ا ردو زبان کانفاذ :ڈاکٹر شریف نظامی کے احباب کی جدو جہد

Follow Shabnaama via email
عبدالستار اعوان

ہم اپنی قومی زبان اردو سے مسلسل دور ہو رہے ہیں اور نئی نسل کو باور کروا رہے ہیں کہ اردو میں ترقی ممکن نہیں ‘اگر ہم نے ترقی کی معراج کو پانا ہے تو انگریز ی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا۔ ہمیں انگریزی زبان سے کوئی شکوہ نہیں مگر اسے اس حد تک سر پر بٹھانا کہ اپنی زبان محض ایک مذاق بن کر رہ جائے اور اس کی تذلیل کی جاتی رہے ‘ناقابل برداشت معاملہ ہے ۔ انگریزی سے محبت کوئی اشو نہیں مگر اسے اس قدر چاہنا کہ اس کی محبت اردوکے ساتھ نفرت میں بدل جائے قبول نہیں۔ در اصل اردو زبان کو اس لئے سرکاری سطح پر نافذ نہیں کیا جا سکا کہ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارا حکمران طبقہ ہے جس کافیورٹ مغرب ہے اور دوسری جانب بیورو کریسی ہے جو اردو کے نفاذ کے معاملہ کو قومی ہتک تصور کئے بیٹھی ہے اوراسی بات پر مصر ہے کہ جب تک ہم انگریزی زبان میں مہارت حاصل نہیں کر تے تب تک تعمیر و ترقی کے دروازے ہم پر بند رہیں گے۔ پاکستان کا حکمران طبقہ تو قومی زندگی میں قومی زبان کے نفاذ کی اہمیت کو صدقِ دل سے تسلیم ہی نہیں کر تا، قومی زبان کے ساتھ اس لئے بے مروتی برتی جا رہی ہے کہ ہماری قیادت ملی طرزِ احساس سے یکسر عاری ہے ۔

صاحبو! آج کل سپریم کورٹ آف پاکستان میں اردو زبان کے نفاذ کا کیس عرو ج پر ہے اور اردو کو سرکاری سطح پر نافذ نہ کئے جانے پر عدالت عظمیٰ مسلسل برہمی کا اظہار کر رہی ہے۔ اردو کب سرکاری زبان کا درجہ حاصل کرے گی ؟ مستقبل قریب میں اس کا کتنا امکان ہے ؟ کب تک سرکاری و نجی اداروں اور درس گاہوں میں اردو کو سو فیصد نافذ کر دیا جائے گا؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات کسی کے پاس نہیں،اردو کے حوالے سے ہم اس قدر احساس کمتری کا شکار ہیں کہ چند سال قبل ایک سابق جرنیل نے کابینہ کے اجلاس میں جو کہ نفاذ اردو سے متعلق تھا ببانگ دہل ارد و کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا :’’ نفاذاردو کی سفارشات ہماری آئندہ نسلوں کو علم و آگہی سے محروم کر کے جہالت کی تاریکیوں میں دھکیل دیں گی ‘‘۔ صاحبو !یہ صرف ایک جنرل کا نہیں بلکہ ہماری پوری قیادت جو مغرب کے گوشہ عاطفت میں پروان چڑھی ہے کامسئلہ ہے کہ اردو کے نام پر اسے ابکائیاں آنے لگتی ہیں،ان حالات میں ذرا بتائیے کہ اردو کو بطور قومی زبان کیونکر اپنایا جا سکے گا…..؟
ہماری بد قسمتی ہے کہ جب بھی اردو کے نفاذ کا معاملہ اٹھا یا گیا نادیدہ قوتوں کے ایماء پر ان کوششوں پر پانی پھیر دیا گیا ۔ مقتدرہ قومی زبان کے سابق چیئرمین اور معروف دانش ور ایف ایم ملک کہتے ہیں: ’’2005ء میں جب میں نے اعجاز رحیم سیکرٹری کابینہ ڈویژن کی وساطت اور پرجو ش حمایت کے ساتھ سرکاری اور دفتری دائروں میں اردو زبان کے نفاذ کے لئے سفارشات پیش کی تھیں تو اسی وقت مجھ پر یہ بات عیاں ہوگئی تھی کہ ابھی حقیقی آزادی کی منزل ہم سے بہت دور ہے ‘‘۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کی قائم کردہ وزارتی کمیٹی بڑی خوشدلی کے ساتھ اردو کی ترویج پر مثبت انداز میں پیش رفت پر آمادہ ہوگئی تھی مگر ا س وزارتی کمیٹی کے ابھی صرف دو اجلاس ہی ہوئے تھے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او)جار ی ہو گیا اور یہ معاملہ لٹکا دیا گیا ۔

کس قدر ستم ظریفی ہے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے مگر پھر بھی آج یہ بحث جاری ہے کہ اردو قومی زبان ہونی چاہیے یا نہیں…..؟کیسا ظلم ہے کہ بیگانے اردو کی اہمیت کو تسلیم کر چکے ہیں مگر ہم خواہ مخواہ احساس کمتری کے مرض میں جکڑے ہوئے ہیں اور انگریزی کے سحر میں مبتلا ہو کر اردو سے سوتیلوں جیسا سلوک کر ر ہے ہیں۔ وطن عزیز میں نوے فیصد سے زائد اخبارات و جرائد صرف اس لئے کامیاب ہیں کہ وہ اردو میں ہیں جبکہ کئی ٹی وی چینلز اس لئے ناکام ہو ئے کہ انہوں نے اپنی نشریات انگریزی میں شروع کر دی تھیں اوربعد میں ان انگریزی چینلز کو اردومیں منتقل کر نا پڑا‘پاکستان کے کسی کونے میں چلے جائیں اردو ہر جگہ سمجھی اور بولی جا رہی ہے ۔اردو زبان کی وسعت و صلاحیت دیکھئے کہ غیر بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے گواہی دینے پر مجبور ہیں ۔ 1917ء میں جب عثمانیہ یونیورسٹی میں تمام مضامین اردو میں پڑھانے کا سوچا جانے لگا تو اس غرض کے لیے تعلیمی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سارے ماہرین ہندوستانی اور صرف ایک گورا (انگریز) تھا، اس کے علاوہ سب نے‘ ہمارے آج کل کے بلکہ پوری تاریخ پاکستان کے ارباب حل و عقد کی طرح‘ اردو کو رواج دینے کے راستے میں مشکلات کا تذکرہ شروع کردیا۔ بات کافی لمبی ہوگئی تو انگریز نے زور سے میز پرمُکّے مارتے ہوئے کہا:’’تم کیا فضول بحث شروع کیے بیٹھے ہو ،جب دو سو سال پہلے برطانیہ میں انگریزی کو لاطینی کی جگہ بطور قومی ذریعہ تعلیم اختیار کئے جانے کی بات ہوئی توبالکل ایسے ہی دلائل دیئے گئے تھے‘چھوڑو اس فضول بحث کو اور اردو میں تراجم کا کام شروع کردو ‘‘۔ اس پر کمیٹی میں سناٹا چھا گیا اور ارکان بغلیں جھانکنے لگے۔کاش! اس گورے کی بات ہی مان کر اردو کو یوں اپنے وطن سے بے دخل نہ کیا جائے ، آج ہماری حکومتیں بھی عثمانیہ یونیورسٹی کی تعلیمی کمیٹی کے مقام پر کھڑی ہیں۔ درحقیقت اردو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کا سبب کچھ اور ہے ۔
لارڈ چیمس فورڈ ،وائسرائے ہندکی انگریزی ذریعہ تعلیم کے حوالے سے 1917ء میں دی گئی رائے بھی عقل و دانش کے دریچے کھولنے میں بہت مدد گارثابت ہوسکتی ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا:’’مقامی طالب علم نوکریوں کی غرض سے ایک مشکل اور غیر ملکی زبان کو طوطے کی طرح رٹ تو لیتے ہیں لیکن حاصل شدہ علوم پر انہیں بہت کم عبور حاصل ہوتاہے، یہ تعلیم نہیں بلکہ تعلیم کامنہ چڑاناہے‘‘ ۔واضح رہے کہ لارڈ صاحب نے یہ بات ماہرین تعلیم کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی تھی ۔ 1935ء میں عثمانیہ یونیورسٹی کی میڈیکل جنرل کونسل نے اردو ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی صلاحیت کا جائزہ لیا تو رپورٹ دی :’’اگر میڈیکل کی تعلیم انگلستان ، فرانس ، جرمنی اور ہالینڈ و دیگر اپنی اپنی زبانوں میں دے سکتے ہیں تو بلاشبہ یہ اُردو میں بھی ممکن ہے جیساکہ اس یونیورسٹی کے فارغ التحصیل میڈیکل گریجویٹ ثابت کرچکے ہیں‘‘ ۔جان مولٹ سیکرٹری کونسل آف ایجوکیشن نے جب دہلی کالج کا معائنہ کیا تو تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا ’’یہاں جو اردو میں تعلیم دی جاتی ہے اس کا معیار قابل تعریف ہے‘‘۔روس میں بہت پہلے روسی اردو لغت تیار کی جاچکی تھی جسے اے پی ۔بارانی کوف نے تالیف کیا اور اس کے بعد کئی تصانیف مکمل کی گئیں جن میں سے ایک میں انیسویں صدی کے اردو شعراء کے کلام کا جائزہ لیاگیاتھا۔
اسی طرح غیروں کی گواہی کی تازہ جھلک ملاحظہ ہو : واشنگٹن پوسٹ نے 24اپریل 2015ء کی اشاعت میں لکھا’’اردو دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے جبکہ دوسرے نمبر پر چینی اور تیسرے نمبر پر انگریزی زبان ہے ‘رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں اردو زبان بولی اور سمجھی جارہی ہے ۔ ایک سال قبل جنوری 2014ء میں سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک کو اردوزبان میں متعارف کروایا گیاتھا، اس موقع پر فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھرمیں اردو زبان بولنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے کہ جس کے پیش نظر سوشل ویب سائٹ کو اردو زبان میں بھی ترتیب دیناہماری مجبور ی ہے ۔

صاحبو ! اردو کی وسعت واہمیت کو غیر بھی تسلیم کر چکے ہیں مگر ہماری کسی بھی فوجی یاسول حکومت کو توفیق نہیں ہو ئی کہ اسے دفتری زبان قرار دیا جا ئے ‘سرکاری سطح پر تو قومی زبان کے ساتھ نہایت ظلم کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں مایوسی مسلسل بڑھ رہی ہے تاہم یہ بھی غنیمت ہے کہ اس عظیم مقصد کے لئے وقتاً فوقتاً آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اورکچھ لوگ اپنے حصے کا دیا ضرور جلا رہے ہیں ان احباب میں لاہور کے ڈاکٹر محمد شریف نظامی ‘پروفیسر رضوان الحق اور ان کے ساتھیوں کی جدو جہد لائق تحسین ہے ۔نظامی صاحب گو بزرگ شخصیت ہیں مگر ان کا عزم جواں ہے اور ان کی قومی زبان تحریک اردو مشن کو قومی فریضہ سمجھ کر آگے بڑھا رہی ہے ۔ اسی طرح کراچی میں تحریک نفاذِ اردو کے ڈاکٹر مبین اختر، حکیم سید مجاہد محمود برکاتی کا بھی اللہ بھلا کرے کہ وہ اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں ‘ان تمام حضرات کی کوشش یہی ہے کہ قومی زبان کے نفاذ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ علاوہ ازیں ملک کے طول و عرض میں لاتعداد ایسے دوست ہیں جو اس مقصد کے لئے جدو جہد جاری رکھے ہوئے ۔ اللہ کرے ان کی یہ کوششیں جلد رنگ لائیں اور اردو کو اس کا اصل مقام و مرتبہ مل سکے ۔ آمین۔

Citation
Ubdulsattar Awan, “ا ردو زبان کانفاذ :ڈاکٹر شریف نظامی کے احباب کی جدو جہد,” in Daily Nai Baat, June 18, 2015. Accessed on June 19, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7-%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%A7%D8%B0-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7

Disclaimer
The item above written by Ubdulsattar Awan and published in Daily Nai Baat on June 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 19, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ubdulsattar Awan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s