فیض احمد فیض سے انتقام؟

Follow Shabnaama via email
زیڈ بی پسروری

ہمارے شہر پسرور سے کوئی پندرہ منٹ کی مسافت پر سکھوں کا ایک مقدس مقام ’’کرتار پور‘‘ ہے ۔چند دن پہلے چونڈہ کے ایک دوست نے مجھے کہا کہ یار انڈیا سے کرتار پور کے لئے آئے سکھ یاتریوں سے میری ملاقات کروانی ہے یہ تین دوست ہیں اور تینوں لکھاری ہیں ،بہت اچھے افسانہ نگار اور شااعر ہیں۔لکھاریوں کا سن کرمجھ سے رہا نہ گیا میں فوراً ان سے ملنے چلا گیا ،باتوں باتوں میں پاکستان میں شاعروں اور ادیبوں کی عزت کے حوالے سے بات چل نکلی توا نہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے فیض احمد فیض سے اچھا انتقام لیا ہے،پھر دوسرا بولا وہ بھی تو آمریتوں کے خلاف آواز اٹھاتا تھا اس لئے یہاں آمروں کے ساتھیوں نے اپنا حساب برابر کر دیاہے ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔میں نے انہیں کہا کہ آپ لوگ کس ا نتقام کی بات کر رہے ہو انہوں نے کہا اس کے لئے آپ کو ہمارے ساتھ آج شام کو نارووال ریلوے اسٹیشن جانا ہو گا وہاں جا کر آپ کو تفصیل بتائیں گے۔چنانچہ ہم لو گ شام کو نارووال ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے ۔اسٹیشن پر ایک ٹرین کھڑی تھی جس پر لکھا تھا ’’فیض احمد فیض ‘‘ ٹرین ،انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور ٹرین کے اندر لے گئے۔انتہائی گندے ڈبے ،واش روم تو توبہ توبہ۔۔۔ بدبو پوری بوگی میں پھیل رہی تھی،سیٹیں بھی عام پسنجر ٹرین کی طرح بالکل فضول اورانتہائی غیرمعیاری بوگیاں۔۔۔انڈین مہمانوں نے ہنس کر کہافیض نے شائد اپنے بعد اپنے ساتھ اس طرح کے سلوک سوچا بھی نہ تھا اسی لئے تو کہا تھا:’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔۔۔وہ دن کہ جس کے وعدے ہیں۔۔۔جو لوح ازل پر لکھے ہیں۔۔۔‘‘ میں شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا میں نے کہا نہیں فیض کو آمروں اور ان کے ساتھیوں سے کوئی امید نہیں تھی اس نے اسی لئے کہا تھا:
یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ،یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو کی تھی
چلے تھے یار کہ مل جائے گی ،کہیں کہیں

پھر ان میں سے ایک بولا ’’یار اگر یہاں ان لوگوں کا مقصد فیض احمد فیض کو خراج تحسین پیش کرنا تھا توصاف ستھری معیاری بوگیاں لگاتے، بوگیوں کے اندر فیض کی تصاویر لگاتے ،فیض کاکلام لکھتے ،سپیکر لگا کرمدھر آواز میں فیض کا کلام مشہور گلوکاروں کی آواز میں چلاتے۔۔۔آپ کے ہاں تو اقبال بانو،میڈم نور جہاں،فریدہ خانم ،مہدی حسن اور ٹینا ثانی جیسے گلوکاروں نے فیض احمد فیض کا کلام کیا خوب گایا ہے ہمارے پاس ان کی سی ڈیز موجود ہیں،ان کی آواز میں کلام چل رہا ہوتا تو سفر کیسا حسین ہوتا اور اس طرح فیض کا کلام لوگوں تک کتنی آسانی سے پہنچتارہتا۔اور اسے عام گاڑیوں سے زیادہ صاف ستھرا اور خوبصورت رکھتے تا کہ عام لوگوں کے ذہن میں یہ بات آتی کہ یہ ہمارے عظیم ہیرو کے نام سے منسوب ٹرین ہے اس لئے یہ سب سے منفرد ہے،نئی نسل کو فخر ہوتا کہ ایسے قومیں اپنے عظیم لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہیں۔

ان کی باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا میں شرمندگی سے بت بنا کھڑا تھا۔بیورو کریسی کے جاہل بابووءں پر توغصہ آ رہا تھا ساتھ مجھے فیض صاحب کی مایہ ناز بیٹیوں پر دکھ ہو رہا تھا ،یہ دونوں بہنیں تخلیق کار ہیں ،یہ چاہتیں تو فیض ٹرین کے ڈبوں کو فیض کے اشعار ان کی تصاویر ان کی شاعری کے پیغام سے آرٹ کا نمونہ بنا سکتی تھیں ،مگر انہوں نے بھی اپنے بابا کی عظمت کا حق ادا نہیں کیا۔فیض صاحب کی بیٹی سلیمہ ہاشمی نیشنل کالج آف آرٹس کی پرنسپل رہ چکی ہیں ان کے ہزاروں شاگرد مصوری سے وابستہ ہیں یہ ان کے ساتھ مل کے اس فیض ٹرین کوفیض صاحب کے اشعار اور ان میں بیان کئے گئے پیغام کے ساتھ نہائت خوبصورتی سے بوگیوں کی اندورنی دیواروں کو مزین کر سکتی تھیں ،مگر انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ بھی ہماری بیوروکریسی کی سوچ سے ہم آہنگ نکلیں۔ جس دن اس ٹرین کا آغاز کیا جا رہا تھا یہ فیض صاحب کی یہ دونوں بیٹیاں لاہور اسٹیشن پر افتتاحی تقریب میں موجود تھیں۔

ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر بیوروکریسی کے جن عظیم شہ دماغوں نے فیض احمد فیض کو اس طرح کا گھٹیا خراج غیرت پیش کیا ہے میرا دل چاہتا ہے ان بابووءں کو فیض ٹرین کی پھٹیچر بوگیوں میں روزانہ لاہور سے نارووال اور نارووال سے لاہور کے سفر کی سزا دی جائے ،انہیں اس کے گندے واش روموں میں رواز نہ پندرہ منٹ بند کرکے رکھا جائے ۔مارشل لاء کی پیداوار بیوروکریسی اور آمرانہ سوچ رکھنے والے حکمرانوں نے فیض احمدفیض سے جمہوریت پسندی،پسے ہوئے طبقے کے حق میں آواز اٹھانے،ڈکٹیٹروں کے خلاف کلمہ ء حق بلند کرنے اور اس استحصالی نظام کو بدلنے کی جدوجہد کرنے کا خوب بدلہ لیا ہے۔فیض جیسے عظیم شاعر کے نام پاکستان کی سب سے پھٹیچر اور گندی ٹرین کا نام منسوب کرکے ان کی توہین کی ہے۔ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے یہ اردو ادب سے نا بلد کالے انگریز بابو فیض صاحب کے مرتبے سے بالکل لا علم ہیں،کند ذہن اور بانجھ سوچوں کے مالک یہ بیوروکریٹ بابو بس انگریزوں کی نقالی کر سکتے ہیں۔انہیں بس اتنا پتہ ہے کہ کسی نہ کسی چیز کو کسی مشہور بندے کے نام منسوب کر دیا جاتا ہے انہیں یہ بالکل علم نہیں کہ کس پائے کی شخصیت کے نام کیا منسوب کرکے اسے خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔یقین جانئے اگر ان کوٹ ٹائی والے انگلش میڈیم بابووءں کا اردو ادب سے ذرا بھی شغف ہوتا تو اس قسم کی بھونڈی حرکت نہ کرتے،اگر انہیں کسی ٹرین کا نام فیض صاحب سے منسوب کرنا ہی تھا تو کسی صاف ستھری ٹرین کا انتخاب کرتے ،اس کے اندر صفائی کا خاص خیال رکھتے اور اس کی بوگیوں کی دیواروں کو فیض صاحب کی خوبصورت شاعری سے دیدہ زیب بناتے اس کے اندر سپیکر لگا کر فیض کی غزلوں کو چلا کر سفر کو حسین بنا دیتے ،مگر بانجھ سوچوں میں تخلیقی صلاحیتیں کہا ں سے لائیں۔

حکمران جب قصیدہ گو درباریوں اور خدمت گار غلاموں کو اعلی عہدوں پر بٹھا کر ان کی دانش پر عمل کرنا شروع کرتے ہیں تو پھر تاریخ میں کئی لطائف تخلیق ہوتے ہیں ،بھانڈوں میں صرف لطائف تخلیق کرنے کی ہی صلاحیت ہوتی ہے سو ان سے اسی کی امید رکھنی چاہئے۔ایسا ہی ایک معرکہ ان بابو نما درباری بیوروکریٹوں کے ہاتھوں فیض احمد فیض کو خراج عقیدت کے لئے باؤ ٹرین کا نام فیض احمد فیض ٹرین رکھنا ہے۔یہ کسی بھی طرح فیض صاحب کو خراج تحسین نہیں ہے، بلکہ ان کی توہین ہے۔۔میری محکمہ ریلوے کی انتظامیہ سے،خواجہ سعد رفیق سے اور فیض صاحب کی آرٹسٹ بیٹی سلیمہ ہاشمی سے گذارش ہے کہ اس ٹرین کو ماڈل ٹرین بنائیں۔فیض احمد فیض عمر بھر اس قوم کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے ،انہوں نے آمریتوں کی صعوبتیں برداشت کیں،اس استحصالی نظام کو بدلنے کی جدوجہد کی، اب ہمارا فرض ہے کہ ان کے شایان شان خراج تحسین پیش کریں نا کہ پاکستان کی سب سے گندی ٹرین کو ان کے نام سے منسوب کرکے ان سے انتقام لے کر یہ ظاہر کریں کہ ہم پاکستانی اپنے محسنوں کی قدر کرنے کی بجائے ان کی توہین کرنے کی پختہ عادت اپنا چکے ہیں۔شائد فیض صاحب کو پہلے ہی علم تھا کہ انہوں نے یہاں کے استحصالی نطام اور آمریتوں کے خلاف جہاد میں جو قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں مرنے کے بعد بھی یہ لوگ انہیں معاف کرنے والے نہیں اسی لئے وہ کہہ گئے تھے:
مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلہء قید حیات
ہاں فقط اتنا ہے زنجیر بدل جاتی ہے

Citation
Z B Pasrori, “فیض احمد فیض سے انتقام؟,” in Daily Pakistan, May 28, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/28-May-2015/229440

Disclaimer
The item above written by Z B Pasrori and published in Daily Pakistan on May 28, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Z B Pasrori:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s