لاہور زندہ باد

Follow Shabnaama via email
کشور ناہید

بہت دنوں بعد، لاہور میں رات گئے تک ٹھہرنے کا موقع ملا۔ نثار منوں صاحب نے اپنے والد کی یاد میں مشاعرہ منعقد کیا تھا۔ یہ اول جلول مشاعرہ اس طرح کا نہیں تھا جس میں صرف پڑھنے والے شاعر صبح چار بجے کے قریب اونگھتے نظر آتے ہیں۔ بلکہ ہوتا تو یہ ہے کہ ادھر فجر کی اذان ہورہی ہوتی ہے۔ اُدھر صاحب صدر شعر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ سامعین میں شامیانہ اتارنے والے بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ مشاعرہ ان روایتی مشاعروں سے بالکل مختلف تھا۔ کل بارہ شاعر تھے اور ہر شاعر سے خوب سنا گیا۔ مشاعرہ ختم ہوا تو ہر چند میزبان اور قاسم جعفری کے علاوہ عباس تابش ضد کرتے رہے کہ چلیں فلاں ہوٹل چل کر آپ کو کھانا کھلاتے ہیں مگر میں تھی کہ بضد میں نے تو لکشمی چوک کٹاٹک کھانا ہے۔ اصل میں میرے اندر بچھڑا ہوا، لاہور تھا کہ مجھے شہر میں گھومنے پہ اکسا رہا تھا۔ اس وقت رات کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ ہم لکشمی چوک پہنچے، پورا علاقہ جگ مگ کررہا تھا۔ کسی کونے میں کرسیوں پر بیٹھے مالش کروا رہے تھے۔ کہیں چھابہ لئے بٹیروں والے گھوم رہے تھے۔ لوگ تازہ تازہ بٹیریں بھنوا رہے تھے۔ کہیں گوجرانوالہ کے چڑے کھانے کا شوق رکھنے والے لوگ تھے، ایک شخص چڑوں کا چھابہ لئے گھوم رہا تھا۔ برقعہ پوش، بچوں والیاں، فیشن ایبل ہر طرح کی خواتین اور حضرات کھانا کھانے آرہے تھے۔ موٹر سائیکلوں پہ آنے والے منچلوں کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی۔ میں ہر طرف کے منظر کو اپنے اندر سمیٹ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی کہ میرا شہر لاہور ابھی زندہ ہے میں نے اپنی جوانی کے دس سال اس علاقے کو دیئے تھے۔ وہ ساری یادیں روشن ہورہی تھیں۔ دعائیں میرے منہ سے نکل رہی تھیں کہ میرے سارے ملک کے نوجوان یوں ہی ہنستے، مسکراتے رہیں۔ ایسا لذیز کٹاٹک تھا کہ اتنی دیر سے کھانا کھانے کے باوجود کوئی جلن نہیں ہوئی۔ اب سوچا چلو شہر گھومتے ہیں۔ بھئی کمال تھا جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹ خوب چل رہے تھے۔ لیک روڈ کے کنارے سے لیکر پرانی انارکلی کے موڑ تک، ٹھیلوں پر پھل لئے غریب بیچنے والے، گاہک کے منتظر تھے۔ نجانے کہاں سے بجلی لیکر ایک ایک بلب جلایا ہوا تھا۔ جوس والوں کی دکانیں، آئس کریم کارنرز سب چمک رہے تھے۔ سبزہ زار جسے میں کھیت چھوڑ کر آئی تھی وہاں کوئی گوشہ خالی نہ تھا۔ میرا اپنا علاقہ اقبال ٹائون بالکل بدلا ہوا تھا۔ میں نے وہ کونے تلاش کئے جہاں میرے بچے آئس کریم کھاتے تھے۔ اب وہاں اونچی عمارتیں بنی ہوئی تھیں۔

مجھے لاہور کو یاد کرتے شریف جنجوعہ نے دیکھ لیا۔ بولا ارے ہم تمہیں اگلے ہفتے لاہور جم خانے کی سیر اور کھانوں کی لذت سے آشنا کرتے ہیں۔ اندھا کیا مانگے دو آنکھیں۔ میں نے فوراً حامی بھرلی۔ پروگرام یہ بناکہ اصغر ندیم سید کی جو ادھوری کلیات شائع ہوئی ہیں۔ اس کے بہانے سارے پرانے دوستوں اور ادیبوں کو اکٹھا کیا جائے۔ کچھ مضمون پڑھے جائیں۔ کچھ اصغر سے نظمیں سنی جائیں۔ اور جم خانے کے دوستوں سے زبردست چائے پر ملاقات بھی کی جائے۔ اصغر کی پرانی اور نئی نظمیں سنی بھی گئیں اور ان پر تبصرہ ہوا کہ اصغر کا تعلق اس نسل سے ہے جس نے بھٹو صاحب کی پارٹی (کہ اب تو وہ پارٹی رہی ہی نہیں) کے زمانے میں سر نکالا کبھی نظم تو کبھی مضمون لکھنے شروع کئے۔ ضیاالحق کا زمانہ آیا تو اس کو عتاب میں ملتان سے شکرگڑھ پھینک دیا گیا۔ اسی زمانے میں فلسطینی شاعروں کی نظمیں بھی ترجمہ ہورہی تھیں۔ اس کا بھی اثر اردو شاعری پر پڑھ رہا تھا۔ ضیاالحق کے زمانے کی پھانسیوں نے شاعری کو اور مہمیز دی۔ اصغر نے جلد ہی لاہور کا رخ کیا۔ اب اس کے اندر کا ڈرامہ نگار جاگ اٹھا۔ شاعری اس کے پیچھے پڑی رہی، کبھی کبھی وہ اِدھر رخ کرتا کہ شاعری ویسے تو رائلٹی نہیں دلواتی جیسے کہ سیریل دلاتے ہیں۔ زندگی کے شب و روز حادثوں کے بغیر تو نہیں گزرتے۔ اصغر بھی ایسے ہی حادثے سے آشنا ہوا کہ اس کی بیوی فرزانہ غلط انجکشن لگنے کے باعث منٹوں سیکنڈوں میں مرگئی۔ زندگی کے اس پلٹے اور بچوں کو سنبھالتے سنبھالتے، جذبات شعروں میں نہیں، ڈراموں میں ڈھلتے گئے۔
زندگی نے اب ایک اور رخ دکھایا، یہ حادثے رضا رومی اور اصغر ندیم سید، دونوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے پیش آئے۔ دونوں پر تڑاتڑ گولیاں برسائی گئیں۔ اصغر نے جرأت دکھائی حالات کا مقابلہ کیا۔ رضا رومی، سب سے رشتے توڑ کر امریکہ چلا گیا۔ارے شریف جنجوعہ کا لاہور دکھانے کا قصہ تو وہیں رہ گیا نہیں ہوسکتا کہ یہ بیان نہ ہو۔ جم خانہ کے میرے کمرے میں میزبانی اب سمیع الرحمان اور شریف جنجوعہ کے ہاتھوں میں تھی۔ قہقہے تھے، جملہ بازی تھی۔ شعر سنائے جارہے تھے اور پھر کھانا۔ اُف بہت مزیدار۔ انتظار حسین صاحب فقرے بازی میں تو حصہ نہیں لے رہے تھے، مگر کھلکھلا کر ہنس رہے تھے۔ بڑی خوبصورت یہ شام ختم ہوتے ہوئے مجھ سے پوچھ رہی تھی۔ دیکھو تمہارے دوست بھی تم کو کس قدر یاد کرتے ہیں اور تمہارے آنے پہ کیسی زندہ محفلیں کرتے ہیں مگر اس میں ایک خاتون کا ذکر رہ گیا۔ شیبا جو کہ اصغر کی بیوی ہے، ابھی ڈاکٹریٹ کیا ہے۔ کنیئرڈ کالج میں اردو کے شعبے کی سربراہ ہے، وہ تو خود میزبان بنی ہوئی تھی۔ لاہور زندہ باد۔

Citation
Kishwar Naheed, “لاہور زندہ باد,” in Jang, May 29, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DB%81-%D8%A8%D8%A7%D8%AF/

Disclaimer
The item above written by Kishwar Naheed and published in Jang on May 29, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Kishwar Naheed:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s