کتابیں بولتی ہیں (مضامین) مضمون نگار: رضا الحق صدیقی

Follow Shabnaama via email
اقبال خورشید

متن سے قبل کتاب کا سرورق بولتا ہے۔ آپ اُسے آنکھوں سے سنتے ہیں۔ اور ایسی کتاب جس کا عنوان ہی ’’کتابیں بولتی ہیں‘‘ ہو، چونکا دیتی ہے۔ تیار رہنے کا پیغام دیتی کہ وہ ضرور کچھ ایسا کہے گی، جو آپ کی سماعت پر خوش گوار اثرات چھوڑے گا۔

تو جاذب نظر ٹائٹل اور عمدہ کاغذ پر چھپی رضا الحق صدیقی کی یہ کتاب بہت کچھ کہتی ہے۔ بہ ظاہر دیکھیں، تو یہ نثری اور شعری تخلیقات پر اُن کے مضامین پر مشتمل ہے، مگر معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ رضا صاحب بڑے دل چسپ آدمی ہیں۔

سمجھ لیجیے جدت پسند۔ انٹرنیٹ پر فروغ ادب کے لیے جو کام اُنھوں نے کیا، وہ قابل تقلید۔ اردو میں ویڈیو کالمز کا سلسلہ شروع کیا۔ نام دیا؛ بولتے کالم۔ یہ کوشش سوشل میڈیا پر بڑی مقبول ہوئی۔ سمعی اور بصری مواد میسر آیا، تو یار لوگوں کی توجہ بڑھی۔ کتابوں پر بات ہونے لگی۔ تو ایک معنی میں وہ ادبی منظر میں نئے اوزاروں کے ساتھ وارد ہوئے۔

ہمارے مانند رضا صاحب بھی والٹیر کے اس خیال سے متفق کہ جب سے دنیا بنی ہے، وحشی نسلوں کو چھوڑ کر دنیا پر کتابوں نے حکم رانی کی ہے۔ مطالعہ اُن کا وسیع۔ تنقیدی فلسفے کا بھی علم۔ مگر ادبی ویب سائٹ کے صارفین کا مزاج بھی خوب سمجھتے ہیں۔ ان کے بولتے کالم گاڑھے نہیں ہوتے، بھاری بھرکم نظریات سے آزاد، تاثراتی یا تعارفی نوعیت کے جائزے ہوتے ہیں۔

ادبی کتب کے فنی محاسن اجاگر کرتے یہ مضامین ایک روزنامے کے ادارتی صفحے پر بھی شایع ہو کر قارئین کی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ رضا صاحب شستہ زبان لکھتے ہیں، جمالیاتی تقاضوں کی خبر رکھتے ہیں، بات کہنے کا ڈھب جانتے ہیں۔ اور ان جیسے سنیئر آدمی سے اسی کی توقع کی جانی چاہیے۔ کتاب کی فہرست پر نظر ڈالیں، تو جی خوش ہوتا ہے۔

احمد ندیم قاسمی، گلزار، زاہدہ حنا، محمد حمید شاہد، مشرف عالم ذوقی جیسے فکشن نگاروں کا تذکرہ، ادھر مجید امجد، خالد احمد، شہزاد احمد جیسے شعرا کا ذکر۔ جہاں پختہ لکھنے والوں پر مضامین، وہیں نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی۔ کتاب کی خوبی یہ کہ اسے پڑھ کر زیربحث آنے والی تخلیقات پڑھنے کو من کرتا ہے۔ کتاب کے فلیپ پر درج مختلف حکما کے اقوال بھی بھلے لگتے ہیں کہ وہ کتاب کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔

Citation
Iqbal Khurshid, “بُک شیلف,” in Express Urdu, June 21, 2015. Accessed on June 21, 2015, at: http://www.express.pk/story/368613/

Disclaimer
The item above written by Iqbal Khurshid and published in Express Urdu on June 21, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 21, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Iqbal Khurshid:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s