کتابیں بولتی ہیں

Follow Shabnaama via email
جاہد احمد

رضاء الحق صدیقی صاحب کی تازہ مطبوعہ ’ کتابیں بولتی ہیں‘ ہاتھ لگی تو فوری اثرتو یہ ہوا کہ دماغ غیر ارادی طور پر آس پاس پھیلے ہیجان، افراتفری، چیخ و پکاراور قنوطیت کے چنگل سے راہ فرار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔کتاب کا بہترین سرورق اور اس قدر خوبصورت عنوان کسی بھی کتاب دوست کی توجہ کھینچنے کے لئے کافی ہے۔کتاب کی بولی کتاب سے شغف رکھنے والے خوب سمجھتے ہیں کیونکہ کتاب بولتی بھی ہے اور چہچہاتی بھی، یہ اپنی باتوں سے اداس بھی کر جاتی ہے اور زندگی کے رنگ بھی بکھیرتی ہے، یہ استاد بھی ہے اور اٹکھیلیاں کرتا نادان بچہ بھی۔ یہ لوری بھی دیتی ہے اور ساری ساری رات جگا بھی سکتی ہے!!! اب ایسا عنوان تخلیق کرنے والا خود کیسا ادب شناس اور کتاب دوست ہو گا عنوان پڑھنے کے بعد اس کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل بات نہیں رہ جاتی۔واہ! کیا بات ہے!’ کتابیں بولتی ہیں‘۔

رضاء الحق صدیقی صاحب اردو ادب کا وسیع تر مطالعہ رکھتے ہیں اور ان کی ’کتابیں بولتی ہیں‘ اس علم و فہم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو اپنے عنوان کی طرح یہ کتاب واقعی دل و دماغ میں بولتی محسوس ہونے لگی۔ تجزیاتی و ادبی مضامین پر مشتمل یہ کتاب قاری کو جہاں متعدد جانے پہچانے تخلیق کاروں کے فن کے حوالے سے رائے قائم کرنے یا پہلے سے قائم شدہ رائے کا تقابلی جائزہ لینے میں مدد دیتی ہے وہیں یہ کتاب ایسی تخلیقی شخصیات کے فن سے بھی روشناس کراتی ہے جو ادب کی دنیا میں نووارد ضرور ہیں لیکن ناتواں نہیں اور مستقبل میں اپنا لوہا منوانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔

’کتابیں بولتی ہیں‘تخلیق کاروں کے نثری و شعری فن پاروں کے تجزیاتی مطالعہ جات پر مبنی سچے اور کھرے ادبی تجزیہ نگار کی ایسی سچی کاوش ہے جس میں تنقید کا عنصر تضحیک اور ہتک عزت کے زہر سے پاک ہے، ایسا متوازن تجزیہ جو تتلی کی اڑان کی طرح غیر محسوس انداز میں خامی کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور مثبت پہلوؤں پر رنگ بھی بکھیرتا چلا جاتا ہے یوں کہ تخلیق کار کا حوصلہ بھی بلند رہے اور خامی بھی در پردہ نہ رہے۔ یہی خوبی رضاء الحق صدیقی صاحب کو تنقید نگار کہلائے جانے والے دیگر قلمکاروں سے ممتاز کرتی ہے! رضا صاحب ادبی سطح پر طے شدہ اصولوں کے تحت پُر مغز تجزیہ کرتے ہیں۔ محض تنقید برائے تنقیدنگاری نہیں!!

رضاء الحق صدیقی صاحب کی ’ کتابیں بولتی ہیں‘ قاری کاہاتھ پکڑ کر ایک ایک کرتے ہوئے مضمون با مضمون ادبی شخصیات سے ملاقات کراتی اور اس کے فن بارے بات چیت کرتی ہولے ہولے آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ احساس بھی نہیں ہوتا کہ ملاقات اور بات چیت کا سلسلہ کب شروع ہو کر ختم بھی ہوگیا۔ بہر حال ملاقات وہی اچھی جس میں ملاقات کے بعد بھی کچھ کسک کچھ کمی کچھ تشنگی رہ جائے۔ تاکہ دوبارہ ملنے کی تڑپ کم از کم برقرار رہے۔ یہی اس کتاب کی خوبی ہے کہ یہ اپنے لئے مزید طلب کی خواہش پیدا کرتی ہے ۔

’کتابیں بولتی ہیں‘ بلاشبہ بنیادی و اولین طور پر فن پاروں کے تجزیاتی مضامین پر مشتمل کتاب ہے! لیکن احمد ندیم قاسمی، خالد احمد، شہزاد احمد، مجید امجد، گلزار، مشرف عالم ذوقی جیسے افراد پر لکھے گئے ادبی و توصیفی مضامین ان نابغہ روزگار تخلیق کاروں کے فن کی نئی جہتوں سے آگاہی بخشتے ہوئے کتاب کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ اسی طرح کتاب کا ابتدائیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو ان جائزاتی مطالعہ جات کی بنیاد یا اپروچ یا اصولوں کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تجزیہ کار اپنی ذاتی پسند و نا پسند کو بھی کسی معیار یا طے شدہ اصولوں کی کسوٹی پر پرکھے بغیر رائے دینے پر تیار نہیں۔ کتاب کی بنیاد گہری اور مضبوط ہے، لکھنے والا باذوق باشعور باخبر با علم باکردار اورزمانہ و ادب شناس شخص ہے، کتاب ادبی محاسن پر صفحہ با صفحہ موقع محل کی مناسبت سے پُر اختصارمگر مدلل و مکمل گفت و شنید کرتی ہے۔ اس کتاب کا ہر ہر صفحہ ادبی گیان کی بولی بولتا ہے ۔ ایسی خوبصورت بولتی کتاب کو سامعین قارئین کی صورت مل جائیں تو لکھاری کی محنت ٹھکانے لگ جائے گی۔باقی اس کتاب کے بارے میں حتمی رائے تو قارئین خود پڑھ کر ہی قائم کر یں گے!!!

اختتام میںآغاز سے متعلق کہنا ضروری ہے کہ کتاب کا انتساب ایک ایسا جز ہے جو محض چند سطروں پر مشتمل ہونے کے باوجودمصنف کے لئے ہمیشہ انتہائی اہم رہتا ہے اور کسی خاص شخصیت سے اس کی جذباتی وابستگی کامہر ثبت ثبوت بھی ہوتا ہے۔ رضا صاحب نے یہ کتاب اپنے بابا ضیا الحق صدیقی صاحب کے نام کی ہے جنہیں وہ بابا جی سرکار اور مرشدِ کامل کہہ کر کتاب کے آغاز میں آواز دے رہے ہیں۔ رضا صاحب کے بابا جی یقیناًبہت خوش ہوں گے کہ ان کے رضا نے ’کتابیں بولتی ہیں‘ کو ان کے نام سے منسوب کر کے اس کتاب کے ساتھ زندہ جاوید کر دیا ہے جو کہ اردو کے تنقیدی ادب میں منفرد مقام کی حامل تجزیاتی کتاب کے طور پر جانی پہچانی جائے گی۔ یقیناًرضاء الحق صدیقی صاحب اور ان کی اہلیہ اعلی معیار کی اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔

’کتابیں بولتی ہیں‘ کے ناشر گگن شاہد اور امر شاہد ہیں جبکہ یہ کتاب بک کارنر جہلم سے بذریعہ ٹیلی فونک یا آن لائن آرڈرسے بھی خریدی جا سکتی ہے۔

Citation
Jahid Ahmad, “کتابیں بولتی ہیں,” in Daily Nai Baat, June 11, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA

Disclaimer
The item above written by Jahid Ahmad and published in Daily Nai Baat on June 11, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Jahid Ahmad:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s