عہدِ آمریت میں صادق شعری اظہار

Follow Shabnaama via email
شاہدہ دلاور شاہ

آشوب ‘‘ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب اول و آخر ادبیات کے استاد ہیں۔ان کی یہ پہچان ہی اتنی بڑی ہے کہ اپنا نام زندہ رکھنے کے لئے اس سے زیادہ انہیں کسی اور حوالے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔مگر پھر بھی انہوں نے تحقیق و تنقید پر اتنا زیادہ کام ایک معیار کو قائم رکھتے ہوئے کیا ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی استاد اتنا متحرک اور زرخیز ذہن ہو سکتا ہے۔ عام طور پر اساتذہ کے بارے میں یہ گلہ رہتا ہے کہ وہ کلاس میں بار بار ایک جیسی چیزیں پڑھانے کے بعد ایک مقام پر رک جاتے ہیں جس کے سبب ان کے تخلیقی اور تحقیقی سوتے خشک ہو جاتے ہیں مگر یہ بات ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب نے بلا شبہ غلط ثابت کر دی ہے۔

خواجہ صاحب سے مجھے براہ راست تلمیذ کا اعزاز حاصل نہیں رہا مگر جب اپنے ارد گرد اردو ادب پر چھائے ہوئے شاعروں اور ادیبوں کی جانب نظر ڈالتی ہوں تو بے شمار لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو ڈاکٹر صاحب کے با قاعدہ شاگرد رہے ہیں اور اب اردو کی مختلف اصناف میں ایک محترم اور معتبر نام بن چکے ہیں۔پچھلے دنوں جب ڈاکٹر غافر شہزاد نے حلقہ ارباب ذوق میں1980ء کی دہائی میں متعارف ہونے والی علمی و ادبی شخصیات کے تخلیقی سفر اور اس کے اعتراف کے حوالے سے سلسلہ شروع کیا تو کئی باتیں ایسی پتا چلیں جن کا پہلے علم نہیں تھا مگر ذہن میں سوال ضرور اٹھتے تھے اور معلوم نہیں ہوتا تھا کہ علمی و ادبی اصناف سے وابستہ بے شمار لوگ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا اس قدر کیوں احترام کرتے ہیں۔ پہلے پہلے ہمارا خیال تھا کہ یہ احترام محض ایک اچھا استاد ہونے کی وجہ سے ہے مگر پھر پتا چلا کہ نہیں، اس کے پیچھے کئی اور طرح کے محرکات ہیں اور تقریباً ہر شخص کے احترام کرنے کے پیچھے اس کی اپنی کہانی ہے، خواجہ صاحب جب کبھی موڈ میں ہوں تو ایسی کہانیاں سناتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ان کے اندر گزشتہ نصف صدی کی لاہور کی ادبی تاریخ محفوظ ہے۔ ایسی ہی کچھ کہانیوں سے ہماری آگاہی حلقہ ارباب ذوق کے اس برس کے جلسوں میں ہوئی۔ ڈاکٹر غافر شہزاد نے حلقہ کی 75 سالہ تقریبات کے سلسلے میں یہ اجلاس کروائے تھے، اب معلوم ہوا کہ حلقہ ارباب ذوق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا بھی 75 سال کے ہو گئے ہیں۔

’’آشوب‘‘ کی شاعری پڑھتے ہوئے میرا خیال پاکستان میں چار فوجی جرنیلوں کے تھوڑے وقفوں کے بعد چہل سالہ (40 سالہ)دور حکومت کی طرف چلا گیا۔ اس چہل سالہ دور اقتدار نے پاکستان میں سماجی، مذہبی اور سیاسی اثرات کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے ادب کو بھی متاثر کیا۔اس کا زیادہ اظہار تو ہمارے اردو کے علامتی افسانے میں ہوا ہے اور کم و بیش تین دہائیوں تک ہمارے ہاں لکھا جانے والا افسانہ بغیر کرداروں اور ناموں کے نہ تو اپنی شناخت بنا سکا اور نہ ہی ان افسانوں میں کوئی کردار اپنی شناخت بنا سکا جیسا کہ منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ، احمد ندیم قاسمی کا وریام اور مولا۔البتہ کچھ افسانہ نگاروں نے علامت کی بیساکھیوں کے سہارے کچھ عرصہ اپنا نام خوب بنائے رکھا مگر اب ان کا بھی سورج غروب ہو چکا ہے۔ شاعری میں ان مارشل لاؤں کے عہد میں تنویر سپرا جیسے مزدور شاعروں نے اپنا ایک منفرد نام اور پہچان بنائی۔

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے۔۔۔۔دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو۔۔۔۔انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

ملک میں وردی پہن کر حکمرانی کرنے والوں کے بارے میں آپ لکھتے ہیں،

حقیقی مسئلوں پر سب کے سب خاموش بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔بیانوں میں مگر دونوں طرف سے وردی وردی ہے
بہت سے لوگ ہیں مجبور جرمِ خود کشی پر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسلسل ذلت و افلاس نے حالت یہ کر دی ہے

اسی طرح معاشرے میں سماجی گراوٹ اور انتشار کے حوالے سے آپ کے ہاں نہایت کرب انگیز اشعار کی صورت میں اظہار ملتا ہے۔ ایک جانب وہ انسانوں کی کسمپرسی کی حالت میں گزرنے والی زندگی پر نوحہ کناں ہیں تو دوسری جانب انسان کی بے ضمیری کا ماتم کرتے ہیں۔

یہاں کچھ باضمیر انساں بھی ہوتے تھے کبھی، پر اب۔۔۔۔۔۔ضمیروں کی لگی ہیں منڈیاں یا غنڈہ گردی ہے

ڈاکٹر صاحب کی شاعری میں مذہب کے پلیٹ فارم پر معصوم لوگوں کا استحصال کرنے والوں کا بھی بار بار تذکرہ ملتا ہے۔ وہ نہایت افسوس اور واضح الفاظ میں مارشلائی دور میں پیدا ہونے والے اس مذہبی کلچر کے بارے میں اظہار کرتے ہیں۔

کیا خوب ہو رہا ہے اس ملک میں یہ دھندہ۔۔۔۔۔چندہ برائے مسجد، مسجد برائے چندہ
مسجد میں کل گئے وہ تو ہو گیا دھماکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب چھت کو گھورتے ہیں یا بولتے ہیں مندہ

ملک میں رات ہی رات میں دولت مند بن جانے والوں کی طرف بھی ڈاکٹر صاحب کے اشارے ملتے ہیں اور وہ سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ داروں کی ہوس پرستی کو بھی کئی جگہوں پر اپنا موضوع بناتے ہیں۔

ترقی کر رہا ہے ان کا لالچ جن کی ملکیت۔۔۔۔پلازے ہیں ، زمینیں ہیں، محل ہیں کارخانے ہیں
ہوس ان کی برابر بڑھ رہی ہے، کم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔اگر چہ قبضۂ قدرت میں قاروں کے خزانے ہیں

سیاسی منظر نامے میں جب ہر طرف کرپشن کا بول بالا ہو تو ایسی صورتحال میں ایک دوسرے کا کوئی کیسے احتساب کر سکتا ہے، یہ بات عوام گزشتہ تین دہائیوں سے اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ سیاست دانوں کی دیکھا دیکھی یہ کرپشن نچلے طبقے میں بھی پوری طرح پھیل چکی ہے، اور اس بات کا ڈاکٹر صاحب کو بہت رنج ہے، وہ لکھتے ہیں۔

ہر شخص جب کرپٹ ہو بے حد و بے حساب۔۔۔۔۔۔تم ہی کہو کہ کون کرے کس کا احتساب
سب اپنے اپنے فن میں ہیں بے مثل و بے نظیر۔۔۔۔کوئی شریف ہو کہ مشرف، ہیں لاجواب

گزشتہ ایک صدی میں سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر جیسی کرپشن، ابتری، لوٹ مار، استحصا ل، بیسویں صدی کے آخری اور اکیسویں صدی کے آغاز میں دیکھنے کو ملی ہے، انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور اسی طرح گزشتہ ایک صدی میں اردو ادب میں اس ساری صورت حال کے بارے میں جتنا تفصیلی تجزیہ اور غیر جانبداری سے اظہار ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے ہاں ملتا ہے، کسی اور شاعر کے ہاں نہیں ملتا۔ جزوی طور پر شعراء نے اس کا اظہا ر ضرور کیا ہے مگر کلی طور پر اس سارے منظر نامے کی تصویر کشی ہمیں ’’آشوب‘‘ کے صفحات میں ہی ملتی ہے۔

Citation
Shahida Dilawar Shah, “عہدِ آمریت میں صادق شعری اظہار,” in Daily Nai Baat, June 7, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B9%DB%81%D8%AF%D9%90-%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B5%D8%A7%D8%AF%D9%82-%D8%B4%D8%B9%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1

Disclaimer
The item above written by Shahida Dilawar Shah and published in Daily Nai Baat on June 7, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Shahida Dilawar Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s