A فار ایپل۔۔۔ A فار اللہ!

Follow Shabnaama via email
بشری اعجاز

گرچہ کتاب سے میری محبت، کتاب میلوں سے بہت پہلے کی ہے۔ لگتا ہے اس وقت کی جب فیڈر منہ سے چھٹا اور کانونٹ سکول کی سرخ اینٹوں کی شاندار عمارت میں اپنے ابا جی کی انگلی پکڑے میں سیدھی سسٹر مارتھا کے آفس میں جا پہنچی اور جرمن مشنری پرنسپل نے اپنی سرخ و سفید انگلی ایک رنگین کتاب کے پہلے صفحے پر رکھ کر مجھ سے کہا: اے، اے فار ایپل۔۔۔ بعد میں اس اے سے جب میں، اے فار اللہ تک کا شعور حاصل کر چکی تو اس دوران کتاب سے میرا تعلق اتنا گہرا اور مضبوط ہو چکا تھا کہ اسے تکیے کے نیچے محسوس کئے بغیر مجھے نیند نہ آتی تھی۔ آج کتاب کے انڈوپاک میں ارتقائی دور پر نگاہ ڈالتی ہوں تو لامحالہ اپنے پڑھنے والوں کو اس تاریخ کے سرسری جائزے تک لے جانا پڑتا ہے، جب کتاب کا اس خطے میں پہلا تعارف ہوا۔
حضرت عیسیؑ ٰ کی پیدائش سے پانچ سو سال بعد تک ہندوستان میں کوئی اکیس، بائیس پراکرت یعنی زبانیں بولی اور سمجھی جاتی تھیں۔ جن کا ذکر اُردو کی مایہ ناز ادیبہ قرۃ العین حیدر نے آگ کا دریا میں بارہا کیا ہے۔ اس زمانے کی درباری زبان بھی پراکرت ہی تھی اور اسی زبان میں علم و ادب کے ذخائر اور مذہبی کتابیں مدون ہوتی تھیں۔ اس کے بعد ہندوستان میں مختلف ادوار سے گزرتی کتاب اور اردو زبان 1814ء میں لکھنؤ میں غازی الدین حیدر کے ٹائپ کے چھاپے خانے میں ہمیں اپنے ارتقائی عہد میں نظر آتی ہیں۔ ’’ہفت قلزم ملزم‘‘ کے نام سے طبع ہونے والی اس کتاب سے پہلے اردو کی پہلی کتاب جو ٹائپ کے چھاپے خانے میں چھپی، وہ پادری مارٹن کا بائبل کا اردو ترجمہ تھا۔ لیتھو پریس کا سنگی مطبع سب سے پہلے ہندوستان کے شہر کانپور میں ایک انگریز مسٹر آرچر نے جاری کیا۔ یہ 1830ء کا دور ہے۔ 1835ء میں دہلی میں ایک لیتھو کا سنگی مطبع قائم ہوا اور 1836ء میں مولوی محمد باقر (مولانا محمد حسین آزاد کے والد) نے دہلی سے اردو اخبار جاری کیا۔ 1845ء تک موجودہ یو پی، دہلی اور پنجاب میں 23 مطبع تھے اور ان مقامات پر 23 اخبار اردو زبان کے جاری تھے۔ تمام اخبارات اور اردو رسالوں کی تعداد پچاس کے قریب تھی۔ اور صرف یو پی میں 141 کتابیں طبع ہوئی تھیں۔

جنگِ آزادی سے اگلے برس یعنی 1858ء میں مطبع نول کشور قائم ہوا اور اسی سال اس مطبع سے اردو اخبار جاری ہوا۔ شروع میں اس مطبع میں کتابیں بڑی محنت کے ساتھ چھاپی جاتی تیں مگر بعد میں اس معیار کو برقرار نہ رکھا جا سکا۔ قدیم مطابع میں صوفی قادر علی کے مطبع مفیدِ عام آگرہ کو بھی فنِ طباعت میں بڑی شہرت ملی۔ اسی زمانے میں اردو نثر کی کتاب باغ و بہار کو بہت شہرت ملی جو فورٹ ولیم کالج کے تحت میر امن دہلوی نے لکھی۔ مرزا رجب علی بیگ سرور نے ’’فسانۂِ عجائب‘‘ لکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ اردو نثر میں اتنی طاقت ہے کہ کسی کی سرپرستی کے بغیر بھی اپنے لئے ادب میں نمایاں جگہ حاصل کر سکے۔ اس کے بعد سید حیدر بخش حیدری کی ’آرائشِ محفل، قصہ مہر و ماہ، قصہ لیلیٰ مجنوں اور توتا کہانی، کی مقبولیت اسی تاریخ کا حصہ ہے۔

اردو نثر کی اس ابتدائی تاریخ کے بعد ہمیں جنگِ آزادی، عہدِ غلامی اور تقسیم ہند پر لکھنے والوں میں سعادت حسن منٹو، قرۃ العین حیدر، احمد ندیم قاسمی، امرتا پریتم، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، راجندر سنگھ بیدی، غلام عباس اور ہاجرہ مسرور جیسے بے شمار نام دکھائی دیتے ہیں، جنہوں نے دل سوزی اور درد مندی میں ڈوبی تحریریں لکھیں اور کتاب کو زندگی کا لازمہ بنا دیا۔ اردو نثر کو بڑھاوا بھی دیا اور تاریخ کے ایک بڑے المیے کو ادبی تاریخ کا حصہ بھی بنا دیا۔ یہ وہ دور تھا قارئین! جب کتاب زندگی کا اہم جزو اور تنہائی کا ساتھی سمجھی جاتی تھی۔ جس میں دیومالائی ادب، افسانوی تاریخی ادب اور مذہبی کتب اپنے اپنے موضوعات کے لحاظ سے لوگوں کے مزاج سے قریب تھیں۔

آج کتاب کی تاریخ کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے اور بالخصوص اردو شعروادب کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہوئے بلاشبہ اس دور کو ہنگامی، ہیجانی اور کتاب سے ناآشنائی کا دور کہا جا سکتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اپنے نیک و بد کے ساتھ ہمارے گھروں میں ہی نہیں، دماغوں میں بھی گھس کر بیٹھ گیا ہے۔ ریموٹ نے ہاتھ کو ہی نہیں ذہن کو بھی تھکا کر رکھ دیا ہے۔ یہ سرفنگ کا دور ہے۔ ٹاک شوز، لاؤڈینس، چیخ و پکار کا دور۔ اصلی نقلی سکینڈلز کا دور۔ مرچ مصالحے سے بھری تفریحات کا دور، ایسے نیلام گھروں کا دور جس میں سوئی سے کار تک سب کچھ بکتا ہے، مگر کسی سٹال، کسی کونے میں کتاب کا دور دور تک وجود دکھائی دیتا ہے نہ ضرورت۔ لکھنے والوں کو شکایت ہے کتاب، پانچ سو ،ہزار کی تعداد میں چھپتی ہے، مگر بکتی سالہا سال میں ہے (سوائے چند خوش نصیبوں کو چھوڑ کر) اور پبلشرز کا یہ کہنا ہے کہ کتاب خریدتا کوئی نہیں، یعنی اس جنس کا کوئی منڈی میں خریدار ہی نہیں۔ اس حالت میں کتاب، وہ بھی اردو زبان و ادب کی کتاب کا مستقبل کیا ہو؟ یہ بحث بھی بہت ہو چکی۔ کتاب میلے، جو اس ضمن میں کتاب کا قاری سے رشتہ جوڑے رکھنے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، انہیں دیکھ کر اس ’’جنس‘‘ کے ابھی زندہ ہونے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں تمام اچھے پبلشرز اپنے اپنے سٹال لگا کر اپنی کتابوں کا تعارف عام شہریوں سے کرواتے ہیں۔ وہاں رائٹرز اور شاعر بھی مدعو کئے جاتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کا کتاب میلہ اس سلسلے میں اک اچھی روایت قائم کر چکا ہے۔ میں بھی ایک آدھ دفعہ وہاں مدعو کی گئی تھی، کتاب کے چاہنے والوں کو دیکھ کر ایک گونہ تسلی سی ہوئی تھی کہ چلو کہیں تو ہماری زبان بھی زندہ ہے اور ہمارے حرف بھی۔ مگر سچ پوچھیں تو اردو زبان جسے پاکستان کی قومی زبان مانا جاتا ہے، اس کے ساتھ اس وقت جو سلوک ہو رہا ہے اور ہماری نسلِ نو کو اپنی قومی زبان سے دور رکھ کر، تعلیمی ادارے جس ’’تعلیمی پالیسی‘‘ پر گامزن ہیں اسے دیکھ کر کتاب اور اردو زبان کا مستقبل اتنا ہی مخدوش دکھائی دیتا ہے جتنا 1857ء کے بعد فارسی زبان کا دکھائی دیتا تھا۔جو اس سے قبل درباروں سرکاروں کی زبان ہوا کرتی تھی۔ لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی نے فارسی عالموں کو یکسر جہلا قرار دے کر ان پر ترقی کے دروازے بند کر دیئے اور انگریزی اور اردو زبان کی سرپرستی میں اتنی دور نکل آئے کہ یہ محاورہ زبان زدِعام ہو گیا۔ ’’فارسی پڑھو بیچو تیل‘‘۔

یہی حال اس وقت اردو زبان اور اس زبان کے شعروادب کا ہو رہا ہے اور یہی سلوک اس معاشرے میں کتاب کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ عام گھروں میں جہاں پہلے رسائل و جرائد نظر آ جاتے تھے، اب آئی پیڈ اور کمپیوٹر دکھائی دیتے ہیں۔ ساری تفریح الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہو چکی۔ پہلے تنہائی کی ساتھی کتاب تھی اب تنہائی اور محفل کا ساتھی ریموٹ اور ٹی وی سکرین ہیں۔ پہلے خطوط نگاری رشتوں کو جوڑنے اور آدھی ملاقات کا وسیلہ مانی جاتی تھی اب SMS ہیں جنہوں نے زبان کا حلیہ بگاڑ ہی دیا ہے۔ انسانی جذبوں کا حسن اور رومینس بھی غارت کر دیا ہے۔ نہ کوئی تجسس، نہ شوق۔ نہ حیرت نہ معصومیت۔ سب کچھ سستے اور بازاری انداز میں عام۔ ایسے میں کتاب اور کتاب سے وابستگی، کیا کتاب میلوں کے بس کا روگ ہے؟ کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ ہم اس مصنوعی تیزرفتاری، ہیجان انگیزی اور چکاچوند کی دنیا سے چند قدم کے فاصلے پر ٹھہر جائیں اور سوچیں۔ ہم اپنے بچوں کو کس طرف لے جا رہے ہیں؟ انہیں کیسی دنیا میں لا بٹھایا ہے ہم نے؟ اپنے بچوں کو کتاب اور اپنی زبان سے دور کر کے کہیں ہم انہیں خودشناسی سے دور تو نہیں کر رہے؟ کہیں اپنی جڑوں سے دور تو نہیں کر رہے؟؟؟۔۔۔ کہ میرے خیال میں اے فار ایپل ، اور اے فار اللہ کا درمیانی راستہ خوش اسلوبی اور دیانتداری سے طے کرنے کے لئے کتاب اور اپنی مادری اور قومی زبان سے جڑے رہنا بہت ضروری ہے۔ بہت ہی ضروری۔

Citation
Bushra Ejaz, “A فار ایپل۔۔۔ A فار اللہ!,” in Daily Nai Baat, June 7, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/a-%D9%81%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%DB%8C%D9%BE%D9%84%DB%94%DB%94%DB%94-a-%D9%81%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81

Disclaimer
The item above written by Bushra Ejaz and published in Daily Nai Baat on June 7, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Bushra Ejaz:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s