’’اردو ہے جس کا نام‘‘

Follow Shabnaama via email
زید عفان

’ارے واہ اعلیٰ لکھ دیا یار‘ ۔۔۔ ’کمال‘ ’’لاجواب‘ ’بہت شاندار لکھا ہے۔۔۔ کس قدر با مقصد ہے۔۔۔!‘

ہمیشہ کی طرح حماقت ۔۔۔ پڑھتے جاؤ اور سر دھنتے جاؤ ۔۔۔ احمقانہ تحریر پر انتہائی عقلمندانہ تبصرے پڑھ کر کیا مزہ آتا ہے؟ دل چاہتا ہے خوشی سے کوئی ایک کبوتر ہی آزاد کردوں مگر ڈرتا ہوں کہ بھارت اِدھر سے بہت قریب ہے۔۔۔ ارے لکھنا کونسا مشکل ہے اگر کی پیڈ پر ہاتھ سیٹ ہو ۔۔ سیٹ ہونے سے کوئی غلط مطلب نہ لیجیے گا۔۔ احمق ضرور ہوں۔۔ عقل کا کوئی کام سرزد ہونا محال ہے۔۔۔ مجال ہے کہ ایسے کام میں ہاتھ ڈالوں جو محال ہو۔۔۔ سیٹ تو آج تک مجھ سے مرغی بھی نہ ہوئی۔۔ روز بس ایک انڈہ ـــ! یہ کیا شروع کردیا۔۔لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔!

’کیا لکھتے ہو بھائی۔۔۔!‘، بھائی کا تبصرہ پڑھ کر میں نے اطمینان سے لکھا۔۔۔ ’اردو !‘ ہمارے ہاں اردو کو نئے سرے سے ترویج دینی پڑے گی۔۔ ورنہ یہ لشکری زبان ہے سب ہضم کرجائے گی اور سرکاری ڈکار مارے گی ۔۔۔ پھر ہمیں مجبوراً حروف تہجی کم کرنا پڑیں گے۔۔۔ جب سے یہ رومن اردو ایجاد ہوئی۔۔۔ رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی۔۔ اردو پورے 26 حروف میں ہی سمٹ گئی۔۔ مجھ جیسے احمق ’ز‘ کو ’ذ‘، ’ہ‘ کو ’ح‘ ، ’س‘ کو ’ث‘ ، ’ت‘ کو ’ط‘ اور اِس کے برعکس لکھتے ہیں۔۔ پڑھنے والے کہتے ہیں۔۔ ‘واہ۔۔۔ واہ ـــ!’ پڑھنے والا تو خوش۔۔۔ اور لکھنے والا ہواؤوں میں اڑنے لگتا ہے۔۔ ہے نا نری حماقت ۔۔۔ نہیں؟ ’نہ‘ ، ’نا‘ اور ’ناں‘ زلفِ یار میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ ہاں کرتے بنتی ہے نہ ، نہ ۤـــ! دل لبھانے کو بندہ ’ناں‘ کہتا ہے۔۔۔ ’سنو ناں۔۔۔!‘، مگر توڑے جاؤ اردو کی ٹانگیں۔۔ لشکری ہی ٹہری۔۔ ٹوٹ پھوٹ کر پھر نئی بن جائے گی۔۔۔ اس لیے کچھ ’نہ‘ سنو۔۔ کبھی ’نہ‘ سنو۔۔۔ پھر بعد میں کہنا۔۔ اچھا ’نا‘ سوری۔۔۔!

ذندگی کو ’ذ‘ سے لکھ کر، زندگی کو جیتے جی مارڈالا۔۔۔ ہائے ظالم ـــ! اتمینان ’ت‘ سے لکھا اچھا لگتا ہے۔۔۔ نہیں؟ میں تو ماخوذ میں ’ز‘ لکھتا رہا ہوں۔۔ احمق جو ٹہرا۔۔۔۔ـ!

احمق کو مزید ہوا دیتا ہے۔۔۔ یا یوں کہیے کہ جلتی پر تیل چھڑکتا ہے۔۔ بلکہ خود کش دھماکہ ہوتا ہے جب بندہ اردو میں لکھنے بیٹھے اور اس کے سامنے انگریزی الفاظ کا ڈھیر پڑا ہو۔۔۔ مثال بڑی گندی ہے مگر کچرے کے ڈھیر سے صاف کھانا چننا بڑی تکلیف دیتا ہے۔۔۔ اب آپ فتوی لگادیں کیوں کہ انگریزی کو برا کہہ دیا ہے۔۔ آپس کی بات ہے انگریز ہمیں دو چیزیں سکھا گئے۔۔۔ ایک لفظ غلامی (جو ہم میں سرائیت کر چکا ہےــ!) اور دوسرا لفظ سوری۔۔۔ میں بھی لکھ دیتا ہوں۔۔ ’اچھا سوری۔۔۔!‘

بات یہ ہے کہ احمق چاہے جتنا پڑھ لکھ لے۔۔۔ وہ خواب اپنی مادری زبان میں ہی دیکھتا ہے۔۔ اور تخیل کی پرواز اوجِ ثریا تک مادری زبان میں ہی ہوتی ہے۔۔۔ انسان جب لاشعور سے اچانک شعور کی کیفیت میں منتقل ہوتا ہے تو چاہے لاکھ منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتا ہو مگر بے ساختہ منہ سے وہی زبان نکلتی ہے۔۔۔ آہ۔۔۔ !

ابنِ مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

انگریز زبان کو ناخدا کرکے انگریزی آتی ہے اور نہ اردو۔۔۔ محاورہ تو یہ ہے کہ آدھا تیتر، آدھا بٹیر۔۔ مگر حماقت میں ہم کوئی تیسری چیز ہی بن گئے ہیں۔۔ تیتر اور بٹیر دونوں سے پوچھ لیں بیشک۔۔ دونوں کہیں گے احمق ہو ۔۔۔۔!

زیادہ زبانیں سیکھنا تو اچھا ہے۔۔ مگر اتنا بھی اچھا نہیں کہ بندہ اپنی زبان سے بے بہرا ہوجائے۔۔ نہ لکھ سکے نہ پڑھ سکے۔۔۔ اردو لکھتے پڑھتے ’کنفیوژن‘ کا شکار ہوجائے۔۔ حق ہا۔۔۔ اب کیا کروں جس قسم کی کنفیوژن مجھے ہوگئی ہے اس کے معنی ’الجھن‘ میں پوشیدہ نہیں ہیں۔۔۔ وقت کے وقت کے ساتھ ساتھ اردو میں بگاڑ ہی پیدا ہوتا جارہا ہے۔۔ ایک طرف ہمارا احمقانہ پن اور دوسری طرف اردو میں نئے ادبی الفاظ کی شمولیت کا شدید فقدان ہے۔۔۔ پچھلی دہائی میں اردو بے چاری شرماتی لہراتی اور بل کھاتی چلتی رہی ہے۔۔۔ اگلی دہائی کا تصور کرکے لگتا ہے کاندھوں پر ہی ہوگی۔۔۔ !

جو رحجان اب ہمارے اندر پیدا ہوتا جارہا ہے اس کے بعد لگتا یہ ہے کہ اب یہ لشکر (زبان اردو) تتر بتر ہوجائے گا ۔۔۔ اور ہم اپنی اگلی نسل کو جب عجائب خانوں میں بغرضِ سیر و تفریح لے جائیں گے تو انھیں بتائیں گے۔۔۔ ’بیٹا یہ عبرانی زبان کے نسخے ہیں۔۔۔‘ ، ’بیٹا یہ سانسکریت زبان ہے جو اب متروک ہو چکی۔۔۔‘ اور۔۔۔ شرماتے ہوئے ، سر کجھاتے ہوئے اور نظریں چراتے ہوئے کہیں گے۔۔ ’یہ ہماری مادری زبان تھی۔۔ اردوـــ!‘

داغ صاحب سے معذرت۔۔۔ مگر اب حالات ایسے ہیں کہ ان کا شعر مجبورا تبدیل کردیا۔۔۔ حال کو ماضی کے صیغے سے بدلنا پڑا۔۔۔۔

اردو ’تھا‘ جس کا نام ہمیں جانتے ’تھے‘ داغ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ’تھی‘

Citation
Zayd Afan, “’’اردو ہے جس کا نام‘‘,” in Express Urdu, June 19, 2015. Accessed on June 21, 2015, at: http://www.express.pk/story/368041/

Disclaimer
The item above written by Zayd Afan and published in Express Urdu on June 19, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 21, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Zayd Afan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s