سہہ ماہی فنون یا ادبی تحریک

Follow Shabnaama via email
اشرف جاوید

بہت دنوں سے فنون کا تازہ شمارہ میرے سرھانے پڑا ہے، میں اسے دیکھتا ہوں اور ندیم صاحب کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے طلوع ہو جاتا ہے اور میں کہیں کا کہیں نکل جاتا ہوں، ندیم صاحب اپنے میکلوڈ روڈ والے دفتر میں بیٹھے ہیں، جہاں دوستوں کا ایک جمگھٹا لگا ہوا ہے، پھر مزنگ والے دفتر کا منظر بھی آنکھوں میں گھوم جاتا ہے اور کبھی کبھی سیکرٹریٹ کی بغلی گلی میں ندیم صاحب کو فنون کے دفتر میں بیٹھے پاتا ہوں، مجلس ترقی ادب کا اپنا حوالہ ہے، جہاں دوستوں کی قطار لگی رہتی تھی۔ ایک فنون کے ساتھ کتنی یادیں وابستہ ہیں، کہ انہیں شمار کرنے بیٹھوں تو بہت سا وقت درکار ہے، انسان کا جانا ایک ابدی حقیقت ہے، لیکن بعض باتوں کے مسلمہ ہونے کے باوجود انہیں تسلیم کرنے میں یا ان کا یقین آنے میں وقت لگ جاتا ہے، شاید ندیم صاحب کے سلسلے میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

ندیم صاحب کی وفات کے ساتھ ہی فنون کی اشاعت کچھ دیر کے لئے رک گئی، ممکن ہے اس کا بھی کچھ سبب ہو، لیکن یار لوگوں نے ندیم صاحب کے ساتھ ساتھ فنون کی کمی کو بھی پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا اور کرنا بھی چاہئے تھا، کیوں کہ ندیم اور فنون ایک ہی سکے کے دو رخ تھے، ایک ہی منزل کے دو راستے تھے اور اس طرح لازم و ملزوم تھے کہ ایک کے بغیر دوسرے کا حوالہ مکمل نہیں ہوتا تھا۔ خیر! حالات نے کروٹ لی اور ان کی بیٹی ڈاکٹر ناہید قاسمی نے فنون کے اجرا کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے فنون کی ادارت کی ذمہ داری خود سنبھالی اور اپنے جواں سال اور بہ صلاحیت بیٹے، نیرّ حیات کو اپنے اس ادبی سفر میں شریک کار کیا۔ فنون میں پرانے لکھنے والوں کا نہ صرف سراغ لگایا بلکہ انہیں پھر سے آمادہ کار بھی کیا۔ نئے مگر بہ صلاحیت لکھنے والوں کی بھی ایک معقول تعداد کو فنون میں لکھنے کے لئے متحرک کیا۔ یہاں مجھے ایک بات یاد آ رہی ہے جو نہایت اہم اور بے حد ضروری ہے، وہ یہ کہ ندیم صاحب نے اپنی زندگی میں کوئی چار نسلوں کی ادبی لحاظ سے آبیاری کی ہے، پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ پوری ادبی دنیا میں، جو بڑے بڑے اور معروف نام نظر آ رہے ہیں سب کسی نہ کسی حوالے سے فنون کے ممنون ہیں۔ ندیم صاحب نے نہ صرف انہیں اپنے اس ادبی جریدے میں نمایاں جگہ دی، بلکہ ان کی فنی اور شخصی زندگی کے بارے میں نہایت وقیع مضامین بھی شائع کئے۔ ایک اور اہم بات کہ وہ فنون میں شائع ہونے والا ایک ایک مضمون اور ایک ایک غزل، نظم، نعت اور حمد کی پروف خوانی خود کرتے تھے اور اگر کہیں کوئی تبدیلی ناگزیر ہوتی تو لکھنے والے کو خود فون کرتے یا اسے خط لکھتے اور اپنی رائے سے آگاہ کرتے، وہ فنون میں لکھنے والے ہر شخص کے خط کا جواب دینا اپنا اولین فرض سمجھتے تھے، نئے لکھنے والوں کی اس قدر حوصلہ افزائی کرتے کہ ان کا سیروں خون بڑھ جاتا۔ اب اسی ادبی جریدے فنون کی ادارت ان کی بیٹی کے سپرد ہوئی، تو کچھ لوگوں نے باقاعدہ اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ نہایت سگھڑ اور گھریلو خاتون ہے، اس طرح کے کاموں میں اپنی ذمہ داری کہاں تک نبھا پائے گی، پھر انہی لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ فنون کا پہلا شمارہ، پہلا ان معنوں میں کہ ندیم صاحب کی وفات کے بعد پہلا شمارہ، شائع ہوا تو لوگ انگشت بدنداں تھے، پھر دوسرا شمارہ پھر تیسرا اور چوتھا شمارہ اور اب شمارہ نمبر 136 میرے سامنے ہے، اور میں اس کے اوراق اور اس کی ترتیب و تزئین میں باپ بیٹی کے لمس اور فکر اور حسن آرائش کی خوشبو چاروں اور پھیلتی دیکھ رہا ہوں۔ منیر حیات نے حرف ثانی اور بین السطور لکھنے کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے اور وہ اپنے فرض کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نبھا رہا ہے۔ ہر بار کسی اہم ادبی مسئلہ پر قلم اٹھاتا ہے اور قارئین کا دامن دل کھینچ لیتا ہے۔

فنون یقیناً دنیا میں شائع ہونے والے ادبی جریدی میں اول حیثیت رکھتا ہے اور ادبی انسائیکلو پیڈیا نظر آتا ہے۔ ادبی برادری کو ہر تین ماہ بعد اس کا انتظار لگ جاتا ہے لیکن حسب روایت یہ اپنی آمد میں اپنی مرضی کا مالک ہے، جب آنا چاہتا ہے آ جاتا ہے اور جب انتظار کروانا چاہتا ہے تو اس سے بھی اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا تھا اور ندیم صاحب کی زندگی میں کہا تھا۔

خوبی عجیب دیکھی ہے ہم نے فنون میں
چھپتا ہے جنوری میں، نکلتا ہے جون میں

خیر! ڈاکٹر ناہید قاسمی نے اسے ہر حوالے سے سنبھال لیا ہے نئے لکھنے والوں کی ایک معقول تعداد ہر شمارے میں شامل ہوتی ہے لگتا ہے ندیم صاحب کا کردار بھی ناہید آپا نے ورثے میں پا لیا ہے۔

زیرنظر شمارے کو چار متوازن حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، حمد اور نعت کا حصہ تعداد کے لحاظ سے اگرچہ زیادہ طویل نہیں ہے، لیکن معیار اور عقیدت اور حْب رسول سے ہر مصرع سرشار نظر آتا ہے۔ پھر احوال وطن کے عنوان کے تحت شعرا کی نگارشات بھی شامل ہیں، جو تازہ ترین صورت حال کا پتا دیتی ہیں۔ سانحہ پشاور کے حوالے سے بھی کئی ایک نظمیں شامل اشاعت ہیں، جن سے قومی درد چھلکتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ پھر مضامین کا ایک بھرپور حصہ ہے جس میں رفتگاں اور موجودگاں کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ملتی ہے، علامہ طالب جوہری، سعادت حسن منٹو، عظمت آدم اور اقبال اور ترقی پسند شعری روایت جیسے اہم موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ ڈاکٹر اسلم انصاری اور ڈاکٹر طاہر تونسوی کے حوالے سے بھی کارآمد مضامین شامل اشاعت ہیں۔ نظم لکھنے والوں کی بھی ایک خاص تعداد نظر پڑی ہے، جن میں سینئر شعرا سے لے کر نئے لکھنے والوں تک کی نظمیں شامل ہیں۔ احمد ندیم قاسمی، گلزار، امجد اسلام امجد، جلیل عالی، نصیر احمد ناصر، عنبرین صلاح الدین اور منیر حیات قاسمی کی نظمیں توجہ کے لائق ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب نظم لکھنے والے اس بات پر بہ ضد تھے کہ غزل کا زمانہ بیت گیا ہے اور اب اس صنف سخن کے دن گنے جا چکے ہیں۔ آئندہ وہی شاعر زندہ رہے گا جو نظم لکھے گا، کیوں کہ غزل صرف گانے کے لئے اور حظ اٹھانے کے لئے ہے، لیکن یہ بات کہنے والوں نے بھی دیکھی کہ غزل اپنے دامن میں وہ سارا کچھ سمیٹنے لگی جو حالات کی جھولی میں پڑا تھا، غزل وہ صنف سخن ہے جو ابد سے ہے اور ازل تک رہے گی، پھر اس نے زندگی کے ساتھ ایسا تعلق جوڑا کہ اسے میر، غالب، داغ اور اقبال جیسے شاعر نصیب ہوئے اور پھر تھوڑا اور آگے جائیں تو اس صف میں ہمیں فیض، ندیم، فراز، منیر اور شہزاد احمد بھی دکھائی دیتے ہیں پھر تکسیب جلالی، عدیم ہاشمی، عبید اللہ علیم اور جمال احسان کے نام بھی ستارہ وار چمکتے دکھائی پڑتے ہیں۔ غزل اگر زندگی کے اظہار کا وسیلہ نہ بن پاتی تو یقیناً اس کے لہجے میں لکنت در آتی، لیکن اس صنف خداداد نے اپنے دامن کو اس قدر وسعت آشنا کیا کہ زندگی کے تمام نشیب و فراز اس کے لہجے میں اتر آئے، حالات کی نرمی گرمی، سیاست کا زور شور، محبت کا جوش جذبہ، فکر کی توانائی اور اظہار کی سچائی نے غزل کو ابدیت کی حدوں سے جوڑ دیا، اس کا اندازہ زیرنظر شمارے میں شائع ہونے والی غزلوں سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ہم جس غزل کو جدید عہد کی نمائندہ قرار دے سکتے ہیں وہ غزل اس شمارے میں شامل ہے۔ حلیم قریشی ہو، روحی کنجاہی ہو، شاہ نواز زیدی ہو، خالد اقبال یاسر ہو، امجد اسلام امجد ہو، نثار ترابی ہو یا طارق شفیق ہو، رستم نامی ہو یا پھر اذلان شاہ ہو غزلوں کی بلکہ جدید لب و لہجے کی نمائندہ غزلوں کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے۔

یہ سارا کچھ اسی لئے ممکن ہوا کہ فنون آج بھی ادب کی ترویج اور فروغ کے لئے اسی طرح کام کر رہا ہے، جس طرح ندیم صاحب کی زندگی میں جاری و ساری تھا، فنون تو ایک ادبی تحریک بن چکا ہے، پہلے اس کے میر کارواں احمد ندیم قاسمی تھے اور اب ان کی روحانی رہنمائی میں ڈاکٹر ناہید قاسمی اور نیرّ حیات ہم سب لکھنے والوں کو ایک قافلے کی صورت میں لئے ہر قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ نفیسہ حیات اور افضال احمد کا جوقلم اور تعاون اس تحریک میں جان ڈالتا نظر آتا ہے۔

آخر میں دو شعر قارئین کی نذرہیں۔
بے جا تکلفات کی عادت نہیں رہی
کچھ اور ٹوٹ جاتا ہوں میں دیکھ بھال سے
مہر مکالمات سے پگھلے گی برف بھی
موسم کہاں بدلتا ہے جنگ و جدال سے

Citation
Ashraf Javed, ” سہہ ماہی فنون یا ادبی تحریک,” in Nawaiwaqt, June 17, 2015. Accessed on June 17, 2015, at: http://www.nawaiwaqt.com.pk/opinions/17-Jun-2015/393367

Disclaimer
The item above written by Ashraf Javed and published in Nawaiwaqt on June 17, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 17, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ashraf Javed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s