مجید امجد کی نظم نگاری

Follow Shabnaama via email

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

مجید امجد کی نظم نگاری کا آغاز عمومی اور رواجی انداز میں ہوا۔ یہ انداز تخلیق کار کو انتخاب کا موقع دیتا ہے نہ حق، محض قبولیت کا رویہ پروان چڑھاتا ہے۔ جو کچھ ارد گرد کی فضا میں اور جس ترجیحی اور اقداری ترتیب کے ساتھ موجود ہوتا ہے، اسے من و عن قبول کر لیا جاتا ہے۔ کوئی سوالیہ نشان نہ اس فضا پر لگایا جاتا اور کسی دوسری ممکنہ یا حقیقی طور موجود فضا کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور نہ اس فضا میں موجود اشیا کی ترجیحی و اقداری ترتیب کو بدلنے کی تڑپ دل میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ تڑپ پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی دوسری تربیت، پوری وضاحت کے ساتھ یا مبہم طور پر موجود ہو۔ عمومی اور رواجی انداز میں دستیاب فضا کو قایم رکھنے اور اس میں موجود اشیا و تصورات کی قدری ترتیب کو مستحکم کرنیے کا جذبہ فراواں ہوتا ہے۔ مجید امجد کی ابتدائی نظموں میں یہ فراواں جذبہ باآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ موجِ تبسم، اقبال، حسن، جوانی کی کہانی محبوب خدا سے، حالی اور بعض دیگر نظموں میں مجید امجد ۱۹۳۰ء کی دہائی کی عمومی فضا کے تابع نظر آتے ہیں۔

کسی بھی عہد کی عمومی فضا تہ در تہ ہوتی ہے ابتدا میں کسی تخلیق کار کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ ان سب تہوں سے آگاہ ہو سکے۔ ۱۹۳۰ء کی دہائی میں ایک طرف قومی آزادی کی تحریکیں جاری تھیں تو دوسری طرف اردو ادب میں انقلاب کی داعی، ترقی پسند تحریک کا غلغلہ بلند تھا اور اسی کے ساتھ اختر شیرانی کی رومانوی جوش کی انقلابی اور سب سے بڑھ کر اقبال کی ملّی شاعری نے فضا میں گرمی پیدا کی ہوئی تھی اور انھی کے پہلو بہ پہلو حسرت، اصغر، ظفر علی خان، حفیظ کی آوازیں تھیں تو فیض اور راشد اپنی نئی آوازوں کو شاملِ شور جہاں کرنے کی تگ و دو میں تھے۔ مجید امجد کی ابتدائی نظمیں اس فجائی جس تہ سے وابستگی کا مظاہرہ ہے، وہ ایک طرف قومی و ملی طرزِ احساس سے عبارت ہے تو دوسری طرف اردو کی کلاسیکی شعریات سے مرتب ہوئی ہے۔ اس وابستگی کو بھی مجید امجد کے انتخاب کے بجاے ان مواقع کا نتیجہ قرار دینا چاہیے جو انھیں فطرت اور زمانے نے دیے تھے۔ مجیدامجد کی ابتدائی تربیت ان کے ماموں میاں منظور علی فوق ذکی، جو روایتی علوم کے ماہر اور شاعر تھے ان دونوں کے اجماع کا مطلب شاعری اور زندگی سے متعلق ان کلاسیکی اقدار کا حامل ہونا تھا جن کی آبیاری عربی، فارسی ادبیات سے ہوئی تھی اور جو انیسویں صدی کے وسط تک برصغیر میں پوری طرح مستحکم تھیں۔ مگر بیسویں صدی کے اوایل میں انھیں قبول کیے چلے جانے کا مطلب، دراصل انھیں ایک ارفع تہذیبی یافت کے طور پر محفوظ کرنا اور مشنری جذبے کے ساتھ نئی نسل میں انھیں منتقل کرنا تھا۔ کلاسیکی اقدار کے مفہوم میں یہ تبدیلی مغربی اثرات کی وجوہ سے آئی تھی، جو نوآبادیاتی مقاصد سے بری طرح مملو تھے۔ یہ اندازہ لگانا بے جا اور غلط نہیں ہو گا کہ منظور علی فوق نے مجید امجد کو کلاسیکی اقدار کا یہی مفہوم منتقل کیا ہو گا۔ اقبال اور حالی کو پیش کیے گئے مجید امجد کے خراجِ عقیدت سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔

عمومی اور رواجی انداز کے تحت مجید امجد صرف چند برس (چار یا پانچ برس) ہی نظمیں لکھتے ہیں اور پھر نظم نگاری کا ایک ایسا اسلوب اختیار کرتے ہیں جو ان کا اپنا ہے۔ بجا کہ عمومیت سے انفرادیت کی طرف ان کا سفر اچانک نہیں رفتہ رفتہ طے ہوا ہے، مگرعمومیت سے انفرادیت کی جانب ان کی پیش قدمی ادھوری نہیں، مکمل ہے، نیم دلانہ نہیں فیصلہ کن ہے۔ چناںچہ ان کی نظموں کو تاریخی ترتیب میں پڑھتے ہوئے قاری چونکتا نہیں، اس گہرے اور مکمل احساس سے خود کو شرابور محسوس کرتا ہے، جو کئی سادہ تجربات کے بعد ایک پے چیدہ مگر اکمل تجربے سے گزرنے پر اس پر طاری ہوتا ہے۔

عین ممکن ہے یہ تبدیلی مجید امجد کے دو سالہ قیام لاہور (۱۹۳۲ تا ۱۹۳۴ء) اور اسلامیہ کالج لاہور میں بی اے سطح کی تعلیم حاصل کرنے کا ثمر ہو۔ اگر یہ لاہور کا ثمر ہے بھی تو بالواسطہ ہے۔ ایک اس لیے کہ ؛مجید امجد نے ان دو سالوں میں رواجی اور عمومی انداز کی ہی نظمیں لکھیں اور لاہور کی ادبی فضا میں شامل ہونے والے نئے رجحانات سے فوری طور پر متاثر ہونے کا کوئی ثبوت ان کی نظموں سے نہیں ملتا۔ جن دو ایک نقادوں نے (خصوصاً حمید نسیم) مجید امجد، میرا جی، جوش، فیض اور راشد کے اثرات کا ذکر کیا ہے، وہ مفروضہ ہے مجید امجد کے بعض مصرعوں کی لفظیات یا لحن کی دیگر شعرا کے مصروں سے سطحی مماثلت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امجد ان سے متاثر ہیں۔ صرف اسی وقت ایک شاعر دوسرے شاعر سے متاثر قرار دیا جا سکتا ہے جب پہلا دوسرے کے طرزِ ادراک یا تصورِ کائنات میں شریک ہو۔ نظم میں کہیں کہیں اور غزل میں قافیے کی پابندی کی وجہ سے اکثر شعرا کے مضامین ایک ہو جاتے ہیں… بہ ہر کیف امکان غالب ہے کہ لاہور کے قیام کے دوران میں مجید امجد نے انگریزی شاعری کا مطالعہ شروع کیا ہو گا، جسے انھوں نے آگے بھی جاری رکھا۔ اسی مطالعے کا فیض تھا کہ مجید امجد کا تخیل شاعری کے رواجی و عمومی دائرے سے باہر قدم رکھنے اور نظم نگاری کے نئے آفاق کی جست جو کرنے کے قابل ہوا۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کلاسیکی اقدار اور شعریات کی جو آگہی انھیں اپنے ماموں سے ملی اور جسے اس زمانے کی عمومی فضا نے مزید راسخ کیا، وہ مغربی شاعری کے اثرات قبول کرنے کے بعد یک سر زائل ہو گئی اور مجید امجد کے شعری تخیل نے ایک بالکل نئے مدار میں جست لگائی، اگر ایسا ہوتا تو یہ بغاوت ہوتی اور بغاوت کلاسیکی شعریات کے خلاف تحقیر اور توڑ پھوڑ کا جذبہ ابھارتی، جیسا کہ راشد کے یہاں ہمیں یہ جذبہ ملتا ہے۔ مگر مجید امجد کے سلسلے میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ انگریزی شاعری نے آہستہ آہستہ انھیں … نئی شعریات سے روشناس کیاا ور پھر یہی شعریات ان کی نظم نگاری کے ہمہ جہتی عمل پر حاوی ہوتی چلی گئی۔ یعنی کلاسیکی شعریات اگر ان کے یہاں بے دخل نہیں ہوئی تو مذکورہ نئی شعریات کے تابع ضرور ہوئی ہے… گزشتہ سطور میں مجید امجد کی عمومیت سے انفرادیت کی طرف جس پیش قدمی کا ذکر ہوا ہے، وہ مغربی نظم کی شعریات کے انجذاب کا ہی دوسرا نام ہے۔
ان معروضات کا صریحاً مطلب یہ ہے (اور یہ مطلب منطقی ہی نہیں، امجد کی نظمیں اس کی تائید کرتی ہیں) کہ مجید امجد کی ابتدائی نظموں سے قطعِ نظر ان کی باقی نظموں کا پس منظر اردو نظم نہیں ہے۔ نہ کلاسیکی اردو نظم، نہ جدید نظم اور نہ نئی نظم! واضح رہے کہ جدید نظم مجید امجد کی نظم کا پس منظر نہیں ہے۔ مجید امجد کی نظم جدید اردو نظم کو چہرہ اور روپ ضرور دیتی ہے۔ یعنی مجید امجد نے جدید نظم کی شعریات کا شعور اردو میں جدید نظم کے بنیاد گزاروں: میرا جی، راشد اختر الایمان اور فیض وغیرہ سے اخذ نہیں کیا۔ ان شعرا کی نظم کو مجید امجد کی نظم کے پس منظر میں نہیں، مجید امجد کی نظم کے متوازی رکھا جانا ہی قرینِ انصاف ہے۔ دوسرے لفظوں میں مجید امجد کی نظم کو سمجھنے میں مذکورہ شعرا کوئی کلید مہیا نہیں کرتے، بلکہ جدید اردو نظم کو سمجھنے کے لیے مذکورہ شعرا کی نظم کے علاوہ نظم امجد ایک نئی کلید فراہم کرتی ہے۔ اور انھی معروضات کا ایک دوسرا اور صاف مطلب یہ ہے کہ مجید امجد نے مغربی نظم کی شعریات کو اس طور قبول نہیں کیا جس طرح انھوں نے کلاسیکی شعریات کو جذب کیا تھا اور جس کے تحت رواجی شاعری تصنیف کی۔ اگر قبولیت کی سطح اور درجہ یکساں ہوتا تو مجید امجد ایک دوسری قسم کی رواجی شاعری تصنیف کرتے۔ وہ مغربی شاعری کے مضامین کو مغربی شاعری کے پیراے میں لکھتے اور بس! اس صورت میں ان کی نظم شاید نئی ہونے کا تاثر ابھارنے میں تو کام یاب ہوتی، مگریہ تاثر بلبلے کی طرح ہوتا، جس کے عارضی ارتعاش کو تاریخ میں محفوظ کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی جاتی۔ اصل یہ ہے کہ مجید امجد کا کلاسیکی شعریات کو قبول کرنا ثقافتی عمل تھا اور مغربی شعریات کو جذب کرنا انتخابی عمل تھا۔ بعض شعرا عمر بھر ثقافتی عمل انجام دیتے رہتے ہیں، یعنی جو کچھ انھیں اپنی ثقافتی فضا میں دست یاب ہوتا ہے، اس کی تقلید آنکھیں بند کر کے کرتے رہتے ہیں اور انتخابی عمل کی سعادت سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے شعرا کی شاعری بدنصیبی کی انوکھی مثال ہوتی ہے!

مجید امجد کی نظم کے مغربی پس منظر کے ضمن میں بائرن، رابرٹ فراسٹ، سمپس ہینی کا ذکر ہوا ہے اور خود مجید امجد نے خواجہ محمد زکریا کو انٹرویو دیتے ہوئے سون برن کیٹس اور شیلے کاذکر کیا ہے۔ اسی طرح مجید امجد نے رچرڈ آلڈرج، ڈونلڈ بابکوک، فلپ بوتھ، رابرٹ فرانسس، فلپ مرے کی نظموں کے تراجم کیے ہیں۔ مگر یہ تراجم اس زمانے میں (۹-۱۹۵۸ء) کیے جب ان کی نظم کا مخصوص پیٹرن بن چکا تھا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مجید امجد نے مغربی شعریات کا تصور جس مغربی نظم سے اخذ کیا ہے وہ عمومی طور پر انیسویں صدی کی انگریزی نظم اور خصوصی طور پر شیلے اور ورڈز ورتھ کی نظم ہے۔ مجید امجد کے زمانے میںاس مغرب میں جدیدیت کی تحریک چل رہی تھی اور امیجسٹ شعرا کے اثرات بھی مغرب کی ادبی فضا میں ارتعاش پیدا کیے ہوئے تھے۔ مجید امجد کے معاصر انگریزی شعرا میں ازرا پونڈ، ٹی ایس ایلیٹ، لارنس، ڈولٹل قابل ذکر ہیں، مگر مجید امجد نے جدید مغربی نظم کے ان قائمہ سے اثرات قبول نہیں کیے۔ اسی طرح فرانسیسی علامت نگار شعرا کی گونج بھی مجید امجد کے یہاں نہیں سنائی دیتی ہے۔ یہ گونج میرا جی کے یہاں بہت واضح ہے۔ علامت نگاروں، جدیدیت پسندوں اور امیجسٹ شعرا سے اثرات قبول نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ ان کے یہاں بغاوت کی لَے پیدا نہیں ہوئی اور نہ مجید امجد کو اپنی نظم کے دفاع میںکچھ لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ راشد اور میرا جی نے علامت پسندوں اور جدیدیت پسندوں سے استفادہ کیا تھا اس لیے ان کے یہاں (راشد کے یہاں بالخصوص) روایتی اور معاصر شاعری کے خلاف باغیانہ میلان ملتا ہے اور وہ اس میلان کے جواز اور دفاع میں تنقیدی مقالات بھی تحریر کرتے ہیں۔ یہ مقالات اگر جدید اردو نظم کی تفہیم میں مدد دیتے ہیں تو اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ جدید نظم کی نمایندگی دیگر کے علاوہ میرا جی اور راشد کی نظم کرتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مجید امجد کی نظم کی تفہیم آسان ہے۔ مجید امجد کی نظم کو سمجھنا بھی مشکل ہے، مگر یہ اس طرح کی مشکل نہیں ہے جس کا سامنا راشد اور میرا جی کے قاری کو ہوتا ہے۔ راشد اور میرا جی کی نظم استعارہ سازی اور علامت سازی میں نامانوس مماثلتوں اور اجنبی نسبتوں کو بروے کار لانے کی وجہ سے ابہام کا شکار ہوتی اور کلاسیکی شاعری کے قاری کے لیے مشکل ثابت ہوتی ہے، مگر مجید امجد کی نظم اپنے تصورات کے انوکھے پن کی وجہ سے مشکل محسوس ہوتی ہے۔

مجید امجد نے انگریزی شاعری سے پہلی بات یہ سیکھی کہ نظم، خیالات کو غنائی رنگ دینے کا نام ہے۔ یعنی نظم میں جتنی اہمیت خیالات کو حاصل ہے اتنی ہی توجہ انھیں غنائیت بہ کنار کرنے کے عمل کو دی جانی چاہیے۔ شاعر کو خیالات ہی تخلیق نہیں کرنے چاہیے، نئے نئے غنائی پیراے بھی وضع کرنے چاہییں۔ شیلے کے یہاں نظم نگاری کا یہ تصور غالب تھا۔ شیلے نے اس بنا پر اپنی نظموں میں متعدد ہیئتی تجربات کیے اور اپنی نظم میں کئی قسم کے آہنگ تخلیق کیے۔ ۱؎ مجید امجد کے یہاں نت نئی ہیئتوں کی تخلیق کی خواہش کا محرک بڑی حد تک شیلے کی نظم کی مذکورہ خصوصیت ہی ہے۔

انگریزی شاعری سے مجید امجد نے دوسری اہم بات یہ اخذ کی کہ نظم کا موضوع وہ مانوس حقیقتیں ہیں جو ہمارے ارد گرد بکھری اور ارد گرد کی دھڑکتی زندگی کی ضامن ہیں مگر جنھیں بالعموم نظرانداز کیا جاتا ہے۔ نہ صرف سماجی اسٹیبلشمنٹ بلکہ ادبی اسٹیبلشمنٹ بھی انھیں حاشیے پر دھرتی ہے۔ نظم کا یہ تصور ورڈز ورتھ کے یہاں موجود تھا۔ اس کے نزدیک دہقانی زندگی اور فطرت مانوس اور اصل حقیقتیں ہیں اور انھی کو وہ اپنی نظم کا موضوع بناتا ہے۔ یہ تصور ٹی ایس ایلیٹ کے تصورِ شاعری سے یک سر مختلف ہے، جس کے مطابق شاعری کے ’’موضوعات‘‘ شاعری کی روایت میں ہوتے ہیں۔ شاعر اپنے شخصی جذبات کو شاعری کے ’’روایتی جذبات‘‘ پر نثار کر دیتا ہے۔ ورڈز ورتھ نے شاعری کو ارد گرد کی دھڑکتی زندگی سے جوڑا، وہ زندگی جو سادہ اور اسی بنا پر فطری اور حقیقی ہے۔ اسی کے قریب ترین رویہ مجید امجد کے یہاں ملتا ہے۔ بس اس فرق کے ساتھ کہ مجید امجد محض دہقانی اور فطری زندگی کے بجاے ہر اس زندہ وجود کو اپنی نظم میں لائے ہیں جو نظرانداز کردہ اور دکھ میں مبتلا ہے۔ نیز زبان کے سلسلے میں بھی مجید امجد ورڈزورتھ کی پیروی نہیں کرتے۔ ہرچند بعض مقامات پر مجید امجد اپنی نظموں میں ہندی اور پنجابی کے الفاظ لائے ہیں اور اس نیت سے لائے ہیں کہ وہ جس مظہر، خیال یا واقعے کو پیش کر رہے ہیں، وہ حقیقی محسوس ہو، مگر بالعموم وہ وڈرزورتھ کے اس خیال سے متفق نظر نہیں آتے کہ فقط دیہی زندگی کی زبان ہی شاعری کی زبان ہے۔

تیسرا عنصر جسے انگریزی رومانوی نظم سے استفادے کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے، وہ انا کی خود مختاری کا محدود و مخصوص تصور ہے۔ رومانوی انا مطلق و خودمختار ہوتی ہے، اس لیے وہ اپنے اظہار و انکشاف کو اپنا حق سمجھتی ہے۔ تاہم چوں کہ انگریزی رومانوی شعرا Pantheism کے بھی قایل تھے، جس کے مطابق کائنات کی ہر شے ایک مقدس موجودگی سے لبریز ہے، ایک روشنی ہے جو ہر شے کے باطن کو جگ مگا رہی ہے اور جس کے وفور سے اشیا کا ظاہر بھی تمتما رہا ہے، اس لیے خودمختار انا اشیا سے بے گانگی اختیار کرنے کے بجاے ان سے موانست کا رشتہ استوار کرتی ہے۔ مجید امجد کی نظم میں رومانوی انا کا یہ تصور تمام و کمال موجود نہیں ہے اور نہ ہو سکتا تھا کہ کسی بھی دوسری ثقافت میں پیدا ہونے والے کسی تصور کو، اس کی تمام سطحوں کے ساتھ اختیار کرنے کے لیے ایک مکمل ثقافتی انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ محدود صورت میں خودمختار انا کا یہ تصور مجید امجد کی نظم میں رواں دواں بہ ہر حال ہے۔ امجد کی نظم میں اشیا سے موانست کا رشتہ بے حد گہرا ہے۔ تمام اشیا ایک ہی بنیادی حقیقت کی زنجیر سے منسلک دکھائی دیتی ہیں۔ غبارِ راہ ہو کہ طوائف، بار کھینچنے والا جانور ہو کہ ہالی، بجلی کے تار پر جھولنے والی لالی ہو کہ خود شاعر… سب ایک ہی رشتے کی ڈور میں بندھے ہیں۔ اسے محدود مفہوم میں ہی Pantheistic رویہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ یہ رویہ اپنی برتر سطح پر متصوفانہ رویہ ہے، جب کہ مجید امجد کے یہاں اشیا اس باطنی روشنی میں شرابور نظر نہیں آتیں، جس سے صوفی لمحہ کشف میں آگاہ ہوتا ہے۔ بلکہ اشیا موانست کے جس رشتے میں بندھی ہیں، وہ دکھ کا رشتہ ہے اور جو ان کی تقدیر بنا ہے۔

یہاں مجید امجد کی نظم پر ایک اعتراض کا ذکر دل چسپی سے خالی نہیں۔ آفتاب اقبال شمیم نے لکھا ہے کہ مجید امجد ’’زمانے کے آشوب اور عصری مسایل و حالات سے زیادہ وہ نگاہ کو اشیا اور عناصر و مظاہر پر مرکوز رکھتے ہیں۔‘‘ ۲؎ گویا انھیں اعتراض یہ ہے کہ مجید امجد کی نظم اپنے زمانے کے آشوب سے لاتعلق ہے اور اس لیے لاتعلق ہے کہ وہ نگاہ کو (زمانے کے آشوب کے بجاے) اشیا و عناصر پر مرکوز رکھتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ اعتراض سے زیادہ مجید امجد کی نظم کی جہت کا انکشاف ہے، مگر فاضل نقاد ترقی پسندانہ جہت کے تحت اس بات کو شاعر کے فرایض میں شامل قرار دیتے ہیں کہ وہ اپنی نگاہ کو عصری مسائل و حالات کی طرف جماے رکھے اور اس فرض سے کوتاہی قابل گرفت متصور کرتے ہیں اس لیے وہ معترض ہیں کہ مجید امجد ’’تیسری دنیا کی جاگتی ہوئی آنکھ میں ابھرنے والے خوابوں کو اپنے آدرش کا حصہ نہ بنا سکے۔‘‘ ۳؎ ہرچند اس اعتراض کے جواب میں مجید امجد کی نظمیں جہان قیصر و جم، روداد زمانہ، کہانی ایک ملک کی، درس ایام، طلوع فرض، قیصریت جیسی نظمیں پیش کی جا سکتی ہیں جو آشوب دہر سے ہی متعلق ہیں، مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ مجید امجد کی نظم میں واقعات کے مقابلے میں اشیا و مظاہر کی کثرت کیوں ہے؟
اس کی ایک وجہ مجید امجد کا تصور تاریخ ہے، جو ان کے تصور وقت سے جڑا ہے (اس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا) اور دوسری وجہ ایک خاص مفہوم میں ظاہر ہونے والا Pantheistic رویہ ہے، جس نے ایک طرف مجید امجد کے یہاں حقیقت کے اس تصور کو تشکیل دیا کہ ظاہر میں تنوع و تعدد ہے، مگر باطن میں وحدت ہے (اسے وحدت الوجود سے گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے) اور دوسری طرف مجید امجد کی نظم کی شعریات کے اس مرکزی اصول کی تشکیل کی کہ شاعری جو ہر کی تلاش سے عبارت ہے۔ جوہر مستقل اور غیرمتبدل ہوتا ہے اور بالعموم ان تبدیلیوں کا ذمے دار بھی ہوتا ہے جو اشیا، عناصر، مظاہر اور واقعات میں ہوتی ہیں۔ چناںچہ شاعری کا یہ اصول تبدیلیوں کے پیچھے سرگرداں ہونے کے بجاے تبدیلیوں کی ذمے دار علت اور جوہر تک رسائی میں کوشاں ہوتا ہے۔ یہ علت اور جوہر جس طرح اشیا میں موجود ہوتی ہے، اسی طرح واقعات میں بھی تہ نشین ہوتی ہے۔ دوسرے طبقوں میں اس وضع کی شعریات واقعاتِ عالم کو اسی طرح اور اسی سطح پر لیتی ہے، جس طرح اور جس سطح پر اشیا کو لیتی ہے۔ اس شعریات کے تحت تخلیق ہونے والی شاعری میں واقعات بھی اشیا کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں، جو ایک زاویے سے Pantheisticرویہ ہی ہے۔

مجید امجد کی پہلی قابل ذکر نظم ’’شاعر‘‘ (۱۹۳۸ء) ہے، جس میں وہ رواجی و تقلیدی شاعری کے محبس سے آزاد ہوتے اور ’’حقیقی شاعری‘‘ کی آزاد فضا میں سانس لیتے محسوس ہوتے ہیں۔ تاہم ابھی آزادی ان معنوں میں نہیں ہے کہ وہ رواجی شاعری کی جملہ نسبتوں، تاثرات اور رشتوں سے کاملاً آزاد ہو گئے اور بالکل نئی نسبتیں، نئے تاثرات اور نئے رشتے قایم کرنے میں کام یاب ہو گئے ہوں۔ یہ آزادی کامل نہیں، اس کی جانب اہم قدم ہے۔ اس نظم میں وہ تاثرات کو منفعل انداز میں قبول کرنے کے برعکس، ان کی گہرائی میں اترتے اور انھیں کھنگالتے ہیں۔ اس کے بعد رد و قبول کی منزل ہی ہوتی ہے، جو آدمی کے انتخاب و اختیار کے مظاہرے کا دوسرا نام ہے۔ ’’شاعر‘‘ میں مجید امجد کا خود آگاہ سیلف پہلی بار اظہار کرتا ہے وہ بے ربط سی زنجیر کی مانند دنیا کو رد کرتا اور اس کی جگہ ایک نئی دنیا کا تصور باندھتا ہے۔ سیلف خود آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود اعتماد بھی ہے۔

اگر میں خدا اس زمانے کا ہوتا تو عنواں کچھ اور اس فسانے کا ہوتا
عجب لطف دنیا میں آنے کا ہوتا

جدید عہد میں (۱۷ویں صد ی کے بعد سے) انسانی سیلف کو مطلق و خودمختار قرار دیا گیا ہے اور خودمختاری کا مطلب وہی لیا گیا ہے جو خدا سے منسوب ہے۔ ایک طرح سے خودمختار انسانی سیلف کو خدا کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ چناںچہ انسانی سیلف، خدا کی مانند ہی تصرف اور اختیار کا جویا رہا ہے۔یہاں اس بحث کی گنجایش نہیں کہ انسانی سیلف کے اس تصور کے مذہبی مضمرات کیا ہیں اور جدید عہد کی ساینس اور جدید ادب پہ اس تصور نے کتنے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، تاہم یہ کہنا کچھ غلط نہیں کہ انسانی سیلف کے اس خدائی تصور نے دنیا کو انسانی خوابوں اور عزایم کے تحت تشکیل دینے کی کوشش ضرور کی ہے۔ تاہم انسانی تاریخ میں گڑ بڑ یہ ہوئی کہ انسانی خوابوں اور عزایم کی تشکیل کے عمل پر مغربی استعمار نے اجارہ داری حاصل کر لی اور نتیجتاً یہ خواب انسانی کم اور استعماری زیادہ ہو گئے۔ بہ ہر کیف امجد کی مذکورہ نظم میں بھی دنیا کو انسانی خواب، کے مطابق ازسرنو تشکیل دینے کی آرزو ملتی ہے۔ مگر ابھی شاعر کا خواب محبت کے اس تجربے کی روشنی میں دیکھا گیا ہے جسے سماجی مزاحمت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ لہٰذا یہ عالم گیر انسانی خواب نہیں، محدود طور پر خود آگاہ سیلف کا، محدود تجربے کے حصار میں دیکھا گیا خواب ہے۔ مجید امجد کی نظم نگاری کے سلسلے میں اس نظم کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں وہ ایک طرف بہ طور شاعر خود آگاہی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور دوسری طرف انسانی سماج، انسانی زندگی اور انسانی تقدیر سے متعلق بعض بنیادی سچائیوں کا فعال ادراک کرتے ہیں۔ یہ کہ انسانی سماج محلوں، تختوں، تاجوں سے عبارت ہے اور دکھ اور اجل انسانی تقدیر ہیں۔ ان کے بعد کی نظموں میں یہی بنیادی سچائیاں ہی پرت در پرت کھلتی چلی جاتی ہیں۔

حقیقی شاعری کی طرف اگلا اہم قدم نظم ’’خدا (ایک اچھوت ماں کا تصور)‘‘ میں اٹھایا گیا ہے۔ اس نظم میں مجید امجد اپنے حافظے کے بجاے، اپنے مشاہدے کو بروے کار لاتے ہیں۔ سنی سنائی اور کتابی باتوں کو نظم کرنے کا رویہ ترک کرتے اور ارد گرد کی حقیقی سچائیوں پر اپنی نظم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ وہ اس اعتماد سے تو پہلے ہی لیس ہو چکے ہیں جس کے بل پر وہ سماجی امداد ی اسٹیبلشمنٹ کے وضع کردہ کلیوں، قاعدہ سے روگردانی کر تے ہیں۔ اس نظم میں وہ ہندوستانی سماج کے اس طبقے کی داخلی دنیا میں جھانکتے ہیں جسے سماجی مقتدرہ نے حاشیے پر دھکیلا ہوا ہے۔ وہ ایک اچھوت ماں کے تصور خدا کو سامنے لائے ہیں۔ حمید نسیم مرحوم نے اس نظم سے متعلق لکھا ہے کہ ’’اس نظم کے لیے مجھے اردو میں کوئی مناسب لفظ نظر نہیں آیا۔ پوچ بہت سخت لفظ ہے جو میں مرحوم شاعر کے کلام کے سلسلے میں استعمال نہیں کر سکتا۔ ندرت کی تلاش میں ایک تاحال نامعتبر فکر و وجدان رکھنے والا شاعر بہک گیا ہے۔‘‘ ۴؎

حمید نسیم کے اس تبصرے کو ادبی اسٹیبلشمنٹ کی ناگواری ہی کہا جا سکتا ہے اور اس کا باعث بھی سمجھ میں آتا ہے کہ نظم میں خدا کے اس بلند و برتر تصور پر حرف گیری کی گئی ہے، جسے مختلف مقتدر طبقے اور قوتیں اپنے مفادات کے جواز یا اپنی قوت میں استحکام اور اضافے کے لیے بروے کار لاتے ہیں۔ حمید نسیم کی توجہ ا س طرف گئی ہی نہیں کہ یہ نظم خدا پر نہیں ایک اچھوت طبقے کی ماں کے تصور خدا سے متعلق ہے۔ حمید نسیم کا اعتراض اس نظم کو الٰہیاتی تصورِ خدا سے متعلق سمجھنے کی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ نظم میں اگر خدا کو من موہنا راجا، اونچی ذات والااور تاروں کی پگڈنڈی پر جھاڑو دینے والا کہا گیا ہے تو اس کے لیے اچھوت ماں کا تخیل انھی عناصر سے مرتب ہوا ہے۔ وہ خدا کا تصور اپنے طبقاتی شعور سے ہٹ کر کر ہی نہیں سکتی۔ اس کے لیے عظمت کا تصور وہی ہو سکتا ہے جو اسے اس کے طبقاتی شعور نے دیا ہے۔ نظم میں پیش کردہ تصور خدا میں اگر منطقی ترتیب و تنظیم نہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ خود اچھوت ماں کی داخلی دنیا اس ترتیب سے خالی ہے جس کا انعکاس نظم میں ہوا ہے۔ مجید امجد کا کمال یہ ہے کہ وہ اس نظم میں خود نظم کو موضوع سے علاحدہ رکھتے ہیں۔ اپنے شخصی تصورات کو اچھوت ماں کے تصور خدا پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔

یہ نظم مجید امجد کے شعری سفر میں ایک منزل ہے۔ ایک راستے پر چلتے اپنے اور آگے ہی آگے بڑھتے رہنے کے مسلسل عمل کا حاصل ہے۔ اس نظم میں ان کا شعری باطن فیصلہ کن انداز میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اسے اپنی نسبت سما ج کے کس طبقے سے قایم کرنی ہے اور کس طور کرنی ہے۔ بعض لوگوں نے اس نظم کو مجید امجد پر ترقی پسند تحریک کے اثرات کا نتیجہ قرار دیا ہے کہ ۱۹۴۰ء میں جب یہ نظم تخلیق ہوئی ہے تو ادبی فضا پر ترقی پسند تحریک کا غلبہ تھا۔ یہ راے دو وجہوں سے درست نہیں ہے۔ ایک یہ کہ نظم اچھوت ماں کے طبقاتی شعور کی پیداوار ہونے کے باوجود اس طبقاتی، جدلیاتی عمل کو پیش نہیں کرتی، جسے فارمولا کے انداز میں جاتی پسندوں نے بالعموم پیش کیا ہے اور نہ نظم میں تاریخی مادیت کے اس شعور کی کوئی سطح دکھائی دیتی ہے، جو طبقاتی آویزش کو رجائی اسلوب میں سامنے لاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ نظم، نظم کی اسی شعریات کے تحت تخلیق ہوئی ہے، جس کا ذکر گزشتہ سطور میں آ چکا ہے اور جس کے مطابق اشیا کے جوہر یا مرکزی تنظیمی اصول تک رسائی کی کوشش ہوتی ہے۔ اس نظم میں اچھوت ماں کے جوہر ذات کو گرفت میں لینے کی سعی ملتی ہے۔ اچھوت ماں کے لیے خدا اُس کی مظلوم ذات کا آسرا بھی ہے (اور یہ ا س کے لیے خدا کا بلند اور ماورائی تصور ہے) اور خود خدا اس کی مانند مظلوم بھی ہے کہ جس طبقے نے اچھوت ماں کو نچلی ذات قرار دے کر دور رکھا ہوا اور مظالم کا سزاوار بنایا ہوا ہے، اسی طبقے نے خدا کے تصور کا استحصال بھی کیا ہے۔ اس لیے اسے اپنی اور خدا کی تقدیر یکساں دکھائی دیتی ہے۔ کسی مظہر یا طبقے کی ایک سے زائد سطحیں ترقی پسند ادب میں بالعموم نہیں ملتیں۔ اس نظم کو ترقی پسند تحریک کے اثرات سے آزاد قرار دینے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ شا عرنے جس طبقے سے جس نوع کی نسبت قایم کی ہے، اسے آگے بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ طلوعِ فرض، پنواڑی، جاروب کش اور متعدد دوسری نظموں میں یہ نسبت برقرار رہتی اور توسیع پذیر ہوتی ہے۔

مظاہرِ اشیا کے جوہر کی تلاش میں مجید امجد تاریخ کے در پر بھی دستک دیتے ہیں۔تاریخ کے جوہر کا مخصوص تصور مجید امجد کی متعدد اہم نظموں کی روح ورواں ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ مجید امجد کے کسی ناقد کی توجہ اس طرف نہیں گئی۔ بعض ترقی پسند نقادوں نے مجید امجد پر یہ الزام تو رکھا ہے کہ وہ معاصر زندگی کے آشوب سے لاتعلق اور سماجی زندگی کی جدلیاتی تعبیر سے بے نیاز نظر آتے ہیں، مگر مجید امجد کے یہاں تاریخ کے جوہر یاتاریخ کے بنیادی عمل کو جس ’’تاریخی بصیرت‘‘ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، اس کا یک سطری اعتراف تک نہیں کیا گیا۔ اپنے تصورِ ادب کی رُو سے ادبی متون کا مطالعہ کرنا اور پھر ان متون کو اپنے تصور سے ہم آہنگ پا کر ہدفِ ملامت بنانا، اردو تنقید کا ایک بڑا المیہ ہے۔ ادبی متن کے دیانت دارانہ ہی نہیںنشاط جُو مطالعے کے لیے بھی ضروری ہے کہ قاری / نقاد اپنے اعتقادات کو معطل اور اپنے نظریات کو غیرفعال رکھے۔ تاہم مجید امجد کے تصورِ وقت کو عام طور پر اجاگر کیا گیاہے۔ وزیر آغا کی یہ راے معنی خیز ہے کہ ’’مجید امجدکے ہاں ’’حال‘‘ ایک نقطۂ آغاز ہے اور اسی نقطے پر کھڑے ہو کر اس نے کائنات کی لامحدود وسعت اور انسانی زندگی کے تدریجی ارتقا کا ادراک کیا ہے اور اس پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ موجود کا یہ لمحہ مختصر ااس کی ہتھیلی پر ایک لبالب پیالی کی صورت موجود ہے، امکانات کا منبع اور مخزن ہے اور اس مقام سے ہر بار ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ ‘‘ ۵؎

اور خواجہ محمد زکریا کا یہ کہنا بھی قابلِ توجہ ہے کہ ’’مجید امجد اس دور کا واحد فلسفی شاعر ہے جس کے ہاں سب سے زیادہ جو تصور ابھرتا ہے وہ وقت کے بارے میں ہے… کبھی کبھی تو یہ خیال آنے لگتا ہے کہ اس کے ہاں خدا کا متبادل وقت ہے۔‘‘ ۶؎ یہ دونوں آرا مجید امجد کی نظموں میں وقت اور بالخصوص لمحہ ٔ موجود کی کارفرمائی کا درست تجزیہ کرتی ہیں، مگر دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ اسی تصورِ وقت سے مجید امجد کا تصور ِتاریخ جڑا ہے۔ اسی حد تک اور اس طور کہ دونوں کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ صرف اس لیے نہیں کہ تاریخ، وقت کے محور پر وجود رکھتی ہے، بلکہ اس لیے کہ مجید امجد کے یہاں وقت کا نہ خالص فلسفیانہ تصور موجود ہے اور نہ ساینسی۔ مجید امجد کو وقت کے حوالے سے فلسفی شاعر قرار دینا، مجید امجد سے اس گہری عقیدت کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے جو محبوب ہستی کو تمام مثالی کمالات سے متصف دیکھتی ہے۔ زمان حادث ہے یا قدیم، زمان خالق ہے یا مخلوق، زبانِ مطلق اور زمانِ متسلسل میں کیا فرق اور رشتہ ہے، زماں اور مکاں میں کیا رشتہ ہے، اس نوع کے بنیادی فلسفیانہ سوالات اور تاریخِ فلسفہ میں ان کے پیش کیے گئے جوابات کا ذکر یا تنقیح مجید امجد کے یہاں نہیں ملتی۔ اسی طرح وقت داخلی ہے یا خارجی؟ وقت ہمارے اندر ہے یا باہر کی ایک معروضی حقیقت ہے، جو ہمارے ادراک کے بغیر بھی وجود رکھتی ہے، وقت واقعات و مظاہر کے لیے ظرف (Container) ہے یا واقعات و مظاہر میں شامل ہے؟ وقت، مکاں سے الگ ہے یا مکاں میں شامل ہے، وقت، مکاں کی چوتھی جہت ہے یا نہیں، ان ساینسی سوالات کی گونج اور تاریخ ساینس میں ان کے وضع کیے گئے جوابات کی بازگشت بھی ، مجید امجد کی نظموں میں موجود نہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ مجید امجد کے یہاں وقت سے متعلق مذکورہ فلسفیانہ و ساینسی سوالات کے بعض اجزا اس صورت میں ظاہر ہو گئے ہوں کہ یہ بنیادی سوالات ہیں، جو وقت پر باقاعدہ یا بے قاعدہ غور و فکر کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں، راقم کا موقف یہ ہے کہ فلسفہ و ساینس میں وقت کو جس طرح دیکھا گیا ہے، وہ مجید امجد کا مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم کائنات کے ارتقا کے ساینسی تصورات مجید امجد کے یہاں پیش ہوے ہیں، ان کے ضمن میں وقت کسی حد تک ساینسی تصور کے ساتھ معرضِ بیان میں آ گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ مجید امجد کو وقت کے تصورات سے نہیں، وقت کے اس عمل سے دل چسپی ہے جو انسانی زندگی اور تاریخ میں انجام دیتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے نظموں سے یہ چند ٹکڑے دیکھیے:

اور اک نغمہ سرمدی کان میں آ رہا ہے، مسلسل کنواں چل رہا ہے
پیا پے مگر نرم رو اس کی رفتار، پیہم مگر بے تکان اس کی گردش
عدم سے ازل تک، ازل سے ابد تک، بدلتی نہیں ایک آن اس کی گردش
نہ جانے لیے اپنے دولاب کی آستینوں میں کتنے جہان اس کی گردش
رواں ہے رواں ہے
تپاں ہے تپاں ہے
یہ چکر یونہی جاوداں چل رہا ہے
کنواں چل رہا ہے
(کنواں)

صبح بھجن کی تان منوہر جھنن جھنن لہراے
ایک چتا کی راکھ ہوا کے جھونکوں میں کھو جاے
شام کو اس کا کم سن بالا بیٹھا پان لگاے
جھن جھن، ٹھن ٹھن چونے والی کٹوری بجتی جاے
ایک پتنگا دیپک پہ جل جاے، دوسرا آے
(پنواڑی)

یہ صہباے امروز، جو صبح کی شاہزادی کی مست انکھڑیوں سے ٹپک کر
بدور حیات آ گئی ہے، یہ ننھی سی چڑیاں جو چھت میں چہکنے لگی ہیں
ہوا کا یہ جھونکا جو میرے دریچے میں تلسی کی ٹہنی کو لرزا گیا ہے
پڑوسن کے آنگن میں، پانی کے نلکے پہ یہ چوڑیاں جو چھنکنے لگی ہیں
یہ دنیاے امروز میری ہے، میرے دلِ زار کی دھڑکنوں کی امیں ہے
یہ اشکوں سے شاداب دو چار صبحیں ، یہ آہوں سے معمور دو چار شامیں
انھی چلمنوں سے مجھے دیکھنا ہے وہ جو کچھ کہ نظروں کی زد میں نہیں ہے
(امروز)

پہناے زماں کے سینے پر اک موج انگڑائی لیتی ہے
اس آب و گل کی دلدل میں اک چاپ سنائی دیتی ہے
اک تھرکن سی، اک دھڑکن سی، آفاق کی ڈھلوانوں میں کہیں
تانیں جو ہمک کر ملتی ہیں، چل پڑتی ہیں، رکتی ہی نہیں
ان راگنیوں کے بھنور بھنور میں صدہا صدیاں گھوم گئیں
اس قرن آلود مسافت میں لاکھ آبلے پھوٹے، دیپ بجھے
اور آج کسے معلوم، ضمیرِ ہستی کا آہنگِ تپاں
کس دور دیس کے کہروں میں لرزاں لرزاں رقصاں رقصاں
اس سانس کی رَو تک پہنچا ہے
اس میرے میز پہ جلتی ہوئی قندیل کی لو تک پہنچا ہے
(راتوں کو…)

یہاں دانستہ مجید امجد کی معروف نظموں سے وہ اقتباسات درج کیے گئے ہیں جو ان کے تصور وقت کے سلسلے میں عموماً پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو ان میں کہیں بھی وقت کو ایک تجرید یا تصور کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ وقت کے اس عمل کو اجاگر کیا گیا ہے جو انسانی زندگی میں کارفرما ہے۔ مزید غور کریں تو وقت کا یہ عمل مسلسل، ابدی اور غیر متغیر دکھائی دے گا۔ نغمہ سرمدی مسلسل کان میں آ رہا ہے، کنواں برابر چل رہا ہے، وقت کا یہ چکر جاوداں ہے، ایک پتنگا وقت کے دیپک پر جل رہا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے اور ضمیر ہستی کا آہنگ تپاں ہر انسانی سانس کی رو تک پہنچتا ہے۔ وقت کے اسی مسلسل اور غیرمتغیر عمل کا نتیجہ ہی تاریخ ہے۔ وقت محض تاریخ کو جنم ہی نہیں دیتا، تاریخ کی جہت کی تشکیل بھی کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں تاریخ کی جہت وہی ہے، جو وقت کی ہے۔ وقت اگر جاوداں اور ابدی ہے تو تاریخ کی جہت بھی جاوداں، مستقل اور غیرمتغیر ہے۔ اور یہی تاریخ کا جوہر ہے۔

مجید امجد کا مسئلہ چوںکہ تاریخ کے جوہر تک رسائی اور اس کا نکشاف ہے اس لیے وہ کسی ایک خطے اور کسی ایک عہد کی تاریخ تک خود کو محدود نہیں کر تے بلکہ عمومی انسانی تاریخ پر توجہ کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ تاریخ کسی ایک خطے یا عہد کی ہو یا عمومی انسانی، وہ واقعات سے ہی عبارت ہوتی ہے۔ وقت کے کسی ایک لمحے میں اور مخصوص مکانی تناظر میں رونما ہونے والا واقعہ ہی تاریخ کی بنیاد ہوتا ہے۔ تاہم دونوں میں فرق یہ ہے کہ کسی ایک خطے یا عہد کی تاریخ کی بنیاد بننے والے واقعات اپنے محدود مکانی و زمانی تناظر سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب کہ عمومی انسانی تاریخ کے واقعات علامتی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں یا انھیں علامت کے طور پر متصور کر لیا جاتا ہے۔ مجید امجد نے بھی عمومی انسانی، تاریخ کو پیش کرتے ہوے واقعات کو علامتی سطح پر لیا ہے۔ واقعہ بہ طور علامت، ہی تاریخ کے بنیادی عمل کو منکشف کرتا ہے۔ یعنی جب کسی تاریخی واقعے کو علامت کا درجہ مل جاتا یا دے دیا جاتا ہے تو وہ تاریخ کے ’فی نو مینن‘ کو سمجھنے کی کلید بن جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے واقعے کا علامت بننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ واقعہ اپنے محدود مکانی و زمانی تناظر سے آزاد ہو گیا اور امکانات سے لبریز ہو گیا ہے۔ اس موقف کی تائید میں مجید امجد کی نظمیں پیش رو، روداد زمانہ، راجا راجا، کہانی ایک ملک کی، درس ایام بہ طور خاص پیش کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً روداِ زمانہ کے تمہیدی بند میں اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ’ہم نے دیکھا ہے یہی کچھ کہ ہر اک دور زماں‘۔ یعنی زماں کے ہر دور میں یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ تاریخ کا عمل غیرمتغیر رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مجید امجد تاریخ کے غیرمتغیر عمل کو کس طور مشخص کرتے ہیں، یعنی کس واقعے کو علامت بناتے ہیں؟ اس نظم کا یہ بند ملاحظہ فرمائیے:

کیا وہ شوریدگیِ آب و دخاں کی منزل
کیا یہ حیرت کدہ لالہ و گل کی سرحد
جا بجا وقت کے گنبد میں نظر آتے ہیں
یہی عفریت، خدایانِ جہاں کے اب وجد
زیب اورنگ کہیں،زینت محراب کہیں
ان کی شعلہ سی زباں ہے کہ ازل سے اب تک
چاٹتی آئی ہے ان کانپتی روحوں کا لہو
جن کے ہونٹوں کی ڈلک، جن کی نگاہوں کی چمک
زہر میں ڈوب کے بھی بجھ نہ سکی، بجھ نہ سکی

گویا مجید امجد کے نزدیک تاریخ کا یہ واقعہ کہ ’’جا بجا وقت کے گنبد میں خدایانِ جہاں ہیں، ان کی شعلہ سی زباں کانپتی روحوں کا لہو چاٹتی آئی ہے، ازل سے ابد تک لہو چاٹتے چلے جانے کے باوجود ان کے ہونٹوں کی پیاس بجھ نہیں سکی۔‘‘… علامت یا پروٹوٹائپ ہے۔ ظاہر ہے یہ واقعہ پوری انسانی تاریخ کا پروٹوٹائپ نہیں ہو سکتا کہ انسانی تاریخ میں ظالم و مظلوم کی کہانی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ انسانی تاریخ میں انسان کی ثقافتی، فکری، تخلیقی فتوحات بھی شامل ہیں، مگر مجید امجد انسانی تاریخ میں مقتدر و محروم طبقات کی کہانی کو مرکزیت دیتے ہیں کہ یہ کہانی نہ صرف نمایاں ہے بلکہ دیگر انسانی فتوحات پر سوالیہ نشان بھی لگاتی ہے۔ نیز یہ وہ کہانی ہے جو ازل سے ابد تک دہرائی جا رہی ہے۔ جو کچھ کل ہوا تھا وہی کچھ آج بھی ہو رہا ہے۔

Citation
Nasir Abbas Nayyar, ” مجید امجد کی نظم نگاری,” in Urdu Point, June 14, 2015. Accessed on June 18, 2015, at: http://www.urdupoint.com/poetry/article/mazaameen/majeed-amjad-ki-nazm-nigari-160.html

Disclaimer
The item above written by Nasir Abbas Nayyar and published in Urdu Point on June 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 18, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Abbas Nayyar:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s