لاہورکی ایک پر وقار تقریب

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

خالد احمد نے عجب دعا کی تھی جو بار یاب بھی ہوئی!

کھلا مجھ پر در امکان رکھنا
مرے مولا مجھے حیران رکھنا

میں نے اس کی متحیر پتلیاں دیکھی تھیں جن کے پیچھے جاگتا ہوا دماغ تھا۔ وہ ملامتی خواص رکھنے والا ایک درویش تھا جو اپنی دھن میں مست زندگی کی لہروں پر چلتا رہا اور بے نیازی سے اپنی منزل پر جا پہنچا۔ انہیں دیکھ کر مجھے شہزاد احمد کا مصرع یاد آتا ہے ”چلتی ہے زیر دشت بھی پانی کی ایک لہر“۔ وہ محفل آرائی میں بھی در پردہ سخن آرائی میں مصروف ہوتے۔ 5 جون 2015ءکو الحمراءہال میں ان کی 72 ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر ”خالد احمد ایوارڈ“ کا سلسلہ بھی تھا جس میں 2014ءکے انعام یافتگان کو 50ہزار روپے نقد انعام بھی دیا گیا۔ شاہد ماکلی کو شعری مجموعہ ”تناظر“ فرحت پروین کو نثری مجموعہ افسانہ ”بزم شیشہ گراں“ پر اور حضرت عطاءالحق قاسمی کو لائف اچیومنٹ کے طور پر اس انعام سے نوازا گیا۔

بنیادی طور پر یہ سب کچھ خالد احمد کو یاد کرنے کا ایک بہانہ تھا جس شخص نے اپنے پیچھے اتنے محبت کرنے والے چھوڑے ہوں تو وہ کیونکر نہ یاد کریں گے۔ میں بھی تو محض خالد احمد کے لئے کشاں کشاں تقریب میں پہنچا تھا۔ مجھے ان کا ایک انداز اب تک یاد ہے کہ جب ہم دونوں یو اے ای کے لئے لاہور کے ائیر پورٹ سے روانہ ہورہے تھے تو وہاں ہوٹل پر چائے پی تھی جس کا بل خالد احمد نے دیا مگر حیرت کی بات یہ کہ ویٹر کوجو ٹپ دیا گیا وہ بل سے زیادہ تھا۔ سلفائیٹ اپنے رویوں میں ایسے ہی ہوتے ہیں۔ الحمراءہال کی یہ تقریبا بلا مبالغہ شاندار اور یادگار تقریب تھی۔ کونسا ایسا اہم ادیب شاعر ہوگا جو خالد احمد کی محبت سے سرشار وہاں نہ آیا ہوگا۔ میں نے محاورتاً بات کی ہے لیکن ایسا نہ ہوکہ کچھ بڑے ادیب گھر بیٹھے ہی مجھ سے ناراض ہوجائیں۔ اس محفل کی ایک خاصیت یہ تھی کہ اس میں فیملیز آئی تھیں جس سے ایک خاص قسم کی اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔ آغاز تلاوت سے ہوا، سرور حسین نقشبندی نے نعت پڑھی اور پھر خالد احمد کی غزلیں گائی گئیں تو داد و تحسین کی آوازوں کے ساتھ ساتھ بچوں کا شور بھی تھا جو راہداریوں میں اپنی ماﺅں سے بے نیاز شرارتیں کررہے تھے۔ گویا ایک رونق میلے کا تاثر بھی ابھرتا تھا۔

چشتی برادران یعنی جمشید چشتی اور اسرار چشتی چھائے ہوئے تھے کہ ان کے شاگردوں نے بھی خالد احمد کا کلام پیش کیا۔ اعجاز رضوی تو انہیں بڑے غلام علی اور چھوٹے غلام علی کے مشابہ قرار دے رہا تھا جس پر محفل قہقہہ بار ہوئی۔ اسرار نے تو خالد احمد کی لازوال نظم شاہ حسین سے کچھ اشعار سنائے۔ جمشید چشتی نے سماں باندھ دیا اور وہ ہار مونیم کو ایک ماہر گائیک کی طرح استعمال کررہا تھا اور ہاتھوں کی حرکتیں بھی مہا گائیک کی تھیں۔ غزل بھی تو کمال تھی:

رنگ کہتے ہیں کہانی میری
کس کی خوشبو تھی جوانی میری
کوہ سے دشت میں لے آئی ہے
دشمن جاں ہے روانی میری
کوئی پائے تو مجھے کیا پائے
کھوئے رہنا ہے نشانی میری
ناقدوں نے مجھے پرکھا خالد
خاک صحراﺅں نے چھانی میری

گلوکار عنایت عابد اس تقریب کے پہلے حصے کا آخری گلوکار تھا۔ وہ بہت سریلا ہے اور اس کے ہاں ایک عجب سوزوگداز ہے۔ اس نے تو جیسے محفل ہی اپنے نام کرلی۔ میں نے اسے کہا”عنایت یار! کمال کردیا ہے تم نے“ کہنے لگا ”سرجی! ”ٹھاڑیوں“ اور ”عطائیوں“ میں فرق تو ہوتا ہے! اب آپ یہ پوچھیں گے ان دونوں میں فرق کیا ہوتا ہے؟ بس یہی کہ ”ٹھاڑی“ سرساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے یہ غزل بار ہا خالد احمد ہی سے سن رکھی تھی۔ مزے کی بات ہے جب کبھی خالد صاحب موڈ میں ہوتے تو غزل خود گنگناتے اور پھر اس میں ڈوب جاتے۔ انہیں اس کیفیت میں غزل سرا دیکھ کر سامعین جھوم جھوم جاتے۔ اس غزل کے دو تین اشعار پڑھ لیجئے:

بات سے بات نکلنے کے وسیلے نہ رہے
لب رسیلے نہ رہے نین نشیلے نہ رہے
پھول سے باس جدا فکر سے احساس جدا
فرد سے ٹوٹ گئے فرد قبیلے نہ رہے
موت نے چھین لیا رنگ بھی نم بھی خالد
آنکھ بھی سوکھ گئی، ہونٹ بھی نیلے نہ رہے

اس کے بعد تقریب کا دوسرا مرحلہ تھا جس میں انعام یافتگان پر تقاریر تھیں۔ حوصلہ مند بیٹھے رہے اور کچھ میرے جیسے تازہ ہوا کھانے کے لئے کچھ دیر کو ہال سے نکل گئے۔ دوسرے حصے میں صدارت ناہید قاسمی کی تھی جب کہ ان کے ساتھ ڈاکٹر خورشید رضوی، امجد اسلام امجد، عطا الحق قاسمی اور نجیب احمد بھی تھے۔ احمد ندیم قاسمی کی ذات بھی زیر بحث آئی کہ آخر احمد ندیم جیسے بڑے ادیب کے لئے اب تک لاہور اور اسلام میں کوئی سڑک یا ا نڈر پاس کیوں نہیں۔ مخالف لابی اتنی زور دار ہے کہ عطا الحق قاسمی بھی بے اثر ٹھہرے۔ مجھے اعجاز کنور راجا کا یہ شعر بے محل نہیں لگا:

خالد احمد بھی کسی روزکھلے گا ہم پر
جس طرح میر کھلا، غالب و اقبال کھلا

یوسف حسن نے ٹھیک کہا تھا کہ اب خالد احمد پر کام ہونا چاہئے۔ میں ان کی اس بات سے متفق نہیں کہ خالد کو نعت کی بنیاد پر بڑا شاعر بنانے کی کوشش اصل میں انہیں محدود کرنے کی کوشش ہے۔ میرا خیال ہے کہ تشبیب ہی نے انہیں انفرادیت عطا کی اور یہ اسی طویل قصیدے کی برکت سے وہ ”نم گرفتہ“ جیسے عظیم شعری مجموعے تک پہنچے۔ یہ بات خالد احمد خود بھی سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے اپنے شعری سفر کا آغاز ہی نعتیہ مجموعے سے کیا جو اپنی ڈکشن اور حسن اختصار کے باعث لاجواب ہدیہ ہے۔

بات میں کررہا تھا تقریب کی عمران منظور اور نعمان منظور نے ماہنامہ بیاض کے تحت آراستہ کیا تھا۔ اس میں خالد احمد کی پر لطف یادیں بھی تھیں کہ وہ کمال کے فقرہ باز اور بزلہ سنج بھی تھے۔ منظر حسین جعفری نے اپنے خوبصورت مضمون میں ایک واقعہ بھی پیش کیا۔ ایک مرتبہ خالد احمد اور اختر حسین جعفری رات گئے تک کسی موضوع پر بحث کرتے رہے۔ اختر حسین خالد احمد کی کج بحثی سے تنگ آگئے اور کہنے لگے ”بکواس بند کرو۔ مجھے سونا بھی ہے“ خالد احمد اچھل کر ان کے قدموں میں جا بیٹھے اور کہنے لگے ”آپ ناراض نہ ہوں۔ اصل بات ہم دونوں ہی ایک کررہے ہیں۔ ہماری بات میں بہت موافقت ہے فرق صرف یہ ہے کہ میں بکواس کررہا ہوں اور آپ فرما رہے ہیں“۔ جعفری صاحب کا سارا غصہ جاتا رہا۔ عطا ءالحق قاسمی نے بھی ایک دلچسپ بات بتائی کہ برطانیہ ائیر پورٹ پر اترے تو خالد احمد کو فوراً باتھ روم جانا تھا۔ وہ اپنی پینٹ کوبار بار اوپر کھینچتے ہوئے ایک مجمع میں گھس گئے۔ اصل میں وہاں کرکٹر عبدالقادر کو ان کے مداحوں نے گھیر رکھا تھا اور آٹو گراف وغیرہ لے رہے تھے۔ خالد احمدان مداحین کے مجمع کو چیرتے ہوئے عبدالقادر کے پاس پہنچے اور اسے مخاطب کرکے کہنے لگے ”آپ تو برطانیہ آتے رہتے ہیں۔ باتھ روم کدھر ہوگا؟“ خالد احمد کا یہ ایک خاص انداز تھا کہ وہ سب کو چونکا دیتے تھے۔ ان کا مشہور زمانہ شعر کسے یاد نہیں ہوگا:

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں
اور یہ شعر بھی:
کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے
اسی لئے تو وہ بچوں کو مائیں دیتا ہے

جی ہاں یہ وہی خالد احمد ہے جو پہلے امروزمیں اور بھی پھرتا حیات نوائے وقت میں ”لمحہ لمحہ“ کے نام سے کالم بھی لکھتے رہے۔ نجیب احمد انہیں کہتے کہ اتنا مشکل پڑھتا کون ہوگا۔ پہلے پہل تو مجید نظامی صاحب نے اپنے پی اے سے پوچھا تھا۔ ”یار خالد دا کالم تینوں سمجھ آیا؟ مینوں تے نہیں آیا“۔میں تو یہ کالم زبان سیکھنے کے لئے پڑھتا تھا۔ دراصل وہ اول و آخر شاعر تھے۔
ایک شعر ان کی عظمت پر دال ہے:

خالد احمد تری نسبت سے ہے خالد احمد
تو نے پاتال کی قسمت میں بھی رفعت لکھی
ان کے نعتیہ قصیدے کا ایک اور شعر ذہن میں آگیا:
کس رخ کروں قصیدہ¿ شاہ زمن تمام
تشبیب ہی میں ہوگئی تاب سخن تمام

یہاں بھی انہوں نے کس خوبصورتی سے اشارہ اپنے شعری قصیدہ تشبیب کی طرف کیا ہے اس تقریب میں شرکت کرنے والوں کے نام بڑے بڑے ہیں مگر تمام کے نام لکھنا ممکن نہیں۔ آخر میں ایک جہازی سائز کا کیک کاٹا گیا۔ سنیکس وغیرہ میں عمران منظور کی سلیقہ شعاری نظر آرہی تھی۔ وہ کمال وضعدار شخص ہے اور حوصلہ مند بھی۔ کنور امتیاز اور راجہ نیر ّ نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے خوبصورت بات کی تھی کہ خالد بظاہر غیر سنجیدہ نظر آتے تھے مگر وہ بہت سنجیدہ آدمی تھے۔ ایک بات اور مجھے یاد آرہی ہے کہ جن دنوں ہم لوگ ٹی وی کے لئے لکھ رہے تھے تو خالد احمد کے مسودہ پر وہ غزل ہویا کوئی اور چیز آغاز میں بسم اللہ ضرور لکھا ہوتا تھا۔ آخری بات یہ کہ خالد احمد کے دونوں ہونہار بیٹے جاہد اور نمر موجود تھے اور وہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے باپ پر فخر کریں۔

Citation
Saadullah Shah, “لاہورکی ایک پر وقار تقریب,” in Daily Nai Baat, June 8, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%BE%D8%B1-%D9%88%D9%82%D8%A7%D8%B1-%D8%AA%D9%82%D8%B1%DB%8C%D8%A8

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on June 8, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s