ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت۔۔۔کس کا المیہ؟

Follow Shabnaama via email
زاہد منیر عامر

اقبال سے جب یہ پوچھاگیا کہ آپ فارسی میں شعر کیوں کہتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’’یہ مجھ پر فارسی ہی میں نازل ہوتے ہیں‘‘It comes to me in Persian لیکن عجیب بات ہے کہ انھوں نے اپنے وطن کشمیر کے بارے میں جوکچھ لکھا وہ اردومیں ہے ۔سوال یہ ہے کہ وہ ان پر فارسی میں کیوں نازل نہیں ہوا ؟اس سوال کا جواب تو ماہرین اقبالیات کو تلاش کرناہوگا ڈاکٹرآفتاب اصغر صاحب نے یہ کیا کہ اقبال کے ایسے تمام اردو اشعار جو انھوں نے کشمیر کے بارے میں کہے انھیں فارسی میں منتقل کردیاشاعری کا نثری ترجمہ ہی آسان نہیں ہوتا انھوں نے اس کاردشوار کی بھی مشکل ترین شکل یعنی شعر کا شعری ترجمہ اختیار کی ، ان کا یہ ترجمہ ’’ارمغان کشمیر ‘‘کے نام سے شائع ہوچکاہے ۔یہ ان کے بہت سے علمی کاموں اور تراجم میں سے ایک کام ہے جو کتابی صورت میں اہلِ وطن تک پہنچا ۔

جو لوگ پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج کی علمی روایت سے واقف ہیں ان کے لیے ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت کی خبرموت العالِم موت العالَم کی حیثیت رکھتی ہے ۔ڈاکٹر آفتاب اصغر نے نسلوں میں فارسی زبان وادب کا ذوق پیدا کیا ،و ہ ان اساتذہ میں سے تھے جو اپنے مضمون سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور ان کے شب و روز کا ہر لمحہ اپنے مضمون کی رفاقت میں بسر ہوتاہے وہ جدید فارسی اور علی الخصوص فارسی گفتاری پر غیر معمولی دسترس رکھتے تھے ۔انھوں نے برصغیرمیں فارسی تاریخ نویسی کے موضوع پر مقالہ لکھااور تہران یونی ورسٹی سے ایم فل اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں ۔ ان کا یہ مقالہ شائع ہو چکاہے اور اہل علم میں متداول ہے۔وہ گزشتہ نصف صدی سے پاکستان میں فارسی اور ایران کے غیرسرکاری سفیر کی طرح زندگی گزار رہے تھے، فارسی زبان و ادب کے تعارف اور ترویج اور ایران و پاکستان کو قریب لانے کے سلسلے میں ان کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔

ایک زمانے میں پاکستان کے ایک فوجی حکمران کی خواہش پر پاکستان کے ریاستی ٹیلی ویژن نے مثنوی مولانا روم کی تفہیم کے لیے ایک پروگرام شروع کیاتھا جن لوگوں نے وہ پروگرام دیکھا اور اس میں ڈاکٹرآفتاب اصغرصاحب کی خوش گفتاری سے لطف اندوز ہوئے ہیں وہ ان کے لب و لہجے کو نہیں بھولے ہوں گے اس کے علاوہ ان کے ہزاروں تلامذہ کے لیے ،جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کی پرخلوص شخصیت ناقابل فراموش ہے جس کا اظہار ۳۱ ؍مئی کی دوپہرکو سخت گرمی میں ان کی تدفین کے موقع پر بھی ہورہاتھا جب اولاد کی دولت سے محروم ڈاکٹر آفتاب صاحب کی معنوی اولاد ان کی جدائی پر بے طرح آنسو بہارہی تھی اور جب ان کا جسد خاکی لحد میں اتارنے کا مرحلہ آیاتو اچانک آسمان پر بادل نمودار ہوئے ،دھوپ جاتی رہی، موسم تبدیل ہوگیا اور شام تک فلک سے ان کی یاد میں رم جھم رم جھم بارش برستی رہی۔

ڈاکٹر آفتاب اصغر( یکم مارچ ۱۹۴۰ء۔۔۔ ۳۰ ؍مئی ۲۰۱۵ء ) ۲۰؍مارچ ۱۹۷۲ء کو پنجاب یونی ورسٹی کے شعبہ فارسی سے بہ طور لیکچرر وابستہ ہوئے اور یکم مارچ ۲۰۰۰ء کو بہ حیثیت صدر شعبہ فارسی سبک دوش ہوئے یوں انھوں نے ربع صدی سے زائد عرصے تک پنجاب یونی ورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔اس سے پہلے ۱۹۶۷،۱۹۶۸ء میں بھی وہ مختصر عرصے کے لیے اس شعبے میں تدریسی خدمات انجام دے چکے تھے ۔وہ ایک نفیس شخصیت کے مالک تھے لیکن یونی ورسٹیوں کی سیاست کا’ فیضان‘ تھا کہ ان کی گفتگو اور شخصیت کو ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں نے گھیرے میں لے لیاتھا اور ان سے ملنے والا ہر شخص یونی ورسٹیوں کی سیاست پر افسوس کرتاہوا رخصت ہوتاتھاآخری عمر میں پنجاب یونی ورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر جناب ڈاکٹر مجاہد کامران نے ان کی عمر بھر کی شکایتوں کی تلافی کرتے ہوئے انھیں ’’فردوسی چیر‘‘ کا سربراہ مقرر کردیاتھا،یہ ایک بہترین انتخاب تھا،وہ اس مسند کی مناسبت سے کئی منصوبوں پر کام کررہے تھے خود راقم کے نام ایک خط میں انھوں نے فردوسی شناسی کے ایک اہم منصوبے کااظہار کیاتھا اور اس کے لیے راقم سے مضمون لکھنے کی فرمائش کی تھی لیکن افسوس کہ ان دنوںیونی ورسٹی کے اندر بعض ایسے بد قسمت لوگ کارفرما تھے جنھوں نے دوسروں کی زندگیوں کا سکون چھیننے کو اپنی زندگی کا منشور بنارکھاتھا ڈاکٹر آفتاب صاحب بھی ان کے نیشِ فساد انگیز سے نہ بچ سکے اور ان جیسے فارسی زبان و ادب کے بے مثال استاد اور دانش مند کو وجہ بتائے بغیر یہ کہہ کر برطرف کردیاگیاکہ’’ ہمیں آپ کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

گویا شاعر کے الفاظ میں کہاگیا کہ :
ای خواجہ مکن تابہ توانی طلب علم
تادر طلب راتب ہرروزہ نمانی
رُومسخرگی پیشہ کن و مطربی آموز
تادادِخود از کہتر و مہتر بستانی

(ترجمہ)اے شاعر (خواجو)جہاں تک ہوسکے طلب علم میں کوشش نہ کر تا کہ تجھے راتب کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرنا پڑے(بہترہے کہ)مسخرہ پن اختیار کرلے اور گانابجانا سیکھ لے تاکہ توہر کس و ناکس سے اس ’’فن‘‘کی داد توحاصل کرلے۔۔۔ تین دہائیوں تک یونی ورسٹی کی خدمت اور نسلوں کی آبیاری کرنے والے ایک نام ور استاد اوراسکالر کے لیے عمر بھر کی نواگری کا یہ صلہ، زندگی کا عظیم سانحہ تھا جسے وہ آخری دم تک فراموش نہ کرسکے اور یہ صدمہ لیے منوں مٹی کے نیچے جابسے ۔ڈاکٹر آفتاب اصغر صاحب کے آخری دیدار کے لمحوں میں وائس چانسلر پنجاب یونی ورسٹی جناب ڈاکٹر مجاہد کامران نے راقم کا ہاتھ تھام کر بڑے افسوس سے ان بدقسمتوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ آفتاب صاحب بھی انھی کے گزیدہ تھے ۔۔۔راقم نے عرض کیا کہ فردوسی کے نام سے منسوب مسند کے لیے وہ قابل ترین شخص تھے لیکن شاید ان کی قابلیت ہی ان کا جرم بن گئی تھی ۔۔۔ایسے معاشروں میں جہاں قابلیت کی بجائے تعلقات اور سیاسی ہنرمندی کلیدِ کامیابی ہو وہاں قابلیت ،کمال کا نہیں زوال کا باعث بن جایاکرتی ہے ۔۔۔سوال یہ ہے کہ وائس چانسلر صاحب نے جن عناصر کا ذکر کیااور جنھیں پرنسپل یونی ورسٹی لاکالج ڈاکٹر شاذیہ قریشی نے اپنے ایک حالیہ مکتوب مفتوح میں’’تعلیمی طور پر ناکام ،سازشی،فراڈ اور بلیک میلر‘‘قراردیاہے ،جامعات جیسے علمی اداروں میں کیونکر اعلیٰ مناصب تک پہنچ جاتے ہیں اور ان کی حقیقت عیاں ہونے کے باوصف ان کے احکام کیوں واجب التعمیل سمجھے جاتے ہیں اور علم و ادب اورتعلیم و تحقیق کا شعور رکھنے والے کیوں مہر بہ لب ہوجاتے ہیں ۔۔۔؟جس کے نتیجے میں ڈاکٹر آفتاب اصغر جیسے اساتذہ اپنے سینے میں صدموں کے پہاڑ لے کر منوں مٹی کے نیچے جا بستے ہیں ؟کیوں ،آخر کیوں۔۔۔؟ اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اب بھی کچھ ایسے مارگزیدگان آپ کے ارد گرد موجود ہوں جنھوں نے خود پر ہونے والے ظلم و ستم کا شکوہ نہ کیاہو اور وہ وقت کے منصفانہ فیصلے کا انتظار کررہے ہوں؟کیا آپ یہ منصفانہ فیصلہ کرکے تاریخ کے سامنے سرخ رو ہونا پسند نہیں کریں گے ۔۔۔؟

Citation
Zahid Munir Amir, “ڈاکٹر آفتاب اصغر کی رحلت۔۔۔کس کا المیہ؟,” in Daily Nai Baat, June 3, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%A2%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%B5%D8%BA%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%AD%D9%84%D8%AA%DB%94%DB%94%DB%94%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%8C%DB%81

Disclaimer
The item above written by Zahid Munir Amir and published in Daily Nai Baat on June 3, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Zahid Munir Amir:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s