سرکاری زبان اردو….رکاوٹ کیوں؟

Follow Shabnaama via email
سرورمنیر راﺅ

قیام پاکستان کے 67سال بعد بھی ہم اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دے سکے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یقینا پاکستان کی حکومتیں کہ جنہوں نے پاکستان کا نعرہ تو بہت لگایا لیکن پاکستانی عوام میں پاکستانیت پیدا کرنے کیلئے کبھی کوئی سنجیدہ کوششیں نہ کیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں پاکستانیوں کی قدر نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستانی قوم کی شناخت اور کردار سازی کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی تمام حکومتیں خواہ وہ جمہوری ہوں یا عسکری قومی مجرم قرار پائیں گی۔ان حکومتوں نے تعمیر وطن اور قومی کردار سازی کے عمل کو شاز ہی ترجیح دی ہو۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہماری حکومتیں اب تک اردو کو سرکاری حیثیت دینے کا قومی اور آئینی تقاضہ پورا نہ کر سکی ہیں۔ سلام ہے پاکستان کی سپریم کورٹ اور خصوصاً جسٹس جواد ایس خواجہ کو کہ انہوں نے اس آئینی کیس کی سماعت ترجیحاً کی ہے۔دنیا کے کل 249ممالک میں 189ممالک کی سرکاری زبانیںاپنی قومی زبانیں ہی ہیں۔یہ بات کس قدر حیران کن ہے کہ اسلامی دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جس کی سرکاری زبان قومی کی بجائے انگریزی ہے۔ یہ بات کس قدر افسوس ناک ہے کہ چھ دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ نہ دے سکے ہیں۔پاکستان چاروں صوبوں پر مشتمل ایک وفاق ہے ۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر چھ انتظامی یونٹ اس وفاق کا حصہ ہیں۔ ان سب کے عوام کے درمیان رابطے کی زبان اردو ہی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ؒنے اردو کو ملک کی قومی زبان قرار دیا۔قائداعظم نے کہا تھا کہ “میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہو گی۔ریاست کو یکجا اور اسکی سا لمیت کو مستحکم رکھنے کیلئے ایک ریاستی زبان کا ہونا بنیادی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور مقامی زبانوںکی ترویج سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کو اس حوالہ سے پیشرفت کیلئے 2جولائی تک مہلت دے دی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے ا گر کوئی سےاسی مصلحت ہے ؟ عدالت کو یہ بھی بتاےا جائے کہ عمل درآمد نہ کرنیوالے ذمہ دار لوگ کون ہیں؟عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب کسی ان پڑھ شخص کو انگریزی زبان میں کوئی عدالتی نوٹس جاتا ہے تو وکیل حضرات اس سے محض اسکا ترجمہ کرنے پر ہی 5سو سے5ہزار روپے لے لیتے ہیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بابا بلھے شاہ، لعل شہباز قلندر، خواجہ غلام فریدکے کلمات، فارسی، پنجابی اردو میں ہیں انگریزی میں نہیں، ہر قوم نے اپنے کلچر اور زبان کو محفوظ کےا ہے۔ اردو ایک جاذب زبان ہے اس میں دیگر زبانوں کے الفاظ آکر جذب ہوجاتے ہیں۔وفاقی سیکرٹری اطلاعات محمد اعظم نے عدالت کو بتایا کہ جیسے ہی بجٹ اجلاس ختم ہو گا سمری کابینہ کے سامنے پیش کر دی جائےگی، جس پر جسٹس جواد نے کہا کہ یہ آئینی تقاضہ ہے۔کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت کو آئینی تقاضہ پورا کرنے کیلئے بھی کسی سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔کیس کی مزید سماعت اب 2جولائی کو ہو گی۔ اس وقت پاکستا ن میں کروڑوں ا±ردو بولنے والے ایسے افراد ہیں۔جن کی مادری زبان اردو نہیں بلکہ وہ پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، کشمیری، براہوی اور چترالی ہے ۔ ان سب کو اردو بولنے میں اس لیے آسانی ہے کہ اردو زبان میں ان علاقائی زبانوں سے کئی الفاظ ضم ہو چکے ہیں۔اس طرح اردو اب پاکستان کی مشترکہ زبان ہے۔ پاکستان میں ا±ردو اخباروں کی ایک بڑی تعداد چھپتی ہے۔یہ زبان ملک کی سماجی و ثقافتی میراث کا خزانہ ہے۔اردو زبان اپنے پس منظر میں انتہائی دلچسپ تاریخ رکھتی ہے۔اردو کو سب سے پہلے مغل شہنشاہ اکبر کے زمانے میں متعارف کروایا گیا۔وجہ اس کی یہ تھی کہ اس وقت برِصغیرمیں 635 ریاستیں تھیں جن پر اکبر کی حکمرانی تھی۔ اتنے بڑے رقبے کی حفاظت کیلئے اسے مضبوط فوج کی ضرورت تھی اس لیے اس نے فوج میں نئے سپاہی داخل کرنے کا حکم دیا۔ان 635 ریاستوں کے لوگوں کی الگ الگ زبان تھی جس سے فوجی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا تھا۔اکبر نے نیا حکم جاری کیا کہ سب میں ایک نئی زبان متعارف کروائی جائے اور سب فوجیوں کو اردو کی تعلیم دی گئی ۔اس طرح سب فوجی ایک زبان بولنے لگے۔ اسی لیے اردو کو لشکری زبان کہا جاتا ہے۔اردو زبان کے پھیلاﺅ کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ دیگر زبانوں کے الفاظ اپنے اندر سمو لینے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔مغل شہنشاہوں کے زمانے میں شاہی لشکر یا لشکرگاہ کو ” اردوئے معلی “کہتے تھے،پھر جس بازار میں فوج کے سپاہی خرید و فروخت کیلئے جاتے تھے اسے اردو بازار کہا جانے لگا۔

مغلوں کے عہد میں یورپ کی بعض دوسری قومیں ہندوستان آئیں تو انگریزی کے ساتھ کچھ پرتگالی اور فرانسیسی الفاظ بھی اردو میں شامل ہوتے گئے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخبارات و رسائل کی وجہ سے اردوکو مزید ترقی ملی اور زبان میں نئے الفاظ اور محاورات و اصطلاحات کا اضافہ ہوتا گیا۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ چینی زبان بولی جاتی ہے اسکے بعد ہسپانوی پھر انگریزی کے بعد اردو/ہندی اور اسکے بعد عربی زبان آتی ہے۔ایک تحقیق کیمطابق اردو پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے۔ا±ردو اور ہندی میں ب±نیادی فرق یہ ہے کہ ا±ردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور اس میںعربی و فارسی الفاظ استعمال کئے جاتے ہیںجبکہ ہندی میں دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے ۔ہندی میں سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ہندی ، ا±ردو سے نکلی۔اسی طرح اگر اردو اور ہندی زبان کو ایک سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہےاردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینا ایک آئینی تقاضہ ہی نہیں بلکہ ہماری قومی شناخت اور پاکستانیت کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے۔سپریم کورٹ نے جس طرح اردو کو سرکاری زبان بنانے کے کیس میں حکومت پاکستان پر دباﺅبڑھایا ہے وہ ہر اعتبار سے پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہے۔

Citation
Sarwar Munir Rao, ” سرکاری زبان اردو….رکاوٹ کیوں؟ ,” in Nawaiwaqt, June 14, 2015. Accessed on June 14, 2015, at: http://nawaiwaqt.com.pk/mazamine/14-Jun-2015/392551

Disclaimer
The item above written by Sarwar Munir Rao and published in Nawaiwaqt on June 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Sarwar Munir Rao:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s