جن سے شہر آباد، اعزاز احمد آذر

Follow Shabnaama via email
فرخ سہیل گویندی

بڑے شہر زیادہ آبادی سے ہی نہیں، بڑے لوگوں کی وجہ سے بڑے شہر کہلائے جاتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے لوگ ہی شہروں کو نامور ہونے کا اعزاز بخشتے ہیں۔ علامہ شیخ محمد اقبالؒ پیدا سیالکوٹ میں ہوئے لیکن انہوں نے پچھلی صدی میں لاہور کی شہرت دنیا بھر میں پھیلا دی۔ فارسی بولنے والے اسی لیے ان کو اقبال لاہوری کہتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی، سون وادی کے ایک چھوٹے سے گاؤں انگہ میں پیدا ہوئے لیکن انہوں نے اپنے علم کے چراغ لاہور میں جلائے۔ ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری پیدا غزنی افغانستان میں ہوئے، لیکن لاہور میں بیٹھ کر انہوں نے اسلام کے چراغ جلائے جس نے سرزمین برصغیر پاک و ہند کو روشن کر دیا اور یوں لاہور کو داتا کی نگری قرار دیا جانے لگا۔ لیکن ایسا بھی ہوا لاڑکانہ سندھ کا ایک چھوٹا شہر دنیا بھر میں اپنے سپوت ذوالفقار علی بھٹو کی بنا پر متعارف ہوا۔ کروڑوں کی آبادی پر مشتمل شہر درحقیقت اپنے چند سپوتوں کی بنیاد پر ہی جاری ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت شہر ایسے لوگوں سے زندہ شہر کہلائے جاتے ہیں جو شہر کو اپنی علمی، فکری، ادبی، سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہر لحاظ سے متحرک رکھتے ہیں۔ شہر صرف مال بیچنے اور خریدنے والوں سے آباد نہیں ہوتے بلکہ شہر ایسی ہستیوں کے سبب زندہ شہر ہوتے ہیں جو شہر کو فکری، ادبی،علمی، اجتماعی افکار اور فن سے زندگی بخشتے ہیں۔ جب بھی شہروں میں بسنے والے ایسے لوگ جدا ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے شہر اُجڑنے جارہا ہے۔ لاہور کروڑ سے زائد آبادی کا شہر ہے۔ ہر روز اس شہر میں سینکڑوں انسانوں کا جنم ہوتا ہے اور ایسے ہی سینکڑوں رخصت ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شہر کو زندگی بخشنے والا روانہ ہوتا ہے تو شہر بھر میں سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔ اسی شہرِ لاہور میں چند روز پہلے اعزاز احمد آذر بھی رخصت ہوگئے۔

اعزاز احمد آذر25دسمبر 1942ء میں بٹالہ میں پیدا ہواور سیالکوٹ میں پلے بڑھے لیکن عملاً ان کا جنم لاہور میں ہوا۔ وہ شہر کے ان چند لوگوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے جہد مسلسل سے اس شہر کو اپنے تحرک سے زندہ رکھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اعزاز احمد آذر نے علم، اَدب، فکرو فن کے دیئے شہر لاہور میں جلائے کہ اس شہر کو اپنے تئیں زندہ رکھا۔ وہ جس قدر خوب صورت تھے، اسی قدر ان کی فکر اور شاعری خوب صورت تھی اور ان کی آواز کی خوب صورتی ان کے ظاہری اور باطنی حسن میں اضافہ کے لیے ایک انمٹ خزانہ تھا، جو قدرت نے انہیں عطا کیا۔ اعزاز احمد آذر نے اپنی فکری جدوجہد کے ذریعے اس دھرتی اور اس دھرتی پر بسنے والوں کو کئی انداز میں Contribute کیا۔ شاعری، اُردو اور پنجابی، نثر، ڈرامہ نگاری، ریڈیو پر صدا کاری اور پاکستان ٹیلی ویژن پر سینکڑوں نہیں ہزاروں پروگراموں کی میزبانی، اَدبی، سیاسی اور علمی تقریبات میں ان کی یادگار تقاریر اور نجی محفلوں میں ان کی نہ بھلانے والی باتیں، شہر لاہور کی زندگی کو آکسیجن فراہم کرتی تھیں۔ وہ اردو میں ایسی شاعری کرتے تھے کہ شعر سننے کے بعد میرا جیسا شخص شعر کے پیش و پس منظر میں کھو جاتا تھا۔ جب سلمان تاثیر کا قتل کیا گیا تو پورے ملک میں جس SMS نے کروڑوں کی تعداد میں سفر کیا، وہ انہی کا شعر تھا جو انہوں نے 1974ء میں کہا تھا۔

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
اَب تو اِس شہر کے ہر شخص سے ڈر لگتا ہے
پنجابی شاعری میں بھی باکمال کہ انہوں نے کہا:
ویلے سرِ بس اسے ای اِک سانجھ سہارا بن دی اے
لہو دے رشتے نالوں پکا رشتہ قلم دواتاں دا

ذوالفقار علی بھٹو جب وزارتِ خارجہ سے مستعفی ہو کر عوام میں آملے تو انہوں نے اپنی عوامی جدوجہد کے آغاز کے لیے لاہور کو ہی چنا۔ ٹرین جب لاہور پہنچی تو اعزاز احمد آذر اُن نوجوانوں میں شامل تھے جو لاہور ریلوے سٹیشن پر اُبھرتے ہوئے عوامی سورج کو لے کر پورے ملک میں روشنی پھیلانے کے لیے بے قرار تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو 21دسمبر 1971ء کوصدر پاکستان بنے تو انہوں نے عوامی فکر کو زندہ وجاوید رکھنے کے لیے ایسے دانشور نوجوانوں کا گروپ تشکیل دیا جو فکر، شعر اور علم و ادب کے ذریعے عوامی بیداری کا چراغ جلائے رکھیں۔ اس سیل کا نام ’’سپیکرز سیل‘‘ تھا، جس میں اعزاز احمد آذر جیسے دیگر نوجوان بھی شامل تھے جنہوں نے علم و ادب ،شعور و فکر اور سیاسی شعور کے لیے شہر شہر سرگرمیاں کیں۔ جب ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر چڑھائے گئے تو آذر صاحب نے کہا:

بچھڑنے والے نے وقتِ رُخصت کچھ اس نظر سے پلٹ کر دیکھا
کہ جیسے وہ بھی یہ کہہ رہا ہو، تم میرے گھر کا خیال رکھنا

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صوفیائے کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے کبھی دربار اور ایوانِ اقتدار کو نہیں بلکہ عوامی ڈیروں کو اپنا مقام قرار دیا اور اسی پر فخر کیا۔ وہ اپنی سرزمین سے اس قدر جڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنی ماں بولی کے لیے اپنی ذات کی نفی کردی۔ پنجاب اور پنجابی زبان پر فخر ان کو ایسے تھا جیسے کوئی ماں کا احترام کرتا ہے۔ دہائیوں پہلے ان کے سینئر مشتاق بٹ ایڈووکیٹ نے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی ’’دیس پنجاب محاذ‘‘ جنہوں نے پنجابی زبان کے خلاف فرنگی (کلونیل) سازش کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب اور پنجابیوں کو ان کی زبان واپس دلانے کے لیے علمی جدوجہد کی اس تنظیم میں اعزاز احمد آذر، ملک اسلم حیات، رفیق باجوہ ایڈووکیٹ (بعد میں پی این اے کے سیکریٹری جنرل)، صفدر میر، حسین تقی، نجم حسین سید، احمد ندیم قاسمی اور شفقت تنویر جیسے اہل دانشور شامل تھے۔ آذر صاحب نے قرآنِ کریم کی سورۃ یوسف پر ایک کتاب لکھی جس میں اس کا جمالیاتی جائزہ لیا گیا۔ اس کتاب کا نام ’’نویکلا‘‘ ہے۔ سولہ سے زائد کتابوں کے مصنف، اعزاز احمد آذر کا اس وقت متعدد لوگوں نے اپنی تحریروں میں بڑے شگفتہ انداز میں ذکر کیا جب سوویت یونین تحلیل ہوا اور آذر بائیجان نے ایک خود مختار ریاست کا مقام حاصل کیا،اور متعدد لوگوں نے لکھا ،’’آذر بھائی جان‘‘۔

میں ٹی وی دیکھنے سے زیادہ ریڈیو سنتا ہوں۔ پاکستان اور پاکستان کے علاوہ درجنوں ریڈیو سٹیشن میری کار اور آئی پیڈ پر ٹیون ہیں اور میرے پاس اس وقت بھی چھے سے زائد ریڈیو ہیں۔ آذر صاحب کے ریڈیو پروگرام فکری اور علمی تربیت کا ایک ذریعہ ہوتے تھے۔ ایف ایم 95 سے ’’چٹھی سجناں دی اے‘‘ کے نام سے پروگرام مٹتی شاندار روایات کی بحالی کا پروگرام اور ریڈیو پاکستان سے پیر سے منگل دو گھنٹوں پر ان کااقبالیات پر پروگرام پاکستانی میڈیا میں فکری آکسیجن تھے۔ انہوں نے شہر لاہور کو فکری طور پر آباد رکھنے میں جو کردار ادا کیا، وہ کبھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ دوسال قبل اسلام آباد میں رائٹرز کانفرنس تھی، میں نے اکادمی ادبیات سے کہا کہ آپ اپنے لاہورکے مندوبین کی فہرست دیں، میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی گاڑی میں آپ کے چار مندوبین کو اپنے ہمراہ لاؤں۔ فہرست میں افتخار مجاز، شہباز انور اور اعزاز احمد آذر کے نام دیکھے اور ان کو اپنے ہمراہ اسلام آباد لے گیا۔ کیا شاندار اور یادگار سفر تھا۔ آذر، مجاز اور شہباز انور کی سفری محفل میری ڈرائیونگ کی طاقت، میری کمزوریوں میں دوکمزوریاں یہ بھی ہیں کہ میں اکیلے کھانا نہیں کھا سکتا اور اگر ہمسفر مل جائیں توسفر شاندار ہو جاتا ہے۔ اعزاز احمد آذر کا یہ سفر اور ان کی زندگی کا سارا سفر، ہم جیسے دوستوں کے لیے آبِ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا:

تاریخ مثال ایسی کوئی ڈھونڈ کے لائے
سر تن سے جدا ہو بھی مگر موت نہ آئے

Citation
Farrukh Suhail Goindi, “جن سے شہر آباد، اعزاز احمد آذر,” in Daily Nai Baat, May 30, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AC%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D8%B4%DB%81%D8%B1-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D8%8C-%D8%A7%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%B2-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A2%D8%B0%D8%B1

Disclaimer
The item above written by Farrukh Suhail Goindi and published in Daily Nai Baat on May 30, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Farrukh Suhail Goindi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s