جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو!

Follow Shabnaama via email
شاہد ملک

یادیں کسی واضح منطق کی پابند نہیں ہوتیں ،اس لئے پتا نہیں کیوں جڑتے ادھڑتے رشتوں کے موسم میں آجکل ہوش و حواس پہ فیض احمد فیض چھائے ہوئے ہیں ۔ ’شام شہر یاراں ‘ کے تعارف میں اشفاق احمد نے انہیں ایسا ملامتی صوفی کہا تھا جو صبر اور بردباری کا مسلک اپناتا ہے اور احتجاج کئے بغیر پتھر بھی کھا لیتا ہے ۔ اگر فیض پہ ہونے والی سنگ زنی کا حساب لگانے بیٹھیں،تو سب سے پہلے راولپنڈی سازش کیس کا خیال آئے گا کہ پراسیکیوٹر عدالتی ٹربیونل کے روبرو فیض اور ان کے رفقائے جرم عشق کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کرتا اور پھر گھر جا کر سر پیٹتا کہ یہ مر گیا تو ایسا شاعر کہاں سے لاؤں گا ۔ آج احساس ہوتا ہے کہ فیض کو داغ داغ کرنے والے تمام پتھر ’صف دشمناں‘ نے نہیں برسائے تھے ۔ اس سنگ باری میں کسی نہ کسی ’چارہ گر‘ کی غلیل بھی استعمال ہوتی رہی ۔

اب اگر یوں سمجھ لیں کہ ان میں سے ایک حرکت میرے ایما پر کی گئی تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ فیض والے مشہور مقدمہ کے برعکس ہماری راولپنڈی سازش کسی فوجی بنگلہ میں نہیں ، گورڈن کالج کے کلاس روم میں تیار ہوئی ،جس میں میرے ساتھ اپنے شعبہ کے دو اور طالب علم شاعر بھی شریک تھے ۔ وہی گورڈن کالج جو کبھی اپنے تعلیمی معیار کے لئے جانا جاتا تھا اور اب اس لئے معروف ہے کہ اسے مرکز مان کر ایک کلومیٹر نصف قطر کا دائرہ کھینچیں تو تین منتخب وزرائے اعظم کی قتل گاہوں کی نشاندہی ہو جائے گی ۔ آپ کا ذہن شائد کسی اور طرف چلا جائے ۔ نہیں ، فیض کے ساتھ جو نیم فوجداری حرکت کی گئی اس کے لئے نہ تو پنجاب پولیس کی روایتی ایف آئی آر کے مطابق سامنے آکر للکارا مارنا پڑا ، نہ اس واردات کے آلات جرم ہی برآمد ہو سکے ۔ بس ، ہم نے ایک لسانی ہیرا پھیری کر کے چپکے سے ثابت کر د یا تھا کہ فیض احمد فیض ہم تین نو آموز شعرا کی تخلیقی عظمت کے قائل ہو چکے ہیں ۔

دراصل ہمارے استاد ڈاکٹر فرانسس زیوئیر کی طرف سے ہم تینوں کا منتخب اردو مجموعہ شائع کرنے کی تحریک ہوئی تو فلیپ لکھوانے کے لئے، جن بزرگوں سے رجوع کیا گیا ان میں توصیف تبسم ، رشید امجد اور قدرت اللہ شہاب تو تھے ہی ، ہمارے پرنسپل ، پروفیسر خواجہ مسعود جوش میں آکر نوجوان شعرا کو اپنی سفید فوکسی میں بٹھا کر فیض احمد فیض کے پاس بھی لے گئے جو ان دنوں نیشنل کونسل آف آرٹس کے سربراہ تھے ۔ انہوں نے دو روز بعد لکھ بھیجا کہ ’ یہ مجموعہ نوجوان ذہنوں کی معصومیت، تازگی ، خلوص اور حسن تخیل کا بہت اچھا نمونہ ہے ۔ اس میں روایت اور تقلید کے بجائے جدت اور اختراع کا عنصر غالب ہے ‘۔ یہ سطریں پڑھ کر دماغ پہ اپنی عظمت کا کچھ ایسا نقش ابھرا کہ اگلا ہی جملہ ، جس میں فیض صاحب نے اس کتاب کے بارے میں ’ایک گونہ مسرت ‘ کا ذکر کیا تھا ، مجھے ذرا اچھا نہ لگا ۔ مَیں نے اپنے ہاتھ سے ’ایک گونہ‘ کاٹ دیا ۔ اب جو جملہ بچا وہ تھا ’مجھے اس کتاب کے مطالعے سے مسرت حاصل ہوئی‘ ۔

اب آدمی پوچھے کہ یہ کیا حرکت ہے ، جس نے مفہوم کو یکسر بدل دیا ۔ آج چالیس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی میں اس کا منطقی جواز پیش کرنے سے قاصر ہوں ، سوائے اس کے کہ ادب میں بھی باسٹھ سالہ جرنیل کے مقابلہ میں بیس برس کا نیا کمیشن یافتہ لفٹین کہیں بڑا افسر ہوتا ہے ۔ چند روز بعد جب اسلم کمال صاحب کی ڈیزائن کردہ رنگین ’لوح سفال ‘ جانے پہچانے محقق احمد سلیم کے توسط سے جناب فیض کی خدمت میں پہنچی تو میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ انہیں ہماری ہیرا پھیری کی درک نہ ہوئی ہو ۔ اگرچہ ہمیں اس وقت اپنی نوخیز ٹرن آؤٹ فیض صاحب کی جرنیلی وردی سے زیادہ لشکارے مارتی دکھائی دیتی تھی ، یہ سمجھ بعد میں پیدا ہوئی کہ منجھے ہوئے کماندار قلب و ذہن کے محاذ پر بظاہر پسپا ئی اختیار کر کے انسانی رشتوں کے میدان تسخیر کر لیا کرتے ہیں ۔
اعانت جرم میں شر یک میرے دونوں ساتھیوں میں سے امانت ندیم ، جو ہمارا پبلشر بھی تھا ، اب اس دنیا میں نہیں ، لیکن دوسرا مصنف زمان ملک صحافت سے منسلک رہ کر بھی تخلیقی جگالی سے باز نہیں آیا ۔ میرا مقبول شاعر بننے کا ابتدائی خواب اسی طرح نا آسودہ رہا جیسے نو عمر فیض احمد کی یہ خواہش کہ ایک روز وہ بہت بڑے کرکٹر بن جائیں گے ۔ کئی بار موجودہ عہد کے صاحب طرز نظم گو اور گورڈن کالج کے اساتذہ میں میرے سینئر ساتھی آفتاب اقبال شمیم کی بدولت مجھے ہر ندامت سے بے نیاز ہو کر فیض کی محفل میں بیٹھنے اور شعر سنانے کا موقع بھی ملا ۔ ایک بار تو آفتاب صاحب کی فرمائش پر فیض نے مجھ سے اپنا کلام یہ کہہ کر سنا کہ ’ہاں بھئی ، ہمارا ہی سنا دو ، کچھ تو تحریک ملے ‘ ۔ اس سہ پہر مَیں نے ’چہچہاہٹ‘ کے زعم میں درجنوں لوگوں کی موجودگی میں تلفظ کی ایک فاش غلطی کی تھی ، لیکن جرنیل نے پھر سپاہی کی سُنی اَن سُنی کر دی ۔

فیض صاحب کی طرف سے چشم پوشی کا یہ عمومی رویہ کیا کسی حکمت عملی کا شاخسانہ تھا یا ان کے جبلی میلان کا اشارہ ؟ یہ ایک دلچسپ سوال ہے ، جس کا جواب فیض کی شاعری کے علاو ہ دوران قید ایلس کے نام خطوط ’صلیبیں میرے دریچے میں‘ میں بھی تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ پھر ’زنداں نامہ‘ کے شروع میں جیل کے ساتھی میجر اسحاق کی ’روداد قفس ‘ سے لے کر ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی والے ‘ ڈاکٹر ایوب مرزا ، آغا ناصر اور ڈاکٹر آفتاب احمد خاں کی تحریروں تک جگہ جگہ ایسے حوالے ہیں کہ فیض کا یہ طرز عمل یا تکلیفوں کو کیمو فلاج کر لینے کی عادت ان کی وضعداری تھی، لیکن اگر یہ محض وضعداری ہے تو چار سال سے زائد عرصہ کی اسیری کے دوران غیرفطری بندشوں کے ہوتے ہوئے اس ایک رنگ کا برقرار رہنا حیران کن ہے ۔

خود فیض صاحب اور ان کے دوستوں کی تحریروں سے ان کے ’بھلکڑ‘ ہونے کا پتا چلتا ہے ، مگر اس کے باوجود سیاسی ، سماجی ، ادبی اور جمالیاتی اہمیت کے ہر سوال پر ان کا موقف خود ان کے اپنے ذہن میں بالکل واضح ہوا کرتا تھا ۔ یہ الگ بات تھی کہ کسی وقت وہ اس کی وضاحت کو آئندہ کے لئے اٹھا رکھیں ۔ ڈاکٹر ایوب مرزا کے ہارلے سٹریٹ والے گھر میں میں نے کئی موقعوں پر فیض صاحب کو یہ کہتے ہوئے بحث سے دامن بچاتے ہوئے دیکھا کہ ’ ہم سے سند نہ مانگو ‘ یا ’کوئی ڈھنگ کی لڑائی ہو تو آدمی لڑے بھی ‘ ۔ ایک بار اسی گھر میں صاحب خانہ کی نثری نظموں کی تعارفی نشست میں گھیرا تنگ ہہو جانے کے باوجود نظم اور نثر کے متضاد لغوی معانی کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر صاحب کی شاعری کے حق میں کچھ کہنے سے صاف بچ نکلے ’بھئی ، یہ نثری نظم کی اصطلاح تو ہماری سمجھ میں آئی نہیں ، آپ اس کا کوئی اور نام رکھ لیں اور ، یار ، کوئی چائے وائے پلواؤ ، کیا لمبی لمبی تقریریں کروا رہے ہو‘ ۔

اس طرح کی گفتگو کرتے ہوئے بھی لہجہ میں ایک بھولپن سا ہوتا ، جو پیشہ ورانہ خطابت سے نہیں، بلکہ گداز دلی اور فکری سہج سبھاؤ کے امتزاج سے پھوٹتا ہے ۔ کئی لوگ کہتے کہ فیض جتنے اچھے شاعر ہیں پڑھتے اتنا ہی خراب ہیں ۔ منڈی کی طاقتوں کو حتمی حقیقت ماننے والے شائد یہ سمجھ سکیں یا نہیں کہ سچا فنکار اگر تخلیق صرف اپنی شرائط پہ آپ کے سامنے رکھتا ہے تو یہ اس کا حق ہے ۔ آج فیض زندہ ہوتے تو اپنے نام پہ ہر سال ہونے والی تقریبات کو دیکھ کر ضرور کہتے کہ ’بھئی ، یہ تھیٹر لگانے کی کیا ضرورت تھی ؟ ‘ لیکن جب اطراف سے آواز یں آتیں کہ فیض صاحب ، یہ ہونا چاہئے تو پھر وہی ہوتا جو میاں محمد بخش کی یاد گاری تقریب میں فیض کی دستار بندی کے موقع پر ہوا تھا کہ ایک گوتمی مسکراہٹ کے ساتھ بس یہی کہ ’بھئی ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہوگا، ہم نے کہا ہو جائے‘۔

Citation
Shahid Malik, ” جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو! ,” in Daily Pakistan, May 27, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://dailypakistan.com.pk/columns/24-May-2015/227957

Disclaimer
The item above written by Shahid Malik and published in Daily Pakistan on May 27, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Shahid Malik:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s