رضا الحق صدیقی کی ’کتابیں بولتی ہیں‘

Follow Shabnaama via email
نعمان منظور

جناب رضا الحق صدیقی کو ہم1980ء کی دہائی سے جانتے ہیں ۔اس وقت یہ واپڈا ہاؤس میں ملازم تھے اور ہم ،کالج کے بعد خالد احمد کے دفتر چلے جاتے جہاں خالد احمد دوپہر کے وقت پہنچتے تھے۔وہیں روزانہ دفتر میں جناب رضا الحق صدیقی سے آمنا سامنا ہوجاتاتو ہم سلام کرتے اور یہ سلام کا جواب دے کے اپنے کام میں مصروف ہوجاتے۔کبھی کبھار خالد احمد کے پاس آتے لیکن کھڑے کھڑے ،اپنا کام بتاتے یا خالد احمد سے کام کے متعلق بات کرتے۔

اس کے بعد پلوں سے بہت سا پانی گزر گیا،کئی برس بیت گئے۔ایک دن،روزنامہ دن میں جناب رضا الحق صدیقی کا کالم پڑھا تو حیرانی کے ساتھ مسرت بھی ہوئی کہ کالم پاکستان کی سیاسی صورت حال کے تناظر میں لکھا گیا تھا اور کیا خوب کالم تھا۔اس کے بعد نیٹ پہ جناب رضا الحق صدیقی نے ’بولتا کالم‘کے عنوان سے ایک سلسلہ شروع کیاجسے سوشل میڈیا پہ بہت پذیرائی ملی۔جناب رضا الحق صدیقی کس ایک کتاب کے بارے میں کیمرے کے سامنے بیٹھ جاتے اور اس کتاب پہ تبصرہ فرماکے اسے نیٹ پہ ڈال دیتے۔ہماری کتاب ’تیور‘شائع ہوئی تو جناب رضاالحق صدیقی نے اس پہ بھی تبصرہ فرمایا تھا۔اس کے بعد انہوں نے ’ادبستان‘کے نام سے انٹرنیٹ پہ ایک چینل بنا ڈالا اوراسے صرف ادبی سرگرمیوں کے لیے مخصوص کر دیا۔اسے بھی پاکستان اور پاکستان سے باہر رہنے والے ادبی حلقوں میں بہت زیادہ پذیرائی ملی۔اس پوری تمہید کا مقصدیہ ہے کہ جناب رضاالحق صدیقی اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

اب ان کی نئی کتاب ’کتابیں بولتی ہیں‘منظرِ عام پہ آچکی ہے اور ہم نے اس کتاب کا بغور مطالعہ بھی کیا ہے اور اسے کتابوں کے شیلف میں ایسی جگہ پہ رکھا ہے جہاں ہماری پسند کی چند کتابیں پڑی رہتی ہیں۔ان کتابوں کو ہم اکثر پڑھتے رہتے ہیں ۔’کتابیں بولتی ہیں‘بنیادی طورپہ ’تنقید‘کی کتاب ہے۔اس کتاب کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ نثری مطالعے کے نام سے ہے اور دوسرا حصے کا نام شعری مطالعے ہے۔پہلے حصہ میں احمد ندیم قاسمی کی افسانہ نگاری،گلزار،مشرف عالم ذوقی،محمد حمید شاہد،محمد حامد سراج،فرحت پروین،سلمی اعوان،رحمن عباس کی کتابوں کے بارے میں تنقیدی جائزے شامل ہیں۔ان تنقیدی جائزوں میں ایک بات بہت نمایاں طور پہ سامنے آتی ہے کہ’ان میں تنقید کے حوالے سے گفتگوبہت موثراور جامع ہے‘۔ان تمام جائزوں میں،کتابوں کا تفصیلی جائزہ تو شامل نہیں ہے لیکن کتاب میں موجود ،مواد کی روح تک پہنچنے میں ،جناب رضا الحق صدیقی سو فیصد کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنے جائزوں میں کتابوں کوتفصیل سے پڑھا ہے بلکہ بہت مرتبہ پڑھ کے اس کے متن ،مواداور مصنف کے بارے میں بے لاگ گفتگو کی ہے۔اس ضمن میں ’احمد ندیم قاسمی کی افسانہ نگاری سے ایک فقرہ احمد ندیم قاسمی کی شخصیت کے سارے پرت کھول رہا ہے کہ ’احمد ندیم قاسمی ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے لیکن انہوں نے انتہا پسندی کی بجائے ہمیشہ اعتدال پسندی کا رستہ اختیار کیا‘۔ہم اس کتاب سے چند فقرے یہاں پیش کرنا چاہتے ہیں!

’منٹو کی طرح مشرف عالم ذوقی بھی سب کچھ کہہ دینا چاہتا ہے لیکن منٹو کی طرز پر نہیں وہ عریاں بے رحم حقیقت نگاری کرتا ہے‘۔

’زاہدہ حنانے یورپ کے ناول نگاروں کی طرح تاریخ کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔انہوں نے ایسے کرداروں کے گرد کہانیوں کا تانا بانا بنا ہے جن کے ہونے کا سراغ تاریخ اور علم البشر کے ذریعے ملتا ہے‘۔

’محمد حمید شاہد صرف کہانی کار نہیں ہیں بلکہ انہوں نے کہانی کی دنیا پر خود کو ایک نقاد کی طرح مسلط کیا ہوا ہے۔وہ اپنی کہانی کا ایک نقاد کی مانند خود تجزیہ کرتے ہیں،اپنے اندر کہانی کو پکاتے ہیں اور پھر قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں‘۔
’میں جب بھی ماں کا کوئی نوحہ پڑھتا ہوں تو بے اختیار میری آنکھ سے وہ آنسو بہہ نکلتے ہیں جنہیں دیکھے بغیر میری ماں چلی گئی تھیں۔اس کیفیت کا شکار میں پہلی بار تب ہوا تھا جب میں نے خالد احمد کی شاہکار نظم ’لحد تیار ہے‘پڑھ رہا تھا۔دوسری بار آج محمد حامد سراج کی اردو ادب میں ماں پہ لکھی جانے والی شاہکار تحریر ’میا‘پڑھتے ہوئے‘۔

’فرحت پروین کی کہانیوں کی عمومی فضااور ماحول بہت مختلف ہے۔ان کااسلوب پر تاثراور سحر انگیز ہے لیکن ایک خوبی جو کم و بیش ان کی تمام کہانیوں کا طرۂ امتیازہے وہ ان کی رومانیت پسندی اور فطرت نگاری ہے‘۔

‘نیلم احمد بشیر کے اسلوب اور بیانیوں میں تشبیہات اور استعاروں کا استعمال ایسا ہے کہ جوں جوں میں ان کی تخلیقی دنیا کی سیر کرتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ اتنی سادہ فنکار نہیں ہیں‘۔

’مصر میرا خواب‘میں سرسید کی سی وضاحت اور مولانا شبلی نعمانی کی خطابت کی جھلک نظرآتی ہے لیکن چونکہ سلمی اعوان افسانہ نگار ہیں،ناول نگار ہیں اس لیے ان کا سفر نامہ مناظرکی تصویربناتے ہوئے افسانے کا اسرار لئے ہوئے ہے۔

’کتابیں بولتی ہیں‘کے شعری مطالعے میں مجید امجد،خالد احمد،شہزاد احمدسمیت پینتالیس معروف شعرا کی کتابوں کے جائزے ہیں۔ہم ایک کالم میں ان تمام ادیبوں اور شعرا کے نام اور جناب رضاالحق صدیقی کے جائزوں کے بارے میں بات نہیں کر سکتے لیکن ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ ’کتابیں بولتی ہیں‘ ایک منفرد اور خوبصورت کتاب ہے۔یہ کتاب پڑھنے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ جناب رضا الحق صدیقی تو ایک ’سکہ بند‘نقاد ہیں لیکن کسی بھی ادبی گروہ میں شامل نہ ہونے کے سبب،ان کی تحریرں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ’مصنف نہ صرف پاکستانی اردو ادب بلکہ عالمی ادب پہ بھی گہری نظر رکھتا ہے‘۔یہی وجہ ہے کہ ’کتابیں بولتی ہیں‘میں شامل تمام جائزے منفرد انداز سے تحریر کئے گئے ہیں۔

اس کتاب میں شامل تمام جائزے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ’مصنف نے پاکستانی اردو ادب کی تنقید میں ایک ایسا اضافہ کیا ہے جو ہمارے ’سکہ بندنقادوں‘کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے‘۔ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ وطنِ عزیز میں گزشتہ تین دہائیوں سے اردو نقاد ایک ہی رخ سے اور ایک ہی نظر سے تنقید کرتے چلے آرہے ہیں،بلکہ بہت سے نامور تنقید نگار تو کتاب پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے۔کتاب کا سرسری مطالعہ کرکے ،ان کے پیشِ نظر صرف ایک ہی بات ہوتی ہے کہ’مذکورہ کتاب کا مصنف کس ادبی گروہ سے تعلق رکھتا ہے؟‘۔اسی وجہ سے ہمارے ہاں تنقید لکھنے کا رواج تقریباً ختم ہوچکا تھا لیکن اب گزشتہ چند برسوں سے تنقید پہ بہت سا کام ہورہا ہے۔ہم جناب رضا الحق صدیقی کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے پہلے ’بولتا کالم‘انٹرنیٹ پہ پیش کر کے مقبولیت حاصل کی تھی اور اب ’کتابیں بولتی ہیں‘جیسی منفرد کتاب لکھ کے اردو ادب کے طالب علموں اور اہلِ علم کے لیے ایک ایسی کتاب پیش کی ہے جسے پاکستانی اردو ادب میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کتاب کی اشاعت سے جہاں ہمارے ’نام نہاد نقادوں‘کوتنقید کے حوالے سے ایک جامع کتاب پڑھنے کو ملے گی وہیں پہ اردو ادب کے طالب علم اس سے استعفادہ حاصل کرسکیں گے۔

Citation
Nauman Manzoor, “رضا الحق صدیقی کی ’کتابیں بولتی ہیں‘,” in Daily Nai Baat, May 24, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%B1%D8%B6%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D9%82-%D8%B5%D8%AF%DB%8C%D9%82%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA

Disclaimer
The item above written by Nauman Manzoor and published in Daily Nai Baat on May 24, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Nauman Manzoor:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s