غافر شہزاد۔۔۔ صورت گر کچھ افسانوں کا

Follow Shabnaama via email
جمیل احمد عدیل

ڈاکٹر غافر شہزاد اپنے تعلیمی پس منظر کے اعتبار سے ہندسے کی معنویت کو مرکزہ قرار دینے پر پابند تھے لیکن انہوں نے شوقِ مشقِ سخن کی خاطر قلبِ ماہیت قبول کرلی اور اپنا پسندیدہ عدد ’لفظ‘ متعین کرلیا۔ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر غافر شہزاد کی مطبوعات کا معتدبہ اثاثہ عماریاتی موضوعات سے مربوط ہے کہ وہ بائی پروفیشن میرِ تعمیر ہیں لیکن ان کا خالص ادبی سرمایہ بھی فروتر نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کی اولین پہچان افسانہ نگار ہونا ہے۔ کہانی کی ہم سفری میں انہوں نے تین دہائیاں بِتا دی ہیں۔ وہ ہماشما نہیں ایک دانشور افسانہ نویس ہیں۔ مطالعے کی وسعت، مشاہدے کی دراکی اور زبان و بیان پر عبور تو ممکن ہے ان کے بعض معاصرین بھی رکھتے ہوں گے مگر غافر صاحب کا حیران کن امتیاز یہ ہے کہ انہیں تقلیب کے جوہر پر کمال حاصل ہے۔ آخر کوئی تو سبب ہوگا کہ کم و بیش ہر کہانی کا منظر نامہ اک نئی صورت میں تشکیل پانے کی جستجو میں بے قرار ہے۔ وہ شہر کی علامت میں پورا جہاں از سر نو تعمیر کرنے کے متمنی ہیں۔ درحقیقت وہ فطرتاً صورت گر ہیں۔ کائناتی سطح پر تو وہ کسی بڑے تغیر کے طالب نہیں البتہ سماجی سٹیٹس کو انہیں اذیت پہنچاتا ہے۔ انہیں شدید قلق ہے کہ فراعین سدا سے معاشروں کو God Free Zone بنانے کے درپے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاں یہ شدت تخلیقیت کی نفی کرکے نعرہ نہیں بنتی۔ افسانہ نگار تبدیلی کے شعور کو غیر محسوس انداز میں قاری کے شعور میں منتقل کردیتا ہے، بلکہ وہ تو اس درجہ زیرک ہے کہ اس نے اکثر افسانوں کے کردار بے نام رہنے دیے ہیں تاکہ ریڈر کو زیادہ سے زیادہ سپیس مہیا کی جاسکے۔

طنز کے پھل میں از خود تیز ہونے کی فطری استعداد ہوتی ہے، اسے کند کرنا قابلیت ہے، غافر شہزاد کے مجموعے ’’چوتھی ریاست‘‘ کی کہانیوں میں مذکورہ محنت بھی اپنے حصے کی تحسین ضرور وصول کرے گی۔ کئی مقامات ایسے آئے ہیں جب قلم کار کچھ کرداروں کو چھیل کے رکھ سکتا تھا۔ لیکن اس نے جملوں کو کاٹ دار بنانے کی بجائے واقعاتی بہاؤ سے اپنے آپ تاثر کو نوکیلے پن کے ساتھ ابھرنے دیا ہے۔ یہی دانش ایک افسانے کو ڈرامے سے ممیز کرتی ہے۔۔۔ افسانہ نگاری کا Pure Passion ہی ڈاکٹر غافر شہزاد کا Basic Potential ہے۔ انہیں کہیں بھی مواد کو کہانی کے قالب میں ڈھالنے کے لئے Aquired Technic نہیں اپنانی پڑی۔ ان کے ہاں کہانی کی اپنی روانی ہے۔ کرداروں کی بھیڑ انہیں قطعاً مرغوب نہیں۔ بعض کہانیوں میں تو سرے سے کوئی روایتی کردار ہی موجود نہیں۔ وہ بڑی ہنرمندی کے ساتھ اپنی کہانی کے Locale سے ہی معقول مقدار میں وہ اجزا برآمد کرلیتے ہیں جو شخصی کردار کے فقدان کی طرف دھیان جانے ہی نہیں دیتے۔

شہرِ ناتمام، آرام گاہ، گرین ہاؤس، گلاس وال، عذاب کا پہلا دن، آرٹ گیلری اور اس نوعیت کے دیگر افسانوں میں اگرچہ بیرونی ماحول کو Reshape کرنے پر افسانہ نگار نے خود کو مرکوز کیا ہے لیکن ان کے بین السطور بھی فرد کی داخلی دنیا کو ایک نئے سنسار میں منقلب ہونے پر آمادہ کیا ہے۔ کہانی گر کا شہرِ آرزو سنگ و خشت کی ساختیات تک ہی محدود نہیں ہے، بدن کا بت بھی اس کا مندر نہیں ہے۔ وہ من کے تاروں کو مضراب آشنا کرکے گوشت پوست کے جسم اور اینٹ پتھر کے ڈھانچے کی جانب آتا ہے۔

ٹائٹل سٹوری ’’چوتھی ریاست‘‘ اس مجموعے کی شاہکار کہانی ہے، جہاں ڈائریکٹ اپروچ جرأت پر شاہدِ ناطق ہے وہاں ٹریٹ منٹ ابتدا سے انتہا تک تخلیقیت کا پاسبان ہے۔ ’خواب اور خواہش کے درمیان‘ میں انسانی نفسیات کی مرموز تر تہوں تک تحیرزا رسائی موضوع بنی ہے۔ سائیکالوجی کی نصابی کتابیں پڑھ کر ایسا لطیف افسانہ نہیں لکھا جا سکتا۔ لمس اور ملمس کے بیچ ناتے کی لطافت افسانے کے Texture میں بڑی نزاکت سے ترازو ہوئی ہے۔ ’خوابوں کی گرہ میں پڑی لڑکی‘ کا مضمون عورت کا راز ہے۔ بتایا گیا ہے اس مخلوق کا بھیتر مکمل منکشف ہونے و الا نہیں۔ تاہم اس افسانے کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک مرد نے عورت کو اپنے آپے سے باہر نکل کر دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈاکٹر غافر شہزاد سچ مچ کے افسانہ نگار ہیں، ’’علامتی افسانہ نگار‘‘ نہیں، البتہ ان کے افسانوں میں سمبلزم کی جہتیں پوری مہارت سے اپنا اصطلاحی اور معنوی تناظر واضح کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن کہیں بھی قاری کو الجھیڑے میں نہیں ڈالا گیا کہ معما اور چیز ہے کثیر المعانی ہونا اور شے ہے۔ پھر بھی قارئین کا ایک طبقہ دو چار افسانوں کے حوالے سے تمام ابلاغ کی شکایت دل میں چھپائے بیٹھا ہو تو وہ بلاتامل ناولٹ ’’لوک شاہی‘‘ پڑھنا شروع کردے ہر شکوہ جاتا رہے گا۔ اسے اُردو فکشن کا سہلِ ممتنع کہا جاسکتا ہے۔ بے حد صراحت اور سہولت کے ساتھ لکھا جانے والا یہ ناولٹ ایک حساس موضوع کا، کامیابی سے احاطہ کرتا ہے۔ ایک طرح سے اسے ’’چوتھی ریاست‘‘، ’’تیسری آنکھ‘‘ اور ’’پوری بات ادھوری‘‘ کا تسلسل بھی کہا جاسکتا ہے بلکہ اسے Stolon کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ Stolon پودے کی وہ شاخ ہے جو جڑ سے نکلتی ہے ، علیحدہ جڑ پکڑتی ہے اور پھلتی پھولتی ہے۔

مذکورہ مجموعے کے افسانوں اور ناولٹ پر کہیں ’’صوبائی دارالحکومت‘‘ کے عنوان سے تو کہیں بلاواسطہ معنون یعنی The Lahore چھایا ہوا ہے۔ راقم دورانِ مطالعہ اس پہلو سے جائزہ لیتا رہا، کہیں غیرشعوری طور پر ایک نوع کی مقامیت توفروغ نہیں پا رہی؟ لیکن واقعہ یہ ہے ’’چوتھی ریاست‘‘ کے افسانے محض لاہور اور اس کی گلیوں بازاروں کے مرقعے نہیں ہے۔ بظاہر یہ سیدھے ٹیڑھے مقامات اور بظاہر یہ اچھے برے لوگ خاص زماں اور خاں زمیں کے اسیر ہیں مگر افسانہ نگار نے غیرمحسوس انداز میں انہیں دوام کے راستے پر گامزن کردیا ہے۔ اس طرف کی تائید کے لئے ڈاکٹر غافر شہزاد کا افسانہ ’’تکون‘‘ پڑھیے! اس میں چلنے والی ٹرین زیست کی ریل ہے، جس کے ایک ڈبے میں سوار تین کردار قرابت دار بھی ہیں اور رقابت دار بھی۔ ان میں آمیزش بھی ہے، آویزش بھی، کہیں مماثلت وجہ نزاع ہے تو کہیں عدم مشابہت موجبِ تسلی! تین نسلوں پر مشتمل تکون بجائے خود علامت ہے Continuity کی کہ تیر کبھی سیدھا نہ نکلے اگر کمان تکونی نہ ہو۔

Citation
Jamil Ahmad Adil, “غافر شہزاد۔۔۔ صورت گر کچھ افسانوں کا,” in Daily Nai Baat, June 18, 2015. Accessed on June 19, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%BA%D8%A7%D9%81%D8%B1-%D8%B4%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DA%AF%D8%B1-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%A7%D9%81%D8%B3%D8%A7%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7

Disclaimer
The item above written by Jamil Ahmad Adil and published in Daily Nai Baat on June 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 19, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Jamil Ahmad Adil:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s