جعلی ڈگری، جعلی تعلیم اور جعلی زندگی

Follow Shabnaama via email
غازی صلاح الدین

کیسا طوفان اٹھا اس ہفتے اور یوں سمجھئے کہ تیز ہوا کے شور میں گفتگو دشوار ہوگئی۔ جیسے زلزلے کا ایک مرکز ہوتا ہے اسی طرح ’’ایگزیکٹ‘‘ کی مبینہ جعلی ڈگریوں کی حیرت زدہ کردینے والی کہانی اس ہلچل کی بنیاد بنی۔ پھر بدھ کے دن سندھ کے وزیر اعلیٰ نے صفورا گوٹھ کے سانحہ میں ملوث چار اہم دہشت گردوں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ پہلی بات تو یہ کہ پچاس کے قریب اسماعیلی برادری کے بے گناہ افراد کے قتل کے بعد کے چند دنوں ہی میں یہ معمہ حل ہوگیا اور گرفتار ہونے والے دہشت گردوں نے سبین محمود کے قتل کے علاوہ دوسری کئی وارداتوں کا اعتراف کرلیا۔ لیکن جس بات کو بہت اچھالا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جس گروہ کا سراغ لگایا گیا ہے اس میں شامل کئی دہشت گرد اعلٰیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور معروف تعلیمی اداروں میں انہوں نے بزنس ایڈمنسٹریشن اور انجینئرنگ جیسے مضامین میں ڈگری حاصل کی ہے۔ اشارہ ظاہر ہے کہ انتہا پسندی صرف مدرسوں ہی میں نہیں بلکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی پروان چڑھ سکتی ہے۔ جہاں تک مدرسوں کا تعلق ہے تو مرکزی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید نے کراچی کی ایک ادبی تقریب میں جن خیالات کا اظہار کیا تھا وہ بھی ایک آتشیں اختلاف کا سبب بن گئے۔ میں اس معاملے کو بھی انتہا پسندی اور تعلیم کے درمیان تعلق کے دائرے میں رکھنا چاہوں گا۔ ’’مذکورہ کمپنی‘‘ نے تو پوری دنیا میں اپنی جعلی ڈگریوں کا بازار سجایا لیکن ہم اپنے ملک میں بھی جعلی ڈگری کے ڈرامے کے کئی سین دیکھ چکے ہیں۔ جب انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ڈگری کو لازمی قرار دیا گیا تو ہمارے کئی سیاست دانوں نے کہ جو اصولاً قانون اور اخلاقی قدروں کے رکھوالے ہوتے ہیں جعلی ڈگریاں حاصل کرنے میں کوئی تامل نہ کیا۔ نہ شاید اپنے ضمیر کی آواز سنی۔ آپ اسے ان کی سادگی کہہ لیں لیکن بلوچستان کے سابق وزیر اعلٰٰیٰ نے تو یہ دلیل بھی دے ڈالی کہ ڈگری، ڈگری ہوتی ہے خواہ وہ اصلی ہو یا جعلی… اس بات کا آپ کتنا ہی مذاق کیوں نہ اڑا لیں لیکن کئی معنوں میں ہماری اجتماعی زندگی اسی فلسفے کی پابند ہے۔ جعلی دوائیں بنانے والے بھی ایسی ہی بات کہہ سکتے ہیں۔ جب اصلی اور جعلی کا فرق واضح نہ ہوتو سارے اصول اور آداب اور ضابطے اپنی آبرو اور اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ معاشیات کا ایک مانا ہوا قانون ہے کہ بری کرنسی، اچھی کرنسی کو بازار سے غائب کردیتی ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی اسی قسم کے کسی قانون کا تابع دکھائی دیتا ہے۔ جعلی چیزیں ہی نہیں، جعلی خیالات بھی کہ جنہیں آپ انتہا پسندی سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں، سچے اور معقول خیالات کو پسپا کرسکتے ہیں۔

جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کسی دہشت گرد کا تعلیم یافتہ ہونا ہمارے حالات میں کسی توجہ کے لائق نہیں۔ ایسی مثالیںدنیا میں بہت ملتی ہیں۔ برطانیہ اور فرانس کی مسلمان آبادیوں میں سے کئی نوجوانوں نے جہادی تنظیموں کا اثر قبول کیا ہے۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم… اور اعلٰیٰ تعلیم بھی… کر کیا رہی ہے۔ اس کا معیار کیا ہے۔ ذہن سازی کے ضمن میں اس کی کارکردگی کیا ہے۔ ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ تعلیم کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقاء اور جمہوریت اور سماجی انصاف کی ترویج میں اس کا رول کیا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ سب انسان برابر ہوتے ہیں تو تعلیم ہی اس کا سب سے بڑا ثبوت فراہم کرتی ہے جب ایک سیاہ فام، جس کا باپ مسلمان تھا اور جس کا درمیانی نام حسین ہے دنیا کی سب سے طاقتور حکومت کا سربراہ بن جاتا ہے۔ تعلیم دھتکارے ہوئے مظلوم عوام کو صدیوں سے کئے جانے والے ظلم سے نجات دلا سکتی ہے۔ تعلیم معاشرے کو بدل دیتی ہے۔ وہ سوچنا اور خواب دیکھنا سکھاتی ہے۔ آپ ان ملکوں اور معاشروں کو دیکھ لیں جہاں تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور جہاں اعلٰیٰ تعلیم میرٹ کے اصول کا ایک شاندار اظہار ہے۔ دوسری طرف وہ ملک اور معاشرے ہیں جہاں تعلیم کا نظام پراگندگی اور انتشار کا شکار ہے۔ جہاں خواندگی کی شرح کم ہے۔ جہاں آبادی کے تناسب سے بہت کم نوجوانوں کو اعلٰیٰ تعلیم کے مواقع حاصل ہیں۔ تعلیم کے میدان میں پاکستان کے اعداد و شمار شرمناک ہیں۔ مدرسوں کے بارے میں سچ بات کہنا ذرا مشکل ہے۔ جب ان کی حمایت میں کوئی یہ کہے کہ صرف دس فی صد ایسے ہوں گے کہ جن کی اصلاح کی ضرورت ہے تو کوئی یہ نہیں کہتا کہ بھائی، دس فی صد کے زمرے میں بھی تو چند ہزار آجاتے ہیں۔ اور اس بحث سے قطع نظر، سب سے بڑی حقیقت جس کا ہمیں سامنا ہے وہ ہمارے معاشرے کی اجتماعی سوچ ہے۔ وہ تعصب اور تنگ نظری ہے جس نے انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خلاف جدوجہد کو اتنا مشکل بنادیا ہے کہ روشن خیالی اور رواداری کا پرچم اٹھانے والوں کی جان خطرے میں رہتی ہے اور سبین محمود اور راشد رحمٰن اور پروین رحمٰن جیسی شخصیات کو کہ جنہیں ہم اپنی قوم کا سرمایہ کہیں ،قتل کردیا جاتا ہے۔ یعنی اختلاف سے نبٹنے کا راستہ مکالمہ یا منطق نہیں بلکہ بندوق ہے۔

میں تو یہ کہوں گا کہ حیرت کی بات یہ نہیں کہ کئی دہشت گرد اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں۔ خبر تو تب بنے گی جب اعلٰی تعلیم کے اداروں میں فکری اور تہذیبی اور ادبی ماحول پیدا ہوگا کہ جس میں طالب علم اپنی زندگی کے تخلیقی اور ایجادی امکانات کو پہچان سکیں۔ اس وقت جو صورت حال ہے اس کا مجھے ذاتی تجربہ ہوتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ دنوںــــــــــ’’ میں کراچی‘‘ تحریک کے سلسلے میں چند تعلیمی اداروں میں مکالمہ کی اہمیت پر گفتگو کا موقع ملا۔ کراچی یونیورسٹی کے ایک ڈپارٹمنٹ کے کوئی ڈیڑھ دو سو طالب علم، جن میں خواتین تقریباً اکثریت میں تھیں ایک آڈیٹوریم میں جمع تھے۔ میں نے یہ سوال پوچھا کہ آپ میں سے کتنے افراد نے پچھلے چھ مہینوں میں کسی ناول کا مطالعہ کیا ہے۔ مشکل سے کوئی چھ، یا سات ہاتھ اٹھے۔ ایک صاحب زادے سے کہ جنہوں نے ہاتھ اٹھایا تھا میں نے پوچھا کہ آپ نے کونسا ناول پڑھا ہے۔ جواب ملا: ’’اداس نسلیں‘‘۔ میں نے کہا وہی جو انتظار حسین نے لکھا ہے۔ جواب ملا… جی ہاں… وہی جو انتظار حسین نے لکھا ہے۔ اس سے آگے کوئی کیا کہے۔ ادب کی بات چھوڑئیے۔ تاریخ، سوانح حیات، سیاست یا کسی دوسرے موضوع پر بھی کتابیں پڑھنے کا رواج ہمارے اعلٰی تعلیم یافتہ نوجوانوں میں نہیں۔ اخبار تو اتنے کم پڑھے جاتے ہیں کہ یقین نہیں آتا کہ ہم کس زمانے میں جی رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کے توسط سے بھی اخبار اور کتابیں پڑھنے کے ثبوت نہیں ملتے۔ یہی نہیں… بیشتر طالب علموں کی سوچ انتہا پسندی کے مضافات میں بھٹکتی پھرتی ہے۔ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ جتنا وقت گزرتا جارہا ہے ہم دنیا اور نئے خیالات سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اجتماعی ذہن اتنا ہی محدود ہے کہ جس کی توقع آپ نقل کرکے پاس ہونے والوں سے کرسکتے ہیں۔ اگر مذہبی تعلیم کا مقصد لوگوں کو نیک اور انسان دوست بنانا ہے تو اس کا حاصل کیا ہے یہ آپ ان حضرات سے پوچھیں جنہوں نے پرویز رشید کے بیان کے خلاف احتجاج کیا اور ان کے یعنی پرویز رشید کے لئے پھانسی کی سزا تجویز کی۔ جمعرات کے دن فوج کے سربراہ راحیل شریف نے کوئٹہ میں اپنی تقریر میں یہ کہا کہ شہروں میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لئے سیاسی فیصلوں کا وقت آگیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آئندہ نسلوں کے لئے ہے۔ لیکن اگر یہ جنگ ہمارے نوجوانوں اور خاص طور پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ذہنوں میں نہ لڑی گئی تو پھر آئندہ نسلوں کی حفاظت کون کرے گا؟ جن سیاسی فیصلوں کا وقت آگیا ہے ان کے بارے میں سنجیدہ فکر بھی ضروری ہے۔ اگر یہ سوچ بھی جعلی ہوتو پھر کوئی کیا کرے؟

Citation
Ghazi Salahuddin, “جعلی ڈگری، جعلی تعلیم اور جعلی زندگی,” in Jang, May 23, 2015. Accessed on June 10, 2015, at: http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%AC%D8%B9%D9%84%DB%8C-%DA%88%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%8C-%D8%AC%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AC%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C/

Disclaimer
The item above written by Ghazi Salahuddin and published in Jang on May 23, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 10, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Ghazi Salahuddin:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s