تقسیم، عائشہ جلال اور منٹو

Follow Shabnaama via email
عبدالرئوف

سوشل میڈیا پر دو بہت دلچسپ لطائف گردش کر رہے ہیں۔ آپ بھی انجوائے کریں۔
’’اس ملک میں ضیا الحق، بینظیر اور بھٹو سب زندہ ہیں بدقسمتی سے قائداعظمؒ انتقال کرگئے ہیں،،

’’اگر نوازشریف نے اعلیٰ عہدوں پر اپنے رشتہ دارتعینات کئے ہیں تو اس کی تعریف کی جانی چاہئے ورنہ آج کے دور میں رشتہ داروں کو پوچھتا ہی کون ہے،،ذکر قائداعظم کا بھی آیا۔ قائداعظم نے پاکستان کس طرح سے حاصل کیا؟ ان کی راہ میں کیا کیا مشکلات تھیں؟ اس کا جو ذکرعائشہ جلال نے اپنی کتاب میں یعنی ’’دی سول اسپوکس مین،،میں کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک جریدے کو دیئے گئے انٹرویو میں بعض سوالات بھی اٹھائے ہیں مثلاً یہ کہ قائداعظم کا مطمح نظر یہ تھا کہ پنجاب، سرحد، بلوچستان اور سندھ اور پھر بنگال میں مسلم اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کے پریشر کو استعمال کرکے ہندوستان میں جن صوبوںمیں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کے لئے مراعات حاصل کی جائیں۔ اسی لئے انہوںنے ایک زمانہ تک علیحدہ ملک کے لئے مہم نہیں چلائی۔ انہوں نےکیبنٹ مشن پلان کو بھی قبول کیا لیکن نہرو کی ہٹ دھرمی نے کیبنٹ مشن پلان کو ناکام بنا دیا اور یوں مجبوراً قائداعظم کو تقسیم ہند کی طرف بڑھنا پڑا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس مہم کے لئے کوششیں کی جارہی تھیں یعنی جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کی جائے۔ اسے اس تقسیم سے کیا نقصان ہوا؟ یہ خیال اس لئے بھی ذہن میں آتا ہے کہ اگر پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو تو اس سے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی فائدہ ہوگا لیکن اگر پاکستان کمزور ہوتا ہے تو اس سے یقیناً مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔ آج کل کے حالات میں جس میں مودی ایسی سرکار مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہے اس نے یقیناً مسلمانوں کے لئے ایک بڑی مشکل پیدا کردی ہے۔ ان حالات اور واقعات اور ان پرتبصرے کے لئے عائشہ جلال صاحبہ کی باقی تصانیف بھی پڑھنی چاہئیں۔عائشہ جلال نے ایک سوال جو منٹوصاحب کے بارے میں پوچھا گیا کہ اگر تقسیم نہ ہوتی تو کیا پھر بھی منٹو ایک بڑے رائٹر کے طور پر ابھرتے ؟کے بارےمیں اظہار خیال کیا ہے۔ منٹو کے بارے میں اس سوال کرنے والے کو دراصل منٹو کے ادبی سفر کے بارے میں شاید پوری واقفیت نہیں ہے وگرنہ وہ ایسا سوال نہ کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو افسانہ جس نے بہت جلد عالمی ادب میں ایک بڑا مقام حاصل کرلیا ۔ اسے مقام دلانے میں سعادت حسن منٹو کا بڑا ہاتھ ہے۔ سعادت حسن منٹو افسانے کی کئی جہات پر حاوی تھے۔ بقول شمس الحق عثمانی کبھی منٹو تاریک و متعفن بالاخانے میں مجروح انسانیت کی خاموش فریاد کو آواز دیتے ہیں تو کبھی وہ نوآبادیاتی استحصال کو جدید روشنی کا نام دینے والی برطانوی حکومت کی ریشہ دوانیوں کو طشت از بام کرتے ہیں اور جب فسادات اپنی ہولناکی کو حاوی کردیتے ہیں تو ہم سعادت حسن منٹو کو اعلیٰ انسانی اقدار سے لیس پاتے ہیں چونکہ وہ آنتن چیخوف اور گی وی موپساں کے مترجم رہے اس لئے ادب کا آفاقی معیار ان کے شعور میں ابتدا ہی سے داخل ہوچکا تھا۔ اگر فسادات کے ہولناک تجربے سے انہیں نہ گزرنا پڑتا ، تقسیم نہ ہوتی تو جو اعلیٰ انسانی اقدار ان کی زندگی کا حاصل تھیں اور جو آفاقی معیار ان کے شعور میںداخل ہو چکا تھا اس کی بدولت وہ پھربھی بڑا ادب تخلیق کرتے رہتے۔
منٹو کے حوالے سے ایک اور بات یاد رکھنے کی ہے کہ ایک بار جب سیاسی احتجاج کی پاداش میں فرانسیسی ناول نگار ژاں پال سارترے پر الزام لگا تو فرانس کے صدر ڈیگال نے کہا کہ سارترے کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سارترے فرانس ہے۔ مگر سعادت حسن منٹو پر فخر کے باوجود انہیں عدالت کے چکر کھانے پر مجبور کیا گیا۔ منٹو ایسے لوگوں میں تھے جنہوں نے اس نوزائیدہ ملک کو اعزاز کے قابل بنایا اس لئے بھی کہ اس ملک میں تقسیم کے بعد ہونے والے بہت سے واقعات کی بدولت قرۃالعین حیدر، ساحر لودھیانوی اور بڑے غلام علی خان جیسے لوگ ہندوستان واپس چلے گئے۔ منٹو کو نامساعد حالات کا سامنا تھا لیکن وہ پاکستان ہی میں ڈٹے رہے۔

منٹو کے حوالے سے بھی عائشہ جلال صاحبہ کی تصنیف
The Pity of Partition Manto’s Life, Times and work across the indo -Pak Divide
پڑھی جانی چاہئے۔ منٹو کے بارے میں پڑھتے ہوئے اور انہیں یاد کرتے ہوئے اچانک میرے سامنے جگر مراد آبادی کے کلیات آ گئے۔ چلئے آج ان کی بھی ایک غزل کا تذکرہ کر کے انہیں یاد کر لیتے ہیں۔
پرائے ہاتھوں جینے کی ہوس کیا
نشیمن ہی نہیں تو پھر قفس کیا
مکان و لامکاں سے بھی گزر جا
فضائے شوق میں پرواز خس کیا
کرم صیاد کے صدہا ہیں پھر بھی
فراغ خاطر اہل قفس کیا
اجل خود زندگی سے کانپتی ہے
اجل کی زندگی پر دسترس کیا
زمانے پر قیامت بن کے چھا جا
بنا بیٹھا ہے طوفاں در نفس کیا

Citation
Abdul Rauf, “تقسیم، عائشہ جلال اور منٹو,” in Jang, June 14, 2015. Accessed on June 14, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%AA%D9%82%D8%B3%DB%8C%D9%85%D8%8C-%D8%B9%D8%A7%D8%A6%D8%B4%DB%81-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D9%86%D9%B9%D9%88/

Disclaimer
The item above written by Abdul Rauf and published in Jang on June 14, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 14, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Abdul Rauf:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s