د ھرتی کے شاعر آغا مزمل کا قرض

Follow Shabnaama via email
محمد خالد پراچہ

دو سال پہلے ہم نے اپنے کالج (گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ )میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔تقریب میں وزیراعظم کے مشیر قومی سلامتی جناب سرتاج عزیز مہمان خصوصی تھے۔محترم سرتاج عزیز شعر و سخن کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں۔سٹیج پر میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا۔اس نشست میں جب آغا علی مزمل کو اپنے انداز میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی تو کئی شرکاء کو معاشیات کے سیمینار میں شاعر کے اظہار خیال پر حیرت ہوئی۔تاہم جب آغا مزمل نے معاشی حقائق کے زندگی پر اثرات اور اس سے پیدا ہونے والے معاشرتی رویہ پر مبنی نظم اور قطعات پیش کئے تو سب شرکائے مجلس خوب لطف اندوز ہوئے۔محترم سرتاج عزیز نے بار بار کہا سیمینار کے حوالہ سے یہ نئی لیکن بہت خوبصورت چیز ہوئی ہے۔ وہ ہر شعر اور مصرعے پرداد دیتے رہے۔گزشتہ دنوں اس تقریب میں شریک ایک اور سکالر شخصیت سے ایئر پورٹ پر ملاقات ہوئی توسیمینار کا تذکرہ ہوا۔جس پرانہوں نے آغا کے حسن بیان کے علاوہ کلام کی سادگی، وسعت اور گہرائی کے علاوہ روزمرّہ زندگی سے قریب تر ہونے کا ذکر کیا۔ اس بات نے مجھے احساس دلایا کہ دل ودماغ پر اثر چھوڑنے والی شاعری کے خالق اور زمین ،زمان اورانسان کے حوالے سے جذبات کو گدگدی کرنے والے اس تخلیق کار کی محبت کا قرض میرے ذمہ بھی ہے۔زیر نظر سطور پاک سرزمین اور اس کے باسیوں سے محبت کر نے والے اس فن کار کاقرض ادا کرنے کی عاجزانہ کوشش ہے۔

گورے چٹے خوش گفتار فارسی کے پروفیسر آغا مزمل کو میں کافی عرصہ تک ایرانی مہمان ہی سمجھتا رہا۔ساتھ ہی یہ پتا نہ چل سکا کہ یہ شخص شاعر بھی ہے۔اس میں ساری غلطی مزمل کی ہے۔ کیو نکہ ایف سی کالج سٹاف روم میں اور سٹاف روم کے باہر آتے جاتے دن میں کئی دفعہ ملنااساتذہ کا عام معمول تھا ۔بات چیت بھی ہوتی ۔ لیکن شاعروں کی عادت کے بر عکس آغا مزمل کو سامع کی تلاش اور شعر سنانے کی حاجت نہ ہوتی۔ بلکہ اس کا رویہ دردِ دل سے نا آشناؤں والا ہوتا۔ مزمل شاعر ہی نہیں بڑا شاعر ہے ۔یہ راز مجھ پر حادثاتی اورپھر حادثاتی طور پر افشا ہوا۔ پہلاحادثہ یوں ہوا کہ اساتذہ کا ایک تفریحی ٹورجلو پارک جا رہا تھا ۔ میں رضا سے اس میں شامل ہونے پر تیار نہ ہوا تو رضوان الحق کی وجہ سے ایسا ہو گیا۔دوسرا حادثہ طے شدہ تھا گو میں اس سے بے خبر تھا۔ٍجب تمام دوست کھانے پینے سے فارغ ہو چکے تو گفتگو کے حلقوں میں تقسیم ہو گئے۔ایک حلقہ سیاست ، معاشرت اور معیشت پر بات چیت میں مشغول ہو گیا۔میں اس گروپ کا حصہ بنا۔ جب کہ دوسرے حلقے میں ڈاکٹر رضوان،رضوان الحق ،آغا مزمل اوردیگر دوستوں نے شعرو شاعری کی مجلس سجالی۔شوق مجھے ادھر منہ موڑ لینے پر اکسا رہا تھا۔جب کہ ادب اور مروت کا تقاضا تھا سلسلہ اسی طرح جاری رہے۔پھر شمع محفل آغا مزمل کے سامنے آئی تو سب دوست ادھر متوجہ ہو گئے۔یوں بہت عرصہ کے بعد مجھے پتا چلا کہ آپ شاعر ہیں۔

ایف سی کالج سے نکلے تو فکرِ منزل اورچراغِ جادہ کے سوا تمام متاع سے محروم تھے۔جولائی اگست کی جھلساتی دھوپ ، بے سروسامانی؛ احساسِ محرومی نے اندیشہ ہائے دوردراز سے مل کر حالات کو کربناک بنا رکھا تھا۔اِن حالات میں دو درخت بندہ و صاحب و محتاج و غنی سب پر اپنی چھاؤں نچھاور کر رہے تھے ۔لیکن وقت نے کروٹ لی تو ایک درخت کو کاٹنے کی ضرورت پڑی۔ جس کا سب کو قلق ہوا مگر میرا حساس دل رکھنے والا دوست خاموش نہ رہ سکا۔لہٰذا اس نے اپنے جذبات کا اِظہار کر کے نہ صرف سب کی ترجمانی کی بلکہ انسان اور درخت کے تعلق کی ہی نہیں ماحول ،حیوان اور درخت کے تعلق کی تصویرکشی کر دی۔یہ نظم اگرچہ ایک مخصوص درخت کے حوالے سے لکھی گئی ہے۔لیکن اپنے تاثر اور پیغام میں اتنی بھرپورہے کہ اسے ماحولیات اور فطرت سے پیار کے تناظر میں نصاب کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ماحولیات اور جنگلات کے محکمے اس نظم کو اپنا ترانہ بنا کر انسان اور درخت کے تعلق کے ضمن میں شعور کی بیداری کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

پیڑ کے ساتھ
گھونسلہ بھی گرا ہے پیڑ کے ساتھ
اک پرندہ پڑا ہے پیڑ کے ساتھ
کچھ مناجات ہیں پرندے کی
پھول کیا کیا گرا ہے پیڑ کے ساتھ
ساتھ پتوں کے کٹ گئی شاخیں
اور سایہ کٹا ہے پیڑ کے ساتھ

وارث شاہ کا پورا بند اور خصوصاً یہ مصرع ’’بھلا موئے تے وچھڑے کون میلے‘‘ نا ممکن چیزوں کے حوالے اورجدائی کے بعدملاپ کی ،مشکلات کے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ا’ردو پنجابی بولنے جاننے اور سمجھنے والے اسے ضرب المثل کی مانند دہراتے ہیں۔آغا مزمل نے بہت آسان پیرائے میں اس کیفیت کو اس انداز سے بیان کیا ہے اس کی جڑیں ہمارے اظہارو بیان میں ہی نہیں عقیدہ وایمان تک پھیلی نظر آتی ہیں۔

میں ڈھونڈ لیا میں بھال لیا
جہیڑا وچھڑے یار ملاوندا اے
صد شکر پڑہاں رب سوہنے دا
صد شکر پڑہاں رب سوہنے دا

آغا نے اپنی شاعری میں ا نسان، زمین،زمان اور مسائلِ زندگی کو گہری نظر سے دیکھا ہے۔ حکیم کے طور پر ان کا تجزیہ کیا ہے ا ور ماہر فن کے طور پر قاری کے سامنے پیش کیاہے۔ جس کا عکس ان کے قطعات حیاتی۔ ساہ وی لینا اوکھا لگے۔اور کارو کاری میں دیکھا جا سکتاہے۔ لاہور جیسے شہر میں پلے بڑھے اس شخص کا ویگن بس اور نفسا نفسی میں مبتلا معاشرے کا مشاہدہ سند ہو سکتا ہے۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ آغا نے گھپ اندھیرے، پینڈا، بوہے ، باری،کنڈے کھبے اور کندھاں جیسی شہری زندگی سے غیر متعلق باتوں کو اس خوبصورتی سے استعمال کیا ہے کہ فنکار بنا دیتا ہے تصویر ہوا کی جیسی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔

وفا اور انا دونوں ہی اِنسانی اوصاف ہیں۔شاعری میں اِظہارِ وفا میں مبالغہ کیا جاتا ہے۔ محبوب کے جور وجفا کے سامنے سرِ تسلیم کی روایت بڑے بڑے شعرا کے ہاں دیکھی جا سکتی ہے۔اِس کے مقابلے میں انا کے تقاضوں کواولیت دینا شاعری میں بہت کم دیکھا گیا ہے۔دونوں تقاضوں میں توازن لانا تو تنے رسے پر چلنے جیسا ہے۔ مزمل نے ایسا کامیابی سے کر کے دکھایا ہے۔

شے کسے دی تھوڑ وی نئیں
شے کسے دی تھوڑ وی اے
مینوں تیری لوڑ وی نئیں
مینوں تیری لوڑ وی اے

آغا مزمل کی ادبی زندگی بر محل گفتگواخلاق و شائستگی سے بھرپور رویہ میری سمجھ میں اس وقت آیا جب مجھے اس بات کا پتا چلا علم، قلم ،کتاب،تحریر و تخلیق سے محبت ان کی نہ صرف پیدائشی بلکہ خاندانی مجبوری ہے۔ آزادئ ہند کے وقت پاکستان کی طرف رختِ سفر باندھتے ہوئے ان کے والد گرامی نے اسبابِ زندگی ملکِ ہندوستان کئے، اوراپنے ذخیرۂ کتب میں سے منتخب کتب کی ایک بوری اپنے ساتھ لے کر آئے۔ مزمل کی شخصیت کا جدا رنگ مجھے اساتذہ کے کرکٹ میچ کے دوران نظر آیا۔ باؤنڈری پرفیلڈنگ کے دوران وہ ناچ ناچ کے بال کو اپنی طرف آنے کی دعوت دیتے ۔جب بال قریب آ تی تو اپنی نگرانی میں ا سے باؤنڈری پار کرنے دیتے تا کہ چوکا رک جانے سے مدِ مقابل ٹیم کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔

Citation
Muhammad Khalid Paracha, “د ھرتی کے شاعر آغا مزمل کا قرض,” in Daily Nai Baat, May 25, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%AF-%DA%BE%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D8%A2%D8%BA%D8%A7-%D9%85%D8%B2%D9%85%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D9%82%D8%B1%D8%B6

Disclaimer
The item above written by Muhammad Khalid Paracha and published in Daily Nai Baat on May 25, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Muhammad Khalid Paracha:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s