حمید کاشمیری کی یاد میں

Follow Shabnaama via email
اسلم کھوکھر

اس زمانے کی بات ہے کہ جب الیکٹرانک میڈیا کی یلغار سے وطن عزیز بچا ہوا تھا’ اکلوتا اور واحد ٹیلی ویژن دیکھنے کے لئے بے تاب ہوا کرتے تھے۔ یہ اس ٹیلی ویژن کا کمال ہے کہ ”اندھیرا اجالا” ڈرامے کا وقت ہوتا تو پورے بھارت میں لوگ دکانیں بند کرنا بھول جاتے اور پھر ”اندھیرا اجالا” کی طرح کا ڈرامہ ”پت جھڑکے بعد” جب پاکستان ٹیلی ویژن پر دکھایا جارہا تھا تو اس کی شہرت پاکستان کی حدود سے نکلتی ہوئی پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اس ڈرامے کو دیکھنے کے لئے جرمنی کے شہر میونخ میں ایک بین الاقوامی ڈرامہ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا کے 62ممالک کے ڈرامے پیش کئے گئے حمید کاشمیری کے لکھے ہوئے ”پت جھڑکے بعد” کو جب بین الاقوامی اور سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا تو ایک شخص نے ججز کی کمیٹی کو کہا کہ یہ انعام میں جیتا ہوں’ وہ شخص پاکستان میں جرمنی کے سفارت خانے میں کافی عرصہ رہا اور اس نے اردو لکھنا اور پڑھنا سیکھ لی تھی۔ اس نے یہ ڈرامہ پاکستان میں ہوتے ہی دیکھ لیا تھا اور اس ڈرامے کا اس قدر مداح بن گیا کہ اس نے جرمن ادب کے بہت بڑے لکھاریوں سے شرط لگا لی اور یوں جرمن حکومت نے ڈرامہ فیسٹیول کا انعقاد کیا اور یہ ایوارڈ حمید کاشمیری نہیں پاکستان نے جیتا۔ اس وقت حمید کاشمیری حیات تھے اور انہوں نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے یہی الفاظ کہے تھے۔ اور ڈرامہ نگاری میں بلکہ ڈراموں کی تاریخ میں حمید کاشمیری کا نام آغا حشر کاشمیری کے بعد ضرور لیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک ہزار سے زائد ڈرامے لکھے اور کوئی ڈرامہ ایسا نہیں تھا کہ جو اپنے سماج کلچر اور روایت سے ہٹ کر لکھا گیا ہو۔ اس کے ڈراموں کے کردار جیتے جاگتے تھے۔

حمید کاشمیری یکم جون 1930ء کو بانسرہ گلی کشمیری محلہ (مری) میں پیدا ہوئے ۔ ادیب فاضل کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں کراچی میں عملی زندگی کا آغاز کیا مری جیسی مروم خیز سرزمین پر جنم لینے والی شخصیت بالآخر 6جولائی 2009ء کو زندگی کے موضوعات پر ڈرامے لکھنے والا ڈرامہ نگار خود”موت کی وادی”عنوان بن گیا۔ ہزاروں ڈراموں اور افسانوں کا خالق خود افسانوی کردار کی طرح زندگی گزار کر کراچی میں مٹی اوڑھ کر سو گیا۔ ان کے دوست حبیب جلیس ایک بار ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ انہوں نے آج حکومت سندھ کی طرف ملنے والے پلاٹوں کی فہرست دیکھی ہے اور جنہوں نے سرکاری الاٹ شدہ پلاٹ پر مکان تعمیر کررکھے ہیں ان کے نام بھی دیکھے اور جنہوں نے بیچ ڈالے ان کے نام دیکھے’ حمید کاشمیری بولے کہ اس کے علاوہ بھی فہرست دیکھی ہے؟ حبیب جلیس بولے کہ سینکڑوں ادیبوں’ شاعروں اور کالم نگاروں میں سے صرف دو نام ایسے تھے کہ جنہوں نے پلاٹ ملنے کے باوجود انکار کر دیا تھا یہ صرف دو اشخاص تھے ایک حمید کاشمیری اور دوسرا حبیب جالب آج کے دور میں پلاٹ اور پرمٹ کے لئے لکھنے والے خواہ وہ ادیب ہوں’ شاعر ہوں ‘ ڈرامہ نگار ہوں’ کالم نگار ہوں’ ادب و ثقافت سے وابستہ ہوں مگر حمید کاشمیری ایک فقیر منش درویش تھا کہ اس نے کرائے کے فلیٹ میں ہی ساری زندگی گزار دی۔ ساری زندگی فلیٹ چھوڑ کر دوسرے فلیٹ میں رہائش اختیار کرنا تو درکنار جھانک کر بھی نہیں دیکھا۔ مجھے ان کی ضلع کوہسار کی مٹی کی وابستگی کا احساس اور علم اس وقت ہوا کہ جب ان کے زیراہتمام احمد بشیر احمد کی یاد میں ایک پروگرام جناح ہال مری میں رکھا گیا اور اس میں کراچی سے بڑے بڑے فنکار اور ادیب و شاعر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لئے آئے۔

حمید کاشمیری کو زندگی میں سینکڑوں ایوارڈ ملے اور کئی اعزازات سے نوازا گیا مگر جب ان کی تدفین کے لئے قبر کھو دی گئی تو کراچی کے ایک قبرستان کے گورکن نے انہیں جو اعزاز دیا وہ سب سے بڑا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ حمید کاشمیری نے اپنے دادا کے پہلو میں یہ جگہ اپنی قبر کے لئے مختص کروا رکھی تھی اور بلاناغہ ادھر آکر اس جگہ پر بیٹھ کر رویا کرتے تھے اور ان کا رونا اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اس روز آسمان بھی جی بھر کر رویا کہ ان کا جنازہ ایک اونچی سڑک پر پڑھایا گیا اور طوفان بادو باراں کے باوجود ان کے جنازے میں ہزاروں شریک تھے اور کوئی آنکھ ایسی نہ تھی کہ جو اشک بار نہ ہو۔ جس قدر حمید کاشمیری کو شہرت اور عزت نصیب ہوئی یہ انہی کے حصے میں آئی مگر ان جیسا دوبارہ نہ تو کوئی حمید کاشمیری پیدا ہوگا اور نہ ہی اس قدر فقیر اور درویش مشہور آدمی ہوگا آج کے دور میں لوگ شہرت کو کیش کروانے کے لئے ماڈل ایان علی کی طرح ماڈلنگ اور ”ڈرامہ” کرتے پھرتے ہیں۔ وہ پرائے لوگوں کے کرائے کے حواری بن کر ان کی تحریریں ان کے نام پر لکھ کر ہر ماہ کروڑوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں۔ کوئی تخلیق اور تحریر اولاد کی طرح ہوتی ہے آج کے دور میں لوگ اپنی تخلیق اور تحریر بیچنے سے باز نہیں آتے مگر مجال ہے کہ حمید کاشمیری نے کبھی معاوضہ طے کیا ہو یا کسی حکمران یا دوسرے لوگوںکی اولادوں کو کالم یا ڈرامہ لکھ کر دیا ہو۔ زندگی کو کہانی کا موضوع بنائے رکھنے والا آج ہم سے اتنا ہی دور ہے کہ جتنے اس کے ڈرامے ہماری یاد کے آبگینوں میں سجے ہوئے ہیں۔ یہ مشہور آدمی اپنے ڈراموں کی وجہ سے تھا مگر شہرت’ دولت کی ہوس’ زر پرستی’ مفاد پرستی سے اتنا ہی دور تھا کہ جتنے کہ لوگ آج انہی چیزوں پر مرتے ہیں فرق یہ ہے کہ حمید کاشمیری ابدی زندگی پا گیا مگر یہ لوگ زندہ بھی رہیں تو مرداروں سے بدتر ہوتے ہیں۔

Citation
Aslam Khokar, “حمید کاشمیری کی یاد میں,” in Daily Ausaf, June 18, 2015. Accessed on June 18, 2015, at: http://www.dailyausaf.com/story/39860

Disclaimer
The item above written by Aslam Khokar and published in Daily Ausaf on June 18, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 18, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Aslam Khokar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s