سربراہِ مملکت کی زبان

Follow Shabnaama via email
منصور آفاق

کارِ سرکار کی زبان اردو بنانے کا مقدمہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں سنا گیا۔جس میں جسٹس گلزار نے کہا ہمیں آئین کی پاسداری کرانا آتا ہے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کیوں نہ اگلی سماعت میں چیف ایگزیکٹوکوعدالت میں بلا لیا جائے۔یعنی سپریم کورٹ اردو کے سلسلے میں کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مجھے اس خبر سے مرحوم ڈاکٹر شیر افگن یاد آگئے وہ جب پیپلز پارٹی کے دوسرے دور میں وزیر بنے تو ایک دن انکے دماغ میں خیال آیا کہ کیا ہم پاکستانی بے زبان ہیں ۔یہ محترمہ بے نظیر بھٹو انگریزی میں کیوں تقریر کرتی ہیں ۔انہیں اردو بولنی چاہئے ۔رات کو جب ہم تاش کھیلنے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس موضوع پر میرے ساتھ کافی دیر گفتگو کی ۔میں کہیں انہیں کہہ بیٹھاکہ اچھے کام کا آغازاپنی ذات سے کرنا چاہئے ۔صبح ان کی یو این او کے ایک وفد کے ساتھ میٹنگ تھی ۔ انہوں نے دیکھا کہ وفد میں شامل تمام افرادسفید فام ہیں ۔انہوں نے فوری طور پر اپنے محکمے کے وفاقی سیکرٹری عالم بلوچ کو بلوایا اور انہیں کہاکہ میں اردو میں گفتگو کروں گا اس لئے آپ میٹنگ میں ترجمان کے فرائض سرانجام دیں ۔اللہ جنت نصیب کرئے عالم بلوچ کو بہت اچھے آدمی تھے ۔بے شک سندھی وڈیرے تھے مگر بڑے صاحب ِمطالعہ شخص تھے۔ان کی اردو ادب پر بھی بڑی گہری نظر تھی۔ ان کے بیٹوں نے ان کے قتل کا مقدمہ سابق صدر آصف زرداری کے خلاف درج کرایا تھا کہ قتل ان کے ایما پر کیا گیا ہے ان دنوں سابق صدر شایدکراچی جیل میں ہوا کرتے تھے ۔

ہاں تو میٹنگ شروع ہوئی ۔وفد میں دس لوگ شامل تھے۔ اچانک ایک خاتون نے انگریزی میں کوئی تضحیک آمیز جملہ بول دیاکہ جس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ جس منسٹر کو انگریزی زبان ہی نہیں آتی اس نے کام کیا کرنا ہے اور ڈاکٹر صاحب غصے میں آگئے۔انہوں نے انگریزی میں اس خاتون کی ایسی تیسی پھیر دی۔یہاں تک کہہ دیا کہ میں یہ زبان بولناہی نہیں چاہتا۔مجھے اس زبان سے اپنا دو سو سالہ غلامی کا دور یاد آجاتا ہے ۔میٹنگ اِسی تلخی پر ختم ہوگئی ڈاکٹر صاحب اٹھ کر چلے گئے۔ اگلے دن اِس وفد کی ملاقات محترمہ بے نظیر بھٹو سے تھی ۔انہوں نے میٹنگ شروع ہوتے ہی ڈاکٹر شیر افگن کی شکایت کی کہ کل انہوں نے ہمارے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے اور پورا واقعہ سنایا۔محترمہ بڑی جہاندیدہ خاتون تھیں ۔ انہوں نے فوراً کہا وہ تو مجھے بھی انگریزی زبان بولنے سے روکتے رہتے ہیں کہ آپ کو اردو زبان میں بات کرنی چاہئے مگر میں سمجھتی ہوں کہ انگریزی بھی ہماری اپنی زبان ہے ۔

ابھی چند دن پہلے وزیر اعظم نواز شریف اور افغانستان کے صدر اشرف غنی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔صدر اشرف غنی نے اپنی زبان میں تقریر کی ۔جسے سمجھنے کیلئے وزیر اعظم پاکستان کو اپنے کانوں پروہ ہیڈ فونز لگانے پڑے جن سے اُس تقریر کاترجمہ سنائی دیتا تھا۔یعنی صدر اشرف غنی نے بھی انگریزی میں گفتگو کرنا مناسب نہ سمجھا۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب صدر بش نے ہمارے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی انگریزی کا مذاق اڑایا تھا۔اس سے بری اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ پاکستانی وزیراعظم میڈیا کے سامنے تقریر کررہا ہو اور امریکی صدر آنکھ مار کر طنزیہ مسکرا دے۔دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے سربراہ دنیا کے سامنے صرف اپنی زبان میں تقریر کرتے ہیں۔اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں انگریزی زبان نہیں آتی ۔دنیا کایہ طے شدہ اصول ہے کہ سربراہ ِ مملکت پر فرض ہے کہ وہ جہاں بھی جائے وہاں اپنی قوم کی زبان میں بات کرے ۔ایک مرتبہ چین کے وزیر اعظم سے انگریزی میں تقریر کرنے کی فرمائش کی گئی تو انھوں نے بڑی ہی شستہ انگریری میں کہا کہ’’ یہ بات ہر شخص کو یاد رکھنی چاہئے کہ چین بے زبان نہیں ہے‘‘ ابھی کچھ دن پہلے ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے جب ہماری پارلیمنٹ سے اپنی زبان میں خطاب کیا تو اس بات پر حیرانگی کا اظہار بھی کیا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے انگلش میں تقریر کی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے جب صدر اوباما سے ملاقات کی تھی تو ایک کاغذ پر نوٹس لکھ کر لے گئے تھے۔جس کی وجہ سے ان کی گفتگوپُر اثر ثابت نہیں ہوسکی تھی ۔ اگر وہ وہاں اردو میں گفتگو کرتے اور اپنے ساتھ کوئی بہت خوبصورت انگریزی بولنے والا ترجمان لے گئے ہوتے تو ان کی عزت میں اضافہ ہوتااور اس وقت تو پاکستان کی عزت بھی ان کی عزت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔میں کوئی انگریزی زبان کے خلاف نہیں ہوں ۔ میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ پاکستانی قوم انگریزی نہ سیکھے ۔میں جانتا ہوں کہ اس وقت دنیا کی معاشیات انگریزی سے وابستہ ہے سو ترقی کیلئے اس کا سیکھنا انتہائی ضروری ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی زبان چھوڑ دیں ۔اپنے لباس کو ترک کردیں ۔اپنی شناخت بھلادیں ۔ہر ملک کاسربراہ اس ملک کی پہچان ہوتا ہے ۔دنیا اسی کو دیکھ کر اس ملک کے لوگوں کا خاکہ بناتی ہے ۔

اور آخر میں جوش ملیح آبادی کی کتاب ’’یادوں کی برات سے ایک پیراگراف۔خاص طور پر جسٹس جواد ایس خواجہ کیلئے۔جسے پڑھ کر میر ا رونے کو جی چاہا تھا۔’’ایک بار جب پاکستان سے رخصت لے کر، میں جب دہلی میں پنڈت جواہر لال نہرو سے ملا، تو انہوں نے بڑے طنز کے ساتھ، مجھ سے کہا تھا کہ جوش صاحب، پاکستان کو اسلام، اسلامی کلچر، اور اسلامی زبان، یعنی اردو کے تحفظ کے واسطے بنایا گیا تھا۔ لیکن ابھی کچھ دن ہوئے کہ میں پاکستان گیا اور وہاں، یہ دیکھا کہ میں تو شیروانی اور پاجامہ پہنے ہوئے ہوں لیکن وہاں کی گورنمنٹ کے تمام افسر، سو فیصد، انگریزوں کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔ مجھ سے انگریزی بولی جا رہی ہے، اور، انتہا یہ ہے کہ مجھے انگریزی میں ایڈریس بھی دیا جا رہا ہے۔ مجھے اس صورتِ حال سے بے حد صدمہ ہوا، اور میں سمجھ گیا کہ “اردو، اردو، اردو” کے جو نعرے، ہندوستان میں لگائے گئے تھے، وہ سارے اوپری دل سے، اور کھوکھلے تھے۔ اور ایڈریس کے بعد، جب میں کھڑا ہوا تو میں نے اس کا اردو میں جواب دے کر، سب کو حیران و پشیمان کر دیا اور یہ بات ثابت کر دی کہ مجھ کو اردو سے ان کے مقابلے میں، کہیں زیادہ محبت ہے۔ اور جوش صاحب معاف کیجئے، آپ نے جس اردو کے واسطے اپنے وطن کو تج دیا ہے۔ اس اردو کو پاکستان میں کوئی منہ نہیں لگاتا۔ اور جائیے پاکستان۔میں نے شرم سے، آنکھیں نیچی کر لیں۔ ان سے توکچھ نہیں کہا، لیکن ان کی باتیں سن کر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا۔ میں نے پاکستان کے ایک بڑے شاندار منسٹر صاحب کو جب اردو میں خط لکھا، اور، ان صاحب بہادر نے، انگریزی میں جواب مرحمت فرمایا تو میں نے جواب الجواب میں یہ لکھا تھا کہ جنابِ والا، میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔‘‘

Citation
Mansoor Afaq, “سربراہِ مملکت کی زبان,” in Jang, May 24, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%B3%D8%B1%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%D9%90-%D9%85%D9%85%D9%84%DA%A9%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86/

Disclaimer
The item above written by Mansoor Afaq and published in Jang on May 24, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Mansoor Afaq:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s