کم سخن ڈاکٹر جاوید شیخ

Follow Shabnaama via email
کشور ناہید

پاکستان سے ادیب لندن جاتے ہیں تو وہاں نیم شاعروں کے کلام کو داد دیتے ہوئے،اپنے ٹھہرنے کا بندوبست کرتے ہیں کہ ساقی فاروق تو ان لوگوں کو گھاس نہیں ڈالتا ہے۔ پہلے لندن میں زہرہ آپا تھیں تو فیض صاحب اور احمد فراز ان کے یہاں ٹھہر جاتے تھے۔ احمد فراز کے بھائی لندن میں تھے،وہ اکثر وہیں ٹھہرتے،شام کو فیض صاحب سے ملنے زہرہ آپا کے گھر آجاتے تھے۔لندن کی حدود سے ذرا باہر ولا کے انداز کا ایک خوبصورت گھر ہے یہ گھر جاوید شیخ اور حسینہ کا ہے۔جاوید شیخ کو ادیبوں اور وہ بھی سنجیدہ ادیب ہوں تو ان کو اپنے پاس ٹھہرانے ان کے لئے محفلیں برپا کرنے،شہر گھمانے،موسیقی اور تھیٹر کا شوق ہو تو وہ بھی دکھانے مگر زیادہ وقت خاموش رہنے والی شخصیت ہیں۔

جاوید شیخ اور حسینہ،دونوں ڈاکٹر ہیں۔ صبح سے شام تک اسپتالوں میں مصروف رہنے کے باوجود وقت نکال لیتے ہیں اپنے مہمانوں کی دلداری اور ضیافت کا۔ جاوید کے گھر میں نارنگ صاحب سے لیکر خمار بارہ بنکوی،قاسمی صاحب اور زیادہ تر وہ سنجیدہ ادیب جو کہ ضمریات سے تعلق نہ رکھتے ہوں وہ ٹھہرنے آتے ہیں۔ ساقی فاروقی کے تو وہ گھر کے معالج ہیں۔ ساقی کی طبیعت چونکہ آجکل اچھی نہیں رہتی اور وہ خاص کر ادیبوں سے ملنے سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ صرف جاوید ہیں جو انکی طبیعت پوچھنے کے بعد دوائیوں اور احتیاط کی نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ ہندوستان میں مشیر الحسن کے اور پاکستان میں افتخار عارف کے بہت پرانے اور قریبی دوست ہیں۔ اب جبکہ اسپتال سے ریٹائر منٹ لے لی ہے۔ نماز کے علاوہ ادبی کتابیں پڑھتے ہیں۔ پاکستانی چینلوں پر استخارہ جیسے پروگرام دیکھ کر لاحول ولاقوۃ کہتے ہیں۔ داعش اور القاعدہ سے سخت نالاں ہیں۔ مہینے بھر بعد کسی نہ کسی بہانے دعوت کا اہتمام کرتے ہیں حسینہ اسپتال سے فراغت کے چند گھنٹوں ہی میں دعوت کا کھانا بھی تیار کرلیتی ہیں اور ڈاکٹر جاوید کیلئے تازہ پھلکا بھی بنا دیتی ہیں۔ میرا قیام بھی جاوید کے گھر ہی میں ہوتا ہے اور میرا ڈرائیور شاعر ارشد لطیف ہوتا ہے۔ ہمراز احسن اور امین مغل جب میرے لئے محفل آراستہ کریں تو اس شام معذرت کرکے ہمارے عیبوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور ہماری محفل میں سوشلزم آکے ہی رہتا ہے۔ کھانے میں وہی پرانے ذائقے کڑھی،کوفتے،کباب طرح طرح کی چٹنیاں پسند کرتے ہیں، ڈاکٹر جاوید کی ایک ہی بیٹی فاطمہ ہے اسنے خوب پڑھا ہے ،شادی کی تو کرکٹر یاسر عرفات سے شادی کا استقبالیہ اس کے لئے اوول کے گرائونڈ میں ہوا تھا ساری تقریب ٹیلی وژن پر دکھائی گئی۔ اپنے ڈھائی سال کے نواسے کے ساتھ خوشی خوشی شامیں گزارتے ہیں۔ یاسر اور فاطمہ کھانا بنانے کے تجربات میں ناکام ہوجاتے ہیں تو حسینہ ان کو چٹ پٹا کھانا فراہم کردیتی ہیں۔ جاوید کے گھر میرا نامی خاتون کام کرنے آتی ہیں باغ کو صاف کرنے سے لیکر گھر کے ہر کونے ،کپڑوں پر استری کے علاوہ حسینہ کا ہاتھ کچن میں ایسے بٹاتی ہے کہ اسکی پھرتی پر حیرانی ہوتی ہے۔ کام کرتی ہے دس پائونڈ فی گھنٹہ کے حساب سے،حسینہ اسکے کام سے بہت خوش ہیں کہ وہ پاکستان کے نوکروں کی طرح چور نہیں ہے۔ دعوت والے دن وہ کھانے کے بعد سب کچھ سنبھال کر کچن صاف کرکے، تب گھر جاتی ہے۔ جس کمرے میں میں ٹھہرتی ہوں وہ مہمانوں یعنی ادیبوں ہی کے لئے مخصوص ہے۔ ساقی نے گزشتہ کئی مہینوں سے کسی سے بھی ملنا چھوڑ دیا ہے۔ اسکی بیوی نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد اب تو ہر وقت ساقی کی خدمت کرتی ہے اور روز کے روز ڈاکٹر جاوید کو ساقی کا حال بتاتی رہتی ہے۔ ساقی نے مجھ سے ملنے سے گریز نہیں کیا۔ جاوید مجھے ساتھ لیکر گئے حسینہ نے خاص طور پر ساقی کی پسند کے کباب بنائے تھے۔ اس دوپہر ساقی کو اپنی بیماری بھول گئی تھی۔ ڈاکٹر جاوید اپنے مخصوص دھیمے انداز میں ساقی کو چلنے اور ٹانگوں کو استعمال کرنے کینصیحت کررہے تھے۔ سب سے زیادہ زور ساقی اس بات پر دے رہا تھا کہ میں جینا نہیں چاہتا۔ ڈاکٹر جاوید بار بار اسکے فقروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی واقعہ سنا دیتے،کوئی شعر کوئی بات کہتے۔ جاوید شیخ میں صبر کا بڑا مادہ ہے۔ جو بھی ادیب لندن میں بیمار ہوتا ہے۔ اس کو دیکھنے اور ممکن حد تک دوائیاں بھی لیکر دیتے ہیں۔اب میں انکے بارے میں توصیفی کلمات نہیں لکھونگی۔ ورنہ کل کو ہر ایرا غیرا لندن جاکر خود کو ادیب کہہ کر جاوید شیخ کے گھر رہنے کی کوشش کرے گا۔

Citation
Kishwar Naheed, ” کم سخن ڈاکٹر جاوید شیخ,” in Jang, June 19, 2015. Accessed on June 19, 2015, at: http://search.jang.com.pk/akhbar/%DA%A9%D9%85-%D8%B3%D8%AE%D9%86-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF-%D8%B4%DB%8C%D8%AE/

Disclaimer
The item above written by Kishwar Naheed and published in Jang on June 19, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 19, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Kishwar Naheed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s