تھری ڈی شاعر

Follow Shabnaama via email
گل نوخیز اختر

لگ بھگ دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ‘ ٹی ہاؤس بند ہوا توشاعروں ادیبوں نے گورنمنٹ کالج کے سامنے والے گراؤنڈ میں ’’چوپال‘‘ سجا لی۔ روز یہاں کوئی نہ کوئی مشاعرہ بپا ہوتا۔ میرے ایک شاعر دوست حیدر آباد سے تشریف لائے تو میں نے ان کی کتاب کا فنکشن ’’چوپال‘‘ میں رکھ لیا۔ جون جولائی کی تپتی گرمی میں مجھے یقین تھا کہ کوئی ذی شعور لمبی لمبی تقریریں سننے نہیں آئے گا لہذا کافی سوچ و بچار کے بعد ایک طریقہ سوچا اور جتنے بھی دوستوں کو انوائٹ کیا سب کو بتایا کہ آپ آج کی تقریب کے مہمان خصوصی ہیں۔ نتیجتاً شام 6 بجے چوپال ’’مہمان خصوصیوں‘‘ سے بھری ہوئی تھی۔بعد میں سب نے جو میرا حال کیا وہ ایک الگ کہانی ہے تاہم تقریب بڑی کامیاب گئی۔سلمان ہاتف صاحب نے بھی جب مجھے بتایا کہ’’چوپال ‘‘ کے زیراہتمام افتخار فلک کاظمی کے شعری مجموعہ کی تقریب میں آپ مہمان خصوصی ہوں گے تو میرے دماغ میں اپنی ہی کہانی گھوم گئی تاہم سلمان صاحب نے جب بتایا کہ یہ ’’چوپال‘‘ فیس بک کے ایک گروپ کا نام ہے اور یہ گروپ لٹریچر کے حوالے سے بہت اہم کام کر رہا ہے تو مجھے کچھ تسلی ہوئی۔ میں نے دیگر مہمانان کے نام پوچھے تو محترمہ حمیدہ شاہین اور نجیب احمد صاحب کے اسمائے گرامی سن کر مزید حوصلہ ہوگیا ۔افتخار فلک سے یہ میرا پہلا تعارف تھا اور کتاب کی صورت میں تھاکیونکہ ان سے گفتگو کی نوبت تو تقریب کے بعد پیش آئی۔ان کی کتاب چونکہ مجھے عین اُس وقت ملی جب میں تقریب میں پہنچ چکا تھا لہذا میں نے تقریب میں وہی کچھ بولا جو ایسے موقعوں پر انسان کو بولنا چاہیے تاہم اب میں ان کی کتاب مکمل پڑھ چکا ہوں اور بہت کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہوں۔

شاعری ایک طلسم کدہ ہے جہاں وہی چیز توجہ حاصل کرتی ہے جو قدم قدم پر تحیر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ افتخارفلک اس منتر سے بخوبی واقف ہیں لہذا شعر کو محض شعر رکھنے کی بجائے اس کے اندر نئے پن کا ایسا چھٹا مارتے ہیں کہ الفاظ ہوں یا خیالات‘ ہر دو جانب سے تازگی پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

میں اس سے پہلے کہ خود کشی کو حیات بخشوں
مری محبت سے جاں چھڑاؤ‘ مرے خداؤ

شاعری میں نئے راستوں کی تلاش صرف اسی صورت ممکن ہے جب کہنے کے لیے بھی کچھ ہو‘ محض نمک مرچ ‘ گھی اور انڈہ ہو تو خود اندازہ کرلیجئے کہ انڈے کو زیادہ سے زیادہ کتنے طریقوں سے پکایاجاسکتاہے۔ افتخار ملک نئے مضامین کی کھوج نہیں کرتے بلکہ اکثر پرانے مضامین کی کینچلی اتارتے ہیں اور نیا مضمون ظاہر ہوجاتاہے۔ بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہو تو سادہ گفتگو بھی مزیدار لگنے لگتی ہے۔ افتخارفلک کا ہنر یہ ہے کہ انہوں نے شاعری میں ’’تھری ڈی‘‘ کا استعمال کیا ہے‘ جو مضامین کلیشئے بن چکے تھے انہیں اِس نوجوان نے مختلف زاویوں سے دکھایا ہے اور یوں ہمارے لیے حیرت کے نئے در وا کیے ہی‘ بالکل گوگل ارتھ کی طرح جس نے پہلی دفعہ ٹاپ ویو دکھایا تھا تو لوگوں کے دماغ گھوم گئے تھے اور جن سڑکوں پر ہم پل کر جوان ہوئے وہ بھی پہچان میں نہیں آرہی تھیں۔ سڑکیں وہیں موجود تھیں‘ صرف دکھانے کا انداز بدلا تھا۔’’تجھے رونا پڑے گا ہر خوشی پر۔۔۔تری آنکھوں کا پانی مر گیا ہے‘‘

افتخار فلک کو بخوبی اندازہ ہے کہ شاعری میں نئی زمین کی کیااہمیت ہے‘ میں نے ان کی زیادہ تر غزلوں میں بالکل نئی زمین استعمال ہوتے ہوئے دیکھی ہے مثلا’’رواداری میں اٹھ گیا میرا قلم ‘ برادرم۔۔۔استخارہ کیجئے راستے شکارئیے۔۔۔وقف رنج و ملال مت کریو۔۔۔ادب سکھاتاہے بے حیائی سُنی سنائی۔۔۔میرا مطلب ہے تیرا خدا بچ گیا۔۔۔پکڑ کر ہاتھ تیرا ناچتا ہوں۔۔۔لگے ہاتھوں خدائی استعارہ ہاتھ لگ جائے۔۔۔اے مرے چارہ گرو جام بھر و۔۔۔وجود خاک اٹھاؤ دھمال کرتے چلو۔۔۔دم بہ دم دل لگی ‘ دم بہ دم معذرت۔۔۔میں خود پسندی میں مبتلا ہوں بہت برا ہوں۔۔۔جھپٹ کر آمسانوں سے قضائیں نوچ کھاتی ہیں۔۔۔میں بھول جاؤں نہ رکھ رکھاؤ مرے خداؤ۔۔۔اے زمانے بتا کیا ہوئی خودکشی۔۔۔ہماری حیرت وہ آئنہ ہے خدائے حیرت۔۔۔دام ابہام میں آیا تو خجل ہی ہوگا۔۔۔آساں نہیں ہے جادۂ حیرت عبورنا۔۔۔!!!
پرانے مضامین کی کوکھ سے نئے مضامین اجالتا یہ نوجوان شاعری کا ایک نیا آہنگ لیے نمودار ہوا ہے‘ اس کی کتاب کا نام ہے ’’اذیت‘‘ ۔۔۔لیکن یہ ایسی اذیت ہے جس کے اندر سکون ہی سکون ہے۔افتخار فلک اس لیے بھی آگے نکلتا ہوامحسوس ہورہا ہے کہ اپنی ہر غزل کے بعد وہ کشتیاں جلا تا جارہا ہے۔اسے لفظ برتنے کا جادو آتا ہے‘ اسے لفظ کو چہرہ عطا کرنا بھی آتاہے‘ کیسا خوش نصیب ہے کہ جب چاہتا ہے اپنے شعر کو مجسم شکل دے کر قاری کے سامنے لے آتاہے۔کیا آپ نے کبھی ایسا شعر سنا ہے؟’’پیڑوں کو آوازے کسنا آتاہے۔۔۔باقی سارا کام پرندے کرتے ہیں‘‘۔ یہ کتاب ایسے اشعار سے بھری ہوئی ہے ‘ غزل ہر وقت اِس کے چاک پر دھری رہتی ہے ‘ یہ جو سوچتا ہے اسے غزل کے قالب میں ڈھال لیتا ہے ۔ مجھے وہ پرانے دور کا عمرو عیار یا نئے دور کا’’ڈورے مان‘‘ لگتا ہے جس کی جیب یا زنبیل میں ہر مصرعے کی نئی بناوٹ کا سامان موجود ہے۔
مجھے ذاتی طور پر یہ کتاب طلسم ہوشربا محسوس ہوئی‘ ہر شعر الف لیلوی رنگ میں جھلکتا ہوا محسوس ہوتاہے‘ ایسے شعر یونہی نہیں سوچے جاسکتے‘ یہ کوئی خاص عطا ہوتی ہے اور کسی خاص بندے پر ہی ہوتی ہے‘ ذرا افتخار فلک کے یہ شعر دیکھئے۔۔۔!!!

نئے چراغ بناتے ہوئے نہیں ڈرتا
یہ عشق چاک گھماتے ہوئے نہیں ڈرتا
مرے وسیلے سے جتنے بھی پیڑ روئے ہیں
اُنہیں میں ہیر سناتے ہوئے نہیں ڈرتا
میں پیٹ کاٹ کے زندہ ہوں اور ڈرتا ہوں
تُو فن کو بیچ کے کھاتے ہوئے نہیں ڈرتا
حضور آپ ہی روکیں کہ میں تو پاگل ہوں
کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے نہیں ڈرتا

Citation
Gul-e-nokhaiz, “تھری ڈی شاعر,” in Daily Nai Baat, June 13, 2015. Accessed on June 13, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AA%DA%BE%D8%B1%DB%8C-%DA%88%DB%8C-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1

Disclaimer
The item above written by Gul-e-nokhaiz and published in Daily Nai Baat on June 13, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 13, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Gul-e-nokhaiz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s