” کو ن ہے یہ سعد اللہ شاہ“

Follow Shabnaama via email
نجم ولی خان

یونیورسٹی کے آخری دنوں میں مجھے کسی نے نوشی گیلانی کے ایک مجموعے کے ساتھ ساتھ سعد اللہ شاہ کی کتاب ’ مجھے کچھ اور کہنا تھا‘ تحفہ کی، اس کتاب کا عنوان اپنے منہ سے اسے تحفہ کرنے کا مقصد بیان کررہا تھا، یونیورسٹی میں جدائی کے دن ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جب لوگ کہتے کچھ ہیں مگر وہ کہنا کچھ اور چاہ رہے ہوتے ہیں ، چاہے آپ اسے بدتہذیبی سمجھیں یا غرورکہ ہر کسی کی بات سنی نہیں جا سکتی، سمجھتے ہوئے بھی سمجھی نہیں جا سکتی،اس تحفے کا صرف یہ فائدہ ہوا کہ مجھے ان کے بہت سارے شعر زبانی یاد ہو گئے،’ ’ وہ کچھ سنتا تو میں کہتا مجھے کچھ اور کہنا تھا، وہ پل بھر کو جو رک جاتا مجھے کچھ اورکہنا تھا۔ غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ ، کہا کچھ تھا، وہ کچھ سمجھا، مجھے کچھ او رکہنا تھا“ اور ”کمائی زندگی بھر کی اسی کے نام کیوں کر دی، مجھے کچھ اور کرنا تھا، مجھے کچھ اور کہنا تھا“اور یہ بھی” محرومیوں کا اور بھی احساس یوں ہوا، مانگا تھا جو بھی تیرے سوا مجھ کو مل گیا“ ۔ ان اشعار سے تو میں اب تک لوگوں کو امپریس کرتا ہوں، ” مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو، کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو۔ خوابوں سی دل نواز حقیقت نہیں ہے کوئی، یہ بھی نہ ہوتو درد کا درمان بھی نہ ہو۔ محرومیوں کا ہم نے گلہ تک نہیں کیا ، لیکن یہ کیا کہ دل میں یہ ارمان بھی نہ ہو“ اور ” رونا یہی ہے توہے کہ اسے چاہتے ہیں ہم، اسے سعد جس کے ملنے کا امکان بھی نہ ہو“۔ یہ میرا سعد اللہ شاہ سے پہلا یک طرفہ تعلق تھا اور دوطرفہ تب ہوا جب انجمن تاجران پاکستان کے صدر خالد پرویز کی وساطت سے ان سے ملاقات ہوئی۔ ان کی محبت تھی کہ انہوں نے پہلی ملاقات میں ہی اپنی بہت ساری کتابیں اپنے خوبصورت پیغام کے ساتھ مجھے دیںاور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جب ہم ”نئی بات “ میں اکٹھے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے دلچسپ حالات و واقعات سے لبریز شوخ تحریروں کے مجموعے ” ترو تازہ یادیں“ سے ہی مجھے نہیں نوازا بلکہ رنگین صفحات پر میرے ساتھ ایک تصویر بھی شائع کی ہے جس میں ان کے ساتھ ساتھ خبرناک کے ماسٹر جی بن کے شہرت حاصل کرنے والے معروف شاعر فرحت عباس شاہ، میری بہت ہی قابل احترام دوست شاعرہ صوفیہ بیدار اور شاعرِ پاکستان کا درجہ حاصل کرنے والے ناصر بشیر بھی ہیں۔ یہ پاک ٹی ہاو¿س کے بند دروازے کے باہرریکارڈ ہونے والے ایک پروگرام کی یادگار ہے ، میری میزبانی میں ہونے والے اس پروگرام میں ہم سب نے پاک ٹی ہاو¿س کے بند دروازے کھولنے کے لئے زور لگایا اور پھر وہ دروازے کھل گئے۔ شاہ جی سے کئی پروگراموں میں کئی ملاقاتیں ہوئیں، وہ پروگرام بھی دلچسپ رہا جب ایک سینئر صحافی اور کالم نگارنے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ کرکے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی مالی معاونت کے ساتھ شائع کیا، ایک پروگرام میں، میں نے بزرگ صحافی کے ساتھ شاہ جی کوبھی مدعو کر لیا اور انہوں نے بزرگ صحافی صاحب کی شاعری میں ردیف ، بحر ، قافیے اور وزن بارے ایسی ماہرانہ بلکہ ظالمانہ گفتگو کی کہ سارا تاثر الٹ سُلٹ ہو گیا۔

تروتازہ یادیںتو مجھے رس گلے ہی لگی ہیںکہ شاید ہمیںدوسروں بارے اچھی اور میٹھی باتیںسننے اور پڑھنے کی عادت نہیں رہی، کئی مقامات پر لگاکہ تحریرکی شیرینی کتاب کی جلد سے باہر نکلتے ہوئے ہاتھوں کوچِپ چِپا رہی ہے، ہم صحافی لوگ باتوں اور تحریروں کے میٹھے ہونے پر ایمان نہیں رکھتے ۔ہمیں گفت گو میںکم سے کم نمک پارے درکار ہوتے ہیںاور اگر شدید مرچوں والے پکوڑے ہوں جو زبان سے چیخیں اور آنکھوں سے آنسو نکلوا دیں تو پھر کیا ہی بات ہے۔ آپ شاید میری بات کو مبالغہ سمجھیں مگر تروتازہ یادیں اگر رس گلے نہیں تو پھر بھی میٹھے پکوڑے توضرور ہیں جو میں نے بہت دفعہ اپنے گھر کے بہت قریب لگنے والے حضرت بابا شاہ کمال کے میلے پر قتلمے والی دکان سے لے کر کھائے ہیں۔پتا نہیں کیوں، دل نہیں مانتا کہ یہ سادہ سا نظر آنے والا، میرے ساتھ نماز کے لئے مسجد جانے والا یہ باریش شخص اتنا بڑا شاعر ہے مگر یہ نہ ماننا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص ماو¿نٹ ایورسٹ کو بڑا پہاڑ ماننے سے انکا ر کر دے۔بات تو احساسات اور ان کے ردعمل کی ہے، کسی کو محبت کا غم مار دیتا ہے اور کسی کو معراج عطا کرتا ہے، شاہ جی کہتے ہیں، ” لوگ فہم و آگہی میں دور تک جاتے مگر، اے جمالِ یار تو نے راستے میں دھر لیا“، شاعر تو خیالِ یار کو دھر لیتے ہیں۔ اب اس شعر کے خالق کو کون چھوٹا شاعر کہے ، ” اپنا تو اصل زر سے بھی نقصان بڑھ گیا، سچ مچ کا عشق مر گیا اک دل لگی کے ساتھ “ اور پھر اس کی تردید بھی ان کے ہی شعر میں ملتی ہے، ” سعد یہ عشق ہی نہ ہو کہ جسے، تو بس اک دل لگی سمجھتا ہے“۔ شاہ جی کے سادہ سادہ کالم ان کے اپنے اسی شعر کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں ” اے سعد فن یہی ہے کہ کر جائے آدمی ، مشکل ترین بات بڑی سادگی کے ساتھ “ ۔ محبت اور حسرت کی اس سے خوبصورت اور سادہ ترین تصویرکب کھینچی گئی ہے ، ” جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا، تمہی کو ہم نے چاہا تھاتمہی ملتے تو اچھا تھا“۔ہم لوگ دوسرو ں کو ان کے مرنے کے بعد خراج عقیدت پیش کرنے کے عادی ہیں مگر ان کی زندگی میں ان کی تحسین نہیں کرتے، شاہ جی کی تازہ ترین کتاب کا بہت بڑا حصہ ہمارے اسی معاشرتی جرم کا کفارہ ہے۔

شاہ جی نے سیاسی شاعری بھی کی ۔ یہ شاعری ایک سیاسی رہنما کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے حق میں بھی تھی۔ یہ الگ بات کہ میں افتخار چودھری کووہ شخصیت سمجھتا ہوں جس نے عدلیہ کو عزت اور وقار سے نوازا مگر اس کے باوجود میرا نکتہ اعتراض یہ ہے کہ کچھ لوگ اور کچھ فن پوری قوم کی ملکیت ہوتے ہیں، انہیں ایک دھڑے اور گروہ کے لئے مختص نہیں کیا جانا چاہئے جیسے مشہور زمانہ پاپ گلوکار ابرار الحق کو میں نے مشورہ دیا تھا کہ اسے کسی بھی سیاسی جماعت کو جوائن کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ اسے اپنی پوری توجہ صرف اور صرف نئے والیم لانے پر دینی چاہئے۔ مجھے نہیں علم کہ سیاست نے اس کی شہرت اور مقبولیت میں کتنا اضافہ کیا مگر اس کے فن کے آگے مصروفیت اور ایک پارٹی کا لیڈر ہونے کا سپیڈ بریکراب ایک دیوار بنتا چلا جا رہا ہے۔ ایک فلسفہ یہ ہے کہ جو اچھے لوگ ہیں کیا انہیں سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہئے اور سیاست کوصرف برے لوگوں کی جاگیر بنے رہنے دینا چاہئے ، اس پر پھر کبھی تفصیلی بحث کریں گے کہ شاہ جی کے سامنے تو کالم نویسی اور شاعری کی لڑائی بھی ہے۔ اب اس شعر کے خالق کو کہیں اور وقت ضائع کرنا زیب ہی نہیں دیتا، ” اس نے پوچھا جناب کیسے ہو۔ اس خوشی کا حساب کیسے ہو“اور ” تم نے کیسا یہ رابطہ رکھا، نہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھا۔ نہیں چاہا کسی کو تیرے سوا، تو نے ہم کو بھی پارسا رکھا۔ جھوٹ بولا تو عمر بھر بولا، تم نے اس میں بھی ضابطہ رکھا۔ ایک اور شعر” ہمارے دل میں بھی حسرت تمہی نے پیدا کی، تمہارے ساتھ کبھی ہم بھی اس طرح کرتے“۔

میں نے شاہ جی کی شاعری کی کتابوںاور کالموں کے بعد انشائیہ نما تحریروں پر مبنی” تروتازہ یادیں“ بہت ساری الماریوں اور میزوں پر دھری دیکھی ہے لہذا اس کالم کی ادائیگی کوفرض عین سے کہیں زیادہ فرض کفایہ ہی سمجھئے ۔ میں عنوان سے لے کر اب تک یہی تلاش کر رہا ہوں کہ ” دل کے تار ہلا دیتا ہے کون ہے یہ سعد اللہ شاہ، سوئے درد جگا دیتا ہے کون ہے یہ سعد اللہ شاہ“ اور ” اس کی ساری جھوٹی باتیں سچی لگنے لگتی ہیں، بات میں وہم بٹھا دیتا ہے کون ہے یہ سعد اللہ شاہ“۔ جیسے ہی میری تلاش مکمل ہوئی میںاس پر ایک اور کالم لکھوں گا۔

Citation
Najam Wali Khan, “” کو ن ہے یہ سعد اللہ شاہ“,” in Daily Nai Baat, May 22, 2015. Accessed on June 11, 2015, at: http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%DA%A9%D9%88-%D9%86-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D8%B3%D8%B9%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B4%D8%A7%DB%81

Disclaimer
The item above written by Najam Wali Khan and published in Daily Nai Baat on May 22, 2015, is catalogued here in full by Faiz-e-Zabaan for non-profit educational purpose only. Faiz-e-Zabaan neither claims the ownership nor the authorship of this item. The link to the original source accessed on June 11, 2015, is available here. Faiz-e-Zabaan is not responsible for the content of the external websites.

Recent items by Najam Wali Khan:

Help us with Cataloguing

Leave your comments

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s