حسینہ سامنے آئی تو پھر …

Follow Shabnaama via email
تشنہ بریلوی

FABULOUS FORTIESہندوستانی فلموں کا شاندار ترین دور تھا۔چند سال پہلے سہراب مودی کی مایہ ناز فلم ’’پُکار‘‘ کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ چکی تھی ۔ سیٹھ ساہوکار سرمایہ لگانے کے لیے مشہور پروڈیوسروں کی چوکھٹ پر بیٹھے رہتے تھے ۔ ایک زبردست تبدیلی یہ بھی آئی کہ یکایک فلمی شاعری کا معیار بھی بہت بلند ہوگیا ۔ لہذا شاعروں کے بھی مزے آنے لگے ۔

بمبئی سے100میل دور پر فضا مقام پونا میں بھی ایک اسٹوڈیو قائم ہوا ۔ شالی مار پکچرز جس کے مالک وحید الدین ، ضیا الدین احمد (ڈبلیو زیڈ احمد) تھے ۔ یہاں ’’ من کی جیت‘‘ جیسی فلمیں بنیں جس میں ’’ستارہ ٹوٹنے کا سین‘‘ سارے ہندوستان میں تہلکہ مچاگیا ۔جوش ملیح آبادی یہاں نغمہ نگار تھے اور’’ میرے جُبنا کا دیکھو ابھار‘‘ جیسے بازاری گیت بھی لکھنے میںکوئی عار محسوس نہیں کررہے تھے کیونکہ شراب و شباب کے ساتھ روپے پیسے کی بھی ریل پیل تھی۔

ایک اور شاعرکے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ وہ فلمی گانے لکھیں اور عیش کریں۔یہ تھے جناب ساغر نظامی جو مشاعروں میں بھی اچھے ترنم سے شعر سناتے تھے ۔ انھوں نے کمیونسٹ لیڈر سجادظہیر کے ذریعے ڈبلیو زیڈ احمد سے رابطہ کیا لیکن جوش صاحب نے جو ساغر نظامی کو خوب اچھی طرح جانتے تھے ،ان کی دال نہ گلنے دی۔لہذا ساغر صاحب بمبئی چلے گئے وہاں انھیں ’’کام ‘‘مل گیا۔

اس زمانے میں ثریا ، نرگس ، مدھوبالا اورکامنی کوشل فلموں پر راج کررہی تھیں ۔ ککّو نام کی ایک خوبصورت ڈانسر بھی بہت کامیاب تھی لیکن وہ ہیروئن نہیں بن سکی کیونکہ اینگلو انڈین ہونے کی وجہ سے وہ اردو / ہندی مکالمے نہیں بول سکتی تھی۔ ساغر صاحب کو یہ کام ملا کہ وہ ککّو کو اردو سکھائیں تاکہ وہ ہیروئن بن سکے۔
ساغر صاحب ککّو کے گھر پہنچے ۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ۔ چند منٹ میں شاگردہ اندر آئی:

جمالِ حور کا پیکر پری وش مہ جبیں دلبر
حسینہ سامنے آئی تو پھر قابو نہیں دل پر

کیا رنگ روپ تھااس اینگلو انڈین کا کہ اینگلو سیکسن میمیں رشک کریں ۔ کیا جسم تھا اور کیا اندازِ دلربائی۔

شاعر نے حسینہ کو اردو سکھانی شروع کی جب کہ وہ خود اپنی ’’اردو‘‘ بھول چکا تھا ۔

’’یہ توکرسچن اینگلو انڈین ہے ‘‘ شاعر نے سوچا تو پھر ’’آزاد خیال‘‘ بھی ہوگی ۔تھوڑی بہت دل لگی مائنڈ نہیں کرے گی۔ لہذا ساغر صاحب ’’فری‘‘ ہونے لگے ۔ پہلے تو ککّو نے ادب کے ساتھ منع کیا لیکن ساغر صاحب تو تمام حدیں پھلانگنے کا ارادہ کرچکے تھے ۔ پھر رقاصہ نے ایک طمانچہ رسید کیا مگر نازک کلائی کا چپت کیا اثر کرتا ۔ شاعر صاحب دست درازی پر اتر آئے ۔ اب ککّو نے چلّا کر اپنے نوکروںکو آواز دی ۔ ساغر صاحب کی وہ درگت بنی کہ چودہ پندرہ طبق روشن ہوگئے۔ ککو نے اردو سیکھنے سے توبہ کرلی اور ساغر صاحب فلمی دنیا سے غائب ہوگئے۔

تقسیم سے کچھ عرصے پہلے لاہور کے وائی ایم سی ہال میں ایک مشاعرہ برپا تھا ۔ ہال کچھا کھچ بھرا ہواتھا اور اسٹیج پر نامور شعراء تشریف فرما تھے ۔ اچانک ان میں سے ایک شاعر صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ ایک دوسرے شاعر کے سہارے اسٹیج سے اتر کر ایک کمرے میں صوفے پر دراز ہوگئے جب ان سے پوچھا گیاکہ ان کی طبیعت کیسے خراب ہوگئی تو فرمایا :
’’ یار مجھ سے وہ حُسن کا نشہ برداشت نہیں ہورہا ۔‘‘

اس وقت لاہور میں کشمیری پنڈتوں کے کئی خاندان آباد تھے ۔ ہال میں سب سے آگے ایک کشمیری حسینہ بیٹھی شاعر کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی۔

چہرہ پہ رقص فرما کشمیر کی بہاریں
حوریںارم سے آکر زلفیں تری سنواریں

شاعر تھے اختر شیرانی جو اردو میں رومانی شاعری کے کیٹس اور شیلے کہے جاسکتے ہیں اور جن سے فیض صاحب، ندیم صاحب، عبدالحمید عدم ، ساحر لدھیانوی ، مجید ملک، ظہیرکاشمیری وغیرہ نے بھی اثر قبول کیا۔

ڈاکٹر جمعہ کراچی کے بہت نامور برین سرجن تھے ۔ بے حد مصروف اور بے حد سنجیدہ۔ جب ان سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ کس طرح ’’ریلیکس‘‘ ہوتے ہیں تو موصوف نے فرمایا کہ میں لانگ ڈرائیو پر نکل جاتا ہوںاور اپنی دل پسند غزل کا ریکارڈ سنتا ہوں۔’
’ کون سی غزل؟‘‘
مشہور غزل:
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہرنہیں اب سچا شعرسنائیں کیا

’’ یہ کس شاعر کی ہے؟‘‘
’’ شاعر کا نام تو معلوم نہیں لیکن اسے فریدہ خانم نے گائی تھی۔‘‘
خاموش طبع شاعر ایک اخبار کے انتظامی شعبے میں کام کرتا تھا اور ایڈیٹر صاحب کا دستِ راست تھا ۔ مشاعروں میں بہت کم جاتا تھا اپنے کام سے کام رکھتا تھا ۔ پھر اس کے دفتر میں ایک نئی لڑکی ملازم ہوگئی ۔ شاعر چپکے چپکے اسے دیکھتا تھا اور کچھ ایسا محسوس کرتا تھا:

دفتر میں اک لڑکی ملی جو میرے دل میں بس گئی
وہ خوبصورت تو نہیں پر عشق کے قابل لکھوں

خوبصورت ہو یا نہ ہو وہ نوجوان خاتون بہت دلآویز شخصیت کی مالک تھی۔ متبسّم اور شوخ۔ مگر شرمیلا شاعر آگے نہ بڑھا بلکہ وہ لڑکی آگے بڑھ کر لندن سدھار گئی ۔کون تھا وہ شاعر ؟ اطہر نفیس اورکون تھی وہ نوجوان خاتون؟

نام لب پر لائیں کیسے نام میرے دل میں ہے
پوچھتے کیوں ہو پتہ مادام میرے دل میں ہے
مگر نام تو صاف ظاہر ہے۔

Citation
Tishna Brelvi, “حسینہ سامنے آئی تو پھر …,” in Express Urdu, May 26, 2015. Accessed on June 9, 2015, at: http://www.express.pk/story/360459/

Disclaimer
The item above written by Tishna Brelvi and published in Express Urdu on May 26, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 9, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Tishna Brelvi:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s