتے ہیں۔ نمک اور زن، زر، زمین میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ یہ قوتیں لوگوں کو گونگا کردیتی ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پردا پڑ جاتا ہے۔

نمک، زن، زر، زمین کی طاقت کے بارے میں مجھے آگاہی تب ملتی تھی جب میں رمجو دھوبی کی گدھا گاڑی میں جتا ہوا گدھا ہوتا تھا۔ رمجو دھوبی دنیا بھر کے گندے، میلے، کچیلے، بدبودار کپڑے گاڑی میں ڈال کر دھوبی گھاٹ پر دھونے جاتا تھا۔ مجھے گھاس پھوس کھلانے میں کنجوسی نہیں کرتا تھا۔ دھوبی گھاٹ پہنچنے کے بعد وہ مجھے ایک درخت سے باندھتا،میرے سامنے گھاس پھوس کی ٹوکری رکھتا۔ قریب ہی پانی کی بالٹی رکھتا، اور خود لوگوں کے میلے، گندے، غلیظ اور بدبودار کپڑے دھونے دھوبی گھاٹ میں داخل ہوجاتا۔ کپڑے دھونے اور سکھانے میں رمجو کو دن بھر لگ جاتا تھا۔ میں دن بھر درخت سے بندھا کبھی چارا کھاتا، کبھی پانی پیتا اور کبھی اونگھنے لگتا۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا تھا کہ گھاس اور چارے کے ساتھ رمجو سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے، ڈبل روٹی کے سلائس اور اسی طرح کی چیزیں ملا کر مجھے کھانے کو دیتا تھا۔ ایسے چارے کو رمجو مکس پلیٹ کہتا تھا۔ میری گردن تھپکتے ہوئے کہتا تھا۔ ’’شہزادے، آج میں تیرے لئے مکس پلیٹ لے آیا ہوں۔‘‘ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا تھا کہ مکس پلیٹ میں اخباروں کے ٹکڑے، پھٹی ہوئی کتابوں کے پنے اور مٹھائی کے خالی ڈبے پڑے ہوئے ہوتے تھے۔ مکس پلیٹ میں بہت شوق سے کھاتا تھے۔ ایک مرتبہ مکس پلیٹ کھاتے ہوئے میری نگاہ ایک خستہ اور پرانی کتاب پر پڑی، کتاب پر گدھے کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ وہ خندہ پیشانی سے مسکرا رہا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ آدم خوروں کی طرح میں نسل خور نہیں بنوں گا۔ گدھے کی تصویر والی کتاب نہیں کھائوں گا۔ اپنے تھوبڑے سے میں نے کتاب ٹوکری میں ایک طرف کردی۔ جب میں مکس پلیٹ کھا چکا تب میں نے ڈکار لی۔ ڈکار لینے کے بعد میں نے ٹوکری کا جائزہ لیا۔ گدھے کی تصویر والی کتاب ایک طرف پڑی ہوئی تھی۔ میں نے سوچا کتاب میں گدھوں سے متعلق کام کی باتیں لکھی ہوئی ہوں گی۔ صحت مند رہنے کے لئے گدھوں کو کیسی گھاس کھانی چاہئے اور کیسی گھاس کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ کس گھاس میں کولیسٹرول ہوتا ہے اور کس گھاس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا۔ذیابطیس کے مریض گدھوں کو کس قسم کی گھاس کھانے سے اجتناب کرنا چاہئے ! دولتی کب مارنی چاہئے، ڈھینچوں ڈھینچوں کب کرنی چاہئے اور کب نہیں کرنی چاہئے، چونکہ میں پڑھا لکھا نہیں تھا، اس لئے کتاب پڑھنے کے بجائے میں نے کتاب کھانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے سوچا، کتاب چبانے اور کھانے اور ہضم کرنے کے بعد کتاب میرے سر چڑھ کر بولے گی۔ میں گدھوں کا مفکر بن جائوں گا۔ میں گدھوں کا کنسلٹنٹ بن جائوں گا۔ میں گدھوں کا ایڈوائزر بن جائوں گا۔ میں نے کتاب منہ میں ڈالی، داڑھوں سے چبا کر، پیس کر ریزہ ریزہ کردی۔ بعد میں، بظاہر آدمی بن جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ کتاب کرشن چندر کی معرکتہ آلارا کتاب، ’’ایک گدھے کی سرگزشت‘‘ تھی۔میں کرشن چندر کی کتاب سے اس قدر متاثر ہوا کہ میں نے اسی سلسلے کی دوسری کتاب خریدی، اور چبا ڈالی۔ کتاب کا عنوان تھا، ’’گدھے کی واپسی‘‘۔

کرشن چندر کی دو کتابیں، ایک گدھے کی سرگزشت اور گدھے کی واپسی، خوب چبا کر کھا جانے کے بعد میرے چاروں طبق روشن ہوگئے۔ میں گدھے سے آدمی بن گیا۔ اپنی آتم کتھا لکھتے ہوئے میں اعتراف کرتا ہوں کہ آدمی بن جانے کے باوجود آخرکار ایک گدھا ، گدھا ہی رہتا ہے۔ وہ گاہے بگاہے ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا پھرتا ہے۔ اعلیٰ سطح کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگتا ہے۔ کبھی کبھار دولتی مارنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ایک مرتبہ ایک شیر کو ایک بکری سے محبت ہوگئی تھی۔ اس ڈر سے کہ شادی کے بعد شیر اسے کھا نہ جائے، بکری نے شیر سے شادی کرنے سے انکار کردیا۔ شیر کو بہت دکھ ہوا۔ اس نے اپنے سر میں خاک نہیں ڈالی، جوگ بھی نہیں لیا۔ شیر ، بکری کی محبت میں گھاس کھانے لگامگر گدھے ایسا نہیںکرتے۔ آدمی بن جانے کے باوجود وہ ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے اور دولتی مارنے سے باز نہیں آتے۔ یہ میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے۔ میں کوئی چھوٹا موٹا گدھا نہیں ہوں میں صف اول کا گدھا ہوں۔آپ مجھ سے یہ توقع مت رکھیں کہ چھوٹی سی آتم کتھا میں آپ کو میں سب کچھ بتا دوں گا۔ ہر راز سے پردہ اُٹھا دوں گا! گدھے سے آدمی، اور آدمی سے ملٹی ملینئر، بلنیئر اور ٹریلنیئر بننے کے رموز سے آپ کو آگاہ کردوں گا! نہیں بھائی، نہیں۔ آپ کے لئے بس اتنا جاننا کافی ہے کہ میرے پاس ملک میں اور بیرون ملک بے انتہا املاک ہے، جائیداد ہے، اثاثے ہیں، اکائونٹ ہیں، میرے پاس اتنا کچھ ہے کہ میں خود نہیں جانتا کہ میرے پاس کتنی دولت ہے۔ وہ بھی نہیں جانتے کہ میرے پاس کیا کچھ ہے جن کا کام ہی کھوج لگانا ہے۔ بیچارے کھوج لگاتے تو کیسے لگاتے! وہ تو میرے پاس گروی پڑے ہوئے ہیں۔

آخر میں آپ کو ایک پتے کی بات بتادوں۔ ہمیشہ اپنے آس پاس کالے تیتر،کالے مرغ اور کالے بکروں کا اسٹاک رکھا کریں۔ کالے تیتروں، کالے مرغوں اور کالے بکروں کا صدقہ دینے سے کالی بلائیں آپ سے دور رہتی ہیں۔ ایک پیر سائیں کے تعویزوں اور دُعا درمل سے میری بات اب تک بنی ہوئی ہے۔ پیر سائیں نے مجھے تنبیہ کر رکھی ہے کہ بچہ زرہ ہوشیار رہا کر، تو جب بھی مصیبت میں پڑے گا اپنی ڈھینچوں ڈھینچوں کی وجہ سے پڑے گا۔ تو ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے کی عادت چھوڑ دے۔ اب پیر سائیں کو کون سمجھائے کہ ایک شیر مجنوں بن کر گھاس توکھا سکتا ہے لیکن ایک خاندانی گدھا بلنیئر اور ٹریلنیئر بننے کے باوجود دولتی مارنے اور ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے سے باز نہیں آتا۔

Citation
Amar Jalil, “کرشن چندر سے معذرت کے ساتھ,” in Jang, June 23, 2015. Accessed on June 23, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%DA%A9%D8%B1%D8%B4%D9%86-%DA%86%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B9%D8%B0%D8%B1%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AA%DA%BE-%D8%B3%D8%A8-%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9/

Disclaimer
The item above written by Amar Jalil and published in Jang on June 23, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 23, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Amar Jalil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s