سندھی کہانی کے سو سال

Follow Shabnaama via email
شبنم گل

کہانی سندھی ادب کی ایک خوبصورت صنف ہے۔ لوک کہانی و ادب نے سندھی کہانی کی ترویج کی۔ سندھی کہانی آغاز میں ہندی زبان سے ترجمہ کی گئی تھیں۔ غیر ملکی تراجم ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ہوتے رہے تھے۔

جس کے بعد ہندوستانی ادیب مختلف زبانوں میں اوریجنل کہانی لکھنے لگے۔ سندھی کے نقاد اپنے مضمون میں لکھتے ہیں، 1914ء میں سندھی کہانی لکھنے کا آغاز ہوا۔ ابتدائی دور میں لال چند امر ڈنومل کی کہانی ’’حرمکھی جا‘‘ بھیرو مل مہر چند کی کہانی ’’پریم جو مھاتم‘‘ دیوان دولچند ڈیا رام کی تاریخی کاوش ’’نورجہاں‘‘ نرملداس فتح چند کی تاریخی کہانی ’’سروجنی‘‘ محمد صدیق کی تاریخی کہانی ’’زیب النسا‘‘ قابل ذکر ہیں۔

اگر دیکھا جائے توکہانی ایک جامع تکنیکی عمل ہے۔ کہانی کی خوبصورتی اور اثر اس کی فنی ساخت میں مضمر ہے۔ کہانی زندگی کے لمحے پر منحصر ہو یا کسی واقعے، حادثے یا مکمل زندگی کا احاطہ کرتی ہو۔ اس کا اظہار ہر لحاظ سے کاملیت کا متقاضی ہے۔

جدید مختصر کہانی کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہزار سے سات ہزار الفاظ پر مشتمل ہونی چاہیے۔ سات ہزار سے تجاوز کرتی ہوئی کہانی ناول کے زمرے میں آتی ہے۔ تاہم سات ہزار سے زیادہ الفاظ پر مشتمل کہانی لکھی گئی ہے۔ طویل کہانی موضوع کی افادیت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ مختصر کہانی آج کل پسند کی جا رہی ہے۔ سو الفاظ پر مشتمل کہانی کو انگریزی میں ڈریبل اسٹوری کہا جاتا ہے۔ جدید دور میں وقت کی کمی کے پیش نظر سو الفاظ پر مشتمل کہانیاں سندھی و اردو میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔

یہ چھوٹی سی چٹکیاں ہیں، جو چونکا دینے والے اچھوتے موضوع کے اردگرد گھومتی ہیں۔ سندھی کہانی کے ابتدائی دور میں مرزا نادر بیگ، امر لعل ہنگورانی، آسانند، بھگوان لعلوانی، شیخ عبدالستار، سوبھوگیان چندانی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہندوکہانی نویس ہندوستان چلے گئے۔ ملک کے سیاسی، سماجی و معاشی حالات نے سندھی کہانی کار کے فکری تسلسل کو بے حد متاثر کیا۔ غیر سندھیوں کی آبادکاری کے بعد مقامی باشندے خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے۔ دوسرے صوبوں سے بھی لوگ سندھ میں آ کر اس زمانے میں آباد ہوئے تھے۔

سندھ مختلف قومیتوں کی آماجگاہ بن گیا۔ کراس کلچر کی وجہ سے شعور و فکر کے نئے زاویے، سندھی دانشور و ادیب اپنے ذہن میں محسوس کرنے لگے۔ سندھی اخبارات اور سندھی ادبی بورڈ کے رسالے ’’مہران‘‘ نے بھی سندھی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھی کہانی کے اس شروعاتی دور کو محقق اہم گردانتے ہیں۔ اس دور نے خوبصورت کہانی کاروں جن میں ایاز قادری، جمال ابڑو، غلام ربانی، شیخ حفیظ، سراج ، نجم عباسی، ابن حیات پنہور، شیخ عبدالرزاق، رشید بھٹی، ع۔ق شیخ، بشیر موریانی اور ثمرہ زرین کے نام شامل ہیں۔ اس دور کے کئی تضادات تھے۔

جاگیرداری نظام کے بوجھ تلے سندھ کی معیشت طبقاتی کشمکش کا شکار تھی۔ دیہی و شہری علاقوں میں واضح تضاد پایا جاتا تھا۔ سندھ کے مقامی باشندے احساس محرومی کا شکار تھے۔ ایک طرف زمینداری نظام اور رجعت پرست طبقے ان کے مقابل تھے تو دوسری طرف غیر سندھی ان کے وسائل پر قابض ہو چکے تھے۔ پہلے دورکے ان تمام ترکہانی کاروں نے اپنی کہانیوں کے توسط سے ان مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ خاص طور پر غربت، جہالت اور غیر انسانی رویوں کا ذکر ان کہانیوں میں جابجا ملتا ہے۔

کہانی کی فنی ساخت بھرپور تھی، موضوع سماجی حقیقت نگاری سے مزین اور دل کو چھو لینے والے تھے۔ جمال ابڑوکی کہانی ’’پیرانی‘‘ موضوع کے اعتبار سے شاہکار کہانی ہے۔ بلوچستان سے آئے ہوئے غربت کے قافلے اس زمانے میں جا بجا آیا کرتے تھے۔ بھوک و افلاس کا ستایا ہوا باپ چھوٹی پیرانی کو بیچ دیتا ہے۔ والدین سے جدا ہوتی پیرانی کی کیفیت اور لخت جگر چھنتے وقت ماں کی اذیت کے انداز بیاں کی خوبصورتی نے کہانی کو سندھی ادب میں منفرد مقام عطا کیا ہے۔ جسے عالمی ادب کے ہم پلہ تحریر قرار دیا جا سکتا ہے۔ کہانی کے اس پہلے دور میں ایاز قادری کی کہانیاں موضوع، ٹیکنیک اور کردار نگاری کے حوالے سے بھرپور ہیں۔ ثمرہ زرین کا نام اوائلی افسانے کے دور میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ پہلی سندھی خاتون کہانی نویس ہیں، جس نے روایتی دور کی غیر انسانی رویوں پر آواز اٹھائی۔ سندھی کہانی کے دوسرے دور کا آغاز ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں غیر جمہوری قوتیں سرگرم تھیں۔ ثقافتی نفوذ، طبقاتی کشمکش، غیر انسانی رویے اور بنیاد پرستی جڑ پکڑنے لگی تھی۔ سندھی سماج کے لیے یہ ازسرنو بیداری کا دور تھا۔ جب صحافی اور سندھ کے ادیب و دانشور سندھی زبان اور سندھیوں کے حقوق کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔ سماجی شعور کو اجاگر کرنے والے کہانی نویسوں میں امر جلیل، علی بابا، شوکت حسین شورو، نسیم کھرل، عبدالقادر جونیجو، سراج الحق میمن، مانک، اور نجم عباسی کے نام شامل ہیں۔

اس دور میں کہانی نویس وجود کی حقیقت کے بارے میں سوال اٹھانے کے ساتھ، ذہنی و نفسیاتی الجھنوں کے بارے میں لکھنے لگے۔ جبر، ذہنی حبس اور جنس کے موضوع پر بھی کئی بے باک کہانیاں لکھی گئیں۔ جو کہ اعلیٰ پائے کی تھیں، یہ کیفیت ستر کی دہائی میں عروج پر پہنچ گئی۔ کیونکہ لوگ اب دیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں منتقل ہونے لگے تھے۔ علمی و ادبی طور پر سندھ میں شعور و آگہی کی نئی لہر اٹھنے لگی۔

غیر ملکی ادب نہ فقط پڑھا جانے لگا، بلکہ غیر ملکی کہانیوں کے ترجمے شایع ہونے لگے۔ سندھی ادیب مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کرنے لگے۔ یہ رجحانات انگریزی، اٹالین، فرینچ و روسی ادب سے سندھی ادب میں مروج ہونے لگے۔ Stream of Consciousness بے ساختہ شعوری بہاؤ کی ٹیکنیک متعارف ہوئی۔ جو جیمس جوائس اور قرۃ العین حیدر کی تحریر کا خاصا تھی۔

علامتی، تجریدیت، سیرئیلزم جیسے موضوع پر بھی سندھی کہانی لکھی جانے لگی۔ اخلاق انصاری، طارق عالم ابڑو، مدد علی سندھی، کیہر شوکت، لیاقت رضوی، شوکت حسین شورو اور ممتاز مہر، نئے موضوعات متعارف کروائے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوامی سطح پر سماجی حقیقت نگاری اور عام زندگی کے موضوعات کو زیادہ پسند کیا جاتا رہا ہے۔ سندھی ادب پر نہ فقط غیر ملکی ادب کا اثر رہا ہے بلکہ اردو ادب بھی اس رجحان سے دامن نہیں بچا سکا۔ کرشن چندر، موپاساں سے متاثر تھا۔ سندھی افسانہ نویس انیس انصاری کی کہانیاں بھی موپاساں کی تکنیک پر لکھی گئی ہیں۔

مختصر کہانی جس کا اختتام چونکا دینے والا ہے۔ موپاساں اور کرشن چندر Plot Twist کہانی میں ڈرامائی عنصر شامل ہے۔ جیمس جوائس نے سب سے پہلے یہ فنی مہارت متعارف کرائی تھی جسے Epiphany کہا جاتا ہے۔ جس میں کردار، واقعات کو حقائق کی شعوری روشنی میں نئے انداز سے دیکھتے ہیں۔

جدید کہانی میں نورالہدیٰ شاہ، رسول بخش پلیجو، شیخ ایاز، غلام بنی مغل، نذیر ناز، شگفتہ شاہ، حمید سندھی، بیدل مسرور، شمشیرالحیدری، قمرشہباز، ابراہیم جویو، اشتیاق انصاری، شبنم گل، تہمینہ مفتی، ماہتاب محبوب، خیرالنسا جعفری، زرینہ بلوچ، تنویر جونیجو، رعنا شفیق، رشید، حباب اور فہمیدہ حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔

سندھی کہانی میں ذاتی احساس محرومی اور مسائل کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ یہ داخلی رجحان رزاق مہر، رفیق سومرو، کیہر شوکت، منور سراج، محمود مغل، رسول میمن، ممتاز لوہار، طارق قریشی، منظور کوھیا، حمید ابڑو، منظور جوکھیو، جہاں آرا سومرو، بانو محبوب، ایوب گاد، احسان دانش، شبانہ سندھی، ثمینہ میمن ، نجمہ پنہور، ریحانہ نذیر، رضوان گل، انورکا کا، عباس کوریجو کی کہانیوں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ 1914ء سے 2014ء تک سندھی کہانی نے ایک صدی مکمل کر لی ہے۔ انیس اکیڈمی اور مختلف ادبی و سماجی تنظیموں نے مل کر سندھی کہانی کا صد سالہ جشن منایا۔ اور سندھی کہانی کے حوالے سے پروگرام اور نشستیں منعقد کیں۔

Citation
Shabnum Gul, “سندھی کہانی کے سو سال,” in Express Urdu, June 11, 2015. Accessed on June 12, 2015, at: http://www.express.pk/story/365399/

Disclaimer
The item above written by Shabnum Gul and published in Express Urdu on June 11, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 12, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Shabnum Gul:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s