لشکری زبان سے قومی زبان تک

Follow Shabnaama via email
محمد ساجد خان

آج کل اردو زبان کےبارے میں میڈیا میں آئے دن خبریں بنی جارہی ہیں۔ ایک اردو تحریک والے ہیں جو اردو کو قومی زبان کی حیثیت سے منوانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں اس وقت ایک مقدمہ اعلیٰ عدالت میں بھی زیر غور ہے اس مقدمے کا فیصلہ اردو کے حق میں ہوبھی گیا تو کیا اردو کو قومی زبان کی سرکاری حیثیت مل سکے گی۔ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس پر اردو زبان کے دعویدار غور و فکر نہیں کرتے۔ ملک کے طول و عرض میں اردو زبان رابطے کی زبان ہے ۔صوبے اپنے طور پر مقامی زبانوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ سندھ میں سندھی زبان کی حیثیت مسلمہ ہے۔ اس کا ادب اور ثقافت اپنی حیثیت میں ایک مکمل تشخص رکھتا ہے۔ سندھ میں سندھی بولنے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ صوبائی دفاتر میں سندھی زبان میں لکھت پڑھت بھی ہورہی ہے۔ کراچی جیسے اردو بولنے والے شہر میں دوسری اہم زبان سندھی ہے۔ آپ کو سڑکوں کے نام اور ٹریفک کے اشارے قواعد و ضوابط سندھی میں لکھے نظر آتے ہیں۔ سندھی اخبار و رسائل شائع ہورہے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں سندھی بولنے والے صرف سندھی زبان کی وجہ سے اپنی پہچان کرواتے ہیں۔ سندھی زبان کے سلسلے میں کوئی اختلافی مسئلہ بھی نہیں ہے۔ صرف اتنا ضرور ہے کہ اشرافیہ نجی محفلوں میں سندھی ضرور بولتی ہے۔ سندھی ادب میں مسلسل اضافہ بھی ہورہا ہے اگر سندھ میں مزید توجہ دی جائے تو سندھی زبان اور ثقافت مزید مضبوط ہوسکتی ہے اگر سندھ میں ملازمتوں کا امتحان سندھی میں شروع ہوجائے تو اس زبان کو مزید عزت و توقیر مل سکتی ہے۔

دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتو کی حیثیت مسلمہ ہے، وہاں کے اسکولوں میں پشتو میں تعلیم دی جاتی ہے۔ پشتو میں کتابوں کی کمی نہیں پھر پشتو بولنے والے کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہیں۔ ان کی اسمبلی میں زیادہ وقت کارروائی پشتو زبان میں ہوتی ہے۔ صوبے میں اردو زبان بھی تعلیمی ذریعہ ہے مگر تعلیم کے حوالہ سے اہمیت ابھی بھی انگریزی کو ہے۔ اس میں کوئی برائی تو نظر نہیں آتی اگر پشتو کو صوبے کی سرکاری زبان کا درجہ دے دیا جائے تو پشتو کی حیثیت ادبی طور پر مزید معتبر ہوسکتی ہے۔ صوبہ پختونخوا میں پشتو اور اردو کے درمیان کوئی تنازع بھی نہیں ہے۔ بلوچستان میں مقامی طور پر پشتو اور بلوچی زبان بولی جاتی ہے۔ دونوں زبانوں کے بولنے والے خوش اسلوبی سے مقامی ثقافت میں گھل مل کر رہتے ہیں، پھر وہاں تعلیمی معاملات میں اردو کو بھی آزمایا جارہا ہے مگر عام تعلیمی ماحول میں انگریزی زبان کی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی میں بھی انگریزی زبان کو ہی اہمیت دی جاتی ہے اردو اس جگہ بھی رابطے کی مؤثر زبان ہے۔

پنجاب کا معاملہ سب سے انوکھا اور نرالا ہے اس صوبے میں تعلیمی نظام مکمل طور پر انگریزی میں ہے اور تمام اہم امتحانات انگریزی میں ہوتے ہیں۔ دفتروں میں انگریزی کا مکمل غلبہ ہے۔ صرف پٹوار خانے اور تھانے میں لکھت کے حوالے سے اردو کا قبضہ نظر آتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پنجابی بولنے والے اپنی ماں بولی کی قدر کرتے نظر نہیں آتے۔ ایک پنجابی ادبی بورڈ ہے جو بہت ہی بے بس اور بے کس ہے۔ اب پنجاب سے یہ نعرہ بلند ہورہا ہے کہ اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے تو اندازہ ہورہا ہے کہ پنجابی ثقافت کی طرح پنجابی زبان بھی سرکاری سطح پر متروک ہوتی جارہی ہے۔ پنجابی کتابوں رسالوں کی شدید کمی ہے اگر آبادی کا تناظر دیکھا جائے تو نہ تو پنجابی رسم الخط کی کوئی حیثیت اور اہمیت ہے اور نہ ہی اس زبان کی توقیر اور عزت ہے۔اب اردو زبان پر توجہ کی جائے تو اس کی مشہوری ایک لشکری زبان کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ فرنگی نے جب ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد حکومت شروع کی تو اس کو ایک نئی زبان کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پہلے تو عام زبان شہری علاقوں میں فارسی اور مقامی زبانیں تھیں۔ انگریز نے سرکار کے حوالے سے فورٹ ولیم کالج میں اردو کی تعلیم کا بندوبست کیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک اردو زبان میں نئے لفظوں کا اضافہ کم مگر دوسری زبانوں کے الفاظ کی ہی بھرمار رہی ہے۔ اب تو اردو کو بھی انگریزی میں لکھنے کارواج ہماری نئی نسل میں خوب ہے ۔ اردو میں سائنسی علوم کی کتب کی فراوانی بھی نہیں ہے۔ نواب حیدر آباد دکن نے اردو زبان کے حوالے سے کافی کام کروایا۔ مگر وہ بھی کام ان کی زندگی تک محدود رہا ۔

اب اگر اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے وقت آگیا ہے تو اس کی کم از کم تیاری کو کرلیں۔ آپ کا نظام حکومت تو انگریزی زبان پر قائم ہے۔ ملکی سرکاری ادارے ،بنک، تعلیم، صحت، عسکری ذرائع سب کے سب انگریز ی زبان کے مرہون منت ہیں۔ کسی ادارے نے اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ اب یہ تحریک والے بھی قوم کے درد میں مبتلا ہیں اور اردو کے لئے سرگرم عمل ہیں ان کے فقط دعوے ہی دعوے ہیں۔ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں سب سے پہلے تو نچلی سطح پر عوام کے لئے دفتری کارروائی کے لئے اردو زبان کے فارموں اور دیگر کاغذات کا بندوبست کرنے کی ضرورت ہے، پھر اردو زبان میں ترجموں کی بہت ضرورت ہے ۔ اب قرآن پاک کے اردو ترجموں کو دیکھ لیں سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ترجمہ بھی اتنامعتبرنہیں اردو زبان قومی زبان تو بن جائے گی مگر جیسے یہ قوم ایک نہیں ہے ایسے ہی اس زبان کی حیثیت کا معاملہ رہے گا۔

Citation
Muhammad Sajid Khan, “لشکری زبان سے قومی زبان تک,” in Jang, June 13, 2015. Accessed on June 13, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D9%84%D8%B4%DA%A9%D8%B1%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D9%82%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%AA%DA%A9-%D8%AD%D8%B1%D9%81%DB%8C%DB%81/

Disclaimer
The item above written by Muhammad Sajid Khan and published in Jang on June 13, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 13, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhammad Sajid Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s