ناصر ادیب اور ”تاریخی جملے“

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

بہاﺅ کے مخالف تیرنا بہت مشکل ہوتا ہے ایسے ہی جیسے آپ کسی محاورے کے مخالف چل کر کامیاب ہو جائیں۔یہ ہرگز آسان نہیں ہوتا ۔ جب میں غالب کی زمین میں غزل کہہ رہا تھا تو ایک مصرع سرزد ہوا کہ ”اُس نے کہا کہ زندگی پھولوں کی سیج کس طرح “! جواب روئے سخن نے سمجھایا”میں نے کہا کہ اے حسیں پھول سے لب ہلا کہ یوں“ ایک محفل میں میں شریک تھا کہ ناصر ادیب محوِ گفتگو تھے اور فلم مولا جٹ زیر بحث تھی اور خاص طور پر اس کے لاجواب اور شاہکار ڈائیلاگ ۔ ناصر ا دیب نے کہا کہ ایک جگہ وہ محاورہ لکھ کر پھنس گئے کہ مصطفی قریشی جو فلم میں نوری نت تھا سلطان راہی جو کہ مولا تھا کہتا ہے”جیہڑے گج دے نئیں او وسّدے نئیں“ یعنی جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ اب مشکل آن پڑی کہ اس پتھر پہ لکیر جیسے محاورے کا جواب کیا ہو۔ناصر ادیب نے اپنے اسسٹنٹ سے کہا کہ وہ اس ڈائیلاگ کو بار بار دہرائے اور وہ خود اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے بے چینی سے ٹہلنے لگے۔ ایک مقام آیا جب ناصر ادیب نے جواب پا لیا اور وہ گویا ہوئے”جے میں وسیا تے نک نک ڈُب جائیں گا“ میں برسا تو تم ناک تک ڈوب جاﺅ گے۔

ڈائیلاگ لکھنے میں ناصر ادیب کو ید طونی حاصل ہے
یہ قدرت کی عطا ہے ایسے ہی جیسے کسی پر شعر اترتا ہے۔ شاید آپ کے لئے یہ بات معلومات کا درجہ رکھتی ہو کہ موصوف ، معروف سیاستدان اور سوشل فگر آمنہ الفت کے میاں ہیں۔ دوسری بات میرے لئے بھی حیرت کن تھی کہ وہ باقاعدہ یونیورسٹی آف دی پنجاب میں فلم کے حوالے سے لیکچر دیتے رہے ہیں اور اچھے خاصے پڑھے لکھے ہیں وگرنہ فلم سے متعلقہ شخص کے لئے کوئی پڑھی لکھی خوش گمانی ذہن میں نہیں آتی۔فلم کے لئے لکھنے والے اچھے خاصے شاعر کو بھی کچھ اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ایک اور خوشگوار حیرت مجھے یہ ہوئی کہ وہ پانچ وقت کے نمازی ہیں یعنی نماز قائم کئے ہوئے ہیں۔ ایک زمانے میں وہ ناول بھی لکھتے رہے ہیں ۔ اب کے تو انہوں نے مجھے پریشان ہی کردیا کہ ایک کتاب”تاریخی جملے“ نہایت محبت بھرے جملوں کے ساتھ عنایت فرمائی۔ وہ کتاب پڑھ کر مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگا کہ یہ جٹ سا آدمی تاریخ، مذہب، سیاست اور ثقافت کا کتنا گہرا شعور رکھتا ہے۔ اس کتاب کے اوپر لکھا ہوا ہے”ایسے تاریخی جملے، جنہوں نے ہر عہد کے انسان کو متاثر کیا“۔ کسی بھی کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ آپ اسے پکڑیں تو پھر ختم کئے بغیر نہ چھوڑیں۔ میں نے تو اس لئے اسے وقفے وقفے سے چھوڑ دیا کہ اگر میں نے اسے ختم کردیا تو پھر کروں گا کیا؟ ناصر ادیب کا انداز، ناصر ا دیب کا ہی انداز ہے۔

انہوں نے یہ کتاب اپنے بیوی بچوں کے نام کی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ ”اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قیامت کے روز وہ میرا گریبان نہیں پکڑ سکیں گے کہ میں نے انہیں دین و دنیا کی تعلیم نہیں دی“۔ واقعی یہ کتاب اصل میں زندگی گزارنے کا درس ہے۔ اس کی دلچسپی اس میں پھیلے ہوئے تاریخی واقعات ہیں۔ تاریخ بنانے والے عظیم لوگوں کی باتیں ہیں اور معاشرے میں سود مند بننے کے طریقے ہیں۔ یہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ کتابوں پر کالم نہیں لکھے جاتے اور میں کالم لکھ رہا ہوں۔
اُن میں عہد موجود کا گہرا ادارک ہے اور مغربی سازشوں اور مسلمانوں کی غفلت سے بھی وہ کما حقہ واقف ہیں۔ انہوں نے کوئی Sweeping statementنہیں دی بلکہ جو بات کی وہ دلیل اور تاریخی پس منظر میں رکھ کر کی ہے۔ انہوں نے صرف جملے ہی نہیں لکھے بلکہ ان کی تفہیم بھی دی ہے مثلاًکچھ ایسی باتیں بھی جو سمجھتے سب ہیں مگر الفاظ نہیں ملتے۔ انہوں نے کسی کا بتایا ہوا ایک تاریخی جملہ لکھا ہے”ہر مارکسسٹ…. کمیونسٹ ہوتا ہے مگر ہر کمیونسٹ مارکسسٹ نہیں ہوتا“ اس جملے کو سامنے رکھ کر یہودیوں نے عالم اسلام کو برباد کرنے کے لئے درج ذیل جملہ لکھا”ہر دہشت گرد مسلمان ہے…. مگر ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا“ اس شاطرانہ جملے نے پوری دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ اس جملے نے تمام مسلمانوں کو عالمی اور غیر اسلامی طاقتوں کے سامنے مجرم بنا کر رکھ دیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جن مسلمانوں کو مارنا ہوتا انہیں دہشت گرد قرار دیا جاتا اور جن کو ساتھ ملا کر اتحادی بنایا جاتا ان کے لئے جملے کا دوسرا حصہ استعمال ہوتا” ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا“ ناصر ادیب نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے1997ءکی نگار ایوارڈ تقریب میں ایک جملہ کہا تھا”ایک وقت تھا جب اس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی مگر آج اس ملک کو ایک قوم کی تلاش ہے“ انہوں نے کہا کہ انہیں اس جملے کی طاقت کا علم تب ہوا جب بعد ازاں انہوں نے یہ جملہ کئی فورمز سے سنا۔
میرا بس چلے تو میں ناصر ادیب کی پوری کتاب ہی کوٹ کر دوں۔ انہوں نے اُن موتیوں کو جمع کر کے جو مالا پروئی ہے اس میں انہیں23سال لگے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آپ کہیں بھی یکسانیت نہیں دیکھیں گے بلکہ مختلف النوع قسم کی معلومات اور واقعات بغیر کسی ترتیب کے آتے جاتے ہیں اور آپ متعجب ہو کر انہیں پڑھتے جاتے ہیں۔ کئی ایسے واقعات بھی ہیں جو ان کی زبان سے بیان ہوئے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ سیف صاحب نے ٹھیک کہا تھا ”سیف انداز ِبیاں رنگ بدل دیتا ہے“ میرا خیال ہے کہ وہ اگر تاریخی ناول لکھتے تو نسیم حجازی سے کم مشہور نہ ہوتے۔ زیادہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ انہیں مختلف علوم سے بھی اچھی خاصی آگاہی ہے۔سب کچھ ہوتے ہوئے ان کے اندر ایک راسخ مسلمان ہے جو یقین رکھتا ہے کہ ” سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف“ ان کی خوش گمانی کی حد یہ ہے کہ انہوں نے مولانا طاہر القادری کا بھی شکریہ ادا کیا ہے کہ ”جن کی کتب نے مجھے دنیا سے دور اور دین سے قریب کردیا“۔

اب میں یہ گستاخی تو نہیں کر سکتا کہ شوخی میں یہ کہہ دوں ڈاکٹر صاحب اپنی کتب کے نتیجے میں لکھی جانے والی یہ کتاب”تاریخی جملے“ بھی پڑھ لیں۔ ویسے اس کتاب میں علامہ صاحب کا کہا ہوا کوئی جملہ نہیں ہے۔ ایک مرتبہ علامہ صاحب نے اپنے بریف کیس کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا”اس میں پاکستان کی ترقی کا راز ہے“ بعد ازاں شاید وہ بریف کیس گم ہو گیا۔ بریف کیس کی سیاست تو نواز شریف نے بھی کی اور انہیں اس میں چھپا راز راس آ گیا۔

میرا خیال ہے کہ ہر سیاستدان اور بیورو کریٹ کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے کہ اس میں ان کے لئے سبق بھی ہے اور عبرت بھی۔ وقت واقعی ایک سا نہیں رہتا۔ اللہ نے خود کہہ دیا”مجھے زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اچھے کام کئے اور صبر کیا“ میں ایک بات بتاتا جاﺅں یہاں صبر سے مراد صرف برداشت نہیں بلکہ اللہ کی مشیت کا انتظار ہے۔ وہ وہی کچھ دیتا ہے جو مانگنے والے کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ مانگنے والے کو نہیں معلوم کہ اس کے لئے کیا بہتر ہے۔

ایک دلچسپ واقعہ مجھے اچانک یاد آ گیا کہ ایک بھری محفل میں ناصر ادیب تقریر کر رہے تھے ،انہوں نے کہا کہ یہاں ایک نوجوان شاعر بھی بیٹھا ہے جس کے ایک شعر پر میں فلم بنا رہا ہوں۔ وہ شعر پوری فلم میں ساتھ ساتھ چلے گا ۔جب انہوں نے شعر پڑھا تو میں حیران رہ گیا وہ شعر میرا تھا۔ مگر مجھے خوشی یہ ہوئی کہ انہوں نے مجھے نوجوان کہا۔ تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ آمنہ الفت کے میاں ہیں۔ آمنہ الفت تو تعلیم کے میدان میں ہمارے لئے اسمبلی میں اور جلوسوں میں تقریریں کرتی رہی تھیں اوران سے ادب کا بھی ایک تعلق تھا۔ اگر آپ کو تجسس ہو تو میرا شعر پڑھ لیں جو ناصر صاحب نے فلم میں استعمال کیا ہے:

اے مرے دوست ذرا دیکھ میں ہارا تو نہیں
مرا سر بھی تو پڑا ہے مری دستار کے ساتھ

بات کدھر سے کدھر نکل گئی۔ میں آپ سے یہی گزارش کر سکتا ہوں کہ آپ پہلی فرصت میں ناصر صاحب کی کتاب ”تاریخی جملے“ پڑھیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس سے آپ اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کریں گے۔ آپ کو تحریر کی طاقت کا اندازہ ہو گا۔ آپ خود کو مشاہیر کے دور میں موجود محسوس کریں گے۔ اسی کو تحریر کہتے ہیں کہ لفظوں میں منظر پیدا کر دیا جائے اور آپ اپنے سامنے کرداروں کو متحرک دیکھ سکیں۔سردست یہ بھی بتا دوں کہ میرے بجٹ کے حوالے سے لکھے گئے کالم کے ایک مختصر سے جملے پر کافی ردعمل آیا ۔ جملہ تھا ” میٹرو بس اور بس“۔ خیر چھوڑئیے۔آخر میں ناصر ادیب کے لئے غالب کا ایک شعر:

ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا

Citation
Saadullah Shah, “ناصر ادیب اور ”تاریخی جملے“,” in Daily Nai Baat, June 16, 2015. Accessed on June 17, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%B1-%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE%DB%8C-%D8%AC%D9%85%D9%84%DB%92-2

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on June 16, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 17, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s