ماہِ صیام‘ غزالی ٹرسٹ اور انور مسعود

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

برکتوں‘ رحمتوں اور انعاموں سے بھرا ماہِ رمضان آپ کو مبارک ہو۔ وہ شخص خوش قسمت ہے کہ جس نے ماہ صیام پایا اور پھر اپنی بخشش کا سامان کیا۔ اس روز کی اس سے زیادہ کیا اہمیت اور فضیلت ہو سکتی ہے کہ خود خدا نے وعدہ فرمایا کہ اس کی جزا خود خدا ہے۔ اللہ کو روزہ دار کے منہ میں پیدا ہونے والی بو کستوری سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ روزہ صرف یہ نہیں کہ وقت مقررہ میں آپ کچھ بھی کھانے پینے سے پرہیز کریں بلکہ یہ تو ایک علامت ہے‘ ایک اشارہ اور ایک استعارہ ہے۔ اصل مقصد تو ہر برائی سے رکنا اور تمام قبیح معاملات سے احتراز ہے وگرنہ اللہ کو اور کچھ مطلوب نہیں اور اللہ ہر معاملے سے بے نیاز ہے۔ کچھ اونچ نیچ بھی ہوجائے اور غصہ بھی آجائے‘ تب بھی روزہ دار کہہ دے کہ ”میں روز سے ہوں “ اور خاموش ہو جائے۔ اِس عمل میں قرینہ‘ سلیقہ اور خوبصورتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ روزہ چلتا پھرتا اعتکاف ہے۔ آپ اسے ”قول سعد“ سمجھیں۔

اِس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اس ماہ مقدس میں شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں مگر لوگ اس کے ہاتھوں میں اتنے ٹرینڈ ہو چکے ہوتے ہیں کہ وہ خود کار انداز میں انہی خطوط پر کام کرتے ہیں جو ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہوتی ہے۔ اس لئے خود کو راہ راست پر لانے کےلئے ہمیں خود کو اپنے کالر سے پکڑنا پڑتا ہے۔ قرآن پاک اور تراویح کا اہتمام اور خیرات و صدقات و زکوٰة اور دوسرے صالح اعمال کی طرف بالخصوص توجہ دینا پڑتی ہے تو یہ انتیس یا تیس روزے انتہائی قیمتی بن جاتے ہیں۔ میں نے انتیس اور تیس کی بات کی مگر حکومتوں اور لوگوں کی بھی کوشش یا خواہش ہوتی ہے کہ روزے انتیس ہوں‘ کیونکہ انتیس روزوں کے بعد سر پرائز عید ہوتی ہے۔ ہمارے بعض دوست تو ایک روزہ رکھ کر ہی گننا شروع کر دیتے ہیں کہ باقی صرف اٹھائیس رہ گئے۔ کیا کریں یہ انسانی نہیں تو ہماری جبلت ہے کہ ہم مشقت سے بھاگتے ہیں۔ مگر کوئی سمجھے اور غور کرے کہ اس کی اجرت تو رضائے الٰہی اور قرب الٰہی ہے تو پھر یہ بھوک اور پیاس ایک جذبہ بن کر آپ کو نہال کر دے گی۔ ہماری اکثریت رمضان شریف میں اہل حدیث مسلک اختیار کر لیتی ہے کہ8تراویح پڑھنی ہے اور وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ8تراویح میں قرآن سواپارہ ہی پڑھتے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان ہی اس خود فریبی کا شکار ہوتے ہیں۔

چونکہ ہماری عبادات اور دوسرے خیراتی کاموں کا اجر بھی اس ماہ میں بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح کے اللہ پاک تو اپنے بندے کو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ نہ جانے وہ اپنے بندے کی بندگی پر اس کی کس ادا سے خوش ہو جائے‘ اس لئے ہر عمل ایسے کرنا چاہئے کہ وہ ذات ہمیں دیکھ رہی ہے اور انسان کی نیت اور وہم و گمان‘ سب سے آگاہ ہے۔ اسے تو صرف خلوص پسند ہے۔روزہ رکھ کر سوئے رہنا یا ٹھنڈی ٹھنڈی جگہیں تلاش کرکے استراحت کرنا اور اپنے معمولات چھوڑ دینا تو کوئی بات نہ ہوئی۔ اپنے فرائض منصبی آپ ضرور ادا کریں۔ بعض شوقین حضرات تو روزہ گزارنے کے لئے استغفراللہ سینما میں جا بیٹھے ہیں روزہ گزر جائے گا۔ روز ہ واقعی گزر ہی جاتا ہے جیسے کوئی جہاں سے گزرتا ہے۔ روزہ تو ایک ریفریشر کورس ہے اس میں جماعت سے نماز کی پابندی کی جائے‘باقاعدگی سے قرآن پاک پڑھا جائے اور اسے باقاعدہ ترجمے کے ساتھ پڑھا جائے۔ ناظرہ بھی ثواب ہے اوریاد کرنے کا اجرا ور مقام بھی بہت بلند مگر اسے اچھی طرح سمجھنا اور اس کے پیغام کا ادراک کرنا اصل مقصد و غایت ہے۔ حافظ اور عالم میں بھی اگر عام انداز میں فرق دیکھنا ہو تو وہی فرق ہے جو کمپوڈر اور ڈاکٹر میں ہے۔ اگر ترجمے کے ساتھ باقاعدہ تفسیر پڑھ کر بین السطور علم کے موتی تلاش کئے جائیں تو یہ سپیشلائزیشن ہے۔

ماہ رمضان کی مناسبت سے میں چاہتا ہوں کہ ایک ایسے ادارے کا ذکر کردوں جو آپ کی زکوٰة‘ صدقات اور عطیات کا حقدار ہے۔ پچھلے دنوں میں الخدمت فاﺅنڈیشن کے حوالے سے ایک پر وقار تقریب دیکھ کر لکھ چکا ہوں۔ کئی ادارے اور بھی ہیں جن میں حافظ محمد سعید صاحب کا فلاح انسانیت اور ڈاکٹر امجد ثاقب کا اخوت میرے دل میں ان سب کے لئے بہت احترام اور محبت ہے۔ اب کے جس ادارے کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ سید عامر محمود کا غزالی ٹرسٹ ہے جو اب تک622سکول بنا چکا ہے جن کی اکثریت پسماندہ علاقوں میںہے۔ ان اداروں میں70ہزار بچے پڑھ رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ وہ ذہنی طور پر معذور یا سلو پکنگ بچوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ اُن کا کام میرے لئے حیرت ناک ہے۔

انہوں نے17جون کی شام ملک کے نامور شاعر انور مسعود کے نام کی تھی اور یہ غزالی ٹرسٹ کے بچوں کے لئے تھی۔ ہمیں ایک مووی بھی دکھائی گئی جس میں پسماندہ علاقوں کے بچے پورے جذبے اور اعتماد سے اپنے آپ کو غزالین کہہ رہے تھے۔ انور مسعود سے تو میری بہت پرانی تعلق داری ہے وہ یہ کہ میں ان کا مداح ہوں۔ ہم ناروے بھی اکٹھے گئے تھے۔ اب کے انہیں غزالی ٹرسٹ نے اپنا چہرہ مہرہ بنا لیا ہے ایسے ہی چلئے منو بھائی کو سندس اور امجد اسلام امجد کو الخدمت جیسے خیراتی ادارے نے اپنا مونو بنا لیا ہے۔ یہی صورت رہی تو ایک دن ہم بھی کسی خیراتی ادارے کے ہاتھ آجائیں گے۔ یہ کام دوآتشہ بھی ہے خیرات سے مجھے اظہار شاہین یاد آگئے:

میں نے آج اس قدر سخاوت
آخری شخص لے گیا مجھ کو

غزالی ٹرسٹ کے اس پروگرام میں نور الہدیٰ مجھے گھسیٹ لایا۔ وہ جس کے پیچھے پڑ جائے وہ جان نہیں چھڑا سکتا۔ میں غزالی ٹرسٹ کی مہمات کے حوالے سے پہلے ہی جانتا ہوں اور لکھ بھی چکا ہوں مگر وہاں جانے سے ایک نئی بات پتہ چلی کہ حکومت پنجاب نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں مظفر گڑھ کے علاقے میں سکول کھولنے کے لئے کہا۔ سید عامر محمود نے اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں دو ماہ میں کئی سکول کھول کر6000بچوں کو لا بٹھایا۔ اب کتب کا اور فرنیچر کا بندوبست بھی ہو رہا ہے۔ مجھے کیا حکومت کو خود بھی یقین ہے کہ حکومت خود یہ کام نہیں کر سکتی کہ وہ اپنے ملازمین کو جانتی ہے۔ ویسے بھی یہ کام جذبے اور مشن سے ہوتا ہے۔ سید وقاص الرحمن بھی خوب تگ و دو کر رہے ہیں۔ اور خاص طور پر اسی کے چیئرمین ڈاکٹر وسیم اختر تو ماشاءاللہ صاحب دل اور راسخ مسلمان ہیں۔ انہوں نے بہت اچھی باتیں کیں۔

انور مسعود کو سٹیج پر دعوت دینے کے لئے معروف کمپیئر ‘ کالم نگار اور صحافی نجم ولی خان کو ذمہ داری سونپی گئی۔ ظاہر ہے وہ جانتا ہے کہ بات کیسے کی جاتی ہے اور حالات کے حساب سے لوگوں کو کیسے انگیج رکھنا ہے۔ انور مسعود نے خوب رنگ جمایا۔ پہلی مرتبہ دیکھا کہ لوگ کھانا بھول گئے اور ہال میں قہقہے گونجتے رہے۔ مشاعروں میں بھی جب وہ آتے ہیں تو پھر کسی کا چراغ نہیں جلتا‘ ایک قطعہ جو انہوں نے تازہ کہا تھا:

موٹے شیشوں کی ناک پر عینک
کان میں آلہ¿ سماعت ہے
منہ میں مصنوعی ایک بتیسی
چوتھے مصرعے کی کیا ضرورت ہے

لوگوں نے دل کھول کر غزالی ٹرسٹ کے لئے چندہ دیا۔ کئی نامور لوگ بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی کی تنزیلہ عمران خاں کو یہاں بھی دیکھا تو لگا جیسے وہ پی ٹی آئی کی رفاہی مشیر ہیں۔ بہرحال یہ تقریب کمال کی تھی۔
ایک بات کا بطور خاص میں ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ وہاں انور مسعود کی اہلیہ صدیقہ بھی آئی ہوئی تھیں۔ وہ غزالی ٹرسٹ کی سر پرست ہیں انہوں نے30یتیم بچے ایڈاپٹ کئے ہیں۔ ان سے گفتگو ہوئی تو پتا چلا کہ وہ ماشاءاللہ قرآن کا بہت فہم رکھتی ہیں اور عورتیں ان سے گھر پر پڑھنے آتی ہیں۔ ویسے بھی انہوں نے ساری عمر فارسی پڑھائی۔ وہاں ہمارا پیارا کالم نگار گل نو خیز اختر بھی تھا‘ جناب ارشاد احمد عارف اور اسرار بخاری بھی تھے۔ آخر میں انور مسعودکے نعتیہ دو مصرعوں پر کالم کو ختم کرتے ہیں۔

حریف راہ میں کانٹے بکھیرنے آئے
اور اس نے اُن پہ دعاﺅں کے پھول برسائے

اکاﺅنٹ نمبر غزالی ٹرسٹ 0007-0081-047153-01-4
Bank Al-Habeeb Ltd New Garden Town Branch Lahore

Citation
Saadullah Shah, “ماہِ صیام‘ غزالی ٹرسٹ اور انور مسعود,” in Daily Nai Baat, June 18, 2015. Accessed on June 18, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%85%D8%A7%DB%81%D9%90-%D8%B5%DB%8C%D8%A7%D9%85-%D8%BA%D8%B2%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D9%B9%D8%B1%D8%B3%D9%B9-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on June 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 18, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s