کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی فلاسفی سوسائٹی

Follow Shabnaama via email
واصف ناگی

میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سوائے بیماریوں! مختلف نئی بیماریوں پر نئی ریسرچ، لیکچرز، ورکشاپ، سمپوزیم مریضوں اور ڈاکٹروں کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوتی۔ ویسے ہمیں پچھلے چالیس برس میں کبھی بھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ میڈیکل کی تعلیم دینے والے اداروں میں آرٹ کلچرل، آرکیٹکچر، فن، کلام اقبال، اسپورٹس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے جسمانی پوسچر ، مسلز اور مختلف جسمانی اینگلز پر کوئی بات کی گئی ہو۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ملک میں میڈیکل کی تعلیم و تربیت کا پہلا ادارہ ہے جہاں پر صرف میڈیکل کی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ طلباء اور اساتذہ کو اُن کی شخصیت بنانے کے ساتھ ایسا علم دیا جاتا ہے جس سے اُن کی شخصیت میں ایک حسن اور نکھار پیدا ہوتا ہے۔

جن اداروں کے سربراہ محنتی، ایماندار اور اپنے کام کے ساتھ مخلص ہوں۔ وہ ادارے ہمیشہ ترقی کرتے ہیں اور اُن اداروں میں ہمیشہ اچھی روایات جنم لیتی ہیں اور پھر یہ روایات ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔ انگریزوں نے یقیناً ہمارے ہاں بہترین تعلیمی ادارے بنائے اور کئی لوگوں نے اُن کا تعمیراتی حسن تباہ و برباد کر دیا، مگر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (یونیورسٹی) کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے ناصرف اِس تاریخی ادارے کے حسن کو برقرار رکھا بلکہ انگریزوں نے جس انداز سے اس میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) کو رکھا ہوا تھا، اُس سے کہیں زیادہ اِس کے حسن کو دوبالا کر رہے ہیں۔ بات کہاں سے کہاں چلی گئی سو اِس مرتبہ ہمیں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) کی فلاسفی سوسائٹی کے انتہائی پُرمغز اور معلوماتی اجلاس میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ فلاسفی سوسائٹی مہینے میں ایک بار اجلاس بلاتی ہے، اس کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ کے ای ایم یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر فیصل مسعود جنہیں ہم آج تک صرف ملک کے نامور فزیشن کے طور پر ہی جانتے تھے، وہ جس خوبصورت انداز میں فارسی اور عربی کے اشعار اور کلامِ اقبالؒ کی تشریح کرتے ہیں، وہ ہمارے لئے بڑی حیران کن تھی اور کھانوں کی ایسی ایسی ریسیپی بناتے اور کھلاتے ہیں کہ کوئی تعریف کئے بغیر رہ نہیں سکتا۔

اس مرتبہ انہوں نے یونان، مصر، شام اور ایران کے فن تعمیر کے حوالے سے جو باتیں کیں، اس سے لگتا تھا کہ وہ ناصرف تاریخ دان ہیں بلکہ ماہر تعمیرات اور یونان کی ان تاریخی عمارات کو بنانے والے ہیں کھیلوں میں جس انداز میں کھلاڑی ایک خاص پوسچر بناتے ہیں، اس کے بھی ماہر ہیں۔ اس موقعے پر بڑے سینئر بیوروکریٹ چوہدری اختر سعید جو کہ وزیر تعلیم بھی رہے اور لاہور امپرومنٹ ٹرسٹ کے پہلے سیکرٹری بھی رہے وہ بھی علم و ادب کے حوالے سے ایسی مفید باتیں بتاتے ہیں کہ انسان سوچتا ہے کہ کیا کوئی بیوروکریٹ بھی واقعی علم و ادب سے اتنا لگائو رکھتا ہے۔

ڈاکٹر فیصل مسعود نے یہ بات بالکل سچ کہی کہ ’’اگر آپ کا اندر صاف ہے تو چہرے پر آ جاتا ہے، آپ کا اندر آپ کے چہرے کا عکاس ہوتا ہے۔‘‘ چہرہ بالکل سو فیصد بولتا ہے، جس انسان کا دماغ اور جسم خوبصورت ہوتا ہے اس کی سوچ بھی خوبصورت ہوتی ہے۔ یونان کے بارے میں اتنی فلسفیانہ گفتگو سن کر حیرت ہوئی کہ ایک میڈیکل پروفیشن سے تعلق رکھے والا، ہر وقت مریضوں کے درمیان اور انتظامی امور میں گھرا رہنے والا شخص اتنی اچھی فلسفہ کی باتیں بھی کر سکتا ہے۔؟

کاش دیگر میڈیکل کالجوں کے اساتذہ، پرنسپل بھی اسی قسم کی محفلوں کا اہتمام کریں۔ ہمارے ہاں صرف یہ رہ گیا ہے کہ صرف کتابی علم دیا جائے۔ طالب علم اور استاد کی شخصیت کو گروم نہ کیا جائے۔

ہمیں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) کے تاریخی خوبصورت ہال میں بیٹھے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم جیسے یونان کے کسی قدیم میوزیم یا لائبریری میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک شخص ملٹی میڈیا پر یونان کے بارے میں تفصیلی لیکچرز دے رہا ہے۔ پرسکون ماحول جس میں پتہ بھی گرے تو آواز آئے۔
کس طرح یونان میں اسکلپچر مجسمہ سازی نے جنم لیا کیوں مجسمہ سازی میں انسان کی ساخت کو ہمیشہ طاقتور دکھایا گیا اگر آپ تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ دنیا میں ایک خاص زمانے میں نامور مجسمہ ساز، ماہر ٹیچر، آرٹسٹ ، فنکار، موسیقی کار گلوکار، فن تعمیر کے ماہر پیدا ہوتے چلے گئے اب ایسا زمانہ آیا ہے کہ آپ کو فنون لطیفہ کے ماہر اور اس کو سمجھنے والے لوگ ہی نہیں ملتے یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آج تک اتنا معلوماتی پروگرام پہلے کبھی نہیںدیکھا اور سنا تھا گوتم بدھ نے کہا تھا کہ دکھوں کی جڑ، توقعات اور خواہشات ہوتی ہیں سچ میں آج انسان زندگی میں جن خواہشات کے پیچھے بھاگ رہا ہے وہ صرف اس کو دکھ اور تکلیف دیتی ہیں ہم آج تعلیمی اداروں سے مکینیکل لوگ پیدا کر رہے ہیں جو صرف زندگی کا مقصد پیسہ کمانا چاہتے ہیں ان کے اندر آرٹ، فنون لطیفہ نام کی کوئی حس باقی نہیں رہی آرٹ انسان کے اندر نرمی، پیار، محبت ،انسانوں کے ساتھ اچھے روابط، تعلقات بنانے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔

آج ہمارے مریض ڈاکٹروں سے گلہ کرتے ہیں کہ وہ بے حس اور مردہ دل ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج انہیں کوئی اس بات کی تربیت نہیں دیتا کہ پروفیشن کے علاوہ انسان کے اندر ایک حس، جذبات، اور دل بھی ہوتا ہے جو امریکن سوچ نے ختم کر دیئے ۔ اگر اس قسم کے لیکچرز ہر میڈیکل کالج میں شروع ہو جائیں تو یقیناً بہتر ڈاکٹرز پیدا ہوں گے۔یونانی فن تعمیر اور انگریزوں کی تیار کردہ عمارات کے اندر ایک عجیب طرح کا متاثر کن تعمیراتی حسن ہے جو ہمارے ہاں آج کسی فن تعمیر میں نہیں ملتا یونان میں آپ بے شمار جگہوں پر جا کر وہاں کے فن تعمیر اور تعمیراتی فن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔بقول رضی اختر شوق؎

مجھ کو پانا ہے تو پھر مجھ میں اتر کر دیکھو
یوں کنارے سے سمندر نہیں دیکھا جاتا

تعلیمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ ایسے ٹیچرز، سمپوزیم اور محفلیں سجائیں جہاں پر فلسفیانہ باتیں ہوں۔ اب تو تعلیمی اداروں کے شعبہ فلاسفی بھی بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں۔ یونان میں جو خاص قسم کی محفلیں سجائی جاتی تھیں ان میں صرف شراب نہیں پی جاتی تھی بلکہ فلسفیانہ بحث اور مباحثے ہوتے تھے ہمارے ہاں ایسی محفلیں صرف عیاشی کے لئے ہوتی ہیں۔ایک وقت آئے گا ایسے لوگ جو انسانوں کے دماغ کو روشن رکھنے اور ان کے اندر عالمانہ ، فلسفیانہ سوچ پیدا کرتے ہیں ختم ہو جائیں گے کیونکہ ہمارے ملک میں علم وادب کی قدر نہیں ہوتی ۔تعلیمی ادارے وہ لوگ پیدا کر رہے ہیں جو جذبات اور احساسات سے عاری ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اچھی روایات کو ختم کر دیا ہے بلکہ یہ اچھی روایات کے قاتل ہیں اور وہ تعلیمی ادارے جو یہ تربیت نہیں کر رہے انہوں نے معاشرے کے توازن میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔

کاش کتابی علم کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں اس قسم کے لیکچرز، سمپوزیم اور خصوصی پروگرام ہوں۔

آج کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (اب یونیورسٹی) کو اس کے اصل تعمیراتی حسن کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے جو واقعی بہت مشکل کام ہے مگر ڈاکٹر فیصل مسعود نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اس تاریخی ادارے کی ہر روایت کو زندہ کریں گے۔ کاش باقی تعلیمی اداروں اور میڈیکل کالجوں کے سربراہ بھی ایسا کریں۔گورنمنٹ کالج لاہور کے نامور پرنسپل ڈاکٹر نذیر احمد کہا کرتے تھے کہ گورنمنٹ کالج کا اسٹوڈنٹس جب سڑک پر چلے تو لوگ خود کہیں کہ یہ اسٹوڈنٹس جی سی کا ہے۔

پیار اک پھول ہے اس پھول کی خوشبو تم ہو
میرا چہرہ میری آنکھیں میرے گیسو تم ہو

Citation
Wasif Nagi, “دکھوں کی جڑتوقعات اور خواہشات ہوتی ہیں,” in Jang, June 16, 2015. Accessed on June 16, 2015, at: https://feedly.com/i/subscription/feed/http://beta.jang.com.pk/akb_category/jang-columns/feed/

Disclaimer
The item above written by Wasif Nagi and published in Jang on June 16, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 16, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Wasif Nagi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s