ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری (2)

Follow Shabnaama via email
ناصر زیدی

ہم ’’لاہوریے‘‘چائے کی پیالی کے معاملے میں ڈاکٹر سلیم واحد سلیم مرحوم کے نسخے پر عمل کرنے والوں میں سے ہیں کہ ’’چائے کا کپ’’ لبریز ہو، لب دوز ہو، اور لب سوز ہو‘‘ ! بہرحال اونٹ کے مُنہ میں زِیرہ سے بھی کم کو زہر مار کیا اور ’’افکار‘‘ کے مطلوبہ رسالے قیمتاً حا صل کئے۔ شکریہ ادا کر کے چلتے چلتے از راہِ مروت صہبا لکھنوی صاحب سے مَیں نے گزارش کی کہ ’’ابھی چند روز کراچی میں مقیم ہوں ایک دو دن بعد کوئی وقت ’’ہجوم افکار‘‘ سے الگ ہو کر نکالیے اور اپنا تفصیلی انٹرویو، محفوظ رکھنے کے لئے ریکارڈ کروا دیجئے‘‘۔! کہنے لگے ’’پھر آپ میرے انٹرویو کے لئے اِن سب موجود احباب کا پینل بنا لیجئے، آپ بھی اس میں شامل ہو جایئے‘‘! مَیں نے اپنی معروضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ساٹھ منٹ کے انٹرویو کے لئے پانچ چھ نابغوں کی ضرورت نہیں، پینل پھر کبھی بنوا لیجئے گا، سر دست تو یہ کام تنہا میرے سپرد ہے‘‘۔ مگر صہبا لکھنوی صاحب اپنی بات پر مصر رہے تو مَیں نے نہایت تحمل سے معذرت طلب لہجے میں کہا: ’’ٹھیک ہے پھر آپ کے بجائے حضرتِ راغب مراد آبادی سے انٹرویو کئے لیتا ہوں، جو ہماری مجوزہ سترہ کی فہرست میں بہ وجوہ شامل نہیں ہیں، لیکن یاد رکھیئے کہ آپ کا یہ تفصیلی انٹرویو اگر مَیں نے ریکارڈ نہ کرایا تو آئندہ کوئی بھی نہ کرا سکے گا‘‘۔ اس حرفِ آخر کو سُن کر وہ یکدم ڈھیلے پڑ گئے اور وہ یادگار انٹرویو ریکارڈ کرایا جو سی پی یو میں صہبا صاحب کے پہلے اور آخری بھرپور انٹرویو کے طور پر محفوظ ہے۔! مَیں اپنی یاد نگاری میں کہاں سے کہاں نکل گیا۔ آمدم برسرِ مطلب! ذکر تھا ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا تو کچھ حسابی کتابی نصابی قسم کی معلومات بھی دیتا چلوں:

ڈاکٹر سید اختر حسین رائے پوری کی پیدائش اور وفات اسی ماہِ جون کے روز و شب میں ہوئی۔ وہ 12جون 1912ء کو رائے پور ]موجودہ چھتیس گڑھ۔سی پی انڈیا[ میں پیدا ہوئے اور 2جون1992ء کو کراچی میں وفات پا گئے، جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں، یُوں انہوں نے لگ بھگ اسی برس اِس جہانِ رنگ و بود میں گزارے۔ اس عرصۂ حیات میں سے55،56 سال تک وہ ادبی و علمی اُفق پر سحاب بن کر چھائے رہے!

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا آبائی وطن پٹنہ ]بہار[ تھا۔ اُن کے والد ِ گرامی سید اکبر حسین علی گڑھ مسلم کالج اور طامس انجینئرنگ کالج رُڑکی سے فارغ التحصیل تھے۔ اُن کا تعلق محکمہ آبپاشی سے رہا، وہ سرکاری ملازمت کے سلسلے میں شہر شہر، گاؤں گاؤں پھرے۔ کبھی یہاں، کبھی وہاں۔۔۔ ڈاکٹر اختر حسین کی تعلیم و تربیت کا آغاز رائے پور میں مولوی محمد یٰسین کے مکتب، مدرسے سے ہُوا۔1928ء میں اختر حسین نے پندرہ برس کی عمر میں میٹرک پاس کیا اور پھر ایف اے۔ بی اے اور ایم اے ]ہسٹری[ کے امتحانات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پاس کئے۔ سنسکرت زبان میں ایم اے کی سطح کا ایک امتحان بنارس یونیورسٹی سے پاس کیا۔ پیرس یونیورسٹی ]فرانس[ سے1940ء میں ڈاکٹریٹ] ڈِی لِٹ[ کی ڈگری حاصل کی۔ بھرپور علمی و ادبی اور عملی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1935ء سے کیا۔ یہی وہ سال ہے جس میں ادب میں ترقی پسند تحریک کا غلغلا بلند ہُوا۔وہ اِسی سال بابائے اُردو مولوی ڈاکٹر عبدالحق کے ہمراہ اورنگ آباد(دکن) گئے اور ’’انگلش اُردو ڈکشنری‘‘ کی ترتیب و تدوین کے رُکنِ رکین اور انجمن کے ادبی مجلہ ’’اُردو‘‘ کے ادارتی معاون بنے۔

مجلہ ’’اُردو‘‘ میں ’’ناخُدا‘‘ کے قلمی نام سے کتب و جرائد رسائل پر تبصرے بھی رقم کرتے رہے۔ مشہور کتاب ’’ ناقابلِ فراموش‘‘ کے مصنف ویوان سنگھ مفتون کے کے مشہورِ زمانہ ہفت روزہ ’’ریاست‘‘ میں نائب مُدیر اور ہندی جریدے’’وشوانی‘‘ کے اعزازی مُدیر رہے۔ اپنا ذاتی رسالہ بھی ’’جہاں نما‘‘ کے نام سے نکالا جو نہ چل سکا۔1937ء سے1940ء تک کا زمانہ یورپ میں گزارا۔ ایم اے او کالج امرتسر میں پروفیسر اور وائس پرنسپل رہے۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستگی رہی۔ قیام پاکستان کے بعد محکمۂ تعلیم میں ڈپٹی سیکرٹری اور مرکزی وزارتِ تعلیم میں مشیر رہے۔کراچی ثانوی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور ’’یونیسکو‘‘ کراچی شاخ کے اولین ڈائریکٹر رہ کر آخرِ عمر تک وزیٹنگ پروفیسر کراچی یونیورسٹی کے طور پر علم و ادب اور فنِ و آگہی کے چراغ روشن کرتے رہے حتیٰ کہ اپنی آنکھوں کے دونوں چراغ مکمل طور پر گُل کرا بیٹھے اور اِسی عالمِ بے بصری میں جہانِ فانی سے عالم جاودانی کو سدھارے۔

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی پہلی اور اہم شناخت بطور افسانہ نویس ہے کہ اُن کا پہلا اُردو افسانہ ’’زبان بے زبانی‘‘ کے عنوان سے نیاز فتح پوری کے ’’نگار‘‘ میں چھپا۔ اُن کے مطبوعہ افسانوی مجموعوں میں ’’محبت اور نفرت‘‘۔ ’’زندگی کا میلہ‘‘ اور ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے افسانے ’’ نامی تین کتب قابلِ قدر اہمیت کی حامل ہیں۔ تاریخی و تنقیدی کتب میں ’’حَبش اور اطالیہ‘‘ ’’ادب او ر انقلاب‘‘ ’’سنگِ میل‘‘ اور ’’روشن مینار‘‘ یاد گار مطبوعہ کتب ہیں: تراجم میں ’’گورکی کی آپ بیتی (تین جلدیں) مقالاتِ گارساں (دو جلدیں) کے علاوہ سوانح نگاری کے ذیل میں ہی معرکہ آرا خود نوشت ’’گردِ راہ‘‘ شامل ہے دیگر اُردو تراجم میں کالی داس کی مشہورِ زمانہ تصنیف ’’شکنتلا‘‘ کا سنسکرت سے اُردو میں خوبصورت ترجمہ، پرل ایس ابُک کے ناول ’’گڈارتھ‘‘ کا ترجمہ ’’پیاری زمین‘‘ اور قاضی نذر الاسلام کی بنگالی نظموں کا اُردو ترجمہ ’’پیامِ شباب‘‘ اُن کے سرمایۂ ادب کا قیمتی اثاثہ ہے۔

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری اُردو، انگریزی، ہندی سنسکرت، بنگالی اور فرانسیسی زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ فرانسیسی سے اُنہوں نے براہِ راست بعض معروف تراجم کئے۔ ’’انگریزی ، اُردو ڈکشنری‘‘ کے معاون کار ہی نہیں رہے، بلکہ اب یہ حقیقت اُن کی بیگم حمیدہ اختر رائے پوری کی خود نوشت ’’نایاب ہیں ہم‘‘ اور خود اُن کی خود نوشت ’’گردِ راہ‘‘ سے عیاں ہو چکی ہے کہ ’’انگش اُردو ڈکشنری‘‘ پر صرف اپنا نام دے کر بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق نے زیادتی کی۔ حق بہ حقدار رسید کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا۔ دراصل زیادہ تر کام ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی ذہانت طبع اور محنت شاقہ کا نتیجہ تھا۔ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ ’’ہند قدیم کی زندگی۔۔۔ سنسکرت ادب کے آئینے میں‘‘۔۔۔ پہلی بار 1939ء میں پیرس سے چھپا۔ انہوں نے اپنی پوری ادبی زندگی ترقی پسند نظریے کے پیرو کار کے طور پر گزاری، اُن کی بھرپور زندگی کی عکاسی خود نوشت ’’گردِ راہ‘‘ میں بخوبی ہوئی ہے۔ اُن کی بیگم حمیدہ صاحبہ بھی ادب دوست، کتاب دوست خاتون تھیں، انہوں نے بھی اپنے سیدھے سادے انداز میں آپ بیتی ’’نایاب ہیں ہم‘‘ کے عنوان سے لکھی۔ حمیدہ اختر رائے پوری کی اس آپ بیتی نے وہ بہت سی باتیں مکمل کر دیں جو ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی ’’گردِ راہ‘‘ میں تشنہ رہ گئی تھیں۔۔۔!!(ختم شد)

Citation
Nasir Zaidi, “ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری (2) ,” in Daily Pakistan, June 5, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/05-Jun-2015/232039

Disclaimer
The item above written by Nasir Zaidi and published in Daily Pakistan on June 5, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nasir Zaidi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s