یو ایم ٹی میں لاہوری ناشتہ

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

ناشتہ کیا ہوتا ہے؟ یہ صرف لاہوریے جانتے ہیں۔ ”لاہوری ناشتہ“ باقاعدہ ایک اصطلاح استعمال ہونے لگی ہے۔ اس ناشتے کا کمزور آدمی تو متحمل ہی نہیںہو سکتا۔ اِس میں سری پائے اور کھد بالخصوص اور پراٹھے‘ حلوہ پوری اور نان چنے بالعموم رکھے جاتے ہیں۔ حوصلہ مند لوگ اس میں حریصہ بھی شامل کر لیتے ہیں میں نے حریصہ جان بوجھ کر ص سے لکھا ہے کہ اسے حرص سے ہونا چاہئے۔ لسی لاہوری ناشتے کا جزوخاص ہے۔ میں نے یہ اجزا و عوامل اس لئے بتا دیئے ہیں کہ ان کے بغیر کسی ناشتے کو ”لاہوری ناشتہ“ کہنا زیادتی کے زمرے میں آئے گا۔
پچھلے دنوں اکادمی ادبیات نے UMTیونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک اُردو کانفرنس کی تو چائے کے دوران گپ شپ کے دورانUMT کے وائس چانسلر صہیب حسن مراد نے شدید خواہش کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی چاہتی ہے کہ وہ ہر ماہ کی پہلی اتوار کو ادیبوں اور شاعروں کے لئے یہاں ناشتے کا اہتمام کرے کہ سب کو بہم مل بیٹھنے کا موقع فراہم ہو جائے کہ یہ ادب کی ترویج کے لئے بہت کار آمد ہوگا‘ ہر ماہ ادیب شاعر دانشور تبادلہ خیال کر لیا کریں گے۔ یونیورسٹی کے لئے بھی یہ ایک اعزاز ہوگا کہ یہاں دانشور ہر ماہ جمع ہوتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ کنوینس کا بندوبست تو بہرحال انہی کو کرنا پڑے گا۔ صہیب صاحب نے فوراً صاد کیا۔
چند روز قبل عمرانہ مشتاق مانی کا فون آیاکہ جون کی پہلی اتوار UMTمیں ”لاہوری ناشتہ“ کا اہتمام کیا جار ہا ہے اور اس کے روح رواں UMT پریس کے چیئرمین مرزا محمد الیاس ہیں اور کنوینئر عمرانہ خود ہے۔میں پہلے ہی عمرانہ کو بے چین روح کہتا ہوں۔ شاعروں کو رابطے میں لانا کوئی آسان نہیں۔ میرا خیال تھا کہ گرمی‘ دوری اور اتوار کی چھٹی کے باعث ممکن نہیں ہوگا کہ زیادہ ادیب شاعر آسکیں۔ مگر میرے سارے اندازے دھرے رہ گئے کہ جب میں اور نسیم اختر وہاں پہنچے تو ہال جیسے بھرا ہوا تھا لگتا تھا شاعر ادیب تو گھر سے نکلنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے۔ شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کے علاوہ صحافی اور کالم نگار بھی وہاں موجود تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تو تھے جو کسی بھی کیٹی گری میں نہیں تھے۔ بہرحال ناشتہ تو انہیں بھی کرنا تھا۔ خاصہ مرغن ناشتہ تھا۔ ایسا ناشتہ لکھنو میں ہو تو آخری ناشتہ سمجھا جائے۔

ادیبوں شاعروں میں تو کئی نازک اندام بھی تھے جو بمشکل ایک سلائس اور انڈا ناشتے میں لیتے ہوں مگر یہاں وہ رونق میلے اور گپ شپ کے لئے آئے تھے۔ اصل میں ناشتہ انہی کا آئٹم تھا جو صرف ناشتے کے لئے آئے تھے اور وہ ناشتہ کرتے دکھائی بھی دے رہے تھے۔ خاص طور پر چھوٹے پائے کافی مقدار میں تھے مگر مہم جو تو مہم جو ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ ”پائے“ کا ناشتہ تھا۔

گرم گرم پوریاں تھیں اور تازہ تازہ نان۔ چنے اور حلوہ بہتات میں تھا مگر شاعروں کو حلوے سے اتنی ہی چڑ ہے جتنی ناصح سے۔ چونکہ پوری ساتھ تھی اس لئے حلوہ بھی کھایا گیا۔ ترس تو ان لوگوں پر آرہا تھا جو ڈبل روٹی اور آملیٹ یا فرائی انڈا سامنے رکھ کر بیٹھے تھے۔ ویسے لاہوری ناشتے میں سلائس وغیرہ بے محل تھے شاید منتظمین نے سوچا ہو کہ کچھ لوگ پرہیزی ناشتہ کرتے ہوں۔

میں یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ ناشتے کا وقت دس بجے کا تھا۔ لوگ دس بجے یقینا آنا شروع ہوگئے ہونگے مگر سمجھدار ”ان ٹائم“آنا چاہتے تھے تاکہ انتظار ناشتہ نہ کھینچنا پڑے۔ شاعروں‘ ادیبوں کی توقعات کے برعکس مائیک پر عمرانہ مشتاق مانی نے ناشتے کے اغراض و مقاصد اور فوائد بتانا شروع کر دیئے۔ اس کے بعد مرزا محمد الیاس‘ ڈاکٹر اعجاز گیلپ والے اور ایک آدھ اور نے تقریر وغیرہ کی لیکن حرام کسی نے کچھ سنا ہو۔ سب وہاں گپ شپ کے لئے آئے تھے اور گپ شپ کسی کی تقریر کے دوران زیادہ بہتر انداز میں ہو سکتی ہے۔ اصل میں دائروں میں سٹنگ تھی اور لوگوں کی توجہ سرکل میں تھی۔ ہماری میز کے اردگر ایوب خاور ‘ ڈاکٹر اختر شمار‘ شفیق احمد‘ ڈاکٹر غافر شہزاد اور دوسرے دوست تھے قریب ہی نسیم اختر‘ ڈاکٹر شاہد‘ دلاور شاہ‘ رفعت مظہر ‘ نیلما ناہید درانی‘ آغا مزمل‘ اعتبار ساجد اور زاہد شمسی بیٹھے تھے۔ کسی نے کہا کہCommon is Not very common میں نے نظر گھمائی تو ایک طرف نعمان منظور نظر آیا جس نے زرق برق لباس پہنا ہوا تھا میں نے کہا یہ ناشتہ کم تمہارا ولیمہ زیادہ لگتا ہے۔ غافر شہزاد نے کہاکہ یہ لکھنا ضرور ہے اور اس کالم کی کاپی اس کے گھر بھی خود بخود چلی جائے گی کہ وہ بھی تو نئی بات میںلکھتا ہے۔ مزے مزے کی گپ شپ ہوتی رہی۔ اس دن میرا کالمMercy killingچھپا تھا جس میں میں نے کوئی نام نہیں لکھا تھا مگر وہاں سب کو معلوم تھا کہ متعلقہ شاعرہ نیلما ناہید درانی ہیں۔ رو¿ف طاہر نے بھی مجھ سے پوچھا خاص طور پر جب جناب عطاءالرحمن آئے تو انہوں نے بطور خاص میرے کالم کا حوالہ دیا اور نیلما کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

کچھ لوگوں میں بے چینی دیکھ کر میں نے کہا اچھے وہی رہے جو گھرے سے ہلکا پھلکا ناشتہ کر آئے ۔مگر میں نے یہ بات کسی کا حوصلہ پست کرنے کے لئے نہیں کہی تھی۔12بجے تو واقعی سب کی بھوک چمک چکی تھی‘ تب تو ناشتے کا مزہ دو بالا ہوگیا۔ جنہوں نے میز وں تک پہنچنے میں دیر کی وہ پائے تو نہ لے پائے تاہم باقی لوازمات بھی کافی تھے چائے بھی تھی اور کافی بھی۔ ”دودھ پینے والوں کے لئے بھی کوئی ممانعت نہیں تھی۔ مگر وہاں سو کھا دودھ میسر تھا جسے آپ وائٹنرWhitener“ کہتے ہیں۔ میں تو اس چائے کو تعویذ والی چائے کہتا ہوں۔ مکس چائے کا اپنا مزہ ہے کہ اس میںLiquidدودھ پڑتا ہے۔ میں مگر کافی کا شیدائی ہوں۔ احمد سہیل میرے لئے بطور خاص بنوا لایا تھا۔

فکشن رائٹر زاور صحافیوں کی پوری کوشش تھی کہ کہیں اب مشاعرہ نہ شروع ہو جائے مگر وہی ہو ا کچھ بے تاب و بے قرار شاعر ہال کے کارنر میں بیٹھ گئے اور ممتاز راشد نے نظامت سنبھال کر مشاعرے کی طرح ڈال دی۔ پہلے تو وہاں موجود لوگ اس مشاعرے کو نظر انداز کرتے رہے مگر رفتہ رفتہ کھسکتے کھسکتے ادھر پہنچ گئے۔ برکت کے لئے سب دو دو اشعار یا تین تین اشعار سنا رہے تھے۔ سعادت سعید‘ قاضی جاوید‘ سلمیٰ اعوان‘ درنحف زیبی‘ سرفراز شاہ‘ حفیظ طاہر اور دوسرے کئی شاعر موجود تھے۔ میرا مصمم ارادہ تھا کہ مشاعرہ نہیں پڑھنا۔مگر دوستوںنے اصرار کیا کہ دو اشعار تو ضرور سنا دیں تاکہ کارروائی پوری ہو جائے میں نے دو تین اشعار سنائے تو معروف اینکر فاطمہ احمد کہنے لگی جی ”میں نے سوچا کچھ نہیں“ والی غزل ضرور سناﺅں۔ میں نے فرمائش کی تعمیل کی تو وہاں موجود نواز کھرل نے بھی مطالبہ داغ دیا کہ پنجابی شاعری کے بغیر نہیں جان چھوٹے گی۔ میں سعادت سعید کی طرف دیکھا‘ انہوں نے تائید کر دی۔ اصل میں وہاں نوجوان آ بیٹھے تھے اور نوجوان مجھے بہت پیار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ نواز کھرل کو بھی میں نے انہی نوجوانوں میں شامل کیا ہے ناصر بلوچ‘ نوید مرزا‘ اشرف سلیم‘ حسین مجروح‘ آصف بھلی‘ انس احمد اور ایسے ہی کچھ دوست تھے۔ اصل میں اس حوالے سے میرا جنرل نالج بہت کم ہے۔ مانی نے مجھے بتایا کہ فلم انڈسٹری سے بھی کچھ مشہور لوگ آئے تھے مگر میری کم علمی ۔ مرزا احمد الیاس سے مل کر اس لئے زیادہ خوشی ہوئی کہ وہ UMT میں انگریزی پڑھا رہے ہیں۔ میرے محسن راﺅ جلیل صاحب توUMT میں صدر شعبہ ہیں اور ان کا یونیورسٹی میں ہونا یونیورسٹی کی خوش بختی ہے۔ آخر میں اسی غزل کے چند اشعار جس کی فاطمہ احمد نے فرمائش کی تھی:

اُس نے بس اتنا کہا میں نے سوچا کچھ نہیں
میں وہیں پتھرا گیا میں نے سوچا کچھ نہیں
کیا ہے وہ‘ کیسا ہے وہ‘ مجھ کو اس سے کیا غرض
وہ مجھے اچھا لگا میں نے سوچا کچھ نہیں
اُس کے بارے سوچنا‘ سوچنا بھی رات دن
پھر بھی مجھ کو یوں لگا میں نے سوچا کچھ نہیں
میں بھی تو انسان تھا ایک خامی رہ گئی
میں نے جس کو دل دیا میں نے سوچا کچھ نہیں

Citation
Saadullah Shah, “یو ایم ٹی میں لاہوری ناشتہ,” in Daily Nai Baat, June 10, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DB%8C%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D9%B9%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D8%B4%D8%AA%DB%81

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on June 10, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s