یوکے میں اُردو اور سبینا خان

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

ہمارے ہاں اگر آپ اُردو کی صحت کا اندازہ لگانا چاہیں تو ایک معمولی سا واقعہ آپ کے تفنن طبع کے لئے حاضر ہے۔ پرچے میں مضائقہ لفظ کا استعمال آیا تو لڑکے نے لکھا ”حلوے میں کشمکش ڈالنے سے اس کا مضائقہ ٹھیک ہو جاتا ہے “۔ آج کل اردو کی صورت حال کچھ اسی طرح کی ہے انگریزی اردو میں جگہ بناتی جا رہی ہے ایسے ہی جیسے اونٹ نے پہلے اپنی گردن خیمے میں ڈالی تھی اور پھر رفتہ رفتہ اونٹ خیمے میں تھا اور خیمے والے باہر۔

ہوا یوں کہ میں کسی سلسلہ میں ڈاکٹر محمد کامران صدر شعبہ اردو کے پاس گیا تو وہاں ایک خوشگوار ملاقات سبینا خان سے ہوگئی۔ پتہ چلا کہ وہ UK سے آئی ہیں اور اردو اور اقبال پر کام کر رہی ہیں۔ علیک سلیک ہوئی تو وہ پھلجھڑی کی طرح روبہ عمل ہوئیں اور ایک ہی سانس میں اپنا تعارف کروا ڈالا‘ شاید اس لئے کہ ان لوگوں کو وقت کی قدر ہوتی ہے تکلّفات میں آہستہ آہستہ نہیں کھلتے۔ پتہ چلا کہ اس کا 19سالہ تجربہ ٹیچنگ کا ہے۔ میں ”تدریس“ بھی لکھ سکتا تھا مگر وہ بھی ایسے ہی مکس اردو بول رہی تھی اور اردو کا ہر فقرہ ایکچولی Actuallyسے شروع ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ تو میں بھی سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ انگریزی اردو کے ساتھ کچھ زیادہ ہی شیر و شکر ہو رہی ہے۔

سبینا خان کو یوکے میں اردو پرلیکچر دینا تھا اور ہم لوگ اٹھ کر اردو کے لیکچر روم میں آگئے۔ڈاکٹر محمد کامران نے مجھے سٹیج پر مہمان بٹھا لیا اور سبینا نے لیکچر کا آغاز کیا۔ لڑکے اور لڑکیاں اس کے لہجے اور باتوں سے خوب لطف اٹھا رہے تھے انگریزی لہجہEnglish Accentحاوی رہا۔ اس کا بنیادی شعبہ تو اکنامکس یعنی معاشیات ہے مگر وہ اردو کے لئے بے پناہ کام کر رہی ہے کہ یو کے میں موجود بچوں کو اردو زبان سے کٹنے نہ دیا جائے‘ تاکہ وہ اپنی مٹی سے جڑے رہیں۔

مجھے اچھا لگا کہ اس نے اپنے معاشرے میں اردو کو ترویج دینا اپنا مشن بنا رکھا ہے۔ اس نے پنجابی کو بھی ترک نہیں کیا مگر زیادہ زور اردو زبان پر ہی ہے جو اس کے نزدیک ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ چونکہ وہ ایک طویل عرصے سے بچوں کو پڑھا رہی ہے اس لئے وہ بڑوں کے ساتھ بھی اسی انداز میں بات کرتی ہے تو بہت معصوم لگتی ہے۔ اس نے بڑی اچھی بات کی کہUKمیں بچوں کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ وہ اردو لکھنا اور بولنا بھول چکے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ وہ اردو پڑھ بھی نہیں سکتے۔ تو ان کے لئے اس نے رومن فارمیٹRoman Format کی سہولت کا فائدہ اٹھایا ہے تاکہ جو اردو فارمیٹ نہیں پڑھ سکتے تو وہ رومن فارمیٹ میں پڑھ لیں۔ اصل میں یہ طریقہ بچوں کو اردو زبان کی طرف لانے کا ایک طریقہ ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سبینا خان ایک بہت ہی اچھی کاوش کر رہی ہے کہ وہ وہاں آباد ہونے والوں کو اردو زبان کے راستے اپنی ثقافت اور اپنے سماج کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ اس نے مجھے اپنی تازہ کتاب سبز خاںSubz Khan بھی دی۔ میں تو بڑی دیر تک ”سبز قدم“ کے بارے میں سوچتا رہا مگر وہ تو خجستہ گام آئی ہے اور اس نے ہمیں جگایا ہے کہ اُردو کی بحالی بہت ضروری ہے۔ اس کی کتاب میں اردو‘ رومن‘ انگریز ی اور پنجابی چاروں زبانوں میں فقرے دیئے گئے ہیں کہ کسی نہ کسی صورت تفہیم ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد اس نے ہمارے آئین1973ءکا اردو زبان کے حوالے سے ایک آرٹیکل انگریزی میں پڑھ کر سنایا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ15سال کے اندر اردو کو دفتری زبان کے طور پر لاگو کر دیا جائے گا۔

وہ حیرت سے بتاتی رہی کہ آئین کی پاسداری نہیں ہوئی۔ چونکہ وہ وہاں پیدا ہوئی اسی لئے اسے اس کوتاہی پر حیرت ہوئی ہے۔ جو لوگ یہاں رہتے ہیں ان کے لئے روٹین ہے۔ اب آکر فاطمہ اور ظفر عزیر آزاد نے اردو کو دفتری زبان بنوانے کے لئے کوششیں کی ہیں تو کالم نگاروں نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ مگر ان سے پہلے سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیا ہے کچھ کچھ آثار اب نظر آنے لگے ہیں میں بھی اس پر تفصیلی لکھ چکا ہوں۔

ہماری مہمان نے تقسیم سے پہلے کے حالات کا تذکرہ کیا کہ کس طرح انگریزوں نے ہندوستان کے لوگوں سے مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ ان کے تھنک ٹینک نے طے کیا کہ یہاں حکومت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اپنی زبان سے بے گانہ کر دیا جائے یہ لوگ خود ہی اپنی ثقافت اور سماج سے کٹ جائیں گے۔ زبان ہی تخلیقی معاشرہ تخلیق کرتی ہے۔ پھر وہ مقام بھی آیا کہ لوگ کہنے لگے ”پڑھو فارسی بیچو تیل“ سبینا خان نے ”اقبال اردو فاﺅنڈیشن“ بھی بنا رکھی ہے جس کے تحت اردو اور اقبال پر کام کیا جائے گا اس مقصد کے لئے وہ ڈاکٹر جاوید اقبال سے بھی ملی کہ انہیں اِس میں ٹرسٹی بنایا گیا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہUKمیں رہ کر بھی اردو کی خدمت کر رہی ہے‘ کچھ سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے یہاں بھی آئی ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ¿ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

اس نے اچھا کیا کہ اردو کے ساتھ اقبال کو جوڑا ہے کہ اس سے خوبصورت استعارہ پیدا ہوگا۔ اچھی بات ہے کہ یہاں تنظیموں نے اس سبینا کی اردو تحریک کو خوش آمدید کہا۔ میں نے بھہمارے ہاں اگر آپ اُردو کی صحت کا اندازہ لگانا چاہیں تو ایک معمولی سا واقعہ آپ کے تفنن طبع کے لئے حاضر ہے۔ پرچے میں مضائقہ لفظ کا استعمال آیا تو لڑکے نے لکھا ”حلوے میں کشمکش ڈالنے سے اس کا مضائقہ ٹھیک ہو جاتا ہے “۔ آج کل اردو کی صورت حال کچھ اسی طرح کی ہے انگریزی اردو میں جگہ بناتی جا رہی ہے ایسے ہی جیسے اونٹ نے پہلے اپنی گردن خیمے میں ڈالی تھی اور پھر رفتہ رفتہ اونٹ خیمے میں تھا اور خیمے والے باہر۔

ہوا یوں کہ میں کسی سلسلہ میں ڈاکٹر محمد کامران صدر شعبہ اردو کے پاس گیا تو وہاں ایک خوشگوار ملاقات سبینا خان سے ہوگئی۔ پتہ چلا کہ وہ UK سے آئی ہیں اور اردو اور اقبال پر کام کر رہی ہیں۔ علیک سلیک ہوئی تو وہ پھلجھڑی کی طرح روبہ عمل ہوئیں اور ایک ہی سانس میں اپنا تعارف کروا ڈالا‘ شاید اس لئے کہ ان لوگوں کو وقت کی قدر ہوتی ہے تکلّفات میں آہستہ آہستہ نہیں کھلتے۔ پتہ چلا کہ اس کا 19سالہ تجربہ ٹیچنگ کا ہے۔ میں ”تدریس“ بھی لکھ سکتا تھا مگر وہ بھی ایسے ہی مکس اردو بول رہی تھی اور اردو کا ہر فقرہ ایکچولی Actuallyسے شروع ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ تو میں بھی سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ انگریزی اردو کے ساتھ کچھ زیادہ ہی شیر و شکر ہو رہی ہے۔

سبینا خان کو یوکے میں اردو پرلیکچر دینا تھا اور ہم لوگ اٹھ کر اردو کے لیکچر روم میں آگئے۔ڈاکٹر محمد کامران نے مجھے سٹیج پر مہمان بٹھا لیا اور سبینا نے لیکچر کا آغاز کیا۔ لڑکے اور لڑکیاں اس کے لہجے اور باتوں سے خوب لطف اٹھا رہے تھے انگریزی لہجہEnglish Accentحاوی رہا۔ اس کا بنیادی شعبہ تو اکنامکس یعنی معاشیات ہے مگر وہ اردو کے لئے بے پناہ کام کر رہی ہے کہ یو کے میں موجود بچوں کو اردو زبان سے کٹنے نہ دیا جائے‘ تاکہ وہ اپنی مٹی سے جڑے رہیں۔

مجھے اچھا لگا کہ اس نے اپنے معاشرے میں اردو کو ترویج دینا اپنا مشن بنا رکھا ہے۔ اس نے پنجابی کو بھی ترک نہیں کیا مگر زیادہ زور اردو زبان پر ہی ہے جو اس کے نزدیک ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ چونکہ وہ ایک طویل عرصے سے بچوں کو پڑھا رہی ہے اس لئے وہ بڑوں کے ساتھ بھی اسی انداز میں بات کرتی ہے تو بہت معصوم لگتی ہے۔ اس نے بڑی اچھی بات کی کہUKمیں بچوں کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ وہ اردو لکھنا اور بولنا بھول چکے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ وہ اردو پڑھ بھی نہیں سکتے۔ تو ان کے لئے اس نے رومن فارمیٹRoman Format کی سہولت کا فائدہ اٹھایا ہے تاکہ جو اردو فارمیٹ نہیں پڑھ سکتے تو وہ رومن فارمیٹ میں پڑھ لیں۔ اصل میں یہ طریقہ بچوں کو اردو زبان کی طرف لانے کا ایک طریقہ ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سبینا خان ایک بہت ہی اچھی کاوش کر رہی ہے کہ وہ وہاں آباد ہونے والوں کو اردو زبان کے راستے اپنی ثقافت اور اپنے سماج کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔ اس نے مجھے اپنی تازہ کتاب سبز خاںSubz Khan بھی دی۔ میں تو بڑی دیر تک ”سبز قدم“ کے بارے میں سوچتا رہا مگر وہ تو خجستہ گام آئی ہے اور اس نے ہمیں جگایا ہے کہ اُردو کی بحالی بہت ضروری ہے۔ اس کی کتاب میں اردو‘ رومن‘ انگریز ی اور پنجابی چاروں زبانوں میں فقرے دیئے گئے ہیں کہ کسی نہ کسی صورت تفہیم ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد اس نے ہمارے آئین1973ءکا اردو زبان کے حوالے سے ایک آرٹیکل انگریزی میں پڑھ کر سنایا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ15سال کے اندر اردو کو دفتری زبان کے طور پر لاگو کر دیا جائے گا۔

وہ حیرت سے بتاتی رہی کہ آئین کی پاسداری نہیں ہوئی۔ چونکہ وہ وہاں پیدا ہوئی اسی لئے اسے اس کوتاہی پر حیرت ہوئی ہے۔ جو لوگ یہاں رہتے ہیں ان کے لئے روٹین ہے۔ اب آکر فاطمہ اور ظفر عزیر آزاد نے اردو کو دفتری زبان بنوانے کے لئے کوششیں کی ہیں تو کالم نگاروں نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ مگر ان سے پہلے سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیا ہے کچھ کچھ آثار اب نظر آنے لگے ہیں میں بھی اس پر تفصیلی لکھ چکا ہوں۔

ہماری مہمان نے تقسیم سے پہلے کے حالات کا تذکرہ کیا کہ کس طرح انگریزوں نے ہندوستان کے لوگوں سے مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ ان کے تھنک ٹینک نے طے کیا کہ یہاں حکومت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اپنی زبان سے بے گانہ کر دیا جائے یہ لوگ خود ہی اپنی ثقافت اور سماج سے کٹ جائیں گے۔ زبان ہی تخلیقی معاشرہ تخلیق کرتی ہے۔ پھر وہ مقام بھی آیا کہ لوگ کہنے لگے ”پڑھو فارسی بیچو تیل“ سبینا خان نے ”اقبال اردو فاﺅنڈیشن“ بھی بنا رکھی ہے جس کے تحت اردو اور اقبال پر کام کیا جائے گا اس مقصد کے لئے وہ ڈاکٹر جاوید اقبال سے بھی ملی کہ انہیں اِس میں ٹرسٹی بنایا گیا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہUKمیں رہ کر بھی اردو کی خدمت کر رہی ہے‘ کچھ سیکھنے اور تجربہ حاصل کرنے یہاں بھی آئی ہے۔ اقبال نے کہا تھا:

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ¿ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
اس نے اچھا کیا کہ اردو کے ساتھ اقبال کو جوڑا ہے کہ اس سے خوبصورت استعارہ پیدا ہوگا۔ اچھی بات ہے کہ یہاں تنظیموں نے اس سبینا کی اردو تحریک کو خوش آمدید کہا۔ میں نے بھی سوچا کہ نئی بات میں اپنی مہمان کو شاباش دوں اور کہوں ڈٹی رہو۔Stuck on this missionڈاکٹر مجاہد کامران کے لئے بھی حرف تحسین کہ انہوں نے ڈاکٹر محمد کامران کو اختیار دے رکھا ہے کہ ایسے مہمانوں سے طلباءو طالبات کو روشناس کروائیں۔ میرے تمام تر اجتناب کے باوجود کامران نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کلام نہ سنائیں۔ طلباءاور طالبات کی خواہش بھی تھی تو میں نے دو تین غزلیں سنا دیں۔ تین اشعار آپ بھی پڑھ لیں:
تب کہیں جا کے حقیقت کی طرف آیا میں
اس نے آنکھوں سے مری خواب گزارے سارے
نظر انداز کیا میں نے بھی اس دنیا کو
اور دنیا نے بھی پھر قرض اتارے سارے
اس محبت نے تمہیں کیسے ثمر بار کیا
میں کہ خود اپنا نہیں اور تمہارے سارے
آخر میں انجمن تاجران پاکستان کے صدر خالد پرویز کی تقریب کا مختصر تذکرہ کہ انہوں نے اپنے ہاں ایک زبردست محفل جمائی اور خوب رونق لگائی۔ گلوکار عنایت عابد کی موسیقی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ موسیقی کے ساتھ ساتھ باربی کیو سرو ہو رہا تھا‘ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی‘ خوبصورت لان میں اشجار جھوم رہے تھے۔ گویا ہمارے حواس خمسہ پوری طرح مصروف تھے۔ زکریا بٹ مہمانوں کے ناز اٹھا رہا تھا۔ پھر فرمائشیں شروع ہوگئیں۔ منیر نیازی کی غزل سے اس نے سماں باندھ دیا۔ کیا مصرعے ہیں: ”جس نے مرے دل کو درد دیا اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں“ اور پھر یہ کہ جو آگ لگی جلتی ہی رہی‘ جو پھول کھلا کملایانہیں “چیمبر آف کامرس کی طرف سے اعزاز میں دیا گیا یہ کھانا اپنی مثال آپ تھا۔ آمنہ الفت میرے ساتھ تھیں۔ وہاں خاص طور پر ارشد شیخ‘ محمد علی‘ عرفان اقبال‘ انجم نثار اور مکرم شاہ سے ملاقات ہوئی۔ کھانے کے دوران بارش نے اور بھی لطف دیا۔ فالسے کی چٹنی‘ لزینہ اور شاہی ٹکڑے کمال کے تھے۔ی سوچا کہ نئی بات میں اپنی مہمان کو شاباش دوں اور کہوں ڈٹی رہو۔Stuck on this missionڈاکٹر مجاہد کامران کے لئے بھی حرف تحسین کہ انہوں نے ڈاکٹر محمد کامران کو اختیار دے رکھا ہے کہ ایسے مہمانوں سے طلباءو طالبات کو روشناس کروائیں۔ میرے تمام تر اجتناب کے باوجود کامران نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کلام نہ سنائیں۔ طلباءاور طالبات کی خواہش بھی تھی تو میں نے دو تین غزلیں سنا دیں۔ تین اشعار آپ بھی پڑھ لیں:
تب کہیں جا کے حقیقت کی طرف آیا میں
اس نے آنکھوں سے مری خواب گزارے سارے
نظر انداز کیا میں نے بھی اس دنیا کو
اور دنیا نے بھی پھر قرض اتارے سارے
اس محبت نے تمہیں کیسے ثمر بار کیا
میں کہ خود اپنا نہیں اور تمہارے سارے
آخر میں انجمن تاجران پاکستان کے صدر خالد پرویز کی تقریب کا مختصر تذکرہ کہ انہوں نے اپنے ہاں ایک زبردست محفل جمائی اور خوب رونق لگائی۔ گلوکار عنایت عابد کی موسیقی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ موسیقی کے ساتھ ساتھ باربی کیو سرو ہو رہا تھا‘ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی‘ خوبصورت لان میں اشجار جھوم رہے تھے۔ گویا ہمارے حواس خمسہ پوری طرح مصروف تھے۔ زکریا بٹ مہمانوں کے ناز اٹھا رہا تھا۔ پھر فرمائشیں شروع ہوگئیں۔ منیر نیازی کی غزل سے اس نے سماں باندھ دیا۔ کیا مصرعے ہیں: ”جس نے مرے دل کو درد دیا اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں“ اور پھر یہ کہ جو آگ لگی جلتی ہی رہی‘ جو پھول کھلا کملایانہیں “چیمبر آف کامرس کی طرف سے اعزاز میں دیا گیا یہ کھانا اپنی مثال آپ تھا۔ آمنہ الفت میرے ساتھ تھیں۔ وہاں خاص طور پر ارشد شیخ‘ محمد علی‘ عرفان اقبال‘ انجم نثار اور مکرم شاہ سے ملاقات ہوئی۔ کھانے کے دوران بارش نے اور بھی لطف دیا۔ فالسے کی چٹنی‘ لزینہ اور شاہی ٹکڑے کمال کے تھے۔

Citation
Saadullah Shah, “یوکے میں اُردو اور سبینا خان,” in Daily Nai Baat, June 3, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DB%8C%D9%88%DA%A9%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%8F%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%86%D8%A7-%D8%AE%D8%A7%D9%86

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on June 3, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s