ایک سیاسی ادبی کالم

Follow Shabnaama via email
سعد اللہ شاہ

میں پنجاب یونیورسٹی کے انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھا تھا۔ ایک لڑکا بی اے کے فارم اٹیسٹ کروانے کے لئے بے تاب تھا کہ آخری تاریخ تھی اور وقت ختم ہونے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ ڈیپارٹمنٹ کے کلرک ضیاءنے اس لڑکے سے کہا کہ سعد کو ساتھ لے جاﺅ اسماعیل بھٹی جو کہ چیئرمین تھے‘ کبھی انکار نہیں کریں گے۔ وہ لڑکا میرے پاس آیا تو میں نے تقریر جھاڑنی شروع کر دی کہ کیا تم اتنے دن سوئے رہے اور اب بتا رہے ہو کہ صرف ایک گھنٹہ باقی ہے۔ اس لڑکے نے بے ساختہ کہا ”اب یہ گھنٹہ آپ ضائع کر دیں گے “۔ میں اس کی بدتمیزی کے باوجود اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکا اور میں نے اس سے فارم لئے اور جلدی سے اسماعیل بھٹی سے اٹیسٹ کروا دیئے۔ میں نے ایک لمحے سے پہلے سوچا کہ میری انا اس کا نقصان کر سکتی ہے۔ سچ ہمیشہ بدتمیزی کی طرح کڑوا ہی ہوتا ہے۔

یہ پرانی بات مجھے اس لئے یاد آئی کہ نواز شریف اور شہباز شریف ہی نہیں بلکہ ان کے ساتھ سنگت کرنے والے تسلسل کے ساتھ یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ دھرنوں نے بہت وقت ضائع کیا اور معاشی طور پر ملک کو بہت نقصان پہنچایا۔ یہ نوحہ روزانہ پڑھنا ہرگز ضروری نہیں۔ حکومت کی نالائقیوں اور غلطیوں کا سارا ملبہ ان دھرنوں پر ڈالا جا رہا ہے جو کئی ماہ سے ختم ہو چکے ہیں۔ ن لیگ نے عمران خان کو مکمل طور پر سر پر سوار کر رکھا ہے۔ پرویز رشید کے پاس بھی اور کوئی ٹارگٹ نہیں۔ قبلہ کوئی کام کرکے تو دکھائیں مسلسل یہی دعوے ”کر دیں گے “” ہو جائے گا“ اور ”تیار ہے“ وغیرہ وغیرہ بے معنی تراکیب سن سن کر لوگوں کے کان پک گئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اکثر جگہ18,18گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔
پرویز رشید صاحب نے سارا غصہ مدرسوں پر نکال دیا اور جب مدرسہ والوں نے ردعمل ظاہر کیا تو اُن کے لہجے میں مسکینی اور عاجزی آگئی۔ میں نہیں کہتا کہ انہوں نے مدرسوں کی ”جہالت کی یونیورسٹیاں“ قصداً کہا تھا۔ ہو سکتا ہے یہ تفنن طبع کے تحت کہا ہوگا مگر بات تو ناروا ہے۔ اصل میں تو علم نافع وہی ہے جس کا تعلق قرآن و سنت کے آموختہ سے ہے اسی کی درس و تدریس میں کامرانی ہے۔

حیرت تو مجھے ایاز امیر کے کالم پر ہوئی جنہوں نے پرویز رشید کے بیان پر توصیفی تھیسز بیان کیا کہ پرویز رشید نے مدرسوں کو جہالت کی یونیورسٹیاں کہہ کر 18کروڑ لوگوں کے دلوں کی بات کی۔ اب بتائیے کہ یہ کتنا چمکدار سفید جھوٹ ہے۔ اکثریت کے بچے کسی نہ کسی سطح پر مدرسوں میں پڑھتے ہیں۔ ایک اور بات موصوف نے لکھی کہ پرویز رشید کے خلاف قتل کی دھمکی دی گئی اور فتویٰ دیا گیا ہے اور یہ دھمکیاں دینے والے اپنا کوئی کام ادھورا نہیں چھوڑتے۔ واہ واہ کیا کہنے !
”ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو“

پرویز رشید نے بہرحال پیش بندی کے لئے اچھا کیا کہ مدرسوں کا وزٹ شروع کر دیا۔ ایک تصویر میں وہ ایک بچے کی دستار بندی کرتے ہوئے نظر آئے۔ اُن سے جان چھڑانے کے لئے پرویز رشید کو کسی مدرسے میں داخلہ بھی لینا پڑا تو وہ لے لیں گے۔ لگتا ہے ان پر واضح ہوگیا ہے کہ مذہبی حوالے سے موشگافیاں نہیں چلیں گی۔ پرویز رشید کو ہاتھ سے دی ہوئی گانٹھیں دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں۔ ہم اس حوالے سے انتہائی اقدام اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے۔ فکری جنگ میں ہتھیار اٹھانا اپنے مو¿قف کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اچھا کیا کہ پرویز رشید نے اپنا مو¿قف عملی طو رپر مدرسہ کے طالب کے سر پر دستار فضیلت باندھ کر واضح کر دیا۔ اور بیان بھی دے دیا کہ مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔

مدارس تو ہمارے لئے نعمت ہیں کہ لاکھوں لوگوں کو ان میں جگہ ملی ہوتی ہے اور ان کے اخراجات مخیر حضرات اٹھاتے ہیں اور اس طرح نوجوان طلباءاللہ اور اس کے رسول کے دین کے عالم بنتے ہیں۔ خیر کی روشنی پھیلاتے ہیں۔ آپ تصور کریں کہ اگر مدرسے نہ ہوتے تو یہ نوجوان کن کن کے ہاتھ نہ آتے۔ اور کیا کیا نہ کرتے۔ مدرسوں نے تو ان کو چینلائز کیا ہے۔ یہ مدرسے اس وقت سے چل رہے ہیں جب انگریز نے مسلمانوں کے بچوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے تھے اور انہیں عضوِ معطل بنا دیا تھا۔

میں لکھنا کچھ چاہتا تھا قلم کسی اور طرف رواں ہوگیا۔ اصل میں ادبی تنظیم انٹرنیشنل نے مجھے ساہیوال میں مدعو کیا تھا کہ ساہیوال برانچ کا افتتاح کروں۔ میرے ساتھ معروف شاعرہ اور ادیب رخسانہ نور‘ نامور شاعر لطیف ساحل اور برمنگھم سے آئی شاعرہ نسیم اختر تھیں۔ رہنمائی اکادمی ادبیات کے اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد جمیل نے کی۔ یہ پروگرام ثناءاللہ شاہ‘ حاجی عبدالستار اور راﺅ شاہد کی وساطت سے سینئر شاعر اور صحافی اوصاف شیخ نے ترتیب دیا تھا۔ ہم لوگ پریس کلب پہنچے تو عوامی پارٹی کے کارکنوں نے جے آئی ٹی یعنی جوائنٹ انویسٹی گیشن کمیٹی کے حالیہ فیصلہ کے خلاف جلوس نکال رکھا تھا۔ وہ میاں برادران اور رانا ثناءاللہ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور12شہداءکے خون کا حساب مانگ رہے تھے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ احتجاج اور زیادہ پھیلے گا ویسے لوگوں کو بھی یہ فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا کہ ایک شخص کو وعدہ کرکے قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔ اس پر پھر کبھی لکھوں گا کہ اب تھوڑی سی بات ادبی تنظیم روش کی ہو جائے جس کے بانی ثناءاللہ شاہ اور مرکزی صدر رخسانہ نور ہیں۔ درجن سے زیادہ شہروں میں یہ تنظیم کام کر رہی ہے۔ ادب کے علاوہ سوشل حوالہ اس کا زبردست ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب اس کے نوجوان امداد اکٹھی کرکے بھیجتے ہیں۔ رفاہی سکول کھولتے ہیں‘ بیوگان کو سلائی مشینیں وغیرہ لے کر دیتے ہیں۔ اس کے ممبران خود ہی چندہ اکٹھا کرتے ہیں کسی کو جا کر نہیں کہتے۔ اپنے لئے تو سب جیتے ہیں دوسروں کی خدمت کے لئے جینا ہی اصل جینا ہے۔ عاطف نواز بھی اس کا سرگرم رکن ہے جس کا کمال یہ ہے کہ موبائل جیب میں ہوتا ہے اور وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر ہر قسم کا میسج لکھ کر بھیجنے پر قادر ہے۔ کوئی ایسا مقابلہ ہوا تو وہ اول آئے گا ۔خیر اس تقریب میں روش کے عہدے داروں سے مرکزی صدر رخسانہ نور نے حلف لیا۔ صدر خالق آرزو جنرل سیکرٹری فاروق اظہر اور چیئرمین افضال حسین سہروردی ہیں۔ اس حلف وفادار ی کے بعد ایک زبردست مشاعرہ تھا۔ ریاض شیخ سمیت کئی اچھے شعراءنے اپنا کلام سنایا۔ ساہیوال کی زمین بہت زرخیز ہے کہ یہاں مجید امجد‘ منیر نیازی‘ ناصر شہزاد‘ بشیر احمد بشیر اور جعفر شیرازی جیسے قد آور شاعر تھے۔ طارق عزیز شو والے طارق عزیز کا تعلق بھی تو ساہیوال سے ہے۔

آخر میں اہل ساہیوال کا شکریہ کہ انہوں نے ہمیں پر تکلف کھانا دیا اور سونے پر سہاگہ یوں ہوا کہ اس ہوٹل میں بگ سکرین تھی اورپاکستان زمبابوے کا دوسرا ٹی ٹوئنٹی لگا ہوا تھا۔ کھانے کی طرف دھیان کم تھا اور میچ کی طرف زیادہ پاکستان اللہ اللہ کرکے جیتا تو کھانا ہمارے حلق سے نیچے اترا۔ ہوٹل میں بیٹھے لوگوں کے جوش سے پتا چلتا تھا کہ ہم خوشیوں کے لئے کیسے ترس گئے ہیں۔ وگرنہ پاکستان اور زمبابوے کا میچ کون دیکھتا تھا۔ بہت خوشی ہوئی کہ پاکستان جیت گیا وگرنہ عام تاثر یہی تھا کہ خیر سگالی یا حکمت کے تحت مہمانوں کو خوش کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کی کے خجستہ گامی کے باعث ہم دوبارہ عالمی کرکٹ میں پلٹے ہیں۔ اس حوالے سے پی سی بی کے چیئرمین بہت ہی تحسین کے مستحق ہیں۔ ہم خوشی خوشی واپس لاہور کے لئے روانہ ہوئے کہ ہمارے بارہ بج چکے تھے۔ اندر سے ہم سرشار تھے کہ ہم کرکٹ جیت کر اور مشاعرہ لوٹ کر جا رہے تھے۔

Citation
Saadullah Shah, “ایک سیاسی ادبی کالم,” in Daily Nai Baat, May 26, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%D8%AF%D8%A8%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85

Disclaimer
The item above written by Saadullah Shah and published in Daily Nai Baat on May 26, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Saadullah Shah:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s