پاکستان۔ میری محبت

Follow Shabnaama via email
ریاض احمد سید

کالم نگاری ایک مشکل فن ہے،اور دنیا بھر کی جامعات میں جہاں جہاں بھی صحافت پڑھائی جاتی ہے، کالم نگاری کیلئے ہر کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی،اور اس شعبہ میں آنے کے خواہشمندوں کو بطور خاص کھنگالا جاتا ہے،بہت برس ہوئے راقم نے ایک امریکی یونیورسٹی سے صحافت میںکوئی ڈپلومہ قسم کی چیز حاصل کرنے کی کوشش تھی۔ ہفتے میں دو گھنٹے کی صرف ایک کلاس ہوتی تھی۔ سرکاری مصروفیات میں سے جس کیلئے وقت نکالنا کچھ مشکل تھا۔ مگر شومئی قسمت کہ ہماری یہ معصوم سی خواہش بھی پوری نہ ہوسکی تھی۔ کیونکہ اس اسٹیشن سے کوچ کا پروانہ وقت سے پہلے آگیا تھا۔ مگر ایک فائدہ ضرور ہوا کہ دنیائے صحافت کے نامور اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذطے کرنے کا موقع میسر آگیا اور کچھ دلچسپ قسم کا لٹریچر بھی اکھٹا کرلیا۔ کالم نویسی کے حوالے سے ہونے والی خصوصی ورکشاپ میں مقامی اساتذہ کے علاوہ بھارت کے موقر انگریزی اخبار’’دی ہندو‘‘سے جڑے ایک سینئر صحافی نے بھی حصہ لیا تھا۔ انکی باتیں اس قدر دلچسپ اور عملی قسم کی تھیں کہ ذہن کے ساتھ گویا چپک سی گئیں۔ ان کے فرمودات کا خلاصہ یہ تھا کہ کالم نگاری ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ اس میں غیر معمولی محنت اور وسیع مطالعہ درکار ہوتا ہے اور ہمہ جہتی تجربہ اثاثہ کی حیثیت رکھتا ہے جس کے بغیر کوئی پر جوش کالم نگار میدان میں اتر توسکتا ہے مگر چند دنوں بعد اسے احساس ہونا شروع ہوجائیگا کہ اس کا اسلحہ خانہ تیزی سے خالی ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں اس کے پاس دوہی راستے ہوتے ہیں:فرار یا تکرار۔تکرار سے بڑھ کر کسی کالم نویس کیلئے کوئی طعنہ نہیں۔ چنانچہ فرار ہی ایک محفوظ راستہ رہ جاتا ہے۔ پتہ چلا کہ رپورٹنگ اور کالم نویسی دو بالکل ہی الگ دنیائیں ہیں رپورٹ مہمیز کا کام تو دے سکتی ہے۔ مگر کا کالم درجہ نہیں پاسکتی، خواہ کتنے ہی اعلیٰ پائے کی کیوں نہ ہو۔ نیز ادھر ادھر کی چند خبروں کو یکجا کرنے سے بھی کالم تشکیل نہیں پاتا۔ یہ علم بھی ہوا کہ کالم کو موضوعاتی ہونا چاہئے اور موضوعات ماورائی نہ ہوں بلکہ گردوپیش سے اٹھائے گئے ہوں۔ انہیں فلسفیانہ بھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ قاری بالخصوص دقیق قسم کی تحریروں سے پرہیز کرتے ہیں۔ کالم نگار کیلئے ضروری ہے کہ متعصب ہو اور نہ کسی سمت جھکائو رکھتا ہو،بلکہ تن کر سیدھا کھڑا ہونے کی صلاحیت سے مالا مال ہو اور لوگ اسکی استقامت کی مثال دیں۔ وہ آس کا پرچارک ہو اور سرنگ کی دوسری طرف روشنی دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اسے تجزیاتی مہارتوں سے مالا مال ہونا چاہئے۔ وہ بے دھڑک بخیے ضرور ادھیڑے، مگر سیلیکٹیو نہ ہو۔ مسائل کی نشاندہی ضرور کرے، مگر ان کے حل کیلئے تجاویز بھی اسکے بریف کا حصہ ہونا چاہئیں ۔ اچھا کالم نگار پر اعتماد ہوتا ہے اور دوٹوک بھی۔ ’’یہ بھی درست ہے اور وہ بھی غلط نہیں‘‘ والا بیانیہ اسے زیب نہیں دیتا ۔ وہ اتھارٹی کے ساتھ بات کرتا ہے مگر گھمنڈ اور تمکنت سے بچتا ہے۔ خود بینی،خود نمائی اور خودستائی جیسی بیماریوں سے بھی اپنے کو دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ضمن میں بھارتی صحافی نے جنوبی ایشیا میں فروغ پانے والے فاشسٹ رحجان کا بطور خاص ذکر کیا تھا۔ جہاں بعض صحافی خدائی لہجے میں بات کرتے ہیں۔ خود سب سے ارفع و افضل اور باقی سب کیڑے مکوڑے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ یہ سب اس لئے کر پارہے ہیں کہ حسن اتفاق سے انہیں ایک فورم میسر ہے۔ اساتذہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قلم برداشتہ لکھنا ایک خوبی ضرور ہے، مگر ایسی تحریریں وقتی اور عارضی ہوتی ہیں۔ بعض تو تخلیق کے دوران ہی دم توڑ جاتی ہیں یعنی کہ Still bornیا زیادہ سے زیادہ چند گھنٹوں کی مہمان ہوتی ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ کالم ذاتی ڈائری بھی نہیں ہوتا۔ آپ کے شب وروز آپ کیلئے اہم ہوسکتے ہیں،قاری کیلئے نہیں۔ غرض کالم خوبصورت زبان ومحاوروں میںگندھی وہ انوکھی تحریر ہوتی ہے جو اخبار کے صرف مخصوص دقیق صفحات پر پائی جاتی ہے۔ ایک ایسی دلچسپ اور معلومات افزا تحریر جو قاری کو ساتھ لیکر چلتی ہے جس کا بیانیہ اسکے ذہن اور ماحول کے قریب تر ہوتا ہے اور جسے پڑھ کر اسے توضیع اوقات کا احساس نہیں ہوتا۔ اچھا کالم نگار مناسب ہوم ورک ہی نہیں کرتا بلکہ تحقیق و تدقیق کی دنیا میں بھی جانکلتا ہے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اگر وہ کسی شعبے میں مہارت رکھتا ہے، اسپیشلسٹ اور اتھارٹی کے طور پر جانا جاتا ہے، تو یہ سونے پر سہاگہ ہے۔ اس کی تحریر میں جان بھی ہوگی، طویل العمر بھی ہوگی اور علمی دنیا میں خوبصورت اضافے کے طور پر لی جائے گی۔

اس پیمانے پر پرکھا جائے تو ہم عصر کالم نویسوں کی طویل فہرست میں ڈاکٹر صفدر محمود نامی ایک شخص ایسا ضرور ہے۔ جس نے ہماری طرح وقت ضائع نہیں کیا۔ زیر آسمان ہر موضوع پر طبع آزمائی نہیں کی، بلکہ ابتدا ہی سے ایک راہ متعین کرلی۔ اپنی جولانی طبع کیلئے ایک خاص شعبہ کو چن لیا اور وہ ہے پاکستان۔ جو ان کی پہلی اور آخری محبت ہے۔ وہ بانی پاکستان کے فدائی ہیں اور مصور پاکستان کے مرید۔ مجھے ڈاکٹر صاحب کی کتاب ’’پاکستان…میری محبت‘‘ بہت دن پہلے مل گئی تھی۔ مگر سمجھ نہیں پارہا تھا کہ 468صفحات پر مشتمل بڑی تقیطع کی اس لحیم و شہیم کتاب کا کیا کروں؟ شکریہ کا میسیج بھیج کر اسٹڈی میں سجالوں، اس کو پڑھوں، یا اس پر تبصرہ لکھوں۔ بیچ میں ایک معاملہ اور بھی آن پڑا کہ طبیعت ناساز ہوگئی۔ سات برس سے دل ناتواں میں محو استراحت چار عددسٹنٹ تنگ کررہے تھے۔ گرمی ہمیں راس نہیں آتی، شاید دھات کے بنے یہ مہین پرزے گرم ہوجاتے ہیں۔ سو علاج ہم نے اپنی صوابدید کے مطابق کیا۔ پنڈی میں اے ایف آئی سی کے پھیرے بھی لگتے رہے۔ اور ’’پاکستان…میری محبت‘‘ بھی اول تا آخر پڑھ لی۔ الحمداللہ تجربہ کامیاب رہا۔ قائد و اقبال کے صدقے اللہ رب العزت نے صحت بخش دی۔ اکثر مضامین میرے لئے اجنبی نہیں تھے۔ پہلے بھی نظر سے گزر چکے تھے۔ مگر دلچسپ اس قدر کہ یوں لگا کہ گویا پہلی بار پڑھ رہا ہوں۔ قائد پر لکھی کتابوں کی تو کمی نہیں۔ بہت سے لوگوں نے اس عظیم عالمی مدبر کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ ان میں ان کے رفقائے کار بھی ہیں، عملے کے لوگ بھی، جو ان کے ساتھ رہے۔ اور انہیں قریب سے دیکھا۔ بڑے ناموں والے اسکالرز بھی ہیں، جنہوں نے حد درجہ محنت ریاضت کے ساتھ تحقیقی کتب مرتب کیں۔ ان میں پاکستانی بھی ہیں اور غیرملکی بھی۔

ایک ادنیٰ قاری ہونے کے ناطے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ قائد پر لکھی جانے والی کتب میں ایک بھی ایسی نہیں جسے پرفیکٹ کہا جاسکے۔ فی الحقیقت ہمالہ جیسی اس بلند و بالا شخصیت کا ہمہ جہت مطالعہ کسی ایک شخص کے بس کا روگ نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنا اپنا سچ لے اڑا اور ایسے میں دروغ کا درآنا عین فطری تھا۔ سو مسئلہ یہ آن پڑا کہ حق سے باطل اور حقیقت سے فسانے کو کیونکر علیحدہ کیاجائے۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس دو راستے تھے، ایک تو یہ کہ قائداعظم پر خود کوئی کتاب لکھتے یا موجود کتب میں پائے جانے والے اغلاط و ابہام دور کرتے۔ آپ نے دوسرا آپشن اختیار کیا اور سرخرو ٹھہرے۔ اور ایک ایک کرکے قائد، ان کے رفقائے کار اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو جواب دیا۔ مثلاً یہ کہ تصور پاکستان اور نظریہ پاکستان لایعنی اصطلاحات ہیں، قائد پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا چاہتے تھے، قرارداد پاکستان کا مسودہ سر ظفراللہ نے لکھا، رتی ڈنشا نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، پاکستان کا ترانہ جگی ناتھ آزاد نے تخلیق کیا، قائد کی موت طبعی نہیں تھی، اردو کو واحد قومی زبان قرار دینا قائد کی غلطی تھی، وہ ممبئی میں مستقل رہائش رکھنا چاہتے تھے، پاکستان کیبنٹ مشن پلان کی ناکامی کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا، پھر کھوٹے سکوں اور ٹائپ رائٹر والی کہانیاں۔ غرض ’’پاکستان… میری محبت‘‘ میں ایک جہان معانی پوشیدہ ہے، مختصر سا کالم جس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بہتر ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجئے۔ کیونکہ ’دیدہ کے بود مانند شنیدہ‘‘ البتہ ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان کو اپنی پہلی محبت قرار دیتے ہیں، دوسری کا ذکر نہیں کیا۔ جبکہ قائداعظم کی دو محبتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی محبت رتی ڈنشا اور دوسری پاکستان، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

Citation
Riyaz Ahmad Syed, “پاکستان۔ میری محبت,” in Jang, June 16, 2015. Accessed on June 16, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%94-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D8%B3%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%81/

Disclaimer
The item above written by Riyaz Ahmad Syed and published in Jang on June 16, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 16, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Riyaz Ahmad Syed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s